[ہفتہ ٴ غزل] ۔ سات رنگوں کے شامیانے ہیں ۔ بشیر بدر

غزل 

سات رنگوں کے شامیانے ہیں
دل کے موسم بڑے سُہانے ہیں

کوئی تدبیر بھولنے کی نہیں
یاد آنے کے سو بہانے ہیں

دل کی بستی ابھی کہاں بدلی
یہ محلے بہت پرانے ہیں

حق ہمارا نہیں درختوں پر
یہ پرندوں کے آشیانے ہیں

علم و حکمت سیاست و مذہب
اپنے اپنے شراب خانے ہیں

دھوپ کا پیار خوبصورت ہے
آگ کے پھول بھی سُہانے ہیں

بشیر بدر

0 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک