[ہفتہ ٴ غزل] ۔ نعتِ رسول مقبول ﷺ

نعتِ رسول مقبول ﷺ

اپنے آقاؐ کے مدینے کی طرف دیکھتے ہیں
دِل اُلجھتا ہے تو سینے کی طرف دیکھتے ہیں

اب یہ دنیا جسے چاہے اُسے دیکھے سَرِ سیل
ہم تو بس ایک سفینے کی طرف دیکھتے ہیں

عہدِ آسودگیِ جاں ہو کہ دورِ ادبار
اُسی رحمت کے خزینے کی طرف دیکھتے ہیں

وہ جو پَل بھر میں سرِ عرشِ بریں کُھلتا ہے
بس اُسی نور کے زینے کی طرف دیکھتے ہیں

بہرِ تصدیقِ سند نامہ ٴ نسبت، عُشّاق
مُہرِ خاتم کے نگینے کی طرف دیکھتے ہیں

دیکھنے والوں نے دیکھے ہیں وہ آشفتہ مزاج
جو حرم سے بھی مدینے کی طرف دیکھتے ہیں

افتخار عارف



2 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

Bilal Azam کہا...

اپنے آقاؐ کے مدینے کی طرف دیکھتے ہیں
دِل اُلجھتا ہے تو سینے کی طرف دیکھتے ہیں

اب یہ دنیا جسے چاہے اُسے دیکھے سَرِ سیل
ہم تو بس ایک سفینے کی طرف دیکھتے ہیں

دیکھنے والوں نے دیکھے ہیں وہ آشفتہ مزاج
جو حرم سے بھی مدینے کی طرف دیکھتے ہیں

واہ واہ
سبحان اللہ

Zulqarnain Sarwar کہا...

بہت خوب ہدیہ ہے۔۔۔ جزاک اللہ

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک