[ہفتہ ٴ غزل] ۔ لہر دریا کو تو کُہسار کو قامت ملی تھی ۔ شہزاد اظہر

غزل

لہر دریا کو تو کُہسار کو قامت ملی تھی
دل کی کیا پوچھتے ہو دل کو محبت ملی تھی

پھول کچھ ہم نے بھی دامن میں اُٹھائے ہوئے ہیں
ہم کو بھی سیرِ گلستاں کی اجازت ملی تھی

توڑ سکتی تھی کسی لفظ کی ٹھوکر مجھ کو
میری مشکل، مجھے شیشے کی طبیعت ملی تھی

ایک میں ہی نہیں افزونیِ خواہش کا شکار
کوئی بتلاؤ کسی دل کو قناعت ملی تھی

دھوپ کے شہر میں سنولا گیا تِتلی کا بدن
پھول سی جان کو پوشاکِ تمازت ملی تھی

مجھ سے آباد ہوا تھا مرے حصے کا ورق
لفظ کا گھر تھا، مجھے جس کی اقامت ملی تھی

شہزاد اظہر

0 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک