[ہفتہ ٴ غزل] ۔ تُو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گا ۔ افتخار امام صدیقی

آج کی معروف غزل 

تُو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گا
دور تک تنہائیوں کا سِلسلہ رہ جائے گا

درد کی ساری تہیں، اور سارے گزرے حادثے
سب دھواں ہو جائیں گے، اک واقعہ رہ جائے گا

یُوں بھی  ہو گا، وہ مجھے دل سے بُھلا دے گا مگر
یہ بھی ہو گا خود اُسی میں اِک خلا رہ جائے گا

دائرے اِنکار کے ، اِقرار کی سرگوشیاں
یہ اگر ٹوٹیں کبھی تو فاصلہ رہ جائے گا

افتخار امام صدیقی

0 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک