[ہفتہ ٴ غزل] ۔ ہوا نے باندھ دیا رات سلسلہ ایسے

آج کی معروف غزل

ہوا نے باندھ دیا رات سلسلہ ایسے
بلا رہا ہے کوئی دور سے لگا ایسے

جہاں بھی دیکھو وہاں پھول کھلنے لگتے ہیں
زمیں پہ چھوڑ گیا کوئی نقشِ  پا ایسے

ہمیں لگا کہ کوئی شعر کہہ لیا ہم  نے
ذرا سی دیر کہیں کوئی مل گیا ایسے

سکوت ایسا کہ اب خاک تک نہیں اڑتی
ہوائیں بھول بھی سکتی ہیں راستہ ایسے

- نامعلوم -

2 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

گمنام کہا...

محترمہ زہرا نگاہ صاحبہ کی غزل ہے

مکمل غزل

ہوا نے باندھ دیا رات سلسلہ ایسے
بلا رہا ہے کوئی دور سے لگا ایسے

جہاں بھی دیکھو وہاں پھول کھلنے لگتے ہیں
زمیں پہ چھوڑ گیا کوئی نقشِ پا ایسے

ہمیں لگا کہ کوئی شعر کہہ لیا ہم نے
ذرا سی دیر کہیں کوئی مل گیا ایسے

سکوت ایسا کہ اب خاک تک نہیں اڑتی
ہوائیں بھول بھی سکتی ہیں راستہ ایسے

نہ دھوپ میں وہ تڑپ ہے نہ سائے میں وہ کشش
کسی فقیر نے کیا دی ہے بددعا ایسے

Muhammad Ahmed کہا...

بہت شکریہ اے گمنام محسن!

شاعرہ کا نام اور مکمل غزل جان کر خوشی ہوئی۔

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک