کتاب سادہ رہے گی کب تک، کبھی تو آغازِ باب ہو گا​ ۔ مرتضیٰ برلاس


غزل

کتاب سادہ رہے گی کب تک، کبھی تو آغازِ باب ہو گا​
جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی، کبھی تو ان کا حساب ہو گا​

وہ دن گئے جب کہ ہر ستم کو ادائے محبوب کہہ کے چپ تھے​
اٹھی جو اب ہم پہ اینٹ کوئی تو اس کا پتھر جواب ہو گا​

سحر کی خوشیاں منانے والو، سحر کے تیور بتا رہے ہیں​
ابھی تو اتنی گھٹن بڑھے گی کہ سانس لینا عذاب ہو گا​

سکوتِ صحرا میں بسنے والو، ذرا رُتوں کا مزاج سمجھو​
جو آج کا دن سکوں سے گزرا تو کل کا موسم خراب ہو گا​

نہیں کہ یہ صرف شاعری ہے، غزل میں تاریخِ بے حسی ہے​
جو آج شعروں میں کہہ دیا ہے، وہ کل شریکِ نصاب ہو گا​


مرتضٰی برلاس​

کرکٹ آزار اور کراچی

 

کراچی والے کرکٹ سے محبت کرتے ہیں جن میں سے ایک تو راقم تحریر خود ہے۔

کرکٹ کا کھیل بچپن سے لے کر آج تک اس خاکسار کے لیے باعثِ دلکشی رہا ہے۔ بچپن میں ہم بلّے کے حصول کے لئے گیندیں گھما گھما کر پھینکنے کے عادی رہے ہیں، اور بلّا مل جانے پر اکثر گیند بزورِ بلّا گم کر دینے کے مرتکب بھی ہوئے ہیں۔ تاہم، ہمیں یہ اندازہ ہرگز نہیں تھا کہ ان معصوم خطاؤں کی کیا بھیانک سزا ہمیں مستقبل میں بھگتنی ہوگی۔

بچپن کے رخصت ہوتے ہوتے دیگر کھیلوں کی طرح یہ کھیل بھی ہم سے چھٹ گیا تاہم کرکٹ کے بین الاقوامی مقابلوں سے جو دلی وابستگی قائم ہوئی، وہ آج بھی قائم ہے۔ بالخصوص مملکت ِ خداداد کی خداداد صلاحیتوں اور نالائقیوں کی حامل ٹیم جب کبھی میدان میں اترتی ہے تو خاکسار شرمسار ہونے سے پہلے اور اکثر بعد تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔

ایسی الجھی نظر اُن سے ہٹتی نہیں
دانت سے ریشمی ڈور کٹتی نہیں


عمر کب کی برس کے سفید ہو گئی لیکن یہ موئے سیاہ کی مانند کرتوت والے 'لڑکے' تا حال ہماری جان کے درپے ہیں۔ اور ہم بھی پیرویِ میر میں انہی لڑکوں سے اب تک دوا لے رہے ہیں۔

ہم فقیروں کو کچھ آزار تمھیں دیتے ہو
یوں تو اس فرقے سے سب لوگ دعا لیتے ہیں


سچی بات تو یہ ہے کہ عین شہر کے قلب میں شدید ترین حفاظتی انتظامات کے تحت ہونے والی کرکٹ، کرکٹ کے دوست کم اور دشمن زیادہ پیدا کرتی ہے۔ نیشنل اسٹیڈیم کے اطراف کی سڑکیں کئی کئی دن بندش کے ادوار سے گزرتی ہیں اور اپنے اپنے اسکول، کالج، دفتر، دوکان، ہسپتال اور قبرستان جانے والے کئی کئی گھنٹے سڑکوں پر پھنسے رہتے ہیں اور یوں یہ کرکٹ کا مزیدار کھیل لوگوں کی دل آزاری کا باعث بنتا ہے۔

سڑکوں کی بے جا بندش کرکٹ بیزاروں کو ہمارے کان کترنے کا موقع فراہم کرتی ہے اور ہم خود سڑکوں پر پہروں پھنسے رہنے کے باعث کرکٹ سے بیزار اور کرکٹ بیزاروں کے آگے شرمسار نظر آتے ہیں۔

ہماری حکامِ بالا و زیریں اور میانِ بالا و زیریں سے مودبانہ گزارش ہے کہ تھوڑے لکھے کو بہت جانیں اور خط کو تار سمجھیں اور ان کرکٹ میچوں کو شہر کے کسی دور افتادہ مقام پر منعقد کروایا جائے کہ جہاں عوام الناس کے شب و روز کرکٹ میچز کے حفاظتی انتظامات سے متاثر نہ ہوں۔ اسی میں کراچی، کرکٹ اور عوام الناس کی بھلائی ہے۔

کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرشِ بریں پر




غزل : خفا ہیں؟ مگر! بات تو کیجیے

غزل


خفا ہیں؟ مگر! بات تو کیجیے
ملیں مت، ملاقات تو کیجیے

ملیں گے اگر تو ملیں گے کہاں
بیاں کچھ مقامات تو کیجیے

پلائیں نہ پانی، بٹھائیں بھی مت
مسافر سے کچھ بات تو کیجیے

نہیں اتنے سادہ و معصوم وہ
کبھی کچھ غلط بات تو کیجیے

سنی وعظ و تقریر، اچھی لگی
چلیں ،کچھ مناجات تو کیجیے

نہیں دوستی کی فضا گر، نہ ہو
خدارا شروعات تو کیجیے

بھلے ، کل بگڑ کر کہَیں "الفراق"
بسر آج کی رات تو کیجیے

کہا کیا؟ یہی ہے روایت مری؟
بیاں کچھ روایات تو کیجیے

نزولِ سکینت بھی ہو گا ضرور
عمل بر ہدایات تو کیجیے

عبث رب سے شکوہ کناں آپ ہیں
شمارِ عنایات تو کیجیے

اگر تزکیے سے ہے احمد ؔفلاح
چلیں پھر شروعات تو کیجیے

محمد احمد ؔ

 


غزل ۔ بہہ نہ جانا کہیں بہاؤ میں ۔ محمد احمد

غزل

بہہ نہ جانا کہیں بہاؤ میں
رکھنا پتوار اپنی ناؤ میں

نا اُمیدی مرے مسیحا کی
عمر کاٹی ہے چل چلاؤ میں

عصرِ تازہ کا ترجماں ہے وہ
واہ مضمر ہے اُس کی واؤ میں

چارہ گر! ہے یہ اعتبار کا زخم
تیر گننا عبث ہے گھاؤ میں

دوستوں کو خبر نہ ہو پائی
رہ گیا میں کسی پڑاؤ میں

مسکراتے رہا کرو احمدؔ
رکھ رکھاؤ ہے، رکھ رکھاؤ میں

محمد احمدؔ

نو برس - ایک نثری نظم

 آج ہم نے اپنے عزیز دوست اور اُستاد فلک شیر بھائی کی ایک نثری نظم دیکھی جو ہمیں بہت بھائی! سو ہم کمالِ اپنائیت سے یہ نظم بغیر اجازت اپنے بلاگ پر چسپاں کر رہے ہیں۔ آپ کو ضرور پسند آئے گی۔

نو برس

نو برس ہوتے ہیں
ہر کسی کے اپنے نو برس ہوتے ہیں
سیرِ صحرا سے لبِ دریا تک
عمر کوٹ سے بھٹ جو گوٹھ تک
سسی کی پیاس سے خضر کے گھڑے تک
بے انت بے سمتی سے یکسوئی کی مٹھاس تک
کانٹوں کے عرق سے ترتراتے پراٹھےسے....
شکرگزاری کی سوکھی روٹی تک
بے مصرف بنجر دنوں سے موتیوں جیسے لمحوں کے ڈھیر تک
واقف انجانوں کی بھیڑ سے دل میں اترے اجنبیوں کی مجلس تک

اور

کسی بربادکوزہ گر، جو اپنے ہی کوزوں سے رنجور ہو....
کوپھر سے اپنے چاک پہ شرابور ہونے تک
نو برس درکار ہوتے ہیں
پر یہ نو برس ہمیشہ سو سے آٹھ زیادہ مہینوں کے نہیں ہوتے
یہ نو لمحوں سے نو دہائیوں کے ہو سکتے ہیں

کیونکہ

نو برس ہر کسی کے اپنے ہوتے ہیں


فلک شیر



عرضِ شاعرمن و عن: کل ن م راشد کا یوم پیدائش تھا، راشد کی حسن کوزہ گر کا ایک تھیمیٹک حوالہ مندرجہ بالا نثری نظم میں قارئین محسوس کر سکتے ہیں، یہ تککفاً در نہیں آیا، یہی عرض کرنا کافی سمجھتا ہوں۔

یوں حسرتوں کے داغ محبت میں دھو لیے ۔ راجیندر کرشن

یوں تو یہ ایک گیت ہے جو شاید آپ میں سے کسی نے لتا کی آواز میں سنا ہو۔ لیکن ہیئت کے اعتبار سے یہ ایک غزل ہے اور کیا ہی خوب غزل ہے۔ آج فیس بک پر اسے دیکھا تو سوچا کہ اس خوبصورت کلام کو بلاگ پر لگایا جائے۔ ملاحظہ فرمائیے۔

غزل

یوں حسرتوں کے داغ محبت میں دھو لیے
خود دل سے دل کی بات کہی اور رو لیے

گھر سے چلے تھے ہم تو خوشی کی تلاش میں
غم راہ میں کھڑے تھے وہی ساتھ ہو لیے

مرجھا چکا ہے پھر بھی یہ دل پھول ہی تو ہے
اب آپ کی خوشی اسے کانٹوں میں تولیے

ہونٹوں کو سی چکے تو زمانے نے یہ کہا
یوں چپ سی کیوں لگی ہے اجی کچھ تو بولئے

راجیندر کرشن


تبصرہ ٴکُتب | کبڑا عاشق ۔ وکٹر ہیوگو


مجھے تراجم پڑھنا اس لئے اچھا لگتا ہے کہ عموماً شاہکار کتابیں ہی ذہن میں یہ خیال پیدا کرتی ہیں کہ انہیں دوسری زبان کے جاننے والوں کے لئے بھی پیش کیا جائے۔ ورنہ ہر کتاب کا ترجمہ نہیں کیا جاتا۔ اور اکثر تراجم جو میں نے پڑھے ہیں وہ واقعتاً اپنی صنف کی شاہکار کتابیں ہیں۔

وکٹر ہیوگو کا مشہور ناول نوٹرے ڈیم کا کبڑا کا اردو ترجمہ کبڑا عاشق کے نام سے کیا گیا ہے ۔ فکشن ہاؤس نے اسے چھاپا ہے لیکن کہیں بھی مترجم کا ذکر نہیں کیا۔ ویب سرچ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ناول کا ترجمہ ستار طاہر صاحب نے کیا ہے۔ بدگمانی سے کام لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ غالباً ستار طاہر کے کام کو ہی فکشن ہاؤس نے بغیر کریڈٹ دئیے اپنے پلیٹ فارم سے شائع کر دیا۔ واللہ اعلم!

بہر کیف، ناول کا پلاٹ اچھا ہے۔ پس منظر میں مصنف نے مذکورہ دور کے پیرس کا حال بھی پیش کیا ہے کہ کس طرح پیرس اُس وقت ظلم و جہالت کا شکار تھا اور وہاں کے عوام کی نفسیات کیا تھیں۔ سماج اور انصاف کی کون سی قدریں وہاں رائج تھیں۔

ناول میں بین السطور کئی ایک سماجی مسائل زیرِ بحث آئے ہیں کہ جن میں سے کچھ مسائل کا ہمیں آج بھی سامنا ہے۔ ناول کے ایک واقعہ کو پڑھ کر گلزار کا مشہور افسانہ "ادھا" یاد آتا ہے کہ جس کی تھیم یہ تھی کہ برے وقت میں ایک ایسا شخص کام آتا ہے کہ جس سے بالکل بھی توقع نہیں تھی۔

بہرکیف، وقت گزاری کے لئے یہ ایک اچھا ناول ہے۔





استخارہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟


مسلمانوں کو چاہیے کہ کسی بھی اہم فیصلے سے پیشتر استخارہ کریں۔ استخارہ کے اصطلاحی معنی یہ ہیں کہ کسی معاملے میں اللہ تعالى سے دعا کی جائے کہ وہ ہمیں بہتر راہ یا فیصلہ نصیب کردے۔ یعنی اللہ تعالىٰ كے ہاں جو کام یا امر ہمارے لئے بہتر و افضل ہے ہمیں اس كى طرف پھیر دے اور اس کے لئے راہ ہموار کردے۔


 
استخارہ کے درست طریقے سے بہت سے لوگ واقف نہیں ہیں۔ مزید یہ کہ استخارہ کے حوالے سے کئی ایک غلط فہمیاں لوگوں میں عام ہیں۔ اس سلسلے میں ہمارے محترم دوست جناب ظہیر احمد ظہیر صاحب نے ایک مختصر مضمون "استخار ہ کیا ہے؟ اور کیا نہیں ہے؟" تحریر کیا ہے۔ یہ مضمون آپ اس ربط پر ملاحظہ کر سکتے ہیں یا اسے براہِ راست پڑھنے کے لئے ڈاؤنلوڈ بھی کر سکتے ہیں۔

جزاک اللہ۔


تبصرہ ٴکُتب | جب زندگی شروع ہوگی


"جب زندگی شروع ہوگی" ایک ناول ہے۔ اگر آپ نے یہ ناول نہیں پڑھا تو میری رائے یہ ہے کہ آپ بغیر کوئی اثر لئے اس ناول کو پڑھیے۔ بعد میں چاہیں تو یہ تبصرہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ اس ناول کے بارے میں تجسس رکھتے ہیں تو پھر ہمارا تبصرہ حاضر ہے۔

کراچی ایکسپو سینٹر میں ہر سال کتابوں کی نمائش منعقد ہوا کرتی ہے اور ہم کم از کم ایک بار تو وہاں حاضری دے ہی دیتے ہیں۔ "جب زندگی شروع ہوگی" کا پہلا دیدار ہمیں کراچی ایکسپو سینٹر میں ایسی ہی ایک نمائش میں ہوا کہ جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ہال کے داخلی دروازے پر دو تین لوگ اس کتاب کا ایک ایک نسخہ لیے ہر آنے جانے والے کو گھیرنے کی کوشش کررہے ہیں اور ہر ایک کو روک کر کہتے ہیں،کیا آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے؟

میری طبیعت کچھ ایسی ہے کہ میں اُن چیزوں سے کافی بیزار ہو جاتا ہوں جن کی بہت زیادہ مارکیٹنگ ہوتی نظر آتی ہے اور میں سوچتا ہوں کہ بھلا کوئی مجھ پر کوئی شے کیوں مسلط کرے۔ سو اپنی طبیعت کے باعث میں ہمشہ اس گروہ سے بچ کر نکل جاتا۔ پھر اُس کے بعد کہیں نہ کہیں اس کتاب کا دیدار ہوتا رہا کہ اکثر کتابوں کی دوکان پر یہ کافی نمایاں مقامات پر رکھی نظر آتی۔ اور میں اپنا پہلا تاثُّر لیے اسے نظر انداز کر دیتا۔

پھر ایک بار ہمارے ایک شفیق اُستاد نے ہم سے اس کتاب کا ذکر کیا اور بین السطور اس کی تعریف بھی کی۔ تب کہیں جا کر ہم نے اس کتاب کو فہرستِ مطالعہ میں جگہ دی۔ اور کرنا خدا کا یہ ہوا کہ ان دنوں ہم نے یہ کتاب پڑھ بھی لی۔


"جب زندگی شروع ہوگی" ایک ناول یعنی فکشن ہے۔ لیکن یہ عام فکشن نہیں ہے۔ دراصل مصنف نے اسلامی عقیدے کے مطابق انسان کی اُخروی زندگی کو ایک ناول کی صورت پیش کیا ہے۔ اس ناول کا آغاز ہی موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے سے ہوتا ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار عبداللہ نامی شخص ہے اور ناول کے تمام تر واقعات عبداللہ ہی کی زبانی بیان ہوئے ہیں۔ ناول میں حشر کے طویل ترین دن کا بیان ہے کہ کس طرح کے اعمال والوں کے ساتھ اُس دن کیا سلوک ہونا ہے۔ حشر کے دن کی سختیاں اور ہولناکیاں اس میں بتائی گئی ہیں ۔ حساب کتاب کیا ہوگا، کس طرح ہو گا۔حشر کا دن، اللہ کے انسانوں سے کئے گئے وعدوں کے پورا ہونے کا دن، کیسا ہوگا۔ جس نے اللہ کے وعدوں کو سچ سمجھا، اُس کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا اور جس نے اللہ کے وعدوں اور وعید وں کو نظر انداز کرتے ہوئے دنیاوی زندگی کو ہی سب کو کچھ سمجھ لیا، اُس کے ساتھ کیا ہوگا۔ پھر جنت اور جہنم کا بیان۔ جنت کے حسن و جمال اور عیش و آرام والی زندگی کا بیان اور جہنم کے بدترین حالات اور اہلِ جہنم کی مصیبتوں کا احوال اس تحریر میں موجود ہے۔ ساتھ ساتھ بین السطور اس بات کا بیان کہ کس طرح کی زندگی گزارنے والے کی آخرت کیسی ہوگی۔ اعمال کا وزن کس طرح ہوگا۔ نیّتوں کا کیا دخل ہوگا ، اور اللہ کی رحمت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا بیان۔ غرض کہ ایک کوزے میں سمندر کو بند کر دیا گیا ہے اور وہ بھی دلچسپ کہانی کے پیرائے میں۔

گو کہ مسلمان یہ سب وعدے وعید کہیں نہ کہیں پڑھتا سنتا رہتا ہے لیکن یہ سب چیزیں اکثر کسی ایک جگہ نہیں ملتیں ۔ انسانی فطرت ہے کہ کہانی کی شکل میں چیزوں سے زیادہ اثر لیتا ہے سو یہ ناول ہم سب کو پڑھنا چاہیے۔

اس ناول پر کچھ لوگوں کو اعتراضات بھی ہیں ۔ اور اعتراضات کا ہونا بعید از قیاس ہرگز نہیں ہے کہ ان سنجیدہ موضوعات کو کہانی کی شکل دینے میں کئی ایک قباحتیں درپیش ہو سکتی ہیں۔ تاہم مصنف کا کہنا یہ ہے کہ اُس ناول میں تمام تر مندرجات اور واقعات نگاری کے لئے اُنہوں نے اسلامی تعلیمات کے اہم ترین ماخذ قران اور صحیح احادیث سے استنباط کی بھرپور کوشش کی ہے۔ یہ ناول پڑھتے ہوئے آپ کو کئی ایک احادیثِ مبارکہ اور قرانی آیات یاد آئیں گی جو اس بات کی دلالت ہے کہ یہ محض ایک فکشن نہیں ہے بلکہ مصنف نے اس کے مندرجات کی تحقیق میں کافی عرق ریزی سے کام لیا ہے۔

ناول کے بارے میں مصنف نے کچھ وضاحتیں آغاز میں اور کچھ ناول کے انجام پر پیش کی ہیں جس سے عمومی شکوک و شبہات کا ازالہ ہو جاتا ہے۔

شرعی اعتبار سے اس قسم کے ناول کی کیا حیثیت ہے میں اس حوالے سے کچھ بھی کہنے سے قاصر ہوں ۔ تاہم اتنا ضرور ہے کہ یہ ناول بڑی تاثیر رکھتا ہے اور پڑھنے والے کو خدا سے قریب کرتا ہے اور فکرِ آخرت کو مہمیز کرتا ہے۔

یہ اُن تمام تحریروں سے کہیں بہتر ہے کہ جو ہمیں فکشن کو حقیقت بنا کر سُناتی ہیں اور اس پر یقین کرنے کا مطالبہ بھی کرتی ہیں، اور ہم میں سے بہت سے سادہ لوح اُن پر یقین بھی کر لیتے ہیں۔ تاہم یہ ناول ہے اور مصنف نے اسے بطورِ فکشن ہی پیش کیا ہے۔

اگر آپ اس ناول کی صنف کے متعلق تذبذب کا شکار ہیں تو میرے نزدیک اس کی مثال بچوں کی کہانیوں کی سی ہے کہ جو ہوتی تو فکشن ہی ہیں لیکن اُن میں دیا گیا اخلاقی سبق بالکل سچ ہوتا ہے ۔ شاید آپ نے بچپن میں اُس لکڑ ہارے کی کہانی سنی ہو کہ جس کی کلہاڑی دریا میں گر گئی اور ایک جل پری نے اُسے ایک چاندی کی کلہاڑی دکھائی کہ شاید یہ تمہاری کلہاڑی ہے۔ جس پر لکڑہارے نے منع کر دیا کہ یہ اُس کی کلہاڑی نہیں ہے۔ اُس کے بعد جل پری نے اُسے سونے کی کلہاڑی دکھائی اور اس بار بھی لکڑہارے نے انکار کر دیا ۔ اور جب تیسری بار جل پری نے اُسے اُس کی اپنی لوہے کی کلہاڑی دکھائی تو لکڑہارے نے کہا کہ ہاں یہی میری کلہاڑی ہے ۔ اور اس کے بعد اُس کی ایمانداری کے انعام کے طور پر جل پری نے اُسے سونے اور چاندی کی کلہاڑیاں بھی بطور تحفہ دے دیں۔ اب دیکھا جائے تو یہ خالص فکشن ہے لیکن ایمانداری کا سبق اپنی جگہ مسلم ہے اور ہماری توقع ہوتی ہے کہ بچے اس قسم کی کہانیاں سن کر ایمانداری سیکھیں۔

بہرکیف ایک کتاب کے تبصرے کی مد میں اتنا کہنا کافی ہے۔ آپ اپنی رائے کتاب پڑھ کر قائم کر سکتے ہیں۔ آخر میں ایک مشورہ ہماری طرف سے یہ ہے کہ اگر اس کتاب میں پیش کیے جانے والا کوئی خیال یا تصور آپ کے لئے نیا ہو یا چونکا دینے والا ہو تو اِ سے ایک دم قبول یا رد نہ کریں بلکہ تھوڑی سی تحقیق کریں جس سے آپ کی بھرپور تشفی ہو سکے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو ہدایت عطاء فرمائے اور دُنیا میں اور بالخصوص آخرت میں کامیابی سے سرفراز فرمائے۔ آمین۔

پش نوشت: اگر آپ یہ کتاب پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ آپ کو با آسانی بک اسٹال سے مل جائے گی اور اگر آپ اس کی پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ کرنا چاہتے ہیں تو اس ربط سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔

******


نظم : ڈیجیٹل فوٹو


زندگی کی فوٹو کے
ایک ایک پِکسَل سے
روشنی تِری جھلکے
اور تُو نہیں تو پھر
اِک سیاہ پردے پر
گمشدہ نشاں ہوں میں
وہم ہُوں، گُماں ہُوں میں


نوید رزاق بٹ

 


 

فاطمہ حسن کی دو خوبصورت غزلیں

غزل

زمیں سے رشتۂ دیوار و در بھی رکھنا ہے
سنوارنے کے لیے اپنا گھر بھی رکھنا ہے

ہوا سے آگ سے پانی سے متصل رہ کر
انہیں سے اپنی تباہی کا ڈر بھی رکھنا ہے

مکاں بناتے ہوئے چھت بہت ضروری ہے
بچا کے صحن میں لیکن شجر بھی رکھنا ہے

یہ کیا سفر کے لیے ہجرتیں جواز بنیں
جو واپسی کا ہو ایسا سفر بھی رکھنا ہے

ہماری نسل سنورتی ہے دیکھ کر ہم کو
سو اپنے آپ کو شفاف تر بھی رکھنا ہے

ہوا کے رخ کو بدلنا اگر نہیں ممکن
ہوا کی زد پہ سفر کا ہنر بھی رکھنا ہے

نشان راہ سے بڑھ کر ہیں خواب منزل کے
انہیں بچانا ہے اور راہ پر بھی رکھنا ہے

جواز کچھ بھی ہو اتنا تو سب ہی جانتے ہیں
سفر کے ساتھ جواز سفر بھی رکھنا ہے

****
 

کہو تو نام میں دے دوں اسے محبت کا
جو اک الاؤ ہے جلتی ہوئی رفاقت کا

جسے بھی دیکھو چلا جا رہا ہے تیزی سے
اگرچہ کام یہاں کچھ نہیں ہے عجلت کا

دکھائی دیتا ہے جو کچھ کہیں وہ خواب نہ ہو
جو سن رہی ہوں وہ دھوکا نہ ہو سماعت کا

یقین کرنے لگے لوگ رت بدلتی ہے
مگر یہ سچ بھی کرشمہ نہ ہو خطابت کا

سنوارتی رہی گھر کو مگر یہ بھول گئی
کہ مختصر ہے یہ عرصہ یہاں سکونت کا

چلو کہ اس میں بھی اک آدھ کام کر ڈالیں
جو مل گیا ہے یہ لمحہ ذرا سی مہلت کا

فاطمہ حسن


اردو کو فارسی نے شرابی بنا دیا

یہ کلام ہم نے آج فیس بک کے ایک ادبی گروپ پر پڑھا۔ اچھا لگا سو بعد از تحسینِ کلام ہم اس کلام کو نقل کر کے یہاں لے آئے تاکہ قارئینِ رعنائیِ خیال بھی اس سے محظوظ ہو سکیں۔ 

اردو کو فارسی نے شرابی بنا دیا
عربی نے اس کو خاص ترابی بنا دیا

اہلِ زباں نے اس کو بنایا بہت ثقیل
پنجابیوں نے اس کو گلابی بنا دیا

دہلی کا اس کے ساتھ ہے ٹکسال کا سلوک
اور لکھنئو نے اس کو نوابی بنا دیا

بخشی ہے کچھ کرختگی اس کو پٹھان نے
اس حسنِ بھوربن کو صوابی بنا دیا

باتوں میں اس کی ترکی بہ ترکی رکھے جواب
یوں ترکیوں نے اس کو جوابی بنا دیا

قسمت کی بات آئی جو تو رانیوں کے ہاتھ
سب کی نظر میں اس کو خرابی بنا دیا

حرفِ تہجی ساری زبانوں کے ڈال کر
اردو کو سب زبانوں کی چابی بنا دیا

ہم اور ارتقاء اسے دیتے بھی کیا معین
اتنا بہت ہے اس کو نصابی بنادیا

سید معین اختر نقوی


منقول از ادبیات - فیس بک