میر کی غزل کہوں تجھے میں؟

شعر اور رومان کا ساتھ بہت پرانا ہے۔ انسان کو جب کسی شے کی تعریف کے لئے لفظ ناکافی معلوم ہوتے ہیں تو وہ اپنے لفظوں میں، لگاوٹ اور محبت کے ساتھ ساتھ نغمگی بھی شامل کر دیتا ہے۔ نغمگی اور آہنگ بھاری بھرکم تعریفی کلمات کو بھی ایسا ہلکا پھلکا کر دیتے ہیں کہ پڑھنے سننے والا مخمور سا ہو جاتا ہے۔ گو کہ فی نفسہ مجھے رومانوی شاعری سے کچھ خاص اُنسیت نہیں ہے لیکن کچھ گیت البتہ ایسے ہوتے ہیں کہ کوئی باذوق شخص، اگر انہیں سُنے تو داد دیے بغیر نہ رہے۔ ایسا ہی ایک گیت آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ اسے مشہور نغمہ نگار آنند بخشی نے لکھا ہے اور معروف گلوکار محمد رفیع نے گایا ہے۔ اس سے آپ کو انداز ہو گیا ہوگا کہ یہ کوئی آج کے زمانے کا گیت نہیں ہے۔ سو آپ یہ سمجھ لیجے کہ یہ قدیم دوستوں کے لئے شرابِ کہنہ ہے! گیت ملاحظہ فرمائیے۔


میں نے پوچھا چاند سے
کہ دیکھا ہے کہیں، میرے یار سا حسیں
چاند نے کہا، چاندنی کی قسم
نہیں، نہیں، نہیں!
میں نے پوچھا چاند سے۔۔۔

میں نے یہ حجاب تیرا ڈھونڈا
ہر جگہ شباب تیرا ڈھونڈا
کلیوں سے مثال تیری پوچھی
پھولوں میں جواب تیرا ڈھونڈا
میں نے پوچھا باغ سے ، فلک ہو یا زمیں
ایسا پھول ہے کہیں؟
باغ نے کہا، ہر کلی کی قسم
نہیں، نہیں، نہیں!
میں نے پوچھا چاند سے۔۔۔

چال ہے کہ موج کی روانی
زُلف ہے کہ رات کی کہانی
ہونٹ ہیں کہ آئینے کنول کے
آنکھ ہے کہ مے کدوں کی رانی
میں نے پوچھا جام سے فلک ہو یازمیں
ایسی مے بھی ہے کہیں؟
جام نے کہا، مے کشی کی قسم
نہیں، نہیں، نہیں
میں نے پوچھا چاند سے۔۔۔

خوبصورتی جو تونے پائی
لُٹ گئی خدا کی بس خدائی
میر کی غزل کہوں تجھے میں
یا کہوں خیام کی رباعی
میں نے پوچھا شاعروں سے
ایسا دل نشیں
کوئی شعر ہے کہیں؟
شاعر کہیں، شاعری کی قسم
نہیں، نہیں، نہیں
میں نے پوچھا چاند سے۔۔۔

میں نے پوچھا چاند سے
کہ دیکھا ہے کہیں، میرے یار سا حسیں
چاند نے کہا، چاندنی کی قسم
نہیں، نہیں، نہیں!
میں نے پوچھا چاند سے۔۔۔

 

نغمہ نگار: آنند بخشی


 

بے خیالی میں یوں ہی بس اک ارادہ کر لیا ۔ منیر نیازی

غزل

بے خیالی میں یوں ہی بس اک ارادہ کر لیا
اپنے دل کے شوق کو حد سے زیادہ کر لیا

جانتے تھے دونوں ہم اس کو نبھا سکتے نہیں
اس نے وعدہ کر لیا میں نے بھی وعدہ کر لیا

غیر سے نفرت جو پا لی خرچ خود پر ہو گئی
جتنے ہم تھے ہم نے خود کو اس سے آدھا کر لیا

شام کے رنگوں میں رکھ کر صاف پانی کا گلاس
آب سادہ کو حریف رنگ بادہ کر لیا

ہجرتوں کا خوف تھا یا پر کشش کہنہ مقام
کیا تھا جس کو ہم نے خود دیوار جادہ کر لیا

ایک ایسا شخص بنتا جا رہا ہوں میں منیرؔ
جس نے خود پر بند حسن و جام و بادہ کر لیا

منیر نیازی

غزل ۔ چارہ گر، اےدلِ بے تاب! کہاں آتے ہیں ۔ قتیل شفائی

غزل

چارہ گر، اےدلِ بے تاب! کہاں آتے ہیں
مجھ کو خوش رہنے کے آداب کہاں آتے ہیں

میں تو یک مُشت اُسے سونپ دُوں سب کچھ، لیکن
ایک مُٹّھی میں، مِرے خواب کہاں آتے ہیں

مُدّتوں بعد اُسے دیکھ کے، دِل بھر آیا
ورنہ ،صحراؤں میں سیلاب کہاں آتے ہیں

میری بے درد نِگاہوں میں، اگر بُھولے سے
نیند آئی بھی تو، اب خواب کہاں آتے ہیں

تنہا رہتا ہُوں میں دِن بھر، بھری دُنیا میں قتؔیل
دِن بُرے ہوں، تو پھر احباب کہاں آتے ہیں

قتیل شفائی

مشاعرہ، تہذیب اور انڈے ٹماٹر

مشاعرہ ہماری تہذیبی روایت ہے۔ یعنی روایت ہے کہ مشاعرہ ہماری تہذیب کا علمبردار ہوا کرتا تھا۔ یہاں دروغ بر گردن راوی کا گھسا پٹا جملہ شاملِ تحریر کر دینا خلاف عقل نہ ہوگا کہ راوی کے نامہٴ سیاہ میں جہاں معصیت کے اتنے انبار لگے ہیں، وہاں ایک اور سہی۔

بھلے وقتوں میں مشاعروں میں جو کلام پڑھا جاتا تھا اس کی کچھ یادگار یوٹیوب پر نہیں ملتی۔ نہ ہی متشاعروں کے دیوان ہی چھپ کر آج کی نسل تک پہنچ سکے۔ رہ گیا استاد شعراء کا کلام تو ایک مشاعرے میں ایک آدھ ہی استاد شاعر (دوسرے اساتذہ سے کرسیِ صدارت کی جنگ جیت کر) جگہ بنا پاتے ہوں گے۔ ایسے میں انسان شاعر کم اور صدر زیادہ بن جاتا ہے سو ایسے استادوں کی استادی یعنی ایسے شعراء کے کلام کو مشاعرے کا نمائندہ کلام سمجھنا دانشمندانہ فعل نہیں معلوم ہوتا۔

یہ البتہ ہم نے ضرور سن رکھا ہے کہ بھلے وقتوں میں بڑے بڑے کامیاب مشاعرے منعقد ہوا کرتے تھے یا وہ منعقد ہونے کے بعد کامیاب قرار پاتے تھے۔

کجھ راویانِ مشاعرہ تو اس قدر دیدہ دلیر واقع ہوئے ہیں کہ اکثر و بیشتر مشاعرہ گاہ کی چھت بِنا ڈائنامائٹ کے اُڑاتے ہوئے پکڑے گئے! البتہ دوسرے طبقہ کا خیال ہے کہ کھلے میدان میں ہونے والے مشاعروں کے شامیانے عاجزی برتتے ہوئے زمیں بوس ہو جاتے تھے اور شعراء کے پروموٹر اسے چھت اُڑ جانے سے تعبیر کرتے تھے۔

بھلے وقتوں میں مشاعرے میں شعراء کی بڑی عزت ہوا کرتی تھی یہاں تک کہ کھاتے پیتے گھرانوں کے خوش ذوق قارئین شعراء کو داد دیتے ہوئے انڈے اور ٹماٹر جیسی نادر اشیاء نظم و ضبط کا خیال رکھتے ہوئے اپنی سیٹ پر بیٹھے بیٹھے ارسال کر دیتے تھے۔

انڈے ٹماٹروں پر اگرچہ نیک خواہشات لکھنے کا وقت نہیں ہوتا تھا تاہم ہمیں حسن ظن سے کام لیتے ہوئے یہی سمجھنا چاہیے کہ سامعین یہ سوغات گراں مایہ نیک خواہشات کے ساتھ ہی ارسال کرتے ہوں گے۔

اب آپ ذرا چشمِ تصور وا کرتے ہوئے فرض کیجے کہ آپ مشاعرے میں موجود ہیں اور شاعر نے ایسی غزل سنائی کہ آپ عش عش کر اُٹھے لیکن کیا سر سے پاؤں تک سرشار ہونے کے بعد بھی آپ انڈے اور ٹماٹر جیسی نادر الوجود چیزیں شاعر کو بطور ہدیہ و تحفہ دے سکیں گے؟

آپ واہ واہ واہ کرکے اپنا گلا تو سکھا لیں گے لیکن دمڑی کو چمڑی پر اور غزل کو انڈے ٹماٹر پر فوقیت نہیں دے سکیں گے۔

کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ شعراء کو انڈے ٹماٹر ارسال کرنے والے سامعین مشاعرہ ذوق سے عاری اور جذبہ فلاح و بہبود سے سرشار ہوا کرتے تھے۔ سو وہ یہ خیال کرتے ہوئے کہ یہ شاعر جو یہاں بیٹھا اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کر رہا ہے اور یقیناً اس سے پیشتر بھی یہ مشق سخن کے نام پر اپنا پورا دن برباد کرتا رہا ہوگا اور اسے اپنے اہل و عیال کے لیے روزی روٹی کمانے کی فرصت و توفیق ہی نہیں مل سکی ہوگی۔ سو وہ خیال کرکے شعراء کی سمت میں انڈے ٹماٹر پھینکا کرتے تھے تاکہ کسی نہ کسی طرح ان کے گھر کا چولہا بھی جلتا رہے۔

کسی شاعر نے اس خوبصورت منظر کو شاعرانہ رنگ دے کر کچھ یوں کہا ہے:

گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی

کچھ لوگ ٹماٹر کو پھلوں میں شمار کرتے ہیں شاعر نے شاید اسی رعایت سے کام لیا ہے۔ رہی بات انڈے کو گُل سے تشبیہ دینے کی تو اسے آپ المعنی فی بطنِ الشاعر سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ انڈے نے بھی آخر کار وہیں پہنچنا ہے۔

بہر کیف! آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح کسی کی عزت نفس مجروح کیے بغیر ہمارے اسلاف ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے اور نکھٹو سے نکھٹو شخص کو بھی نکھٹو نہیں کہا کرتے تھے بلکہ انڈے ٹماٹر جیسی نادر اشیاء سے ان کی تواضع کیا کرتے تھے۔

جن سے مل کر زندگی سے عشق (شاعری سے بیر) ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں

اندرونی حلقوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے کے شعراء مشاعرے سے پہلے شاعری کی مشق کم کیا کرتے تھے اور انڈے ٹماٹروں کو بنا گزند ہر دو فریق کیچ کرنے کی پریکٹس زیادہ کرتے تھے۔

ممکن ہے بعد میں انہی انڈے ٹماٹروں کی تعداد کو گن کر مشاعرے کے کامیاب ترین شاعر کا فیصلہ ہوتا ہو۔ لیکن راوی یہاں خاموش ہے اور راوی کی خاموشی کافی پراسرار معلوم ہوتی ہے۔

بہرکیف یہ تو بھلے وقتوں کی باتیں ہیں۔ اب وہ پہلے جیسی قدریں کہاں رہیں۔ بد ذوقی کا عالم یہ ہے کہ اب تو مشاعرے میں بے چارے شاعر واہ واہ کرنے کے لیے دو چار ہمنوا ساتھ لے کر جاتے ہیں جو پہلے مصرع سے ہی غزل اٹھانے کے کام پر مامور ہوتے ہیں تاکہ مشاعرے کے انجام پر شاعر کے ساتھ چکن بریانی کھا سکیں اور سوشل میڈیا پر شاعر کو ٹیگ کرکے تصاویر لگا سکیں۔ رہا شاعر تو وہ لفافے میں ملفوف کاغذات میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اس پورے منظر نامے میں انڈے ٹماٹروں کا کہیں دخل نہیں ہے اور انڈے ٹماٹر آج کل محض ٹی وی کی خبروں اور ٹاک شوز میں ہی پائے جاتے ہیں۔


 محمد احمد

*****

 


 

دلوں میں زہر تھا کینہ شُمار کرتے رہے ۔ مسعود منور

غزل


دلوں میں زہر تھا کینہ شُمار کرتے رہے
برہنہ لفظ کے خنجر سے وار کرتے رہے

سُخن وری تو فقط بر طرف تکلف تھا
خدنگِ سب و شتم سے شکار کرتے رہے

نہ ہم سفر نہ کوئی دوست تھا نہ ہم سایہ
سو اپنے آپ سے شکوے ہزار کرتے رہے

بچا ہی کیا تھا بجز تار دامنِ دل میں
اُس ایک تار کو ہم تار تار کرتے رہے

کہیں نہیں تھا کوئی جس کو کہ سکیں اپنا
کسے بُلانے کو ہم یار یار کرتے رہے

اثاثہ کوئی نہ تھا ، مُفلسی مسلط تھی
بدن کی مٹّی تھی ہم جس کو خوار کرتے رہے

بچھڑنا ملنا مقدر کا کھیل تھا مسعود
وگرنہ عشق تو ہم بار بار کرتے رہے

مسعود مُنّور

کیا خزانہ تھا کہ چھوڑ آئے ہیں اغیار کے پاس ۔ افتخار عارف

غزل

کیا خزانہ تھا کہ چھوڑ آئے ہیں اغیار کے پاس
ایک بستی میں کسی شہرِ خوش آثار کے پاس

دِن نِکلتا ہے، تو لگتا ہے کہ جیسے سورج
صُبحِ روشن کی امانت ہو شبِ تار کے پاس

دیکھیے کُھلتے ہیں کب، انفس و آفاق کے بھید
ہم بھی جاتے تو ہیں اِک صاحبِ اَسرار کے پاس

خلقتِ شہر کو مُژدہ ہو کہ، اِس عہد میں بھی
خواب محفوظ ہیں اِک دِیدۂ بیدار کے پاس

ہم وہ مُجرم ہیں کہ آسودگیِ جاں کے عِوَض
رہن رکھ دیتے ہیں دِل درہَم و دیِنار کے پاس

کسی گُم گشتہ مُسافر کی دُعاؤں کا اثر
منزلیں گرد ہو ئیں جادۂ ہموار کے پاس

دِل کی قیمت پہ بھی ،اِک عہد نِبھائے گئے ہم
عُمر بھر بیٹھے رہے، ایک ہی دِیوار کے پاس

شہِ خُوبانِ جہاں ایسی بھی عُجلت کیا ہے
"خود بخود پہنچے ہے گُل گوشۂ دستار کے پاس"

افتخار عارف

کتاب سادہ رہے گی کب تک، کبھی تو آغازِ باب ہو گا​ ۔ مرتضیٰ برلاس


غزل

کتاب سادہ رہے گی کب تک، کبھی تو آغازِ باب ہو گا​
جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی، کبھی تو ان کا حساب ہو گا​

وہ دن گئے جب کہ ہر ستم کو ادائے محبوب کہہ کے چپ تھے​
اٹھی جو اب ہم پہ اینٹ کوئی تو اس کا پتھر جواب ہو گا​

سحر کی خوشیاں منانے والو، سحر کے تیور بتا رہے ہیں​
ابھی تو اتنی گھٹن بڑھے گی کہ سانس لینا عذاب ہو گا​

سکوتِ صحرا میں بسنے والو، ذرا رُتوں کا مزاج سمجھو​
جو آج کا دن سکوں سے گزرا تو کل کا موسم خراب ہو گا​

نہیں کہ یہ صرف شاعری ہے، غزل میں تاریخِ بے حسی ہے​
جو آج شعروں میں کہہ دیا ہے، وہ کل شریکِ نصاب ہو گا​


مرتضٰی برلاس​

کرکٹ آزار اور کراچی

 

کراچی والے کرکٹ سے محبت کرتے ہیں جن میں سے ایک تو راقم تحریر خود ہے۔

کرکٹ کا کھیل بچپن سے لے کر آج تک اس خاکسار کے لیے باعثِ دلکشی رہا ہے۔ بچپن میں ہم بلّے کے حصول کے لئے گیندیں گھما گھما کر پھینکنے کے عادی رہے ہیں، اور بلّا مل جانے پر اکثر گیند بزورِ بلّا گم کر دینے کے مرتکب بھی ہوئے ہیں۔ تاہم، ہمیں یہ اندازہ ہرگز نہیں تھا کہ ان معصوم خطاؤں کی کیا بھیانک سزا ہمیں مستقبل میں بھگتنی ہوگی۔

بچپن کے رخصت ہوتے ہوتے دیگر کھیلوں کی طرح یہ کھیل بھی ہم سے چھٹ گیا تاہم کرکٹ کے بین الاقوامی مقابلوں سے جو دلی وابستگی قائم ہوئی، وہ آج بھی قائم ہے۔ بالخصوص مملکت ِ خداداد کی خداداد صلاحیتوں اور نالائقیوں کی حامل ٹیم جب کبھی میدان میں اترتی ہے تو خاکسار شرمسار ہونے سے پہلے اور اکثر بعد تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔

ایسی الجھی نظر اُن سے ہٹتی نہیں
دانت سے ریشمی ڈور کٹتی نہیں


عمر کب کی برس کے سفید ہو گئی لیکن یہ موئے سیاہ کی مانند کرتوت والے 'لڑکے' تا حال ہماری جان کے درپے ہیں۔ اور ہم بھی پیرویِ میر میں انہی لڑکوں سے اب تک دوا لے رہے ہیں۔

ہم فقیروں کو کچھ آزار تمھیں دیتے ہو
یوں تو اس فرقے سے سب لوگ دعا لیتے ہیں


سچی بات تو یہ ہے کہ عین شہر کے قلب میں شدید ترین حفاظتی انتظامات کے تحت ہونے والی کرکٹ، کرکٹ کے دوست کم اور دشمن زیادہ پیدا کرتی ہے۔ نیشنل اسٹیڈیم کے اطراف کی سڑکیں کئی کئی دن بندش کے ادوار سے گزرتی ہیں اور اپنے اپنے اسکول، کالج، دفتر، دوکان، ہسپتال اور قبرستان جانے والے کئی کئی گھنٹے سڑکوں پر پھنسے رہتے ہیں اور یوں یہ کرکٹ کا مزیدار کھیل لوگوں کی دل آزاری کا باعث بنتا ہے۔

سڑکوں کی بے جا بندش کرکٹ بیزاروں کو ہمارے کان کترنے کا موقع فراہم کرتی ہے اور ہم خود سڑکوں پر پہروں پھنسے رہنے کے باعث کرکٹ سے بیزار اور کرکٹ بیزاروں کے آگے شرمسار نظر آتے ہیں۔

ہماری حکامِ بالا و زیریں اور میانِ بالا و زیریں سے مودبانہ گزارش ہے کہ تھوڑے لکھے کو بہت جانیں اور خط کو تار سمجھیں اور ان کرکٹ میچوں کو شہر کے کسی دور افتادہ مقام پر منعقد کروایا جائے کہ جہاں عوام الناس کے شب و روز کرکٹ میچز کے حفاظتی انتظامات سے متاثر نہ ہوں۔ اسی میں کراچی، کرکٹ اور عوام الناس کی بھلائی ہے۔

کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرشِ بریں پر




غزل : خفا ہیں؟ مگر! بات تو کیجیے

غزل


خفا ہیں؟ مگر! بات تو کیجیے
ملیں مت، ملاقات تو کیجیے

ملیں گے اگر تو ملیں گے کہاں
بیاں کچھ مقامات تو کیجیے

پلائیں نہ پانی، بٹھائیں بھی مت
مسافر سے کچھ بات تو کیجیے

نہیں اتنے سادہ و معصوم وہ
کبھی کچھ غلط بات تو کیجیے

سنی وعظ و تقریر، اچھی لگی
چلیں ،کچھ مناجات تو کیجیے

نہیں دوستی کی فضا گر، نہ ہو
خدارا شروعات تو کیجیے

بھلے ، کل بگڑ کر کہَیں "الفراق"
بسر آج کی رات تو کیجیے

کہا کیا؟ یہی ہے روایت مری؟
بیاں کچھ روایات تو کیجیے

نزولِ سکینت بھی ہو گا ضرور
عمل بر ہدایات تو کیجیے

عبث رب سے شکوہ کناں آپ ہیں
شمارِ عنایات تو کیجیے

اگر تزکیے سے ہے احمد ؔفلاح
چلیں پھر شروعات تو کیجیے

محمد احمد ؔ

 


غزل ۔ بہہ نہ جانا کہیں بہاؤ میں ۔ محمد احمد

غزل

بہہ نہ جانا کہیں بہاؤ میں
رکھنا پتوار اپنی ناؤ میں

نا اُمیدی مرے مسیحا کی
عمر کاٹی ہے چل چلاؤ میں

عصرِ تازہ کا ترجماں ہے وہ
واہ مضمر ہے اُس کی واؤ میں

چارہ گر! ہے یہ اعتبار کا زخم
تیر گننا عبث ہے گھاؤ میں

دوستوں کو خبر نہ ہو پائی
رہ گیا میں کسی پڑاؤ میں

مسکراتے رہا کرو احمدؔ
رکھ رکھاؤ ہے، رکھ رکھاؤ میں

محمد احمدؔ

نو برس - ایک نثری نظم

 آج ہم نے اپنے عزیز دوست اور اُستاد فلک شیر بھائی کی ایک نثری نظم دیکھی جو ہمیں بہت بھائی! سو ہم کمالِ اپنائیت سے یہ نظم بغیر اجازت اپنے بلاگ پر چسپاں کر رہے ہیں۔ آپ کو ضرور پسند آئے گی۔

نو برس

نو برس ہوتے ہیں
ہر کسی کے اپنے نو برس ہوتے ہیں
سیرِ صحرا سے لبِ دریا تک
عمر کوٹ سے بھٹ جو گوٹھ تک
سسی کی پیاس سے خضر کے گھڑے تک
بے انت بے سمتی سے یکسوئی کی مٹھاس تک
کانٹوں کے عرق سے ترتراتے پراٹھےسے....
شکرگزاری کی سوکھی روٹی تک
بے مصرف بنجر دنوں سے موتیوں جیسے لمحوں کے ڈھیر تک
واقف انجانوں کی بھیڑ سے دل میں اترے اجنبیوں کی مجلس تک

اور

کسی بربادکوزہ گر، جو اپنے ہی کوزوں سے رنجور ہو....
کوپھر سے اپنے چاک پہ شرابور ہونے تک
نو برس درکار ہوتے ہیں
پر یہ نو برس ہمیشہ سو سے آٹھ زیادہ مہینوں کے نہیں ہوتے
یہ نو لمحوں سے نو دہائیوں کے ہو سکتے ہیں

کیونکہ

نو برس ہر کسی کے اپنے ہوتے ہیں


فلک شیر



عرضِ شاعرمن و عن: کل ن م راشد کا یوم پیدائش تھا، راشد کی حسن کوزہ گر کا ایک تھیمیٹک حوالہ مندرجہ بالا نثری نظم میں قارئین محسوس کر سکتے ہیں، یہ تککفاً در نہیں آیا، یہی عرض کرنا کافی سمجھتا ہوں۔

یوں حسرتوں کے داغ محبت میں دھو لیے ۔ راجیندر کرشن

یوں تو یہ ایک گیت ہے جو شاید آپ میں سے کسی نے لتا کی آواز میں سنا ہو۔ لیکن ہیئت کے اعتبار سے یہ ایک غزل ہے اور کیا ہی خوب غزل ہے۔ آج فیس بک پر اسے دیکھا تو سوچا کہ اس خوبصورت کلام کو بلاگ پر لگایا جائے۔ ملاحظہ فرمائیے۔

غزل

یوں حسرتوں کے داغ محبت میں دھو لیے
خود دل سے دل کی بات کہی اور رو لیے

گھر سے چلے تھے ہم تو خوشی کی تلاش میں
غم راہ میں کھڑے تھے وہی ساتھ ہو لیے

مرجھا چکا ہے پھر بھی یہ دل پھول ہی تو ہے
اب آپ کی خوشی اسے کانٹوں میں تولیے

ہونٹوں کو سی چکے تو زمانے نے یہ کہا
یوں چپ سی کیوں لگی ہے اجی کچھ تو بولئے

راجیندر کرشن