[ہفتہ ٴ غزل] ۔ عشّاق کو وہ کوھکنی یاد نہیں کیا ۔ مرتضیٰ برلاس

غزل

عشّاق کو وہ کوھکنی یاد نہیں کیا
اس شہر میں اب کوئی بھی فرہاد نہیں کیا

ملبوس جدا کیوں ہیں ، زبانیں ہیں جدا کیوں
ہم ایک قبیلے کے سب افراد نہیں کیا

ناداں، تُو ہمیں دیکھ کے گرداب میں خوش ہے
سیلاب کی زد پر تری بنیاد نہیں کیا

آنکھیں مری صدیوں سے کرن ڈھونڈ رہی ہیں
اِس ظلمتِ شب کی کوئی معیاد نہیں کیا

اُڑنے کے لئے کر دیا سمتوں کا تعیّن
زنجیر کٹی، پھر بھی ہم آزاد نہیں کیا

پھر جادہ ء پُر پیچ پہ لغزیدہ خرامی
ٹھوکر جو ابھی کھائی تھی وہ یاد نہیں کیا

مرتضیٰ برلاس

0 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک