/* Code for OneSignal */

غزل : وفا کے خوگر وفا کریں گے یہ طے ہو ا تھا - حنیف اسعدی

آج بہت دنوں بعد کوئی غزل ایسی سنی کے طبیعت باغ باغ ہو گئی۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔ ساتھ ساتھ کلامِ شاعر بزبانِ شاعر سے بھی حظ اُٹھائیے۔

غزل

وفا کے خوگر وفا کریں گے یہ طے ہو ا تھا
وطن کی خاطر جیے مریں گے یہ طے ہو ا تھا

بوقتِ ہجرت قدم اُٹھیں گے جو سوئے منزل
تو بیچ رستے میں دَم نہ لیں گے یہ طے ہوا تھا

چہار جانب بہار آئی ہوئی تھی لیکن
بہار کو اعتبار دیں گے یہ طے ہوا تھا

تمام دیرینہ نسبتوں سے گریز کرکے
نئے وطن کو وطن کہیں گے ، یہ طے ہوا تھا

خدا کے بندے خدا کی بستی بسانے والے
خدا کے احکام پر چلیں گے یہ طے ہوا تھا

بغیرِ تخصیص پست و بالا ہر اک مکاں میں
دیئے مساوات کے جلیں گے، یہ طے ہوا تھا

کسی بھی اُلجھن میں رہبروں کی رضا سے پہلے
عوام سے اذنِ عام لیں گے، یہ طے ہوا تھا

تمام تر حل طلب مسائل کو حل کریں گے
جو طے نہیں ہے، وہ طے کریں گے، یہ طے ہوا تھا

حنیف اسعدی

ویڈیو بشکریہ خورشید عبداللہ

غزل: اِس قدر اضطراب دیوانے؟

غزل

اِس قدر اضطراب دیوانے؟
تھا جُنوں ایک خواب دیوانے!

ہم ہیں آشفتہ سر ہمیشہ سے
ہم تو ہیں بے حساب دیوانے

فاتر العقل ہیں نہ مجنوں ہیں
ہم ہیں عزت مآب دیوانے

آئے نکہت فشاں چمن میں وہ
ہو رہے ہیں گلاب دیوانے

ہیں خرد مند فیس بک پر خوش
پڑھ رہے ہیں کتاب دیوانے

سب ہیں ہشیار اگر بکار خویش
نام کے ہیں جناب دیوانے

نام اللہ کا لے، بھٹکنا چھوڑ
تھام لے اِک طناب دیوانے

خاک مسجد بنے گی شب بھر میں
اب نہیں دستیاب دیوانے

روز مڈ بھیڑ اہلِ دانش سے
روز زیرِ عتاب دیوانے

سر کھپاتے ہو فکرِ دنیا میں
تم ہو احمدؔ خراب دیوانے

محمد احمدؔ