غزل
کشور ناہید
غزل
کشور ناہید
بشکریہ عاطف ملک بھائی
شاذ تمکنت صاحب کی ایک خوبصورت غزل ہم نے سن 2013ء میں رعنائی خیال پر پر لگائی تھی۔ آج شاذ صاحب کی ایک اور غزل قارئینِ بلاگ کے عمدہ ذوق کی نذر کی جا رہی ہے۔ اُمید ہے کہ آپ کو پسند آئے گی۔
غزل
بنا حُسنِ تکلّم، حُسنِ ظن آہستہ آہستہ
بہر صورت کُھلا، اِک کم سُخن آہستہ آہستہ
مُسافر راہ میں ہے شام گہری ہوتی جاتی ہے
سُلگتا ہے تِری یادوں کا بن آہستہ آہستہ
دُھواں دل سے اُٹھے چہرے تک آئے نور ہو جائے
بڑی مشکل سے آتا ہے یہ فَن، آہستہ آہستہ
ابھی تو سنگِ طفلاں کا ہدف بننا ہے کوچوں میں
کہ راس آتا ہے یہ دیوانہ پن آہستہ آہستہ
ابھی تو امتحانِ آبلہ پا ہے بیاباں میں
بنیں گے کُنجِ گل، دشت و دمن آہستہ آہستہ
ابھی کیوں کر کہوں زیرِ نقابِ سُرمگیں کیا ہے
بدلتا ہے زمانے کا چلن آہستہ آہستہ
میں اہلِ انجمن کی خلوتِ دل کا مغنی ہوں
مجھے پہچان لے گی انجمن آہستہ آہستہ
دلِ ہر سنگ گویا شمعِ محرابِ تمنّا ہے
اثر کتی ہے ضربِ کوہکن آہستہ آہستہ
کسی کافر کی شوخی نے کہلوائی غزل مجھ سے
کھلے گا شاذؔ اب رنگِ سخن آہستہ آہستہ
شاذ تمکنت
![]() |
| Shaz Tamkanat |
یہ دنیا بڑی رنگ برنگی ہے اور انسان کے لئے بڑی کشش رکھتی ہے۔ دنیا کی رونقیں ہمہ وقت انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہیں ، لیکن کبھی کبھی انسان کی نظر دنیا کے اُس دوسرے رُخ پر بھی پڑتی ہےجہاں سے اس کی رونقیں بالکل ماند نظر آتی ہیں اور انسان ا س دنیا کی بے ثباتی پر سوچ میں پڑ جاتا ہے۔ زیرِ نظر غزل میں محترم قمر جلال آبادی نے اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے اور بہت خوبی سے کیا ہے آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔
کر لوں گا جمع دولت و زر، اُس کے بعد کیا؟
لے لوں گا شاندار سا گھر ، اُس کے بعد کیا؟
مے کی طلب جو ہوگی تو بن جاؤں گا میں رِند
کر لوں گا میکدوں کا سفر ، اُس کے بعد کیا؟
ہوگا جو شوق حُسن سے راز و نیاز کا
کرلوں گا گیسوؤں میں سحر، اُس کے بعد کیا؟
شعر و سُخن کی خوب سجاؤں گا محفلیں
دُنیا میں ہوگا نام مگر، اُس کے بعد کیا ؟
موج آئے گی تو سارے جہاں کی کروں گا سیر
واپس وہی پرانا نگر ، اُس کے بعد کیا؟
اِک روز موت زیست کا در کھٹکھٹائے گی
بُجھ جائے گا چراغِ قمر ، اُس کے بعد کیا؟
اُٹھی تھی خاک، خاک سے مل جائے گی وہیں
پھر اُس کے بعد کس کو خبر ، اُس کے بعد کیا؟
قمر جلال آبادی
راجیش ریڈی صاحب پڑوسی ملک ہندوستان کے معروف شاعر ہیں۔ اُن کی زیرِ نظر غزل اچھی لگی، سو خیال آیا کہ بلاگ کے قارئین کے ساتھ شریک کی جائے۔ اس غزل کا مطلع مجھے خاص طور پر پسند آیا۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔
غزل
دنیا کو ریشہ ریشہ اُدھیڑیں، رفو کریں
آ بیٹھ تھوڑی دیر ذرا گفتگو کریں
جس کا وجود ہی نہ ہو دونوں جہان میں
اُس شے کی آرزو ہی نہیں جستجو کریں
دنیا میں اِک زمانے سے ہوتا رہا ہے جو
دنیا یہ چاہتی ہے وہی ہُو بہ ہُو کریں
ان کی یہ ضد کہ ایک تکلف بنا رہے
اپنی تڑپ کہ آپ کو تم، تم کو تو کریں
ان کی نظر میں آئے گا کس دن ہمارا غم
آخر ہم اپنے اشکوں کو کب تک لہو کریں
دل تھا کسی نے توڑ دیا کھیل کھیل میں
اتنی ذرا سی بات پہ کیا ہاؤ ہُو کریں
دل پھر بضد ہے پھر اسی کوچے میں جائیں ہم
پھر ایک بار وہ ہمیں بے آبرو کریں
راجیش ریڈی
![]() |
| راجیش ریڈی ۔ دنیا کو ریشہ۔ ریشہ اُدھیڑیں ، رفو کریں |
اول اول کی دوستی ہے ابھی
اک غزل ہے کہ ہو رہی ہے ابھی
میں بھی شہر وفا میں نو وارد
وہ بھی رک رک کے چل رہی ہے ابھی
میں بھی ایسا کہاں کا زود شناس
وہ بھی لگتا ہے سوچتی ہے ابھی
دل کی وارفتگی ہے اپنی جگہ
پھر بھی کچھ احتیاط سی ہے ابھی
گرچہ پہلا سا اجتناب نہیں
پھر بھی کم کم سپردگی ہے ابھی
کیسا موسم ہے کچھ نہیں کھلتا
بوندا باندی بھی دھوپ بھی ہے ابھی
خود کلامی میں کب یہ نشہ تھا
جس طرح روبرو کوئی ہے ابھی
قربتیں لاکھ خوبصورت ہوں
دوریوں میں بھی دل کشی ہے ابھی
فصل گل میں بہار پہلا گلاب
کس کی زلفوں میں ٹانکتی ہے ابھی
مدتیں ہو گئیں فرازؔ مگر
وہ جو دیوانگی کہ تھی ہے ابھی
فراز
آج بہت دنوں بعد کوئی غزل ایسی سنی کے طبیعت باغ باغ ہو گئی۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔ ساتھ ساتھ کلامِ شاعر بزبانِ شاعر سے بھی حظ اُٹھائیے۔
غزل
وفا کے خوگر وفا کریں گے یہ طے ہو ا تھا
وطن کی خاطر جیے مریں گے یہ طے ہو ا تھا
بوقتِ ہجرت قدم اُٹھیں گے جو سوئے منزل
تو بیچ رستے میں دَم نہ لیں گے یہ طے ہوا تھا
چہار جانب بہار آئی ہوئی تھی لیکن
بہار کو اعتبار دیں گے یہ طے ہوا تھا
تمام دیرینہ نسبتوں سے گریز کرکے
نئے وطن کو وطن کہیں گے ، یہ طے ہوا تھا
خدا کے بندے خدا کی بستی بسانے والے
خدا کے احکام پر چلیں گے یہ طے ہوا تھا
بغیرِ تخصیص پست و بالا ہر اک مکاں میں
دیئے مساوات کے جلیں گے، یہ طے ہوا تھا
کسی بھی اُلجھن میں رہبروں کی رضا سے پہلے
عوام سے اذنِ عام لیں گے، یہ طے ہوا تھا
تمام تر حل طلب مسائل کو حل کریں گے
جو طے نہیں ہے، وہ طے کریں گے، یہ طے ہوا تھا
حنیف اسعدی
ویڈیو بشکریہ خورشید عبداللہ
غزل
اِس قدر اضطراب دیوانے؟
تھا جُنوں ایک خواب دیوانے!
ہم ہیں آشفتہ سر ہمیشہ سے
ہم تو ہیں بے حساب دیوانے
فاتر العقل ہیں نہ مجنوں ہیں
ہم ہیں عزت مآب دیوانے
آئے نکہت فشاں چمن میں وہ
ہو رہے ہیں گلاب دیوانے
ہیں خرد مند فیس بک پر خوش
پڑھ رہے ہیں کتاب دیوانے
سب ہیں ہشیار اگر بکار خویش
نام کے ہیں جناب دیوانے
نام اللہ کا لے، بھٹکنا چھوڑ
تھام لے اِک طناب دیوانے
خاک مسجد بنے گی شب بھر میں
اب نہیں دستیاب دیوانے
روز مڈ بھیڑ اہلِ دانش سے
روز زیرِ عتاب دیوانے
سر کھپاتے ہو فکرِ دنیا میں
تم ہو احمدؔ خراب دیوانے
محمد احمدؔ
غزل
بے خیالی میں یوں ہی بس اک ارادہ کر لیا
اپنے دل کے شوق کو حد سے زیادہ کر لیا
جانتے تھے دونوں ہم اس کو نبھا سکتے نہیں
اس نے وعدہ کر لیا میں نے بھی وعدہ کر لیا
غیر سے نفرت جو پا لی خرچ خود پر ہو گئی
جتنے ہم تھے ہم نے خود کو اس سے آدھا کر لیا
شام کے رنگوں میں رکھ کر صاف پانی کا گلاس
آب سادہ کو حریف رنگ بادہ کر لیا
ہجرتوں کا خوف تھا یا پر کشش کہنہ مقام
کیا تھا جس کو ہم نے خود دیوار جادہ کر لیا
ایک ایسا شخص بنتا جا رہا ہوں میں منیرؔ
جس نے خود پر بند حسن و جام و بادہ کر لیا
منیر نیازی
غزل
چارہ گر، اےدلِ بے تاب! کہاں آتے ہیں
مجھ کو خوش رہنے کے آداب کہاں آتے ہیں
میں تو یک مُشت اُسے سونپ دُوں سب کچھ، لیکن
ایک مُٹّھی میں، مِرے خواب کہاں آتے ہیں
مُدّتوں بعد اُسے دیکھ کے، دِل بھر آیا
ورنہ ،صحراؤں میں سیلاب کہاں آتے ہیں
میری بے درد نِگاہوں میں، اگر بُھولے سے
نیند آئی بھی تو، اب خواب کہاں آتے ہیں
تنہا رہتا ہُوں میں دِن بھر، بھری دُنیا میں قتؔیل
دِن بُرے ہوں، تو پھر احباب کہاں آتے ہیں
قتیل شفائی
غزل
کیا خزانہ تھا کہ چھوڑ آئے ہیں اغیار کے پاس
ایک بستی میں کسی شہرِ خوش آثار کے پاس
دِن نِکلتا ہے، تو لگتا ہے کہ جیسے سورج
صُبحِ روشن کی امانت ہو شبِ تار کے پاس
دیکھیے کُھلتے ہیں کب، انفس و آفاق کے بھید
ہم بھی جاتے تو ہیں اِک صاحبِ اَسرار کے پاس
خلقتِ شہر کو مُژدہ ہو کہ، اِس عہد میں بھی
خواب محفوظ ہیں اِک دِیدۂ بیدار کے پاس
ہم وہ مُجرم ہیں کہ آسودگیِ جاں کے عِوَض
رہن رکھ دیتے ہیں دِل درہَم و دیِنار کے پاس
کسی گُم گشتہ مُسافر کی دُعاؤں کا اثر
منزلیں گرد ہو ئیں جادۂ ہموار کے پاس
دِل کی قیمت پہ بھی ،اِک عہد نِبھائے گئے ہم
عُمر بھر بیٹھے رہے، ایک ہی دِیوار کے پاس
شہِ خُوبانِ جہاں ایسی بھی عُجلت کیا ہے
"خود بخود پہنچے ہے گُل گوشۂ دستار کے پاس"
افتخار عارف
غزل
کتاب سادہ رہے گی کب تک، کبھی تو آغازِ باب ہو گا
جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی، کبھی تو ان کا حساب ہو گا
وہ دن گئے جب کہ ہر ستم کو ادائے محبوب کہہ کے چپ تھے
اٹھی جو اب ہم پہ اینٹ کوئی تو اس کا پتھر جواب ہو گا
سحر کی خوشیاں منانے والو، سحر کے تیور بتا رہے ہیں
ابھی تو اتنی گھٹن بڑھے گی کہ سانس لینا عذاب ہو گا
سکوتِ صحرا میں بسنے والو، ذرا رُتوں کا مزاج سمجھو
جو آج کا دن سکوں سے گزرا تو کل کا موسم خراب ہو گا
نہیں کہ یہ صرف شاعری ہے، غزل میں تاریخِ بے حسی ہے
جو آج شعروں میں کہہ دیا ہے، وہ کل شریکِ نصاب ہو گا
مرتضٰی برلاس
خفا ہیں؟ مگر! بات تو کیجیے
ملیں مت، ملاقات تو کیجیے
ملیں گے اگر تو ملیں گے کہاں
بیاں کچھ مقامات تو کیجیے
پلائیں نہ پانی، بٹھائیں بھی مت
مسافر سے کچھ بات تو کیجیے
نہیں اتنے سادہ و معصوم وہ
کبھی کچھ غلط بات تو کیجیے
سنی وعظ و تقریر، اچھی لگی
چلیں ،کچھ مناجات تو کیجیے
نہیں دوستی کی فضا گر، نہ ہو
خدارا شروعات تو کیجیے
بھلے ، کل بگڑ کر کہَیں "الفراق"
بسر آج کی رات تو کیجیے
کہا کیا؟ یہی ہے روایت مری؟
بیاں کچھ روایات تو کیجیے
نزولِ سکینت بھی ہو گا ضرور
عمل بر ہدایات تو کیجیے
عبث رب سے شکوہ کناں آپ ہیں
شمارِ عنایات تو کیجیے
اگر تزکیے سے ہے احمد ؔفلاح
چلیں پھر شروعات تو کیجیے
محمد احمد ؔ