غزل: چھوڑ جانے پر پرندوں کی مذمت کی ہو ۔۔۔ احمد خلیل خان

 غزل 

چھوڑ جانے پر پرندوں کی مذمت کی ہو
تم نے دیکھا ہے کبھی پیڑ نے ہِجرت کی ہو

جھولتی شاخ سے چپ چاپ جدا ہونے پر
زرد پتوں نے ہواؤں سے شکایت کی ہو

اب تو اتنا بھی نہیں یاد کہ کب آخری بار
دل نے کچھ ٹوٹ کے چاہا، کوئی حسرت کی ہو

عمر چھوٹی سی مگر شکل پہ جھریاں اتنی
عین مکمن ہے کبھی ہم نے محبت کی ہو

ایسا ہمدرد تیرے بعد کہاں تھا جس نے
لغزشوں پر بھی میری کھل کے حمایت کی ہو

دل شکستہ ہے کوئی ایسا ہنر مند بتا
جس نے ٹوٹے ہوئے شیشوں کی مرمت کی ہو

شب کے دامن میں وہی نور بھریں گے احمد
جن چراغوں نے اندھیرے سے بغاوت کی ہو

احمد خلیل خان

 

chhoR-jany-pe-parindoN-ki-Ahmed-Khalil-Khan

 

غزل : جب بال و پر نہیں تو ہوا پر نہ جائیے ۔۔۔ عرفان صدیقی


غزل

جب بال و پر نہیں تو ہوا پر نہ جائیے
آندھی میں سیرِارض و سماء پر نہ جائیے

کیا شاندار لوگ ہیں دامن دریدہ لوگ
دل دیکھئے حضور، قبا پر نہ جائیے

کیجے نہ ریگ زار میں پھولوں کا انتظار
مٹی ہے اصل چیز، گھٹا پر نہ جائیے

کچھ اور کہہ رہا ہوں غزل کے حوالے سے
مطلب سمجھئے، طرز ادا پر نہ جائیے

آخر تو فیصلہ سر مقتل اُسی کا ہے
اس انتظامِ جرم و سزا پر نہ جائیے

دنیا میں اور بھی تو اشارے سفر کے ہیں
ہر بار اپنے دل کی صدا پر نہ جائیے

عرفان صدیقی

غزل: وہ آنکھ ہی نہیں کہ جو درد آشنا نہ ہو --- فرحان محمد خان

غزل

وہ آنکھ ہی نہیں کہ جو درد آشنا نہ ہو
اس دل پہ تف ہے جس میں کوئی دلربا نہ ہو

وہ عشق ہی نہیں کہ جو صبر آزما نہ ہو
ایسا بھی کیا کہ حسن میں ناز و ادا نہ ہو

ڈرتا ہوں اس کی آہ سے محشر بپا نہ ہو
ایسا حسیں کہ جس کو کوئی دیکھتا نہ ہو

چھونے کی آرزو ہو مگر حوصلہ نہ ہو
اللہ اس قدر بھی کوئی پارسا نہ ہو

اہلِ نظر کے واسطے دوزخ ہے دوستو
وہ زندگی کہ جس میں کوئی ابتلا نہ ہو

مارا ہوا ہے اس کا ہر اک تیسرا جوان
کہتے ہیں جس کو عشق، کہیں یہ وبا نہ ہو

سینے سے اٹھ رہی ہے جو دھڑکن کے نام پر
یہ بھی کسی حسین کی آوازِ پا نہ ہو

میں چاہتا ہوں عام ہو اس عشق کا رواج
محبوب کے لیے کوئی شرطِ وفا نہ ہو

باقی رہے گا خاک بھلا لطفِ عاشقی
معشوق میں حضور! جو خوئے جفا نہ ہو

دنیا پہ ٹوٹتی ہیں تو ٹوٹیں قیامتیں
پھیکا کبھی بھی کاش وہ رنگِ حنا نہ ہو

ہے داستانِ عشق کی رونق رقیب سے
میری دعا ہے عشق کبھی بے مزا نہ ہو

فرحان محمد خان

 

بشکریہ عاطف ملک بھائی

اردو ترجمہ : منے دی موج وچ ہنسنا

کچھ گیت اپنی شاعری اور نغمگی کے باعث برسوں دلوں پر راج کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک گیت جو مجھے ہمیشہ مسحور کرتا ہے وہ حدیقہ کیانی کا منے دی موج ہے۔

یہ گیت پہلی بار پی ٹی وی پر سُنا اور دیکھا۔ اس کی عکسی تشکیل بھی بہت خوبصورت انداز میں کی گئی تھی۔ پسِ پردہ موسیقی اور گلوکارہ کی آواز بھی خوب تھی ۔ یہ اُس زمانے کی بات ہے جب ٹیلی ویژن صرف پی ٹی وی تک محدود تھا۔ تب ہم کئی ایک چیز باخوشی بار بار دیکھ لیتے تھے اُن میں سے ایک یہ گیت بھی تھا۔ یہ گیت پنجابی زبان میں ہے اور غالباً کسی مقامی لہجے کی آمیزش سے کچھ مزید گداز ہو گیا ہے۔

نہ جانے کیوں اس گیت کی لفظیات سے یہ گمان ہوتا تھا کہ جیسے یہ گیت سننے میں اچھا لگتا ہے ویسے ہی مفہوم کے اعتبار سے بھی اچھا ہوگا۔ تاہم گیت کی زبان سے عدم واقفیت کے باعث ہمیں گیت کے مفاہیم تک رسائی نہیں تھی۔

نہ جانے کب سے دل میں پلتی یہ خواہش کہ اس گیت کے معنی جانے جائیں ایک دن کچھ دوستوں کے حلقے میں زبان پر آ گئی۔ خوش قسمتی سے اس حلقے میں ہمارے ایک بہت اچھے دوست اور بھائی جناب عبد القیوم چوہدری بھی موجود تھے اور انہوں نے ازراہِ محبت اس کام کا بیڑہ اُٹھایا اور بہت کم وقت میں اس کلام کا اچھا سا ترجمہ کرکے دیا۔ جب سے اس گیت کے معنی سمجھ آئے ہیں یہ گیت اور بھی اچھا لگنے لگا۔

ہم چوہدری عبد القیوم بھائی کے بے حد شکر گزار ہیں اور اُن کا کیا ہوا ترجمہ آپ کے اعلیٰ ذوق کی نذر کر رہے ہیں۔ اُمید ہے کہ آپ کو یہ گیت مع ترجمہ ضرور پسند آئے گا۔

منے دی موج وچ ہسنا، کھیڈنا
(من کی مستی میں ہنستے کھیلتے رہنا)

دل کی رکھنا کمّے کنّے
(دل کو کسی نا کسی کام میں مصروف کیے رکھنا)

میں نہ پر کِسے کی مندا نہیں بولنا
(لیکن کبھی کسی کو برا نہیں کہنا)

چنے دی چاننی کندے کنّے
(چاند کی چاندنی دیوار کے کنارے تک)

منے دی موج وچ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساڈا کُجھ کمّ ہے کتّنا تُمبنا
(ہمارا یہی کام ہے کہ روئی کاتنا یا چھانٹنا)

ہور کُجھ کھیتِیاں چُگّنے دا
(یا کھیتوں میں کام کرنا)

گھر دے کمّ وچ آر نہ ہوندی اے
(گھر کا کام کاج کرنے میں کوئی شرم نہیں ہوتی)

دل کی رکھنا کمّے کنّے
(دل کو کسی نا کسی کام میں مصروف کیے رکھنا)

منے دی موج وچ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔

اُچّے اُچّے پربت سوہنیاں وادیاں
(اونچے اونچے پہاڑ اور خوبصورت وادیاں)

نِیلیاں ندِیاں ٹھنڈیاں نے
(شفاف پانی کی ندیاں ٹھنڈیاں ہیں)

سوہنِیاں بولیں پیارے لوکی
(خوبصورت لوگوں کی پیاری زبان)

رب دی رحمت وطنے کنّے
(خدا کی رحمت وطن کے لیے ہے)

منے دی موج وچ۔۔۔
۔۔۔۔۔

پنکھ پکھیرُو اُڈّدے جاون
(پرندے اڑتے جاتے ہیں)

گھر نِیاں یاداں آئِیاں نے
(اور گھر کی یادیں آ رہی ہے)

اساں پردیسیاں آس نہ کوئی
(ہم پردیسیوں کو اور کوئی آس نہیں ہے)

ربّ دُعائِیں سجناں کنّے
(خدا سے سجنوں کے لیے دعائیں ہی ہیں۔)

منے دی موج وچ۔۔۔

 ****** 

 

mane-di-moj

غزل: زندگی یوں ہوئی بسر تنہا ۔۔۔ گلزار

غزل

زندگی یوں ہوئی بسر تنہا
قافلہ ساتھ اور سفر تنہا

اپنے سائے سے چونک جاتے ہیں
عمر گزری ہے اس قدر تنہا

رات بھر باتیں کرتے ہیں تارے
رات کاٹے کوئی کدھر تنہا

ڈوبنے والے پار جا اترے
نقش پا اپنے چھوڑ کر تنہا

دن گزرتا نہیں ہے لوگوں میں
رات ہوتی نہیں بسر تنہا

ہم نے دروازے تک تو دیکھا تھا
پھر نہ جانے گئے کدھر تنہا

گلزار

 

گلزار ۔ شاعر از ہندوستان

 

نظم: گنتی

نظم: گنتی

یہ آٹھ پہروں شمار کرنا
کہ سات رنگوں کے اس نگر میں
جہات چھ ہیں
حواس خمسہ،
چہار موسم،
زماں ثلاثہ،
جہان دو ہیں
خدائے واحد!
یہ تیرے بے انت وسعتوں کے
سفر پر نکلے ہوئے مسافر
عجیب گنتی میں کھوگئے ہیں۔

سید مبارک شاہ

بشکریہ محمد تابش صدیقی بھائی



غزل : کسی سے کوئی نہ بولا فضا ہی ایسی تھی - حنیف اسعدی

غزل

کسی سے کوئی نہ بولا فضا ہی ایسی تھی
نہ دل نے دل کو ٹٹولا فضا ہی ایسی تھی

زبانِ درد سے لیکر دہانِ زخم تلک
کوئی بھی کھل کے نہ بولا فضا ہی ایسی تھی

سُکوں کے در پئے آزار سب ہوئے لیکن
جنوں سے کوئی نہ بولا فضا ہی ایسی تھی

ہوا چلی بھی تو ماحول کے رگ و پے میں
ہوا نے زہر ہی گھولا فضا ہی ایسی تھی

کہیں قریب مکانوں سے اُٹھ رہا تھا دھواں
دریچہ پھر بھی نہ کھولا فضا ہی ایسی تھی

برستی آنکھوں نے آنکھوں سے کچھ سوال کئے
کوئی بھی منہ سے نہ بولا فضا ہی ایسی تھی

رسائی ہو بھی گئی وقت کی عدالت تک
وہاں بھی کوئی نہ بولا فضا ہی ایسی تھی

عجب ستم ہے کہ میزان خیر و شر میں‌ حنیفؔ
یقیں کو وہم میں تولا فضا ہی ایسی تھی

حنیف اسعدی

 

Hanif Asadi
حنیف اسعدی مشاعرہ پڑھتے ہوئے

نطم : گومگو ۔۔۔ گلزار

گَومَگو

نہ جانے کیا تھا، جو کہنا تھا آج مل کے تجھے
تجھے ملا تھا مگر جانے کہا میں نے
وہ ایک بات جو سوچی تھی تجھ سے کہہ دوں گا
تجھے ملا تو لگا، وہ بھی کہہ چکا ہوں کبھی
کچھ ایسی باتیں جو تجھ سے کہی نہیں ہیں مگر
کچھ ایسا لگتا ہے تجھ سے کبھی کہی ہوں گی
عجیب ہے یہ خیال و جنوں کی کیفیت
ترے خیال سے غافل نہیں ہوں تیری قسم
ترے خیالوں میں کچھ بھول بھول جاتا ہوں

گلزار


گلزار
Gulzar - Urdu Poet

بے وفائی کی مشکلیں

یوں تو امجد اسلام امجد صاحب کی سب نظمیں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں لیکن آپ کی یہ نظم بہت دلچسپ ہے اور روایتی شاعری سے کچھ مختلف ہے۔ اس میں امجد صاحب نے بے وفائی کی مشکلوں کا احاطہ کیا ہے کہ بے وفائی بھی اتنی آسان کام نہیں ہے۔ اس لئے پہلے سے کچھ باتیں سوچ سمجھ لی جائیں۔ 😀


بے وفائی کی مشکلیں

 
 جو تم نے ٹھان ہی لی ہے
ہمارے دل سے نکلو گے
تو اتنا جان لو پیارے
وفا کی سیڑھیوں پر ہر قدم پھیلا ہوا
یہ آرزوؤں کا لہو ضائع نہ جائے گا
سمندر سامنے ہوگا اگر ساحل سے نِکلو گے!
سِتارے، جن کی آنکھوں نے ہمیں اِک ساتھ دیکھا تھا،
گواہی دینے آئیں گے!
پرانے کاغذوں کی بالکونی سے بہت سے لفظ جھانکیں گے
تمہیں واپس بلائیں گے،
کئی وعدے، فسادی قرض خواہوں کی طرح رستے میں روکیں گے
تمہیں دامن سے پکڑیں گے،
تمہاری جان کھائیں گے!
چُھپا کر کس طرح چہرہ
بھری محفل سے نکلو گے!
ذرا پھر سوچ لو جاناں!
نکل تو جاؤگے شاید
مگر مشکل سے نکلو گے!
 
امجد اسلام امجد
  
Amjad Islam Amjad
Amjad Islam Amjad


مری طرح تو کسی بے وفا سے پیار کرے۔ سدھرشن فاکر

سدھرشن فاکر صاحب ہمارے پڑوسی ملک ہندوستان کے ایک بہت اچھے شاعر ہیں۔ آپ نے کئی ایک فلمی گیت لکھے ہیں تاہم آپ کے لکھے فلمی گیت بھی محض عامیانہ اور سوقیانہ نہیں ہیں بلکہ آپ کی شاعری میں جذبات و احساسات کی گہرائی موجود ہے اور آپ کے ہاں اظہار کا سلیقہ موجود ہے۔

سدھرشن فاکر صاحب کا ایک گیت جو میں نے بچپن میں سنا تھا اور مجھے پسند بھی رہا ہے آپ کی خدمت میں پیش ہے، اُمید ہے آپ کو پسند آئے گا۔ ممکن ہے کہ یہ شاعری آپ کو قنوطیت زدہ لگے، تاہم اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انسان زندگی میں طرح طرح کی کیفیات و احساسات سے گزرتا ہے۔ زندگی کے ہر احساس ہر کیفیت کو سجا سنوار کر شاعری میں پیش کردینا بہرکیف ایک ہنر ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ سدھرشن فاکر صاحب نے اس گیت میں اپنے ہنر کا حق ادا کردیا ہے۔ گیت ملاحظہ فرمائیے۔


مری طرح تو کسی بے وفا سے پیار کرے
تجھے وہ دل سے بھلا دے تو انتظار کرے

تو پوچھتا پھرے اُس کا پتہ بہاروں سے
جواب تک نہ ملے تجھ کو رہ گزاروں سے
ہر ایک موڑ پہ وہ تجھ کو بے قرار کرے

تو دشمنوں کی محبت میں دوستی ڈھونڈے
غموں کے شہر میں جیسے کوئی خوشی ڈھونڈے
ترا ستم کبھی تجھ کو بھی اشکبار کرے

ترے غرور کی نظریں جھکی جھکی سی رہیں
تیری اُمید کی شمعیں بُجھی بُجھی سی رہیں
اُسے تو پا نہ سکے کوششیں ہزار کرے

مری طرح تو کسی بے وفا سے پیار کرے
تجھے وہ دل سے بھلا دے تو انتظار کرے

سدھرشن فاکر

*****
 
سدھرشن فاکر
Sudharshan Faakir

 

اپنی صدا کی گونج ہی تجھ کو ڈرا نہ دے ۔ اسلم انصاری

 غزل
 
اپنی صدا کی گونج ہی تجھ کو ڈرا نہ دے
اے دل طلسم گنبد شب میں صدا نہ دے

دیوار خستگی ہوں مجھے ہاتھ مت لگا
میں گر پڑوں گا دیکھ مجھے آسرا نہ دے

گل کر نہ دے چراغ وفا ہجر کی ہوا
طول شب الم مجھے پتھر بنا نہ دے

ہم سب اسیر دشت ہویدا ہیں دوستو
ہم میں کوئی کسی کو کسی کا پتا نہ دے

سب محو نقش پردۂ رنگیں تو ہیں مگر
کوئی ستم ظریف یہ پردہ ہٹا نہ دے

اک زندگی گزیدہ سے یہ دشمنی نہ کر
اے دوست مجھ کو عمر ابد کی دعا نہ دے

ڈرتا ہوں آئنہ ہوں کہیں ٹوٹ ہی نہ جاؤں
اک لو سی ہوں چراغ کی کوئی بجھا نہ دے

ہاں مجھ پہ فیض میرؔ و فراقؔ و ندیمؔ ہے
لیکن تو ہم سخن مجھے اتنی ہوا نہ دے

 اسلم انصاری
 
Aslam Ansari
Aslam Ansari

 
 بشکریہ ذوالقرنین بھائی 


بنا حُسنِ تکلّم، حُسنِ ظن آہستہ آہستہ ۔ شاذ تمکنت

  شاذ تمکنت صاحب کی ایک خوبصورت غزل ہم نے سن 2013ء میں رعنائی خیال پر پر لگائی تھی۔ آج شاذ صاحب کی ایک اور غزل قارئینِ بلاگ کے عمدہ ذوق کی نذر کی جا رہی ہے۔ اُمید ہے کہ آپ کو پسند آئے گی۔

غزل

بنا حُسنِ تکلّم، حُسنِ ظن آہستہ آہستہ
بہر صورت کُھلا، اِک کم سُخن آہستہ آہستہ

مُسافر راہ میں ہے شام گہری ہوتی جاتی ہے
سُلگتا ہے تِری یادوں کا بن آہستہ آہستہ

دُھواں دل سے اُٹھے چہرے تک آئے نور ہو جائے
بڑی مشکل سے آتا ہے یہ فَن، آہستہ آہستہ

ابھی تو سنگِ طفلاں کا ہدف بننا ہے کوچوں میں
کہ راس آتا ہے یہ دیوانہ پن آہستہ آہستہ

ابھی تو امتحانِ آبلہ پا ہے بیاباں میں
بنیں گے کُنجِ گل، دشت و دمن آہستہ آہستہ

ابھی کیوں کر کہوں زیرِ نقابِ سُرمگیں کیا ہے
بدلتا ہے زمانے کا چلن آہستہ آہستہ

میں اہلِ انجمن کی خلوتِ دل کا مغنی ہوں
مجھے پہچان لے گی انجمن آہستہ آہستہ

دلِ ہر سنگ گویا شمعِ محرابِ تمنّا ہے
اثر کتی ہے ضربِ کوہکن آہستہ آہستہ

کسی کافر کی شوخی نے کہلوائی غزل مجھ سے
کھلے گا شاذؔ اب رنگِ سخن آہستہ آہستہ

شاذ تمکنت

شاذ تمکنت
Shaz Tamkanat

 


 

غزل: کر لوں گا جمع دولت و زر، اُس کے بعد کیا؟۔۔۔ قمر جلال آبادی

یہ دنیا بڑی رنگ برنگی ہے اور انسان کے لئے بڑی کشش رکھتی ہے۔ دنیا کی رونقیں ہمہ وقت انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہیں ، لیکن کبھی کبھی انسان کی نظر دنیا کے اُس دوسرے رُخ پر بھی پڑتی ہےجہاں سے اس کی رونقیں بالکل ماند نظر آتی ہیں اور انسان ا س دنیا کی بے ثباتی پر سوچ میں پڑ جاتا ہے۔ زیرِ نظر غزل میں محترم قمر جلال آبادی نے اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے اور بہت خوبی سے کیا ہے آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔

کر لوں گا جمع دولت و زر، اُس کے بعد کیا؟
لے لوں گا شاندار سا گھر ، اُس کے بعد کیا؟

مے کی طلب جو ہوگی تو بن جاؤں گا میں رِند
کر لوں گا میکدوں کا سفر ، اُس کے بعد کیا؟

ہوگا جو شوق حُسن سے راز و نیاز کا
کرلوں گا گیسوؤں میں سحر، اُس کے بعد کیا؟

شعر و سُخن کی خوب سجاؤں گا محفلیں
دُنیا میں ہوگا نام مگر، اُس کے بعد کیا ؟

موج آئے گی تو سارے جہاں کی کروں گا سیر
واپس وہی پرانا نگر ، اُس کے بعد کیا؟

اِک روز موت زیست کا در کھٹکھٹائے گی
بُجھ جائے گا چراغِ قمر ، اُس کے بعد کیا؟

اُٹھی تھی خاک، خاک سے مل جائے گی وہیں
پھر اُس کے بعد کس کو خبر ، اُس کے بعد کیا؟

قمر جلال آبادی

مختصر افسانہ:اتفاق

اتفاق

مختصر افسانہ از محمد احمد

وُہ مسکرا رہی تھی اور میں بھی مسکرا رہا تھا۔ وہ اپنے کسی خیال میں اور میں اپنے کسی خیال میں۔ دونوں ایک دوسرے سے بے خبر۔

اچانک دونوں کی نظریں ملیں۔ دونوں کی مسکراہٹیں فزوں تر ہو گئیں۔

"کیا ہوا؟" دونوں نے ایک ساتھ کہا۔

"کچھ نہیں!" ایک سے سوال کا ایک سا جواب تھا۔


یہ محض اتفاق تھا لیکن حسنِ اتفاق کی مکمل تعریف لیے ہوئے تھا۔

*****


 

دنیا کو ریشہ ریشہ اُدھیڑیں، رفو کریں - راجیش ریڈی

راجیش ریڈی صاحب پڑوسی ملک ہندوستان کے معروف شاعر ہیں۔ اُن کی زیرِ نظر غزل اچھی لگی، سو خیال آیا کہ بلاگ کے قارئین کے ساتھ شریک کی جائے۔ اس غزل کا مطلع مجھے خاص طور پر پسند آیا۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔

غزل

دنیا کو ریشہ ریشہ اُدھیڑیں، رفو کریں
آ بیٹھ تھوڑی دیر ذرا گفتگو کریں

جس کا وجود ہی نہ ہو دونوں جہان میں
اُس شے کی آرزو ہی نہیں جستجو کریں

دنیا میں اِک زمانے سے ہوتا رہا ہے جو
دنیا یہ چاہتی ہے وہی ہُو بہ ہُو کریں

ان کی یہ ضد کہ ایک تکلف بنا رہے
اپنی تڑپ کہ آپ کو تم، تم کو تو کریں

ان کی نظر میں آئے گا کس دن ہمارا غم
آخر ہم اپنے اشکوں کو کب تک لہو کریں

دل تھا کسی نے توڑ دیا کھیل کھیل میں
اتنی ذرا سی بات پہ کیا ہاؤ ہُو کریں

دل پھر بضد ہے پھر اسی کوچے میں جائیں ہم
پھر ایک بار وہ ہمیں بے آبرو کریں

راجیش ریڈی


راجیش ریڈی
راجیش ریڈی ۔ دنیا کو ریشہ۔ ریشہ اُدھیڑیں ، رفو کریں

افسانہ : روپ بہروپ

روپ بہروپ

از محمد احمد


"یہ عامر وسیم پاگل واگل تو نہیں ہے؟ "صدیقی صاحب کافی غصے میں نظر آ رہے تھے
لیکن میں اس لڑکے کی بات سن کر ایک خوشگوار حیرت میں مبتلا تھا۔ میرا ذاتی خیال یہی تھا کہ کرکٹر وغیرہ کافی لا ابالی ہوتے ہیں۔ پھر یہ تو ابھی بالکل نوجوان ہی تھا۔ اکیس بائیس سال کی عمر بھی کوئی عمر ہوتی ہے۔ ایسے میں اُس کی طرف سے اِس قسم کی بات کافی حیران کن تھی۔

"مجھے ایڈورٹزمنٹ کے شعبے میں 30 سال ہو گئے ہیں۔ لیکن آج تک ایسی بات کسی نے نہیں کی۔"
"اتنے بڑے بڑے ماڈلز، ایکٹرز، ایکٹریسز، حتیٰ کہ بڑے سے بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ میں نے اشتہار کیے ہیں۔ لیکن آج تک کسی نے ایسی بات نہیں کی۔" صدیقی صاحب اپنی دراز میں کچھ تلاش کر رہے تھے۔

"اس کا دماغ کچھ زیادہ ہی خراب ہو گیا ہے۔" انہوں نے دراز زور سے بند کرتے ہوئے کہا۔ شاید اُن کی مطلوبہ شے وہا ں نہیں تھی۔
"خیر ! میں کلائنٹ سے بات کرتا ہوں اور اُن سے کہتا ہوں کہ وہ اس کے بجائے شاہد کمال کو لے لیں۔ شاہد کمال کی ریٹنگ بہت اچھی ہے اوراس کے مقابلے میں یہ تو بالکل ہی نیا ہے۔ چار چھ میچز کی پرفارمنس کوئی پرفارمنس ہوتی ہے۔" صدیقی صاحب اپنی رو میں کہے جا رہے تھے۔

*****

میں اور صدیقی صاحب ایک ایڈورٹِزمنٹ ایجنسی میں ساتھ کام کرتے ہیں۔ ہماری فرم ٹی وی اور دیگر ذرائع ابلاغ کے لئے اشتہارات بناتی ہے۔ ہم دونوں کا کام ایک طرح سے مارکیٹنگ اور کلائینٹ ہینڈلنگ ہے۔

ہمارے ایک کلائینٹ کی فرمائش ہے کہ وہ اپنے فوڈ سپلیمنٹ کے اشتہار میں نئے ابھرتے ہوئے کرکٹر عامر وسیم کو لیں ۔ عامر وسیم نے کچھ ہی ماہ قبل ایک مقامی لیگ میں ڈیبیو کیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کی آنکھ کا تارا بن گیا۔ اُس کے فوراً بعد ہی اُسے قومی ٹیم میں شامل کر لیا گیا اور اپنی پہلی ہی سیریز میں اس نے کئی نئے ریکارڈ بنا دیے۔

جب میں اور صدیقی صاحب اشتہار کے سلسلے میں عامر وسیم سے ملے تو وہ کافی خندہ پیشانی سے ملا لیکن اُس نے ایک عجیب بات کی۔

اُس کا کہنا ہے کہ وہ اشتہار میں کام کرنے سے پہلے اُن کی یہ پروڈکٹ استعمال کرکے دیکھنا چاہتا ہے۔ اگر اسے سمجھ آئی تو اشتہار میں کام کرے گا، ورنہ معذرت کر لے گا۔ اُس نے فوڈ سپلیمنٹ کا لیبارٹری ٹیسٹ کروانے کا بھی ارادہ ظاہر کیا۔ اُس نے کہا کہ میں کسی غلط پروڈکٹ کا اشتہار نہیں کرنا چاہتا۔ مجھے اللہ کو جواب دینا ہے۔

یہ بات واقعی عجیب ہے۔ آج تک کسی ماڈل نے ایسا نہیں کہا کہ وہ پروڈکٹ کو استعمال کیے بغیر اشتہار میں کام نہیں کرے گا۔ بلکہ ماڈلز کو تو اس بات سے غرض ہی نہیں ہوتی کہ وہ پروڈکٹ کیسی ہے، اچھی ہے یا بری ہے۔ اُن کو اپنے پیسوں سے غرض ہوتی ہے اور بس!

دیکھا جائے تو یہ لڑکا اشتہاروں سے اچھا خاصا کما سکتا ہے لیکن اس قسم کا رویّہ تو اپنے پیروں پر کلہاڑا مارنے کے مترادف ہے۔ یقیناً وہ کسی اچھی تربیت کے زیرِ اثر پلا بڑھا ہے ورنہ آج کل تو لوگ مالی منفعت کے آگے کچھ بھی نہیں دیکھتے۔

*****

 
صدیقی صاحب جب کلائینٹ سے ملے تو خلافِ توقع کلائینٹ نے اُنہیں کہا کہ وہ ہر حال میں اپنا اشتہار عامر وسیم سے ہی کروانا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پرانے چاولوں کے مقابلے میں نئے ٹیلینٹ اور نئے چہرے کے ساتھ اپنا اشتہار کروائیں۔ کلائینٹ نے کہا کہ وہ اپنی پروڈکٹ کے کچھ فریش سیمپل بھیج دے گا تاکہ وہ عامر وسیم کو بھیج دیے جائیں ۔ کلائینٹ نے صدیقی صاحب کی ذمہ داری لگائی کہ وہ کسی طرح عامر وسیم کو اس اشتہار کے لئے راضی کریں۔

صدیقی صاحب جتنا عامر وسیم سے چِڑ رہے تھے اُتنا ہی اُنہیں اُس سے واسطہ پڑ رہا تھا۔

*****

عامر وسیم سے ہماری اگلی ملاقات کم و بیش دو ہفتے بعد ہوئی۔

صدیقی صاحب نے کافی کوشش کے بعد اپنے موڈ کو خوشگوار بنایا اور عامر وسیم کو فوڈ سپلیمنٹ کے تازہ سیمپل دئیے جو کلائینٹ نے خاص طور پر عامر وسیم کے لئے بھیجے تھے۔

عامر وسیم حسبِ سابق بہت اچھی طرح ملا ۔ بظاہر یہ ایک کھلندڑا اور ہنس مکھ نوجوان تھا۔ عامر وسیم نے بتایا کہ ان سیمپلز کی اب ضرورت نہیں ہے۔ وہ مارکیٹ سے لے کر اس پروڈکٹ کو استعمال کرتا رہا ہے اور اس دوران اُس نے پروڈکٹ کا لیبارٹری ٹیسٹ بھی کرو ا لیا ہے۔ اب وہ پروڈکٹ سے مطمئن تھا ۔

یوں صدیقی صاحب کی مشکل توقع سے کہیں پہلے آسان ہو گئی اور پھر وہ بھی خوش دلی سے باقی کے مراحل میں جُت گئے۔ 

*****


عامر وسیم ایک اچھا کرکٹر تو تھا ہی ساتھ ساتھ خوش شکل اور جاذبِ ِ نظر بھی تھا۔ پھر ہماری فرم کا برسوں کا تجربہ بھی اشتہار سازی میں شامل رہا ۔ یوں یہ اشتہار کافی اچھا بنا ۔ اور لوگوں میں مقبول بھی بہت ہوا۔

کمپنی کے مالک نے ایک کام اوربھی کیا۔ اُس نے اپنی سوشل میڈیا ٹیم کے ذریعے ایک کمپین چلائی ، جس میں ایمانداری اور سچی گواہی کے ہیش ٹیگز شامل کیے گئے اور اس میں بتایا گیا کہ کرکٹر نے اشتہار میں کام کرنے کی کیا شرط رکھی۔ یہ کمپین بظاہر کرکٹر کو سراہنے کے لئے تھی ۔ لیکن ضمنی طور پر یہ اس پروڈکٹ کی شہرت کا سبب بنی کہ ہر پوسٹ ہر ٹوٹئٹ میں اشتہار کی ویڈیو بھی شامل کی گئی۔

یوں عامر وسیم کی شہرت اور نیک نامی کو بھی چار چاند لگے ،لیکن اصل فائدہ کلائینٹ کو ہی ہوا۔

*****

آج اتوار کا دن تھا ۔ سہ پہر کے وقت میں اپنے بچوں کے ساتھ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا ہوا تھا۔ ٹی وی پر حالات حاضرہ کا کوئی پروگرام چل رہا تھا۔ ہم ادھر اُدھر کی باتیں بھی کر رہے تھے۔

اچانک ٹی وی اسکرین پر ایک اشتہار میں شاہد کمال نظر آیا۔
"میں کبھی کسی ایسے پروڈکٹ کے لئے کام نہیں کرتا جس کو میں نے خود نہ آزمایا ہو۔اور جب تک میں خود اس پروڈکٹ کی تحقیق نہ کر لوں۔ " شاہد کمال بڑے پر یقین لہجے میں کہہ رہا تھا ۔
اُس کے ہاتھ میں ایک انرجی ڈرنک تھا اور وہ اُس کی تعریف میں زمین آسمان ایک کر رہا تھا۔

میں اس پروڈکٹ کو دیکھ کر چونکا۔ میں نے فوراً اس کا نام سرچ انجن پر ڈالا۔
میرا خدشہ بالکل درست نکلا۔ یہ تو اُن پروڈکٹس میں سے تھی جن کے استعمال پر وزارتِ صحت نے تنبیہ کی تھی اور مضرِ صحت مصنوعات کی فہرست میں اس کا نام شامل کیا تھا۔

غالب کا ایک شعر نہ جانے کہاں سے میرے حافظے میں نمودار ہوا۔

ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی
اب آبروئے شیوۂ اہلِ نظر گئی

اور میں ایک ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا۔

***-***-***

افسانہ - روپ بہروپ

غزل: اول اول کی دوستی ہے ابھی - احمد فراز


اول اول کی دوستی ہے ابھی
اک غزل ہے کہ ہو رہی ہے ابھی

میں بھی شہر وفا میں نو وارد
وہ بھی رک رک کے چل رہی ہے ابھی

میں بھی ایسا کہاں کا زود شناس
وہ بھی لگتا ہے سوچتی ہے ابھی

دل کی وارفتگی ہے اپنی جگہ
پھر بھی کچھ احتیاط سی ہے ابھی

گرچہ پہلا سا اجتناب نہیں
پھر بھی کم کم سپردگی ہے ابھی

کیسا موسم ہے کچھ نہیں کھلتا
بوندا باندی بھی دھوپ بھی ہے ابھی

خود کلامی میں کب یہ نشہ تھا
جس طرح روبرو کوئی ہے ابھی

قربتیں لاکھ خوبصورت ہوں
دوریوں میں بھی دل کشی ہے ابھی

فصل گل میں بہار پہلا گلاب
کس کی زلفوں میں ٹانکتی ہے ابھی

مدتیں ہو گئیں فرازؔ مگر
وہ جو دیوانگی کہ تھی ہے ابھی


فراز