/* Code for OneSignal */

لوکل پریسٹیج | مقامی وقار

لوکل پریسٹیج

 

کیا غیر معیاری چیزیں لوکل ہوتی ہیں؟

ہمارے ہاں عوام الناس اکثر غیر معیاری اشیاء کے لئے لوکل کا لفظ استعمال کرتی ہے۔ حالانکہ لوکل انگریزی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب "علاقائی" یا "مقامی" ہے ۔ دراصل یہ اصطلاح ہمارے علاقائی دوکاندار استعمال کرتے ہیں اور کسی بھی غیر معیاری چیز کو لوکل کہہ کر بے وقعت کر دیتے ہیں۔ اور کسی بھی معیاری چیز کو اُس 'لوکل' شے کے مقابل لا کر رکھ دیتے ہیں۔ اُنہی سے عوام الناس خاص طور پر وہ لوگ جو انگریزی زبان سے زیادہ علاقہ نہیں رکھتے ، یہ بات سیکھ لیتے ہیں۔

اس کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ ہمارے ہاں دیسی ساختہ چیزیں اکثر غیر معیاری ہی ہوا کرتی ہیں اور اُن کی بہ نسبت باہر سے درامد شدہ اشیاء کا معیار کچھ بہتر ہوتا ہے۔ تاہم یہ کُلیہ کہ تمام تر لوکل چیزیں غیر معیاری ہوتی ہیں سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے اور بہت سی دیسی ساختہ اشیاء اپنے معیار کے اعتبار سے بہترین درجے کی بھی ہوتی ہیں۔ جب کہ اس کے برعکس کچھ ایسی اشیاء بھی غیر معیاری ہوتی ہیں جو باہر ممالک سے امپورٹ کی جاتی ہیں اور وہ دیسی ساختہ اشیاء سے مقابلہ نہیں کر پاتیں۔

سو ہمیں چاہیے کہ غیر معیاری اشیاء کو براہِ راست لوکل نہ کہیں بلکہ غیر معیاری یا ہلکی ہی کہیں ۔ تاکہ مقامی اشیاء سازوں کی حوصلہ شکنی نہ ہو اور مقامی اشیاء کا وقار اور بتدریج معیار بہتر ہونے کی راہ ہموار ہو سکے۔

آج کے تمام تر ترقی یافتہ ممالک اپنی مقامی صنعت کو فروغ دیتے ہیں اور مقامی لوگ پہلے مقامی ساختہ مصنوعات کو ترجیح دیتے ہیں اور پھر بعد میں درامد شدہ مصنوعات کی طرف جاتے ہیں۔ اس سے اُن کا زرِ مبادلہ بچتا ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں اُن کی کرنسی مضبوط ہوتی ہے۔

یہ تھی آج کی چھوٹی سی بات جو اتنی چھوٹی بھی نہیں ہے۔

گو ذرا سی بات پر آئینہ ٴ چینی شکست



حاضر جوابی ، بذلہ سنجی اور خوش ذوقی جیسی اعلیٰ صفات بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہیں ۔ ایسے اوصاف کے حامل افراد بہت جلد لوگوں کے دلوں میں گھر بنا لیتے ہیں۔ آج ہم آپ کو دو حکایتیں سنا رہے ہیں جو حاضر جوابی اور خوش ذوقی کی مثال ہیں۔


پہلی حکایت


 گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے

یہ خوبصورت اور سدا بہار شعر خاطر غزنوی کا ہے ۔ کہتے ہیں کہ شاعر صاحب کسی محفل میں اپنا یہ سدا بہار شعر سنا رہے تھے اور داد وصول کر رہے تھے کہ اچانک محفل میں موجود کسی شخص نے اُن کے مصرع پر گرہ لگائی اور یہ شعر کچھ اس طرح پڑھا:

یہ تو خیر اچھا ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے
وہ ذرا سی بات کیا تھی جس پہ یارانے گئے؟

اب نہ جانے اس شعر کو سُن کر محفل کشتِ زعفران بنی یا نہیں ۔ بلکہ ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ اِس جواب کو سُن کر خاطر غزنوی نے خاطر جمع رکھی یا غزنوی بن کر گرہ لگانے والے حضرت پر لگاتار سترہ حملے کرنے کا قصد کیا۔


دوسری حکایت


 اَز قضا آئینہ ٴ چینی شکست
خُوب شُد، سامانِ خُود بِینی شکست

زیب النساء ایک ملکہ گزری ہے۔ وہ بہت خوبصورت تھی، اس کو ایک نہایت قیمتی چینی آئینہ تحفے میں ملا تھا۔ زیب النساء نے اپنی لونڈی سے کہا کہ ذرا وہ آئینہ لے کر آؤ، میں بھی تو دیکھوں کہ میرا حسن کس قدر ہے، اور اس قیمتی آئینے میں میرا حسن کتنا نکھر کر سامنے آتا ہے۔ لونڈی آئینہ لے کر آرہی تھی کہ رستے میں اُسے ٹھوکر لگی اور وہ گر گئی اور ساتھ ہی وہ آئینہ بھی ٹوٹ گیا۔ وہ پریشانی کے عالم میں واپس آتی ہے ۔ ملکہ زیب النسا پوچھتی ہے کہ آیئنہ کدھر ہے؟۔تو اس موقع پر بھی وہ لونڈی مصرع کہتی ہے۔

اَز قضا آئینہ ٴ چینی شکست

اس کی یہ بات سن کر ملکہ کو تو یہ چاہیئے تھا کہ اس کو سزا دیتی اور غصہ کرتی کہ تم نے اس قدر قیمتی آیئنہ ٹوڑ دیا۔ لیکن اُس کے فن زبان و بیان کو دیکھتے ہوئے ملکہ نے بھی مصرع کہا اور اسی وزن میں اس قدر خوبصورتی سے کہا کہ شعر نہ صرف مکمل ہوا بلکہ ایک شہرہ آفاق شعر بنا۔ ملکہ نے جواب میں کہا۔

خُوب شُد، سامانِ خُود بِینی شکست

ملکہ نے کہاکہ اچھا ہوا کہ وہ ٹوٹ گیا، ورنہ اگر میں اس کو دیکھتی تو اپنے حسن و جمال کو دیکھ کر غرور میں مبتلا ہو جاتی۔

ہم سوچتے ہیں کہ مذکورہ ملازمہ ایسی خوش ذوق خاتون بھی ہزاروں میں ایک ہی ہوتی ہوگی۔ ورنہ ہمارے ہاں اگر اس قسم کا واقعہ پیش آ جاتا تو فوراً جواب ملتا کہ بی بی جی چائنہ کی چیزیں ایسی ہی ہوتی ہیں ان کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی۔ یا اگر ملازمہ کی جگہ کوئی شاعر ہوتا تو وہ کہتا کہ اتنا دل پر نہ لیجے

اِک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں

سہرا:


پہلی حکایت ہمیں ہمارے پیارے بھائی ریاض الحبیب کے دوست اختر علی مغل صاحب سے سُننے کو ملی ۔ اختر بھائی خوش ذوق واقع ہوئے ہیں اور شعر و ادب سے شغف رکھتے ہیں۔ اختر بھائی نے ایک دن گفتگو کے دوران یہ حکایت ہمیں سنائی تھی۔ تاہم اس بات کو اب کئی برس گزر چکے ہیں، اور عین ممکن ہے کہ یہ بات اُن کی یادداشت سے محو ہو چکی ہو۔

دوسری حکایت ہمیں وٹس ایپ پر ایک خوش ذوق رُکن سعید احمد صاحب کے توسط سے ملی۔ تاہم جناب نے اسے کتابوں سے متعلق ایک ایسے گروپ میں ارسال کیا تھا جہاں کتابوں کے علاوہ کوئی اور بات کرنے کی اجازت نہیں ہے سو گروپ قوانین کے باعث ہم اُنہیں اس انتخاب کی قرار واقعی داد نہیں دے سکے، لیکن دل سے اُن کے ذوق کے قدر دان ہیں۔

*****

تبصرہ ٴکُتب | بیراگ (ناول)

بیراگ

بیراگ سنہالی ادب کا ایک ناول ہے جسے مارٹن وکرما سنگھے نے تحریر کیا ہے ۔ اس ناول کا اردو ترجمہ مصطفیٰ نذیر احمد صاحب نے کیا ہے اور اس کے ناشر مشعل لاہور ہیں۔ بنیادی طور پر اس ناول کا پس منظر سری لنکا کا دیہی علاقہ ہے اور ناول میں سنہالی ثقافت رچی بسی ہے۔




اس ناول کی طرز ایک آپ بیتی کی سی ہے ۔ لیکن اس سے پیشتر راوی نے اختتامیہ پیش کیا ہے کہ جو ہمیں ناول کے کردار و واقعات سے آگہی دیتا ہے۔ گو کہ ناول کا پلاٹ سیدھا سادھا ہے لیکن پھر بھی یہ کسی عام ناول سے بہت مختلف ہے۔

سچی بات یہ ہے کہ کہانی دلچسپ ہے لیکن زیادہ دلچسپ انسانی نفسیات کی گہرائیوں میں الجھتے بل کھاتے وہ مظاہر ہیں جو اس ناول میں بین السطور پیش کیے گئے ہیں۔ اگر آپ کسی شاندار پلاٹ اور کہانی میں ٹوئسٹ کے متلاشی ہیں تو یہ ناول آپ کے لئے نہیں ہے۔ تاہم اگر آپ انسان کی گوناگوں درونی کیفیات اور نفسیات سے دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ کو یہ ناول کو ضرور پڑھنا چاہیے۔

سرقہ مارکہ ذہنیت


چوری کو عربی میں سرقہ کہتے ہیں، چکاری کو کیا کہتے ہیںیہ جاننے کے لئے ہم ابھی تک مناسب لغت کی تلاش میں ہیں۔ اگر آپ کی طبیعت میں صبر نہیں ہے تو آپ لغت کے ملنے تک سرقہ سراقی سے گزارا چلا سکتے ہیں۔

مارکہ کا لفظ غالباً مارک یا نشان سے اخذکیا گیا ہے اور مارکہ کا مطلب ہے نشان زدہ۔ اگرآپ نے اپنے بچپن میں بلی مارکہ اگربتی کا اشتہار دیکھا ہے تو آپ اسے با آسانی سمجھ سکتے ہیں ۔ یعنی ایسی اگربتی جس کے ڈبے پر بلی کانشان یاتصویر ہو۔

ذہنیت کا مطلب ذہنی معیار ہے جو سب کا اپنا اپنا ہوتا ہے لیکن کچھ ذہنی معیار پوری قوم کے بھی بن جاتے ہیں ۔ پوری قوم میں بہرکیف ملت کا ہر شخص شامل نہیں ہے لیکن سوادِاعظم کی سوچ اُسی قسم کی ہو جاتی ہے۔

ابھی کچھ دنوں سے ہم اپنی تحریروں میں مشکل الفاظ کو کھول کھول کر بیان کرنے لگے ہیںاورہمیں یہ وہم ہو گیا ہے کہ ہمارے قارئین کی اردو کا حال بھی ہمارے ہی جیسا ہے، اور جیسے ہم کسی تحریر میں مشکل الفاظکی بہتا ت دیکھ کر پہلے آنکھیں اور بعد میں صفحہبند کر لیتے ہیں ویسے ہی ہمیں لگتا ہے کہ ہماری تحریریں قارئین کی لسانی قابلیت کے لئے دعوتِ مبارزت کا کام کررہی ہیں۔ تاہم ہمارا حال اُس بچے سے سوا نہیںہے کہجو پانی کاگلاس ہاتھ میں لیتے ہوئےاپنے بڑوں کو ٹوکتا ہے اور کہتا ہے کہ اسے مم مم نہیں بلکہ پانی کہتے ہیں۔بہرکیف، اس بارہمیں جلد سے جلداپنے موضوع کی طرف لوٹنا ہے، سو فی الحال فرہنگ کو داخل دفترکیے دیتے ہیں۔


آپ نے شاید بندر روڈ ، کراچی میں سعیدغنی عطرفروش کی دوکان دیکھی ہو۔ ہم نے یہ دوکان آج سے کئی سال پہلے دیکھی تھی اور ہمیں یہاں سے کچھمنگوانے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ ہم وہاں پہنچے تو سامنے ہی سعید غنی عطرفروش کی دوکان نظر آئی ۔ ہم جھٹ سے اندر گھس گئےاور دکاراشیاء کا مطالبہ کیا، جو اتفاق سے اُن کے پاس موجود نہیں تھی۔ ہم دوکان سے باہر آئے کہ اب کیا کیا جائے تودیکھا کہ برابر میں ایک اور سعید غنی کی دوکان ہے ۔ اس سے اگلی دوکان پر نظر دوڑائی تووہ بھی سعید غنی کی دوکان تھی۔ حتیٰ کہ اُس کے بعد والی دُوکان بھی سعید غنی کی ہی تھی۔

بعد میں پتہ چلا کہ سعید غنی عطر کے کامیاب اور مشہور و معروف تاجر ہیں اور اُن کے معروف برانڈ کی نقل کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے دیدہ دلیری سے عین اُن کے برابر دوکان کھول لی ہے اور نتیجتاً ایک ساتھ ایک ہی جیسی اور ایک ہی نام کی چار پانچ دوکانیں ہو گئی ہیں۔ یا حیرت ! اگر ان چوروں میں خدا خوفی نہیں ہے تو کیا آنکھوں میں مروت بھی نہیں ہے۔ بھلا کیسے لوگ عین برابر میں بیٹھ کرآپ کی برسوں کی محنت اور ساکھ پر ڈاکہ ڈال لیتے ہیں۔

اگر آپ حیدرآباد کے شاہی بازار میں جائیں تو وہاں بھی آپ کو یہی حال نظر آئے گا۔ اور ایک قطار میں آپ کو بے تحاشا "حاجی ربڑی" والے نظر آئیں گے۔اگر کوئی آپ کو بھیجے کہ جناب وہاں سے آپ"حاجی ربڑی" لے کر آئیں تو آپ فیصلہ ہی نہیں کر پائیں گے کہ ان میں سے وہ "حاجی" کون سا ہے جس کے پاس مجھے بھیجا گیا ہے۔کیا ربڑی بیچنا بھی اتنا مشکل کام ہے کہجس کےلئے دوسروں کے برانڈ چُرانا لازمی ہو جائے۔ یا ہم بطورِ قوم اس چوری کو چوری ہی نہیں سمجھتے اور "حاجی" کو "ربڑی" کا جنرک نام سمجھنے لگے ہیں۔

اب ہمارے ہاں یہ بھی ہونے لگا ہے کہ پہلے لوگ کسی کاروباری شخص کو کوئی دوکان کرائے پر دیتے ہیںاور جب دوکان چل پڑتی ہے تو اُس شخص کوکرائے کی دُوکان سے چلتا کرکے خود اُسی جگہ ویسی ہی دوکان کھول لیتے ہیں اور کچھ بے شرم تو پچھلے کرائے دار کی دوکان کا نام بھی استعمال کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں ایک لودھی صاحب ہیں اُن کی آٹے کی چکی "خان آٹا چکی" کے نام سے جانی جاتی تھی ۔ اب لودھی صاحب نے اپنی آٹا چکی کا نام لودھی کے بجائے خان صاحب کے نام پر کیوں رکھا یہ تو ہم خود بھی نہیں سمجھ سکے۔ لیکن ہوا یہ کہاُن صاحب نے اپنی آٹا چکی سامنے جگہ خرید کر منتقل کر لی، تو کچھ ہی دنوں میں بالکل اُسی جگہ کم و بیش اُنہی کے نام سے ایک آٹا چکی کُھل گئی، بس نام میں اے کا اضافہ کیا اور چکی کا نام اے خان آٹا چکی ہو گیا۔یعنی دیدہ دلیری اور ہٹ دھرمی سے اصلی دُوکان کے سامنے جعلی دوکان کھل گئی۔

کیوں سارق و مسروق میں حائل رہیں پردے
تم شرم و مُروّت کے جنازے کو اُٹھا دو

یعنی اگر کوئی گاہک سال چھے ماہ بعد آئے تو اُسے پتہ بھی نہ چلے کہ جس دوکان سے وہ خریداری کرنا چاہتا تھا وہ سامنے منتقل ہو گئی ہے اور یہ جعلی دوکان ہے۔ ردِ عمل میں اصلیخان آٹا چکی والوں نے بڑا بڑا لکھ کر لگایا جو ہمارے ہاں اکثر لکھا نظر آتا ہے ۔ یعنی "نقالوں سے ہُشیار" اور یہ کہ اصلی خان آٹا چکی کی دوکان یہ ہے، وغیرہ وغیرہ۔

اسی طرح ایک میڈیکل اسٹور جو بہت چلنے والا تھا ۔ اُس نے دوکان تبدیل کی یا اُسے دوکان چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تو وہ اصل دوکان سے کچھ فاصلے پر منتقل ہو گیا۔ اور کچھ ہی دنوں میں پہلی دوکان میںپھر میڈیکل اسٹور کھل گیا اور نئے مالک نے دوکان کا نام تکبدلنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ یا بددیانتی سے پرانا نام ہی چلنے دیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہاب بھی لوگوں کی بھیڑ اصلی دوکان پر ہی رہتی ہے۔ یعنی چُرانے والے نے اُن کا نام تو چُرا لیا لیکن اُن کا برسوں کا تجربہ اور کاروباری لیاقت نہیں چُرا سکا۔

ایسی بے تحاشا کہانیاں ہیں۔ کیا کیا ذکر کیا جائے۔ ایک زمانے میں جب جیو نیوز نیا نیا لانچ ہوا تھا اور بہت مقبول ہو رہا تھا تو ہر دوسری بیکری اور ڈیری جیو کے نام سے کُھلنا شرو ع ہو گئ تھی۔ یعنی ایک مشہور نام کے سہارے پر لوگ اپنے نئے کاروبار کی بنیاد رکھنا تو گوارا کر لیتے ہیں لیکن محنتاورلگن سے اپنا نام بنانے کو عار سمجھتے رہے تھے۔

ہمارے ہاں کاروباری اخلاقیات کا اتنا فقدان ہے کہ لوگ دھڑلے سے دوسروں کا نام چرا لیتے ہیں اور کسی کی برسوں کی محنت اور ساکھ پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ محنت کرکےاپنا نام بنانے کا اعتماد ایسے لوگوں میں نام کو نہیں ہوتا اوراُن کی حاسد نگاہیں دوسروں کی کمائی پر لگی رہتی ہیں۔

حالانکہ انسان کو محنت سے اپنا نام کمانا چاہیےاور رزق کے معاملے پر رازق پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ چوری کرنے والے کامیاب بھی ہو جائیں تو وہ چور ہی رہتے ہیں اور اُن کو کبھی نہ کبھی ، کہیں نہ کہیں باز پُرس یا مکافات کا سامنا ضرور ہوتا ہے۔

منزلِ شوق اور نارسائی ، آخر کیوں؟


ہم میں سے بہت سے لوگ بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ اور بظاہر اُس مقصد کے لئے سنجیدہ بھی نظر آتے ہیں ۔ لیکن دراصل وہ کبھی بھی اُس مقصد کو حاصل نہیں کر پاتے یا اپنا مدتوں پالا شوق پورا نہیں کر پاتے۔ دراصل ہم اُسی بات کو اہمیت دیتے ہیں جسے ہم واقعتاً اہم سمجھتے ہیں۔ اور جسے ہم اہم نہیں سمجھتے وہ چیز دانستہ یا نا دانستہ طور پر اہمیت کی فہرست میں بہت نیچے چلی جاتی ہے۔ یہاں اہمیت دینے سے مُراد کسی چیز کے حصول کے لئے ضروری مراحل کی تکمیل اور عملی تقاضوں کا پورا کرنا ہے۔

الغرض اصل بات ہے اہمیت کی۔ اور پھر اہمیت کی ترتیب ، یعنی ترجیحات کی۔

ہمارا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمیں باتیں کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔ خاص طور پر اپنے شوق کے بارے میں ۔ اور کبھی کبھی ہم محض باتوں سے ہی اپنے شوق کی تسکین کر لیتے ہیں۔ اور اُسی سے ہمیں جھوٹا ہی سہی لیکن تکمیل کا تاثر (Sense of Completion) مل جاتا ہے۔ اور نتیجتاً ہمارے شوق کی آگ ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ سادے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا شوق، عمل کے لئے جو جذبہ اور جو اُمنگ ہم میں پیدا کرتا ہے، ہم اُس آگ میں ہاتھ سینک لیتے ہیں اور چائے چڑھانا بھول جاتے ہیں۔ خیر یہ ہمارا آج کا موضوع نہیں ہےسو اس بارے میں ہم پھر کبھی بات کریں گے۔


بات ہو رہی تھی اہمیت کی ترتیب کی، یعنی ترجیحات کی۔ فرض کیجے آپ کی انگریزی زبان کی لیاقت بالکل معمولی سی ہے اور آپ اپنی انگریزی زبان کی استعداد بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ اور آپ بارہا اپنے دوستوں میں، عزیز و اقارب میں بیٹھ کر اس کا اعادہ بھی کر چکے ہیں ۔ لیکن بات یہ ہے کہ بات اس سے آگے نہیں بڑھتی۔ ممکن ہے آپ نے چار سال پہلے کہا ہو کہ آپ اپنی انگریزی اچھی کرنا چاہتےہیں اور آپ اب بھی کہتے ہیں کہ آپ اپنی انگریزی اچھی کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر ممکن ہے کہ اگلے چار سال بعد بھی آپ اپنی محفلوں میں کسی سے یہی کہہ رہے ہوں۔

سُنتے آئے ہیں کہ انسان کی ایسی قَسموں پر گرفت نہیں ہوتی جو اُس نے بس یوں ہی رواروی میں کھالی ہوں یعنی بغیر کسی سنجیدگی اور تدبر کے۔ لیکن ایسی قسمیں جو اُس نے باقاعدہ سوچ سمجھ کر اور پکے ارادے سے کھائی ہوں اور اُنہیں پورا نہ کر سکے تو پھر اُسے کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے۔

سو جب ہم کسی مقصد کے حصول کا اظہار کرتے ہیں اور اکثر کرتے رہتے ہیں تو پھر ہم پر بھی یہی قسم کے کفارے والا فارمولا عائد ہوتا ہے۔ اگر ہم واقعی سنجیدگی سے کوئی بات کرتے ہیں اور اُس پر کوئی پیش رفت نہیں ہو پاتی تو پھر ہمیں سوچنا چاہیے کہ چُوک ہوئی کہاں۔ اور اب کیسے کفارہ ادا کیا جائے۔

اگر اس بات کا تعین ہو جائے کہ آپ اپنے مقصد یا شوق کے اظہار میں سچے تھے تو پھر اب ایک ہی مسئلہ رہ جاتا ہے اور وہ ہے ترجیحات میں اُس مقصد کے تعین کا۔ آپ اپنی تمام تر ترجیحات کو ایک کاغذ پر لکھ لیں اور پھر اُن پر اہمیت کے اعتبار سے نمبر ڈال لیجے۔ اگر آپ کا مذکورہ شوق پہلی پانچ ترجیحات (علاوہ بنیادی ضرورتیں) میں جگہ بنانے میں ناکام ہو جائے تو پھر اُس سے دستبردار ہو جائیے اور جگہ جگہ محفلوں میں غیر سنجیدہ دعووں سے گریز کریں۔

تاہم اگر آپ کا شوق شروع کی پانچ ترجیحات (علاوہ بنیادی ضرورتیں) میں شامل ہو جائے تو پھر اس کے لئے باقاعدہ وسائل (وقت اور اخراجات ، اگر درکار ہوں) مختص کریں اور اللہ کا نام لے کر کام میں جُت جائیں ۔ آپ جانتے ہیں کہ سیوہ بنا میوہ نہیں ملتا تو پھر محنت کریں اور کوئی کسر نہ چھوڑیں، اللہ تعالیٰ آپ کو ضرور کامیاب کریں گے۔ 

*****