غزل
کشور ناہید
غزل
کشور ناہید
تحریر : محمد احمد
فِن لینڈ کے باشندوں کو فنش یافنز کہا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ فن لینڈ ایسے ممالک میں سرِ فہرست ہے کہ جہاں لوگ خوش باش رہتے ہیں۔ اور فن لینڈ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ مسلسل پانچ سال خوش رہنے والے ممالک میں سرِ فہرست رہا ہے۔
فرینک مارٹیلا فِن لینڈ کے ایک ماہرِ نفسیات ہیں۔ ایک حالیہ آرٹیکل میں فرینک ہمیں بتاتے ہیں کہ اُن سے اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ آخر فنش باشندوں کے خوش رہنے کی وجوہات کیا ہیں۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرینک کہتے ہیں کہ دراصل ہم فنش شہری تین کام کبھی نہیں کرتے۔
فنش لوگ کبھی اپنے پڑوسیوں سے مقابلہ نہیں کرتے
فن لینڈ میں ایک مشہور مقولہ ہے کہ کبھی بھی اپنی خوشی کا مقابلہ کسی اور سے نہ کرو اور نہ ہی اپنی خوشیوں کی شیخی مارو۔
حیرت انگیز بات ہے کہ فنش لوگ اس مقولے پر دِل سے عمل کرتے ہیں۔ بالخصوص وہ مادی اشیاء اور دولت کی نمائش سے بہت گریز کرتے ہیں۔ ایک انتہائی امیر شخص کا ذکر کرتے ہوئے فرینک بتاتے ہیں کہ میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنے بچے کو خود اسٹرولر (بچوں کی گاڑی) میں بٹھا کر لے جا رہا تھا۔ حالانکہ وہ اگر چاہتا تو اپنے بچے کے لیے قیمتی سے قیمتی گاڑی خرید سکتا تھا۔ یا اس کے لیے ڈرائیور رکھ سکتا تھا۔ لیکن اتنی دولت ہونے کے باوجود اس نے پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کو ترجیح دی۔ یہ چیز فنش باشندوں کو اور دُنیا سے ممتاز کرتی ہے۔
فِن لینڈ میں خوشی یہ ہے کہ آپ باقی سب جیسے لگیں۔ فرینک کہتے ہیں کہ ہمیں کامیابی سے زیادہ ان امور پر توجہ دینی چاہیے جو ہماری خوشی کا باعث بنتے ہیں۔
فنش باشندے فطرت کے ثمرات کو نظر انداز نہیں کرتے
87 فیصد فنش باشندے یہ سمجھتے ہیں کہ قدرتی مظاہر ان کے لیے اہم ہیں اور یہ انہیں ذہنی سکون، توانائی اور آرام پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔ فِن لینڈ میں ملازمین کو گرمیوں میں چار ہفتوں کی رخصت ملتی ہے، جس میں زیادہ تر فنش باشندے دیہاتوں کا رخ کرتے ہیں حتیٰ کہ بہت سے لوگ ایسے علاقوں میں بھی جاتے ہیں جہاں بجلی بھی نہیں ہوتی۔ ان علاقوں میں جا کر یہ لوگ قدرت سے بہت قریب ہو جاتے ہیں اور یہاں انہیں بے پناہ سکون اور طمانیت حاصل ہوتی ہے۔
فرینک کہتے ہیں کہ قدرت سے قریب رہ کر آپ میں صحت، اطمینان اور ذاتی نمو کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ جو بہت ہی انمول شے ہے۔
فنش لوگ اپنے سماج میں باہمی اعتماد کو مجروح نہیں ہونے دیتے
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جتنا بھروسہ اور اعتماد ایک ملک کے شہریوں کو ایک دوسرے پر ہوتا ہے اتنا ہی اس ملک کے باشندے خوش باش رہتے ہیں۔
2022 میں گم شدہ بٹووں کا ایک معاشرتی تجربہ (Lost wallet Experience)کیا گیا۔ اس تجربے میں دنیا بھر کے 16 شہروں میں 192 بٹوے دانستہ گرائے گئے کہ لوگوں کی دیانت داری کا اندازہ لگایا جا سکے۔ دیانت داری کے اس تجربے میں فن لینڈ کا دار الخلافہ ہیل سنکی پہلے نمبر پر رہا۔ اور ہیل سنکی میں پھینکے گئے بارہ میں سے گیارہ بٹوے واپس اُن کے مالک تک پہنچ گئے۔
فنش شہری ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہیں اور دیانت داری کو اہمیت دیتے ہیں۔ فنش باشندے اگر اپنا لیپ ٹاپ لائبریری میں بھول جائیں یا اگر ان کا فون ٹرین میں رہ جائے تو اُنہیں یقین ہوتا ہے کہ اُن کی چیز اُنہیں واپس مل جائے گی۔
فن لینڈ میں اکثر بچے اسکول آنے جانے کے لیے پبلک بس استعمال کرتے ہیں اور بڑوں کی نگرانی کے بغیر ہی باہر کھیلتے ہیں۔
فرینک کہتے ہیں کہ معاشرے میں خوش باشی کو فروغ دینے کے لیے ہمیں چاہیے کہ باہمی اعتماد کو بڑھانے کی کوشش کریں۔ چھوٹے چھوٹے معاملات میں ایک دوسرے کی مدد کریں اور ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔
اگر آپ کو فن لینڈ کی یہ باتیں پڑھ کر ساٹھ ، ستر یا اسی کی دہائی کا پاکستان یاد آ گیا تو آپ واقعی ٹھیک پہنچے۔ دیکھا جائے تو معاشرتی سکون اور اطمینان کے حساب سے یہ پاکستان کا سنہری دور تھا۔ لوگ اپنے معاملات سے کسی حد تک خوش تھے اور ایک دوسرے سے بے حد قریب تھے۔ ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ میں شریک تھے اور ایک دوسرے کے کام آتے تھے۔ آج ہم سب ایک عجیب ہی افرا تفری کا شکار ہیں۔ ہر شخص کسی نہ کسی مسابقتی دوڑ کا گھوڑا بنا ہوا ہے۔ باہمی اعتماد اب ہم میں بالکل نہیں رہا۔ جرائم کی روک تھام کےلئے بنائے گئے ادارے اپنے مقاصد میں مکمل طور پر ناکام ہوگئے بلکہ کچھ ادارے جرائم کی آبیاری کے لئے ممد و معاون بھی ثابت ہوئے۔ نتیجتاً آج ہمارے شہری اپنے ہی گلی محلوں میں عدم تحفظ کا شکار ہیں اور حد تو یہ ہے کہ وہ کسی اجنبی سے بات کرتے ہوئے بھی ڈرنے لگے ہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ آج کا پاکستان اچھے لوگوں سے بالکل ہی عاری ہو گیا ہے ۔ بلکہ آج بھی بہت سے اچھے لوگ موجود ہیں جو گاہے گاہے ہمیں بتاتے ہیں کہ ابھی بھی کہیں نہ کہیں اگلی شرافت کے نمونے پائے جاتے ہیں۔
یہ پچھلے محرم الحرام کی بات ہے۔ میں اپنی فیملی کے ساتھ حیدرآباد گیا تھا۔ وہاں میرا والٹ (بٹوا) بس میں گر گیا۔ اور مجھے اس بات کا احساس تک نہ ہوا۔ یہ والٹ کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کو ملا۔ اور اُس نے والٹ میں موجود ایک ڈپازٹ سلپ سے میرا نمبر لے کر مجھ سے رابطہ کیا اور وہ والٹ مجھ تک پہنچانے کا بندو بست کیا۔ مجھے اس نوجوان سے مل کر بہت خوشی ہوئی ۔ اگر وہ نوجوان میرا والٹ مجھ تک نہ پہنچاتا تو مجھے اپنا شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، اور بہت سے دیگر کارڈز بنوانے میں بہت دقت کا سامنا ہوتا۔ لیکن الحمدللہ ، اس نوجوان کے طفیل میں ان سب پریشانیوں سے بچ گیا۔
سو آج بھی بہت سے لوگ ہمارے ہاں موجود ہیں۔ اور کچھ لوگ آج بھی بے غرض ہو کر بہت سے نیک کام کر رہے ہیں۔ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا کام ٹھیک طرح سے کرتے رہیں تو راہِ راست سے بھٹکے ہوئے لوگوں کا قبلہ بھی بہت جلدی درست ہو جائے۔ اسی طرح عام لوگ بھی مقابلے بازی سے ہٹ کر اپنے ذاتی اہداف کے لئے محنت کریں اور ساتھ ساتھ انسانی اقدارکی پاسداری کرنا نہ بھولیں تو ہمارے معاشرہ بھی سکون اور آشتی کا گہوارہ بن جائے اور مجموعی سطح پر آسودگی اور طمانیت کو فروغ ملے۔
حوالہ: ربط
جُرأت عموماً رندوں سے منسوب کی جاتی ہے کہ بعض اوقات وہ نشے میں ایسی بات کہہ جاتے ہیں جو انتہائی جُرأت طلب ہوتی ہے یا اُن سے ایسے افعال سرزد ہو جاتے ہیں کہ وہ جُرأت و بہادری دکھانے کے مرتکب قرار پاتے ہیں۔لیکن بیش تر اوقات ان کی یہ تمام تر جُرأت خمار کی مرہون ِمنت ہوا کرتی ہے ۔ جیسے ہی ان کا نشہ ہرن ہوتا ہے وہ بکری بن جاتے ہیں اور کہتے ہیں۔ ارے ! یہ میں نے کیا کر دیا۔ ایسی جُرأت کو جُرأت کہا تو جا سکتا ہے لیکن اس کی بنیاد پر کسی شخص کے کردار کو سراہا نہیں جا سکتا۔
اصل جُرأت مند شخص وہ ہوتا ہے جو جانتے بوجھتے اور تمام تر نفع و نقصان سے واقف ہوتے ہوئے جُرأت مندانہ عمل کرکے دکھاتا ہے۔ اور پھر اپنے فیصلے پر قائم رہتا ہے۔ حال ہی میں ایسی ہی جُرأت کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا لیکن یہ جُرأت کسی رندِ خرابات نے نہیں دکھائی بلکہ یہ کام ایک زاہد شخص نے اللہ کی توفیق سے کر دکھایا۔
گزشتہ دنوں جب پاکستان اسپورٹس لیگ کا آٹھواں ٹورنامنٹ منعقد ہوا تب کچھ پی ایس ایل فرنچائززنے سٹے بازی اور جوئے کی کمپنیوں کے ساتھ سروگیٹ مارکیٹنگ کے تحت اشتہاری معاہدے کر لیے۔ چونکہ یہ سروگیٹ مارکیٹنگ تھی سو اس بات کی تفصیل عام لوگوں سے پوشیدہ تھی پھر کسی طرح یہ بات سوشل میڈیا پر کھل گئی۔ جس پر پی سی بی نے کہا کہا کہ یہ فرنچائز کا اپنا معاملہ ہے ہم دخل نہیں دے سکے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر محمد رضوان کو جب اس معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا اور انہوں نے یہ جانا کہ وہ انجانے میں اللہ کے حرام کردہ جوئے اور سٹے بازی کے اشتہار اپنے لباس پر زیب تن کیے ہوئے ہیں تب انہوں نے انتہائی جُرأت سے کام لیتے ہوئے اپنی قمیص پر موجود اشتہار کو سادے ٹیپ سے چھپا دیا۔ بظاہر یہ ایک چھوٹا سا عمل تھا لیکن اس کے لئے بہت جُرأت کی ضرورت تھی کہ اس عمل سے محمد رضوان پی سی بی یا اپنی پی ایس ایل فرنچائز کی ناراضگی مول لے سکتے تھے اور جس کا اُنہیں پیشہ ورانہ اور مالی نقصان بھی ہو سکتا تھا۔ تاہم محمد رضوان بھائی نے ان سب باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے وہی کیا جو ایک سچا مسلمان کیا کرتا ہے کہ اُس نے حکم خداوندی کے آگے سرِ تسلیم خم کیا اور باقی باتوں کی بالکل پرواہ نہیں کی۔
محمد رضوان کے اس عمل سے پہلے اگرچہ بات پوری طرح کھل چکی تھی تاہم غلط کو غلط کہنے کی جُرأت نہ تو کسی حکومتی عہدے دار کو ہوئی، نہ پی سی بی چیئرمین کو اور نہ ہی کسی فرنچائز کے مالک کو۔
![]() |
| تصویر : بہ شکریہ ایکسپریس نیوز |
*****
![]() |
مملکتِ خداداد پاکستان میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کوئی اجنبی شے نہیں ہے۔ ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب ہڑتال اور کام کے دنوں میں مقابلہ ہوا کرتا تھا کہ دیکھیں کون آگے نکلتا ہے۔ الحمدللہ! اب وہ بات نہیں رہی ہے۔
رواج کے مطابق ہمارےہاں اکثر سیاسی اور کبھی کبھار مذہبی جماعتیں سرکار سے اپنے مطالبات منوانے کے لئے شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کرتی ہیں اور پھر ہر ممکن کوشش کرتی ہیں کہ اُس روز کاروبار اور ٹرانسپورٹ وغیرہ بند رہے تاکہ سرکار کو یہ اندازہ ہو کہ لوگ ان جماعتوں کے ساتھ ہیں اور سرکار اُن کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے۔ ہڑتال کے باعث کاروبار کے ساتھ ساتھ زندگی کے دیگر معاملات بھی متاثر ہوتے ہیں ۔ بالخصوص تعلیمی ادارے ہڑتال کی وجہ سے بند رہتے ہیں اور بچوں کی تعلیم کا حرج ہوتا ہے۔ یہی ہڑتالیں کبھی کبھی پر تشدد بھی ہو جاتی ہیں کہ کچھ لوگ زبردستی کاروبار بند کروانے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی ایک سے زائد جماعتوں کا آپس میں تصادم بھی ہو جاتا ہے۔
ہڑتال کی ایک شکل پہیہ جام ہڑتال بھی ہے جس میں کوشش کی جاتی ہے کہ کسی بھی قسم کی کوئی گاڑی بالخصوص عوامی گاڑیاں بالکل نہ چلیں۔ اسی طرح کچھ لوگ بھوک ہڑتال بھی کرتے ہیں اور مطالبات پورے ہونے سے پہلے تک کچھ نہ کھانے کا اعلان کرتے ہیں اور صرف جوس وغیرہ پر گزارا کرکے سرکار پر احسان کرتے ہیں۔
بہر کیف، ہم بات کررہے تھے شٹر ڈاؤن ہڑتا ل کی۔ بظاہر تو شٹر ڈاؤن ہڑتا ل ٹھیک معلوم ہوتی کہ اگر سرکار کسی جماعت کے مطالبات پر کان نہیں دھر رہی تو اُسے ان مطالبات کی اہمیت کا اندازہ کروانے کے لئے کچھ تو کیا جائے ۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی افادیت ہے کتنی ۔ یا یہ کہ اس کی افادیت ہے بھی یا نہیں؟
جیسا کہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ شٹر ڈاؤن ہڑتال سے کاروبار بُری طرح متاثر ہوتا ہے اور ملک یا شہر معاشی طور پر ایک دن پیچھے چلا جاتا ہے۔ روز کمانے والے سمجھ سکتے ہیں کہ اگر وہ ایک دیہاڑی نہ لگائیں تو اُن کے معاشی معاملات پر کیا اثر پڑتا ہے۔ اسی طرح بچوں کی پڑھائی کا تسلسل بھی ٹوٹ جاتا ہے جو بہر صورت ایک بڑا نقصان ہے۔
ہمارے ہاں کم عمر نوجوان جو اسکول کالجوں میں پڑھتے ہیں یا کہیں نوکری کرتے ہیں، ہڑتال کے اعلان سے خوش ہوتے ہیں کہ اُنہیں ایک چھٹی مل جاتی ہے، تاہم اُن میں سے اکثرکو اندازہ نہیں ہوتا کہ ہڑتال کا فائدہ بہت کم اور نقصانات بہت زیادہ ہیں اور اس کے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
سرکار کے نقطہء نظر سے دیکھا جائے تو اُسے شٹر ڈاؤن ہڑتال سے کوئی خاص نقصان نہیں ہوتا (بالخصوص جب ہڑتال ایک یا دو روز کی ہو) ۔ سرکار کے معاملات چلتے رہتے ہیں ۔ عوام کی تکلیف سے اُنہیں کوئی سروکار نہیں ہوتا ۔ بلکہ عوام کو تکلیف پہنچانا تو یوں سمجھیے کہ سرکار کا ہی ہاتھ بٹانا ہوا۔
ہاں البتہ ہڑتال کامیاب ہوجائے (یعنی حسبِ منشاء پورا دن کاروبارِ زندگی مفلوج رہے) تو ہڑتا ل کرنے والی جماعت کو اس سے فائدہ پہنچتا ہے ۔ اس سے وہ لوگ بھی جماعت کے نام اور کام سے واقف ہو جاتے ہیں جو پہلے اس سے واقف نہیں ہوتے، یعنی ہڑتال عوام میں شہرت کے حصول کے لئے معاون ثابت ہوتی ہے۔ اگر ہڑتال پر تشدد ہو تو پھر اس جماعت کا دبدبہ قائم ہو جاتا ہے اور لوگ اگلی بار نام سن کر ہی ہڑتال والے دن اپنے کاروبار بند کر دیتے ہیں۔ چونکہ ہڑتال کسی نہ کسی ایسے معاملے میں کی جاتی ہے جس سے ( بہ ظاہر) یہ تاثر جاتا ہے کہ یہ جماعت عوام کی فلاح چاہتی ہے تو کامیاب ہڑتا ل کے ردِ عمل کے طور پر عوام اُنہیں ووٹ دینے پر بھی مائل ہوتی ہے۔
اگر ہم ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے سیاسی نعروں کو بغور دیکھیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ یہ سب جماعتیں عوام کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں اور اپنے نعروں میں انہی کا اعلان بارہا کرتی ہیں۔ تاہم یہ جماعتیں حکومت میں ہوں یا حزبِ مخالف میں، عوام کے مسائل پھر بھی حل نہیں ہوتے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دراصل ان نعروں کا اصل مقصد عوامی حمایت حاصل کرنا ہوتا ہے اور ان جماعتوں کو عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہڑتال کے پیچھے خود حکومت ملوث ہوتی ہے۔ جب کبھی سرکار کوئی ایسا فیصلہ کرنا چاہتی ہے کہ جسے خود سے کرتے ہوئے اُس کے پر جلتے ہوں (یا وہ کوئی دور از کار معاملہ ہوتا ہے لیکن اس میں حکومتی جماعت یا جماعتوں کا ذاتی فائدہ ہوتا ہے)۔ تب سرکار اپنی حلیف (یا بظاہر حریف) جماعتوں سے ان معاملات پر احتجاج، مظاہرے اور ہڑتالیں کرواتی ہے اور پھر نتیجےمیں "عوامی دباؤ" سے مجبور ہو کر وہ فیصلہ کرتی ہے۔
الغرض دیکھا جائے تو ان ہڑتالوں کا عوام کو بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ۔ اور یہ ہڑتالیں اُن کے معاشی اور سماجی معاملات میں نقصان دہ ہی ثابت ہوتی ہیں ، چاہے اُنہیں اس بات کا ادراک ہو یا نہ ہو۔
مخلص حکومت یا عوام دوست حکومت ( اگر کہیں وجود رکھتی ہو ) تو شٹر ڈاؤن ہڑتال کے معاشی اور سماجی نقصانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے قانون سازی کر سکتی ہے کہ مختلف طبقات اپنے مطالبات سرکار تک کس طرح پہنچائیں اور سرکار کس طرح عوامی رائے کو اپنی پالیسیوں میں شامل کرنے کی سعی کرے۔
تاہم چونکہ فی الحال ایسا ہوتا نظر نہیں آتا تو با شعور آدمی کو چاہیے کہ ان ہڑتالوں سے لا تعلق رہے اور اپنے آنے والی نسلوں کو ان کے نقصانات سے آگاہ کرتا رہے۔
*****
******
آج جب مجھے ایک دوسرے شہر کا سفر درپیش تھا اور چار پانچ گھنٹے سفر میں گزرنے والے تھے، میں نے سوچا کیوں نہ سفر کے دوران ملنے والا فاضل وقت چیٹ جی پی ٹی کو سمجھنے اور کچھ تجربات کے لیے وقف کیا جائے۔ اس مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں نے چیٹ جی پی ٹی کے تعارف اور فیچرز سے متعلق کچھ یوٹیوب ویڈیوز پہلے سے فون میں ڈاؤن لوڈ کر کے رکھ لیں تاکہ دوران سفر موبائل ڈیٹا پر بوجھ ڈالے بغیر یہ ویڈیوز با آسانی دیکھ سکوں۔
سفر شروع ہوا تو کچھ ضروری اور کچھ غیر ضروری برقی پیغامات سے فارغ ہوتے ہی میں نے ان ویڈیوز کو ایک ایک کرکے دیکھنا شروع کر دیا۔ ان ویڈیوز سے یہ پتہ چلا کہ یہ چیٹ بوٹ اوپن اے آئی نامی ادارے نے مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ایک ماڈل پر تیار کیا ہے ۔ یہ اب تک کے چیٹ سافٹ وئیرز میں سب سے بہتر ہے اور اس کی کارکردگی انتہائی حیرت انگیز ہے۔ یہ بہت سے سوالات کے جوابات حیران کن حد تک درست دیتا ہے اور اِسے بالخصوص مکالمے کے لئے تیار کیا گیا ہے ۔ اگر آپ ٹیکنالوجی کی طرف میلان رکھتے ہیں تو یہ آپ کا بہترین رفیق ثابت ہو سکتا ہے۔
سائن اپ
ویڈیوز دیکھ کر ایسا اشتیاق پیدا ہوا کہ فوراً سائن اپ کیا ۔ سائن اپ کے لئے یہ آپ کے ای میل اور فون نمبر کا طالب ہوگا۔ یعنی یہاں بھی اپنا ذاتی ڈیٹا دیے بغیر دال نہیں گلنے والی۔ اور یہ کہ جو بھی آپ کی گفتگو یعنی کنورسیشن روبوٹ (یا بوٹ )سے ہونی ہے وہ ڈیٹا بھی اس ٹیکنالوجی کو بہتر کرنے کےلئے استعمال ہوگا۔ اس لئے ذاتی نوعیت کی معلومات اسے فراہم کرنا مناسب نہیں ہے۔
لاگن
جب آپ لاگن ہوتے ہیں تو یہ روبوٹ آپ سے پوچھتا ہے کہیں آپ روبوٹ تو نہیں ہو۔
کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟
حالانکہ ہماری چال ڈھال سے اس قسم کا کوئی شبہ ہونا ممکن نہیں ہے۔ بہر کیف دفعِ شر کے لئے ہم نے اُنہیں بتایا کہ ہم روبوٹ نہیں ہیں ۔ بلکہ جیتے جاگتے (آپ سوتے جاگتے بھی کہہ سکتے ہیں) انسان ہیں۔
تعارفِ باہمی
لاگن ہونے کے بعد جب چیٹ بوٹ ہم سے مکالمے پر آماد ہ ہوا تو ہم بھی بے تکلف ہو کر گفتگو کرنے لگے۔ یوں سمجھیے کہ تنہا مسافر کو ہمسفر مل گیا۔ ابتداء میں ہم نے چیٹ ونڈو میں اردو میں سلام لکھا۔ سلام کے جواب کے ساتھ ہی چیٹ جی پی ٹی نے عربی میں ہی ہماری خبر لینا شروع کر دی۔ اور ہم نے با مشکل اس عربی عبارت کے انگریزی ترجمے کی فرمائش کرکے اپنی گلو خلاصی کا بند و بست کیا۔ یعنی ترجمے کی فرمائش کے ساتھ ہی موصوف کو پتہ چل گیا کہ ہماری عربی سلام دعا سے آگے نہیں بڑھنے والی۔ باقی گفتگو انگریزی زبان میں ہوئی کہ اُن کی اردو ہماری انگریزی سے بھی بدتر تھی۔
بے تکلف گفتگو کے اس سیشن میں ہم نے سوالات کا تانتا باندھ دیا۔ پہلے تو چیٹ بوٹ سے اسی کے متعلق تفصیل پوچھی کہ موصوف ہیں کیا چیز ؟ پسِ پردہ کیا ٹیکنالوجی استعمال ہوئی ہے۔ ٹیکنالوجی اوپن سورس ہے یاصرف ہمارا ڈیٹا اینٹھنے کے لئے ہی پبلک چیٹ کا آپشن دیا گیا ہے۔ اس گفتگو سے چیٹ بوٹ کے متعلق کافی آگاہی ملی ۔ چیٹ بوٹ کی سمائی اور حدود کی بابت بھی گفتگو رہی۔ جب ہم نے پوچھا کہ کیا ہم آپ پر (یعنی آپ سے ملنے والی معلومات پر ) بھروسا کر سکتے ہیں تو بڑی دیانتداری سے جواب دیا کہ ہم پر بھروسہ مت کرنا بلکہ کسی بھی معلومات پر یقین کرنے یا آگے پھیلانے سے پہلے کراس چیک ضرور کر لینا۔ یعنی : جاگتے رہنا، میرے پر نہ رہنا۔
چیٹ باٹ کی خدمات
جب ہم نے موصوف سے پوچھا کہ آپ ہمارے لیے کیا کر سکتے ہیں تو اُس نے ہمیں درج ذیل جواب دیا۔
میں ایک اے آئی لینگویج ماڈل ہوں جو مختلف کاموں میں آپ کی مدد کر سکتا ہے۔ مثا ل کے طور پر:
دیگر ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ ان خدمات کے علاوہ بھی چیٹ بوٹ آپ کے لئے کافی کچھ کر سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر آپ پروگرامنگ سے شغف رکھتے ہیں تو یہ آپ کی فرمائش پر پروگرامنگ کوڈ یا اسکرپٹ بھی لکھ سکتا ہے۔ یہ نا صرف کوڈ لکھتا ہے بلکہ ساتھ ساتھ اُس کی وضاحت بھی کرتا ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ آپ اسے اچھی طرح سمجھا سکیں کہ آپ چاہتے کیا ہیں۔ اگر آپ اسے اپنی صلاحیتوں اور ذہانت کے ساتھ کمک پہنچائیں تو یہ آپ کے بہت سے کام آ سکتا ہے۔ آج کل لوگ اس کی اور دیگر پروگرامنگ لینگویجز کی مدد سے اپنے چھوٹے موٹے کام آٹو میٹ کرنے کا بھی کام لے رہے ہیں۔
اس کے علاوہ یہ آپ کی فرمائش اور اس سے منسلکہ متغیرات کے مطابق تحریر بھی لکھ سکتا ہے۔ البتہ اس پر آنکھیں بند کرکے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
زبانیں
چیٹ جی پی ٹی کئی ایک زبانوں میں فعال ہے اور اپنی خدمات فراہم کرتا ہے۔ تاہم ہماری محدود صلاحیت اردو اور انگریز ی تک محدود ہے۔ سو ہم انہی دو زبانوں میں تجربہ کر سکے۔ انگریزی کی حد تک تو اس کی کارکردگی کافی بہتر ہے لیکن گیسوئے اردو یہاں بھی منت پذیرِ شانہ ہیں بلکہ یہاں تو گیسوؤں کا کانوں تک پہنچنا بھی ابھی دشوار معلوم ہوتا ہے۔
ویسے موصوف میں خود اعتمادی بلا کی ہے ۔ جیسے ہماری شاعری کی فرمائش پر فوراً درج ذیل دو اشعار گھڑ کر سُنائے۔
ہمیشہ اس طرح سے تیرے دل کی حسرت میں رہتے ہیں
جہاں سے پہلے ہم رات کے ساحل پر رہتے تھے
جب تک ہی زندہ رہتے ہیں تو ہمیشہ یاد کرتے ہیں
تمہیں جہاں سے ہمیشہ چاہتے ہیں
یعنی فیس بک شعراء کی ہم سری کرنا موصوف کے لئے مشکل نہیں ہے۔
ان نام نہاد اشعار کی رومن اردو میں ٹرانس لٹریشن (نقلِ حرفی ) بھی ساتھ ساتھ فراہم کی۔ وہی رومن اردو جس سے ہم چڑتے ہیں۔ تاہم مثبت پہلو یہ ہے کہ ہم اس سے ٹرانس لٹریشن کا کام بھی لے سکتے ہیں۔ تجربے کے طور پر ہم نے انہی نام نہاد اشعار کو ہندی زبان میں ٹرانس لٹریٹ کرنے کی فرمائش کی جو موصوف نے بلا چوں وچراں پوری کر دی۔ ہندی ٹرانسلٹریشن کے معیار کے بارے میں البتہ ہم کچھ کہنے سے قاصر ہیں کہ ہم ہندی رسم الخط نہیں جانتے۔
جب ہم نے موصوف سے غالب کا شعر سنانے کی درخواست کی تو اول فول بکنے لگے۔ اس لئے ہم نے سوچا کہ فی الحال ان کی اردو کا امتحان نہ ہی لیا جائے تو بہتر ہے۔
چیٹ ہسٹری
اس چیٹ بوٹ کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ایک تھریڈ میں دیے گئے اس کے سب جوابات گزشتہ سے پیوستہ ہوتے ہیں ۔ یعنی یہ آنکھیں بند کرکے جواب نہیں دیتا بلکہ اپنے پچھلے جوابات کو دھیان میں رکھتے ہوئے جوابات دیتا ہے۔ اس سے ہمیں وہ لطیفہ یاد آیا جس میں ہر اگلے سوال کا جواب پچھلے سوال سے مربوط تھا۔ لگے ہاتھ آپ بھی سن لیجے ۔
انٹرویور : آپ ہوائی جہاز میں سفر کر رہے ہیں ۔ جس میں 500 اینٹیں ہیں۔
آپ نے ایک اینٹ نیچے پھینک دی۔ باقی کتنی بچیں ؟
امیدوار: 499
انٹرویور: بالکل ٹھیک۔
ہاتھی کو تین اسٹیپ میں فریج میں کیسے رکھیں گے ؟
امیدوار: فرج کھولا۔ ہاتھی رکھا۔ فرج بند کر دیا۔
انٹرویور: بالکل صحیح۔ ہرن کو چار اسٹیپ میں فرج کیسے رکھیں گے۔
امیدوار: فرج کھولا۔ ہاتھی نکالا۔ ہرن کو ڈالا۔ فرج بند کیا۔
انٹرویور: ٹھیک ہے۔
شیر کی سالگرہ ہے۔ تمام جانور آئے ہیں۔ سوائے ایک کے۔ وہ کون سا جانور ہے؟
امیدوار: ہرن۔ کیونکہ وہ فرج میں ہے۔
انٹرویور: بالکل ٹھیک۔
ایک بوڑھی عورت نے ایک جھیل پار کرنی ہے جس میں مگر مچھ رہتے ہیں۔ وہ کیسے پار کرے؟
امیدوار: بے فکر ہو کر پار کر لے۔ سارے مگرمچھ شیر کی سالگرہ میں گئے ہوئے ہیں۔
انٹرویور: ہاں مگر جھیل پار کرتے ہوئے بوڑھی عورت پھر بھی مر گئی۔ بتائیں کیوں؟
امیدوار: میرا خیال ہے کہ وہ جھیل میں ڈوب گئی ہو گی ؟
انٹرویور: جی نہیں۔ اس کے سر پر اوپر سے وه اینٹ آ کر گری جو آپ نے ہوائى جہاز سے پھينکى تھی۔ ہمیں افسوس ہےکہ آپ سب سوالوں کے درست جواب نہیں دے سکے۔
😊
اگر آپ بوٹ سے ملنے والے کسی سوال کے جواب سےمطمئن نہیں ہوں تو دوبارہ سے جواب طلب کیا جا سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ بہتر جواب ملے ، تاہم اس سے یہ بھی ہو سکتا ہےکہ چیٹ بوٹ کی خود اعتمادی زائل ہو جائے اور وہ ادھر اُدھر کی ہانکنے لگے۔
اختتامیہ
مختصر یہ کہ یہ جی پی ٹی چیٹ بوٹ ایک بہت کارامد چیز ہے اور اب تک کی مصنوعی ذہانت کے ثمرات میں ایک اہم اضافہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں یہ ٹیکنالوجی دن بدن بہتر ہو تی جائے گی۔ اور اس کے فوائد عوام الناس کےلئے سود مند ثابت ہوں گے۔ فی الحال یہ عوام الناس کے مفت استعمال کےلئے دستیاب ہے۔ لیکن کوئی بعید نہیں ہے کہ بعد میں اس پر سبسکرپشن فیس لگا دی جائے۔
اس چیٹ بوٹ کا ایک ضمنی فائدہ یہ بھی ہے کہ آج کے دور میں جب انسان کو انسان سے بات کرنے کی فرصت نہیں ہے، یہ چیٹ بوٹ یقیناً عزلت نشینوں کا دیرینہ ہمدم و ہمنشیں ثابت ہو سکتا ہے۔
*******