حمد لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
حمد لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ حمدِ جنابِ باری

حمدِ جنابِ باری

حجابِ شب میں تب و تابِ خواب رکھتا ہے
درون ِخواب ہزار آفتاب رکھتا ہے

کبھی خزاں میں کھلاتا ہے رنگ رنگ کے پھول
کبھی بہار کو بے رنگ و آب رکھتا ہے

کبھی زمین کا منصب بلند کرتا ہے
کبھی اِسی پہ بِنائے عذاب رکھتا ہے

کبھی یہ کہتا ہے سورج ہے روشنی پہ گواہ
کبھی اِسی پہ دلیلِ حجاب رکھتا ہے

کبھی فغاں کی طرح رائیگاں اثاثہ ٴ حرف
کبھی دُعا کی طرح مُستجاب رکھتا ہے

کبھی برستے ہوئے بادلوں میں پیاس ہی پیاس
کبھی سراب میں تاثیرِ آب رکھتا ہے

بشارتوں کی زمینیں جب آگ اُگلتی ہیں
اِس آگ ہی میں گُلِ انقلاب رکھتا ہے

میں جب بھی صبح کا انکار کرنے لگتا ہوں
تو کوئی دل میں مرے آفتاب رکھتا ہے

سوال اُٹھانے کی توفیق بھی اُسی کی عطا
سوال ہی میں جو سارے جواب رکھتا ہے

میں صابروں کے قبیلے سے ہوں  مگر میرا رب
وہ مُحتسب ہے کہ سارے حساب رکھتا ہے

افتخار عارف

دستِ عصائے معجزہ گر بھی اُسی کا ہے



دستِ عصائے معجزہ گر بھی اُسی کا ہے
گہرے سمندروں کا سفر بھی اُسی کا ہے

میرے جہاز اسی کی ہواؤں سے ہیں رواں
میری شناوری کا ہنر بھی اسی کا ہے

لشکر زمیں پہ جس نے اتارے ہیں رات کے
کھلتا ہوا نشانِ قمر بھی اسی کا ہے

آب رواں اسی کے اشارے سے ہے سراب
بادل کے پاس گنجِ گہر بھی اسی کا ہے

جو خشک ٹہنیوں سے اگاتا ہے برگ و بار
موسم تمام اس کے شجر بھی اسی کا ہے

منظر میں جتنے رنگ ہیں نیرنگ اسی کے ہیں
حیرانیوں میں ذوقِ نظر بھی اسی کا ہے

بس اپنا اپنا فرض ادا کر رہے ہیں لوگ
ورنہ سناں بھی اس کی ہے سر بھی اسی کا ہے

تیغِ ستم کو جس نے عطا کی ہیں مہلتیں
فریادِ کشتگاں میں اثر بھی اسی کا ہے

تیرا یقین سچ ہے مری چشمِ اعتبار
سب کچھ فصیلِ شب کے ادھر بھی اسی کا ہے

مجرم ہوں اور خرابہء جاں میں اماں نہیں
اب میں کہاں چھپوں کہ یہ گھر بھی اسی کا ہے

خود کو چراغ راہ گزر جانتا ہوں میں
لیکن چراغِ راہ گزر بھی اسی کا ہے

عرفان صدیقی