[ہفتہ ٴ غزل] ۔ اک ہوا تھی جس میں سب بہتے رہے ۔ سہیل احمد زیدی

غزل 

اِک ہوا تھی جس میں سب بہتے رہے
اور اُسے اپنی سمجھ کہتے رہے

اس توقع پر کہ دن پھر جائیں گے
رات کے جور و ستم سہتے  رہے

لوگ شاہوں سے تقرب کے لئے
کربلا کی داستاں کہتے رہے

زلزلوں کے قہر سے محفوظ تھے
ہم کہ اپنے آپ میں رہتے رہے

اِک نگاہِ لطف کے محتاج تھے
ویسے ہم خود کو غنی کہتے رہے

شیخ زیدی طنطنے کے باوجود
وقت کے سیلاب میں بہتے رہے

سہیل احمد زیدی


2 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

Bilal Azam کہا...


اِک نگاہِ لطف کے محتاج تھے
ویسے ہم خود کو غنی کہتے رہے

واہ
اچھا شعر ہے
ویسے ہم خود کو غنی کہتے رہے

Zulqarnain Sarwar کہا...

کیا خوب غزل ہے۔۔۔ پہلی بار پڑھی۔ مزا آگیا۔۔۔

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک