[ہفتہ ٴ غزل] ۔ بلا کشانِ محبّت کی رسم جاری ہے ۔ محمد وارث اسدؔ

غزل

بلا کشانِ محبّت کی رسم جاری ہے
وہی اٹھانا ہے پتھر جو سب سے بھاری ہے

نگاہِ شوق نہیں، آہِ صبح و شام نہیں
عجب فسردہ دلی، حیف، مجھ پہ طاری ہے

یہی متاع ہے میری، یہی مرا حاصل
نہالِ غم کی لہو سے کی آبیاری ہے

زبانِ حق گو نہ تجھ سے رکے گی اے زردار
جنونِ عشق پہ سرداری کب تمھاری ہے

اسد نہ چھوڑنا تُو دامنِ وفا داراں
زمیں کی مانگ اسی جہد نے سنواری ہے

محمد وارث اسدؔ

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ حوصلہ دید ہ ٴ بیدار کے سو جاتے ہیں ۔ لیاقت علی عاصم

غزل

حوصلہ دید ہ ٴ  بیدار کے سو جاتے ہیں
نیند کب آتی ہے تھک ہار کے سو جاتے ہیں

روز کا قصہ ہے یہ معرکہ  ٴ یاس و اُمید
جیت کر ہارتے ہیں، ہار کے سو جاتے ہیں

سونے دیتے ہیں کہاں شہر کے حالات مگر
ہم بھی سفّاک ہیں جی مار کے سو جاتے ہیں

چاہتے ہیں رہیں بیدار غمِ یار کے ساتھ
اور پہلو میں غمِ یار کے سو جاتے ہیں

ڈھیر ہو جاتی ہے وحشت کسی آغوش کے پاس
سلسلے سب رم و رفتار کے سو جاتے ہیں

جاگتے تھے تری تصویر کے امکان جن میں
اب تو رنگ بھی دیوار کے سو جاتے ہیں

لیاقت علی عاصم

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ شب ِ تاریک میں لرزا ں شرار ِ زندگانی ہے ۔ سید عاطف علی

غزل

شب ِ تاریک میں لرزا ں شرار ِ زندگانی ہے
ترے غم کی رفاقت سے یہ عمر ِجاودانی ہے

مرا پیہم تبسم ہی مرے غم کی نشانی ہے
مرا دھیما تکلّم ہی مری شعلہ بیانی ہے

فقیہِ شہر کا اب یہ وظیفہ رہ گیا باقی،
امیر ِ شہر کی دہلیز پہ بس دُم ہلانی ہے

کوئی زنداں میں جب بھی نو گرفتارِ وفا آیا
مجھے ایسا لگا جیسے یہ میری ہی کہانی ہے

فغاں ہے خام تیری گر تجھے سودا ہے جلووں کا
کہ تو ناواقفِ رمزِ ِ ندائے لن ترانی ہے

سیاہی سے ترے گیسو کی پانی ہیں گھٹائیں بھی
زمیں کے آگے شرمندہ بلائے آسمانی ہے​

سید عاطف علی

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ میں خموشی سے رات سوئی تھی ۔ بشریٰ اعجاز

غزل 

میں خموشی سے رات سوئی تھی
میرے پہلو میں بات سوئی تھی

اک بدن پالکی میں جاگتا تھا
اور ساری برات سوئی تھی

بسترِ شب  پہ آسماں اوڑھے
بے خبر کائنات سوئی تھی

اے پری زاد تیرے ہجرے میں
ایک عورت کی ذات سوئی تھی

اک طرف سائبان بیٹھا تھا 
ایک جانب قنات سوئی تھی

ڈوبنے لگ گئے کنارے بھی
پانیوں میں نجات سوئی تھی

جانے کس درد کا تذبذب تھا
ہونٹ جاگے  تھے بات سوئی تھی

ایک ٹھوکر سے جاگ اُٹھی تھی
راستے میں حیات سوئی تھی

مرگِ دائم تھا رت جگا بشریٰ
زندگی بے ثبات سوئی تھی

بشریٰ اعجاز

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ آنکھ برسی ہے ترے نام پہ ساون کی طرح ۔ مرتضیٰ برلاس

آج کی معروف غزل 

آنکھ برسی ہے ترے نام پہ ساون کی طرح 
جسم سُلگا ہے تری یاد میں ایندھن کی طرح

لوریاں دی ہیں کسی قُرب کی خواہش نے مجھے
کچھ جوانی کے بھی دن گزرے ہیں بچپن کی طرح

اس بلندی سے مجھے تونے نوازا کیوں تھا
گر کے میں ٹوٹ گیا کانچ کے برتن کی طرح

مجھ سے ملتے ہوئے  یہ بات تو سوچی ہوتی
میں ترے دل میں سما جاؤں گا دھڑکن کی طرح

اب زلیخا کو نہ بدنام کرے گا کوئی 
اس کا دامن بھی دریدہ مرے دامن کی طرح

منتظر ہے کسی مخصوص سی آہٹ کے لئے
زندگی بیٹھی ہے دہلیز پہ برہن کی طرح

مرتضیٰ برلاس

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ دن ہو کہ رات، کنجِ قفس ہو کہ صحنِ باغ ۔ انجم رومانی

غزل

دن ہو کہ رات، کنجِ قفس ہو کہ صحنِ باغ 
آلامِ روزگار سے حاصل نہیں فراغ

رغبت کسے کہ لیجئے عیش و طرب کا نام 
فرصت کہاں کہ کیجئے صہبا سے پُر ایاغ

ویرانہء حیات میں آسودہ خاطری
کس کو مِلا اس آہوئے رم خوردہ کا سُراغ

آثارِ کوئے دوست ہیں اور پا شکستگی
خوشبوئے زلفِ یار ہے اور ہم سے بے دماغ

کس کی جبیں پہ ہیں یہ ستارے عرق عرق
کس کے لہو سے چاند کا دامن ہے داغ داغ

کرتے ہیں کسبِ نور اسی تیرگی سے ہم 
انجمؔ ہیں دل کے داغ کہر ہائے شب چراغ

انجم رومانی

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی ۔ شاہین عباس

غزل

اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی
کبھی ہوتی تھی مٹی اور کبھی ہوتی نہیں تھی

بہت پہلے سے افسردہ چلے آتے ہیں ہم تو
بہت پہلے کہ جب افسردگی ہوتی نہیں تھی

ہم اِک ایسے زمانے میں بھی گزرے ہیں یہاں سے
یہ گھر ہوتے تھے لیکن یہ گلی ہوتی نہیں تھی

دیا پہنچا نہیں تھا، آگ پہنچی تھی گھروں تک
پھر ایسی آگ، جس سے روشنی ہوتی نہیں تھی

نکل جاتے تھے سر پر بے سر و سامانی لادے
بھری لگتی تھی گٹھری اور بھری ہوتی نہیں تھی

ہمیں یہ عشق  تب سے ہے کہ جب دن بن رہا تھا
شبِ ہجراں جب اِتنی سرسری ہوتی نہیں تھی

پرانے حیرتی تھے اور زمانوں سے وہیں تھے
پرانی خامشی تھی اور نئی ہوتی نہیں تھی

ہمیں جا جا کہ کہنا پڑتا تھا، ہم ہیں ، یہیں ہیں
کہ جب موجودگی ، موجودگی ہوتی نہیں تھی

بہت تکرار رہتی تھی بھرے گھر میں کسی سے 
جو شے درکار ہوتی تھی، وہی ہوتی نہیں تھی

شاہین عباس

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ پندار کی ویران سرا میں نہیں رہتے ۔ ظہیر احمد ظہیر

غزل

پندار کی ویران سرا میں نہیں رہتے
ہم خاک پہ رہتے ہیں خلامیں نہیں رہتے

قامت بھی ہماری ہے ، لبادہ بھی ہمارا
مانگی ہوئی دستار و قبا میں نہیں رہتے

ہم کشمکشِ دہر کے پالے ہوئے انسان
ہم گریہ کناں کرب و بلا میں نہیں رہتے

خاشاکِ زمانہ ہیں ، نہیں خوف ہمیں کوئی
آندھی سے ڈریں وہ جو ہوا میں نہیں رہتے

ہم چھوڑ بھی دیتے ہیں کُھلا توسنِ دل کو
تھامے ہوئے ہر وقت لگامیں نہیں رہتے

روحوں میں اتر جاتے ہیں تیزاب کی صورت
لفظوں میں گھلے زہر صدا میں نہیں رہتے

احساس کے موسم کبھی ہوجائیں جو بے رنگ
خوشبو کے ہنر دستِ صبا میں نہیں رہتے

اونچا نہ اُڑو اپنی ضرورت سے زیادہ
تھک جائیں پرندے تو فضا میں نہیں رہتے

دستار بنے جاتے ہیں اب شہرِ طلب میں
کشکول کہ اب دستِ گدا میں نہیں رہتے

اس خانہ بدوشی میں خدا لائے نہ وہ دن
جب بچھڑے ہوئے یار دعا میں نہیں رہتے


ظہیر احمد ظہیر

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ نمکین غزل

نمکین غزل

سوچتے ہیں کہ ہفتہ ء غزل میں ایک آدھ نمکین غزل بھی شامل کی جائے لیکن ہم تو یہ بھی سوچتے ہیں کہ یہ نمکین غزل آخر ہوتی کیا ہے۔ گو کہ ہم اور آپ جانتے ہیں کہ نمکین غزل کیا ہوتی ہے لیکن بات آتی ہے وجہ تسمیہ پر۔

کہا جاتا ہے کہ چیزیں اپنی ضد سے پہنچانی جاتی ہیں۔ یعنی روشنی کو پہچاننے کے لئے اندھیرے کو سمجھنا ضروری ہے اور کھرے کی شناخت کے لئے کھوٹے کی پہچان ضروری ہے تاہم نمکین غزل اِ س فارمولے کے تحت بھی درونِ خانہ رسائی دینے کو تیار نہیں ہے۔ نمکین غزل کو براستہ ضد سمجھنے نکلیں تو ہم میٹھی غزل تک پہنچتے ہیں تاہم پتہ یہ چلتا ہےکہ اس قسم کی کوئی غزل کہیں نہیں پائی جاتی ۔ یہاں تک کہ وہ 'غزل' بھی جو دیکھنے میں کافی میٹھی نظر آتی ہے، سُننے میں کافی ترش معلوم ہوتی ہے اور دشمنوں حتیٰ کہ دوستوں کے بھی دانت کھٹے اور ارمان ٹھنڈے کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔بہرکیف اُس والی غزل کی بات پھر کسی اور وقت کے لئے اُٹھا رکھتے ہیں اور واپس آتے ہیں میٹھی غزل کی طرف کہ جس کی مدد سے ہم نمکین غزل کو سمجھنا چاہ رہے تھے ۔ تاہم تلاش بسیار کے باوجود غزل کے ساتھ مٹھاس کا تصور ہمیں کہیں نہیں ملا کہ زیادہ تراردو شاعری آہوں اور آنسوؤں سے گندھی ہوئی ملا کرتی ہے اور تلخیوں اور اشکوں کی آماجگاہ ہونے کے باعث تلخی اس کا لازمی جز۔ سو شیرینی کا عشرِ عشیر بھی یہاں میسر نہیں ہے۔


اسی نکتے پر مزید غور کرنے سے بہرکیف اس گتھی کا ایک سِرا ضرور ہاتھ آتا ہے اور وہ یہ کہ چونکہ زیادہ تر شاعری غم و آلام اور آہ و اشک کی بھرمار کے باعث تلخ یعنی کڑوی ہوتی ہے سو ایسی شاعری جس میں آنسوؤں کے ساتھ کچھ قہقہے بھی شامل کردیے جاتے ہیں اور اُس کی کڑواہٹ کچھ کم ہو کر نمکینی میں بدل جاتی ہے ، نمکین شاعری یا نمکین غزل کہلاتی ہے۔

ہمیں نہیں پتہ کہ 'نمکین غزل' کی اصطلاح سب سے پہلی بار کس نے، کب، کہاں اور کیوں وضع کی تاہم مزاحیہ غزل کے لئے یہ نام خوب جچتا ہے۔ تو پھر آئیے کہ کچھ منہ کا ذائقہ بدلیں اور دلاور فگار کی نمکین غزل کا مزہ لیں۔

میں نےکہاکہ شہر کے حق میں دعا کرو
اس نے کہا کہ بات غلط مت کہا کرو

میں نےکہاکہ رات سے بجلی بھی بند ہے
اس نے کہا کہ ہاتھ سے پنکھا جھلا کرو

میں نےکہاکہ شہر میں پانی کا قحط ہے
اس نے کہا کہ پیپسی کولا پیا کرو

میں نےکہاکہ کار ڈکیتوں نے چھین لی
اس نے کہا کہ اچھا ہے پیدل چلا کرو

میں نےکہاکہ کام ہے نہ کوئی کاروبار
اس نے کہا کہ شاعری پر اکتفا کرو

میں نےکہاکہ سو کی بھی گنتی نہیں ہے یاد
اس نے کہا کہ رات کو تارے گنا کرو

میں نےکہاکہ ہے مجھے کرسی کی آرزو
اس نے کہا کہ آیت کرسی پڑھا کرو

میں نےکہا غزل پڑھی جاتی نہیں صحیح
اس نے کہا کہ پہلے ریہرسل کیا کرو

میں نےکہاکہ کیسے کہی جاتی ہے غزل
اس نے کہا کہ میری غزل گا دیا کرو

ہر بات پر جو کہتا رہا میں بجا بجا
اس نے کہا کہ یوں ہی مسلسل بجا کرو

دلاور فگار

کچھ نمک پارے مزید

سیب سے گال ہیں، خوبانی کے جیسی تھوڑی
شربتی آنکھیں بھی چہرے پہ بڑی پیاری ہیں
ساری چیزیں اگر ایسی ہیں تو تقصیر معاف
وہ تو پھر آپ کی بیگم نہیں افطاری ہیں

عنایت علی خان




اقبالِ جرم

شوق سے لختِ جگر، نورِ نظر پیدا کرو
ظالمو ! تھوڑی سی گندم بھی مگر پیدا کرو
ڈاکٹر اقبال کا شاہیں تو ہم سے اُڑ چکا
اب کوئی اپنا مقامی جانور پیدا کرو

بابائے ظرافت سید ضمیر جعفری





[ہفتہ ٴ غزل] ۔ ستارے دیکھتا ہوں زائچے بناتا ہوں ۔ محمد اظہار الحق

غزل 

ستارے دیکھتا ہوں زائچے بناتا ہوں
میں وہم بیچتا ہوں وسوسے بناتا ہوں

گراں ہے اتنا تو کیوں وقت ہے مجھے درکار
مزے سے بیٹھا ہوا بلبلے بناتا ہوں

مسافروں کا مرے گھر ہجوم رہتا ہے
میں پیاس بانٹتا ہوں آبلے بناتا ہوں

خرید لاتا ہوں پہلے ترے وصال کے خواب
پھر اُن سے اپنے لئے رت جگے بناتا ہوں

یہی نہیں کہ زمینیں میری اچھوتی ہیں
میں آسمان بھی اپنے نئے بناتا ہوں

مرے ہُنر کی تجھے احتیاج کیا ہوگی
کہ میں زمانے ہی گزرے ہوئے بناتا ہوں

محمد اظہار الحق

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ ہر نئی شام سہانی تو نہیں ہوتی ہے ۔ اجملؔ سراج

غزل

ہر نئی شام سہانی تو نہیں ہوتی ہے
اور ہر عمر جوانی تو نہیں ہوتی ہے

تم نے احسان کیا تھا سو جتایا تم نے
جو محبت ہو جتانی تو نہیں ہوتی ہے

دوستو! سچ کہو کب دل کو قرار آئے گا
ہر گھڑی آس بندھانی تو نہیں ہوتی ہے

دل میں جو آگ لگی ہے وہ لگی رہنے دو
یار ! ہر آگ بجھانی تو نہیں ہوتی ہے

دور رہ کر بھی وہ نزدیک ہے  ، قربت یعنی
از رہِ قربِ مکانی تو نہیں ہوتی ہے

موج ہوتی ہے کہیں اور بھنور ہوتے ہیں
صرف دریا میں روانی تو نہیں ہوتی ہے

شائبہ  جس میں حقیقت کا نہیں ہو اجملؔ
وہ کہانی بھی کہانی تو نہیں ہوتی ہے

اجملؔ سراج

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ کتنی آشاؤں کی لاشیں سوکھیں دل کے آنگن میں ۔سردار جعفری

غزل 

کتنی آشاؤں کی لاشیں سوکھیں دل کے آنگن میں
کتنے سورج ڈوب گئے ہیں چہروں کے پیلے پن میں

بچّوں  کے میٹھے ہونٹوں پر پیاس کی سوکھی ریت جمی
دودھ کی دھاریں گائے کے تھن سے گر گئیں ناگوں کے پھن میں

ریگستانوں  میں جلتے ہیں پڑے ہوئے سو نقشِ قدم
آج خراماں کوئی نہیں ہے اُمیدوں کے گلشن میں

چکنا چُور ہوا خوابوں کا دلکش،  دلچسپ آئینہ
ٹیڑھی ترچھی تصویریں ہیں ٹوٹے پھوٹے درپن میں

پائے جنوں میں پڑی ہوئی ہیں حرص و ہوا کی زنجیریں
قید ہے اب تک ہاتھ سحر کا تاریکی کے کنگن میں

آنکھوں کی کچھ نورس کلیاں  نیم شگفتہ غنچہ ٴ لب
کیسے کیسے پھول بھرے ہیں گلچینوں کے دامن میں

دستِ غیب کی طرح چھپا ہے ظلم کا ہاتھ ستم کا وار
خشک لہو کی بارش دیکھی ہم نے کوچہ و برزن میں

سردار جعفری

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ آج ہم بچھڑے ہیں تو کتنے رنگیلےہو گئے ۔ شاہد کبیر

آج کی معروف غزل 

آج ہم بچھڑے ہیں تو کتنے رنگیلےہو گئے
میری آنکھیں سرخ، تیرے ہاتھ پیلےہو گئے

اب تری یادوں کے نشتر بھی ہوئے جاتے ہیں کند
ہم کو کتنے روز اپنے زخم چھیلے ہو گئے

کب کی پتھر ہو چکی تھیں  منتظر آنکھیں مگر
چھو کے  جب دیکھا تو میرے  ہاتھ  گیلےہو گئے

جانے کیا احساس سازِحسن کے تاروں میں ہے
جن کو چھوتے ہی میرے نغمے رسیلےہو گئے

اب کوئی اُمید ہے شاھدؔ  نہ کوئی آرزو
آسرے ٹوٹے تو جینے کے وسیلےہو گئے

شاہدکبیر 

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ ہمیشہ آتے رہے تغیر، ورق اُلٹتا رہا زمانہ ۔ صادق القادری صادق

غزل

ہمیشہ آتے رہے تغیر، ورق اُلٹتا رہا زمانہ
کبھی فسانہ بنا حقیقت، کبھی حقیقت بنی فسانہ

غمِ محبت کو دل نے سمجھا تھا سہل، جیسے غمِ زمانہ
مگر اُٹھایا یہ بوجھ میں نے تو جُھک گیا زندگی کا شانہ

ہم اپنی روداد کیا سنائیں، کچھ اس میں ہیں واقعات ایسے
اگر کوئی دوسرا سُناتا، ہمیں سمجھتے اُسے فسانہ

نظر ہے مہر و کرم کی مجھ پر، لبوں پہ اک طنزیہ تبّسم
شکست تسلیم کی ہے اس نے مگر بہ اندازِ فاتحانہ

کسی کے جانے کے بعد صادق کچھ ایسا محسوس ہو رہا ہے
کہ ایک مرکز پہ جیسے آکر ٹھہر گئی گردشِ زمانہ

صادق القادری صادق

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ اہلِ نظر کی آنکھ میں تاج وہ کلاہ کیا ۔ امجد اسلام امجد

غزل

اہلِ نظر کی آنکھ میں تاج وہ کلاہ کیا
سایا ہو جن پہ درد کا، اُن کو پناہ کیا؟

ٹھہرا ہے اِک نگاہ پہ سارا مقدّمہ
کیسے وکیل! کون سا مُنصف! گواہ کیا!

کرنے لگے ہو آٹھوں پہر کیوں خدا کو یاد؟
اُس بُت سے ہو گئی ہے کوئی رسم و راہ کیا ؟

اے ربِّ عدل تُو مری فردِ عمل کو چھوڑ
بس یہ بتا کہ اِس میں ہے میرا گُناہ کیا؟

سارے فراق سال دُھواں بن کے اُڑ گئے
ڈالی ہمارے حال پہ اُس نے نگاہ کیا

کیا دل کے بعد آبروئے دل بھی رول دیں
دکھلائیں اُس کو جاکے کہ یہ حالِ تباہ کیا؟

جو جِتنا کم بساط ہے، اُتنا ہے معتبر
یارو یہ اہلِ فقر کی ہے بارگاہ ، کیا!

کیسے کہیں کہ کر گئی اِک سانحے کے بیچ
جادُو بھری وہ آنکھ، وہ جھکتی نگاہ کیا؟

(ق)

وہ بر بنائے جبر ہو یا اقتضائے صبر
ہر بُو لہوس سے کرتے رہو گے نباہ کیا

ہر شے کی مثل ہوگی،  کوئی بے کَسی کی حد؟
اس شہرِ بے ہُنر کا ہے دِن بھی سیاہ کیا

رستے میں تھیں غنیم کے پُھولوں کی پتّیاں
سالار بِک گئے تھے تو کرتی سپاہ کیا!

دل میں کوئی اُمّید نہ آنکھوں میں روشنی
نکلے گی اس طرح کوئی جینے کی راہ کیا؟

امجدؔ نزولِ شعر کے کیسے بنیں اُصول!
سیلاب کے لئے کوئی ہوتی ہے راہ کیا

امجد اسلام امجد


[ہفتہ ٴ غزل] ۔ فہمِ آدابِ سفر اہلِ نظر رکھتے ہیں ۔ راحیل فاروق

غزل 

فہمِ آدابِ سفر اہلِ نظر رکھتے ہیں
رکھتے ہیں ذوقِ نظر، زادِ سفر رکھتے ہیں

زندگی حسن پہ واری ہے تو آیا ہے خیال
منزلوں کو یہی جذبے تو امر رکھتے ہیں

شعلۂ  شمعِ کم افروز کو بھڑکاؤ کہ آج
چند پروانے ہواؤں کی خبر رکھتے ہیں

ایک پتھرائے ہوئے دل کا بھرم قائم ہے
کہتے پھرتے ہیں کہ لوہے کا جگر رکھتے ہیں

اس کے لہجے کا وہ ٹھہراؤ غضب کی شے ہے
جانے دل کو یہ دل آزار کدھر رکھتے ہیں؟

پاس رکھا کیے پندارِ جنوں کا راحیلؔ
آج دہلیز سے اٹھتے ہوئے سر رکھتے ہیں

راحیل ؔفاروق

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ تعریف غزل کی۔ ٢

تعریف غزل کی ۔ ٢

بات پھر وہیں سے شروع ہوتی ہے  کہ مروجہ تعریف کے مطابق غزل کے لغوی معنی ہیں "عورتوں سے باتیں کرنا" یا "عورتوں کی باتیں کرنا" تاہم آج کی غزل کے موضوعات بہت متنوع ہو گئے ہیں ۔غزل ہر شعر میں نئے موضوع، معنی آفرینی اور ندرتِ بیان کے ایسے شاہکار کی طلبگار ہوتی ہے کہ جس کی نظیر بامشکل ملے اور اسے چند گنے چنے رومانوی موضوعات تک محدود رکھنا غزل کی فضا کو محبوس کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ 

  ہماری رائے میں  محبوب سے گفتگو جس وارفتگی اور لگاوٹ کی متقاضی ہے اُس کے لئے  غزل سے زیادہ موزوں تر نظم ہے۔ پیہم گفتگو جو ماحول  چاہتی ہے وہ غزل کے فرد فرد مضامین  سے  زیادہ نظم فراہم کر سکتی ہے۔ نظم شعراء کو جذبات کے بہاؤ  ، شیفتگی  اور لگاؤ  کے اظہار کے لئے جو  فضا  دیتی ہے وہ غزل میں بالعموم نظر نہیں آتی۔  نظم کا تسلسل شاعر کو تمہید سے اختتام تک  اپنی بات کو با آسانی کہنے  میں آسانی فراہم کرتا ہے ۔ کچھ مسلسل غزلیات البتہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ 

غزل کی تعریف کو نظم پر منطبق کرنے کی ہماری جسارت شاید آپ کو کچھ بے جا معلوم ہو تاہم یہ ایک خیال ہے اور اس سے اختلاف  بہرکیف کیا جا سکتا ہے۔ 

ہمارے زاویہء نظر  سے اگر دیکھا جائے تو کئی ایک رومانی شعراء نے اپنے جذبات کے اظہار کے لئے  نظم کا سہارا لیا ہے۔ سرِ دست ہم یہاں جاوید صبا کی دو نظم نما غزلیں یا غزل نما نظمیں پیش کر رہے ہیں ۔ اس کلام کو اگر آپ نظم نہ بھی کہنا چاہیں تو مسلسل غزل کہے بغیر چارہ نہ ہوگا۔ 

 کون ہو کیا ہو یہ نہیں معلوم
یورپی ہو کہ ایشیائی ہو
ہو اِسی آب و گِل کی پروردہ 
یا پرستاں سے اُڑ کے آئی ہو
کس نے گُوندھی ہے آگ میں مٹی
کیسی ترکیبِ کیمیائی ہو
ایسی آنکھیں کہیں نہیں دیکھیں
تم یہ آنکھیں کہاں سے لائی ہو
بنتِ حوا ہو یا پری زادی
یا کسی سلطنت کی شہزادی
کس کو بیداد کرنے نکلی ہو 
کس کو برباد کرنے نکلی ہو
اے جمالِ جمالِ دل آرا 
حسن کی آخری دوائی ہو
حشر ساماں ہو آئینے کے لئے 
تم قیامت نہیں تباہی ہو

جاوید صبا

چپ چپ اداس اداس نظر آ رہی ہو تم
بیٹھے بٹھائے جانے کہاں کھو گئی ہو تم
ہونٹوں پہ اک خموش تبسم کی چاپ ہے 
آنکھیں بتا رہی ہیں بہت بولتی ہیں تم
شاید روا روی میں کوئی بات کر گیا
کہنا یہ چاہتا تھا کہ اچھی لگی ہو تم
اے جانِ بے فراق کسی کے فراق میں 
میں نے سنا ہے زہر تلک کھا چکی ہو تم
محفل میں جس سے بات ہوئی تھی وہ تم نہ تھی
خلوت میں میری جان کوئی دوسری ہو تم
انگڑائیوں میں نیند میں آنکھوں میں خواب میں
کوئی نہیں تمہی ہو، تمہی ہو، تمہی ہو، تم

جاوید صبا

جاوید صبا کے علاوہ  فارحہ نگارینہ کے نام لکھی جون کی یہ نظم بھی ہمارے خیال کی تائید کرتی ہے۔ 

تم نے مجھ کو لکھا ہے، میرے خط جلا دیجیئے
مجھ کو فکر رہتی ہے آپ انہیں گنوا دیجیئے
آپ کا کوئی ساتھی دیکھ لے تو کیا ہو گا
دیکھیے میں کہتی ہوں یہ بہت بُرا ہو گا

میں بھی کچھ کہوں تم سے اے مری فروزینہ
زشکِ سروِ سیمینا
اے بہ نازُکی مینا
اے بہ جلوہ آئینہ 
میں تمہارے ہر خط کو لوحِ دل سمجھتا ہوں
لوحِ دل جلا دوں کیا 
سطر سطر ہے ان کی، کہکشاں خیالوں کی
کہکشاں لُٹا دوں کیا 
جو بھی حرف ہے ان کا ، نقشِ جانِ شیریں ہے
نقشِ جاں مٹا دوں کیا
ان کا جو بھی نقطہ ہے، ہے سوادِ بینائی
میں انہیں گنوا دوں کیا
لوحِ دل جلا دوں کیا
کہکشاں لُٹا دوں کیا 
نقشِ جاں مٹا دوں کیا

مجھ کو ایسے خط لکھ کر اپنی سوچ میں شاید
جرم کر گئی ہو تم
اور خیال آنے پر اس سے ڈر گئی ہو تم
جُرم کے تصور میں گر یہ خط لکھے تم نے
پھر تو میری رائے میں جُرم ہی کئے تم نے
اے مری فروزینہ! 
دل کی جانِ زرّینا!
رنگ رنگ رنگینا!
بات جو ہے وہ کیا ہے 
تم مجھے بتاؤ تو 
میں تمہیں نہیں سمجھا
تم سمجھ میں آؤ تو
جُرم کیوں کیےتم نے
خط ہی کیوں لکھے تم نے؟ 

جون ایلیا

علاوہ ازیں اختر شیرانی نے بھی اپنی یکے بعد دیگرے معشوقاؤں سے مخاطب ہونے کے لئے نظم یا مسلسل غزل کا ہی انتخاب کیا ہے جسے اردو شاعری جاننے والےجانتے ہیں۔ 

ویسے ہمارا یہ مطالبہ نہیں ہے کہ غزل کی تعریف کو بدل دیا جائے تاہم اس تعریف کو ترقی دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ 

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ دیوار پر لکھ دیا گیا ہے ۔ نوید صادق

غزل

دیوار پر لکھ دیا گیا ہے
یہ شہر، شکست آشنا ہے

تصویر میں جو دِکھا رہے ہو
کیا واقعی ایسا ہو چکا ہے

دنیا، گھر۔۔۔ مسئلے بہت ہیں
انسان پناہ مانگتا ہے

بس چار دِشائیں خالی کردو
جنگل نے مطالبہ کیا ہے

تم بھی شاید بھٹک گئے ہو
یہ اور کہیں کا راستہ ہے

کچھ رنگ کُھلے ہیں پیرہن کے
کچھ شام کی سیر کا نشہ ہے

بہتر ہے کہ ہم کہیں چلے جائیں
اس شہر میں یوں بھی اپنا کیا ہے

وہ شام، وہ ہم، وہ تم۔۔۔ زمانہ
دورانیہ مختصر رہا ہے

کچھ ٹھیک سے گفتگو نہیں کی
کچھ عجلت نے پھنسا دیا ہے

خاموش کیوں ہو نوید صادق؟
پھر کوئی کہیں چلا گیا ہے!

نوید صادق

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ اگر ناکامیِ دل پر کوئی الزام آجائے ۔ ادب دوست

غزل

اگر ناکامیِ دل پر کوئی الزام آجائے
میری خوئے ملامت کو ذرا آرام آجائے

جنوں زادوں کا صحرا سے اگر پیغام آجائے
لبِ دریا سے بھی واپس یہ تشنہ کام آجائے

سبھی کردار بوجھل ہو گئے میری کہانی کے
الہٰی جتنی جلدی ہو سکے انجام آجائے

مگر تم دیکھ لو ! حالت ہمارے جیسی ہوتی ہے
جب اپنی آئی پر یہ گردشِ ایام آجائے

کہ پھر تو داد دینی چائیے محرومیِ دل کی 
اگر مقتل سے بھی ، عاشق کوئی ناکام آجائے

گواہی آخری ہچکی پہ دے دوں ؟ تم نہیں قاتل
یہ جاں ویسے بھی جانی ہے ، کسی کے کام آجائے

ادب دوست

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ سات رنگوں کے شامیانے ہیں ۔ بشیر بدر

غزل 

سات رنگوں کے شامیانے ہیں
دل کے موسم بڑے سُہانے ہیں

کوئی تدبیر بھولنے کی نہیں
یاد آنے کے سو بہانے ہیں

دل کی بستی ابھی کہاں بدلی
یہ محلے بہت پرانے ہیں

حق ہمارا نہیں درختوں پر
یہ پرندوں کے آشیانے ہیں

علم و حکمت سیاست و مذہب
اپنے اپنے شراب خانے ہیں

دھوپ کا پیار خوبصورت ہے
آگ کے پھول بھی سُہانے ہیں

بشیر بدر