[ہفتہ ٴ غزل] ۔ تُو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گا ۔ افتخار امام صدیقی

آج کی معروف غزل 

تُو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گا
دور تک تنہائیوں کا سِلسلہ رہ جائے گا

درد کی ساری تہیں، اور سارے گزرے حادثے
سب دھواں ہو جائیں گے، اک واقعہ رہ جائے گا

یُوں بھی  ہو گا، وہ مجھے دل سے بُھلا دے گا مگر
یہ بھی ہو گا خود اُسی میں اِک خلا رہ جائے گا

دائرے اِنکار کے ، اِقرار کی سرگوشیاں
یہ اگر ٹوٹیں کبھی تو فاصلہ رہ جائے گا

افتخار امام صدیقی

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ ہر اک سیلِ بلا، ایک اک شناور سامنے ہے ۔ افتخار عارف

غزل 

ہر اک سیلِ بلا، ایک اک شناور سامنے ہے
کنارے ہوں مگر سارا سمندر سامنے ہے

اک آئینہ اور اتنے مسخ چہرے اور بہ یک وقت
بجھی جاتی ہیں آنکھیں اب وہ منظر سامنے ہے

نہیں معلوم اب اس خواب کی تعبیر کیا ہو
میں نرغے میں ہوں اور جلتا ہوا گھر سامنے ہے

سوالِ حرمتِ میزانِ بے توقیر کے بعد 
جو زیرِ آستیں تھا اب وہ خنجر سامنے ہے

ابھی جو اہتمامِ جشنِ فردا میں مگن تھی
وہی خلقِ خدا حیران و ششدر سامنے ہے

افتخار عارف


[ہفتہ ٴ غزل] ۔ گلِ خورشید کھلاؤں گا، چلا جاؤں گا ۔ اشرف جاوید

غزل 

گلِ خورشید کھلاؤں گا، چلا جاؤں گا
صبح سے ہاتھ ملاؤں گا، چلا جاؤں گا

اب تو چلنا ہے کسی اور ہی رفتار کے ساتھ!
جسم بستر پہ گراؤں گا، چلا جاؤں گا

آبلہ پائی ہے، رسوائی ہے، رات آئی ہے
دامن اک اک سے چھڑاؤں گا، چلا جاؤں گا

ہجر صدیوں کے تحیّر کی گِرہ کھولے گا
اک زمانے کو رُلاؤں گا، چلا جاؤں گا

بس! تجھے دیکھوں گا آتے ہوئے اپنی جانب
پھول قدموں میں بچھاؤں گا، چلا جاؤں گا

آسماں پھیل گیا دشتِ جنوں کی صورت
اب وہاں خاک اُڑاؤں گا، چلا جاؤں گا
عشق بھی حسن بھی ضم ہوتا دکھاؤں گا تجھے
جب دیا رقص میں لاؤں گا، چلا جاؤں گا

زندگی بھر کوئی حیرانی بسے گی اس میں 
گھر ترے دل میں بناؤں گا، چلا جاؤں گا

جس طرف بھول کے بھی دیکھا نہیں آج تلک
قدم اس سمت بڑھاؤں گا، چلا جاؤں گا

اشرف جاوید

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ کیا ملال اب کے دھریں سینۂ پُر خار کے پاس ۔ فاتح الدین بشیر

غزل

کیا ملال اب کے دھریں سینۂ پُر خار کے پاس
گُلِ آزار کھِلے خرمَنِ پِندار کے پاس

ایک ویرانی ہے تعمیرِ مسلسل کی اَساس
حسرتیں آن بَسیں مرقدِ مِعمار کے پاس

مَوت اَنگُشت بدنداں ہے یہ کس کا ہے نصیب
اُستُخواں دار پہ، سر زانُوئے دِلدار کے پاس

باس تھی جن میں بَدَن کی ترے، ہم آبلہ پا
رِہن رکھ آئے ہیں وہ سانس بھی گلزار کے پاس

اَصلِ آئینہ فقط ریگ مگر صُورت کَش
نُور کس آنکھ کا ہے دیدۂ زنگار کے پاس

عُذر طُرفہ سا ہے اک لغزشِ پیہم کا بشیرؔ
کار آموزیِ عصیاں کا، سیہ کار کے پاس

فاتح الدین بشیرؔ

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ معاصر غزل - مسئلہ کیا ہے؟ ۔ ڈاکٹر صلاح الدین درویش

معاصر غزل - مسئلہ کیا ہے؟
ڈاکٹر صلاح الدین درویش
[مستعار مضمون]

غزل کی شاعری کو یار لوگوں نے لڑکوں کا کھیل بنا کر رکھ دیا ہے۔ قافیہ پیمائی ضرور ارزاں ہے لیکن غزل کا شعر کیا محض موزوں الفاظ کی نشست سے بن جاتا ہے؟ ظاہر ہے کہ ایسی بات ہرگز نہیں ہے۔ غزل کا شعر بھلے اپنی بنت میں کسی علمی یا فکری گرہ کو نہ کھولتا ہو لیکن اس کے لیے یہ ضرور لازم ہے کہ اس میں جذبہ اور خیال کے عین درمیان ایک کڑی جسے دانش کہتے ہیں، وہ کڑی بھی موجود ہوتی ہے، یہ کڑی جذبہ اور خیال کی ہم آہنگی، افتراق یا تضاد کی مختلف صورتوں میں معنویت کی ایک ایسی جمالیاتی سطح پیدا کر دیتی ہے کہ جسے ہم جہانِ علم و جمال میں ’اضافہ‘ کہتے ہیں۔ ایسا شعر ہر خاص و عام میں پذیرائی حاصل کرنے میں ضرور کامیاب رہتا ہے۔ ایسا شعر جمالیاتی اعتبار سے ایک ایسے منظر یا منظرنامے کو ابھارتا ہے کہ جو قاری کے تحیّر کو مخمصے میں ڈال دیتا ہے۔ پورے منظر یا منظرنامے کا احاطہ قاری میں ایک اضطراب سا پیدا کر دیتا ہے۔وہ اپنی اس کیفیت سے لطف اندوز ہوتا ہے ۔ فکری سطح پر غزل کا اچھا شعر قاری کے وِژن میں جب اچانک یا دھیرے دھیرے سمونے لگتا ہے تو خود قاری کو اپنے فکری نظام کے سانچے میں اس شعر کو جذب کرنے میں کچھ تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ فکری اعتبار سے اچھا شعر قاری کے نظامِ فکر پر اکثر ٹوٹ پڑتاہے، وہ قاری کے لیے نجات یا رہائی کے سارے راستے مسدود کر دیتا ہے۔ شعر کی فکری اعتبار سے شعری منطق قاری کو ہیجان سے دوچار کر دیتی ہے، جب اس کے ذہن میں کہیں لفظ ’واہ‘ چمکتا ہے تو ایسے میں قاری اپنی فکر کے تمام ہتھیار پھینک دیتا ہے اور ایک شکست خوردہ سپاہی کی طرح فاتح کی عظمت کے سامنے اپنا سر جھکا دیتا ہے۔ بات یہ ہے کہ غزل کا اچھا شعر فکری اعتبار سے جہانِ علم کے مسلّمات، رسوم و رواج، عقائد ، روایات اور اقدار کو بڑی قوت اور جرأت کے ساتھ چیلنج کرتا ہے۔ میرؔ و غالبؔ و اقبالؔ کی فکری اعتبار سے جو ثروت مندی ہے اس کا تعلق جہانِ فکر کی نَو بہ نَو تعمیر و تشکیل سے ہے۔ ایسی شاعری جمالیاتی حوالوں سے بھی امکانات کی نئی صورتوں کو جنم دیتی ہے۔ مثلاً غالب ہی کا یہ شعر ملاحظہ ہو:

بوئے گل، نالۂ دل، دُودِ چراغِ محفل
جو تِری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا

مسئلہ یار لوگوں کا ہے کہ جنھوں نے غزل کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے۔ ان سے جب بھی کسی موضوع پر احتیاط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کوئی بات کی جاتی ہے تو ان کے چہروں پر ہوائیاں اُڑنے لگتی ہیں۔ اقدار، تہذیب، مذہب، معاشرت، زبان و ثقافت سے متعلق مباحث کے مخصوص دائروں سے جب بھی انھیں باہر لانے کی کوشش کی جاتی ہے تو طرزِ کہن پر پہلے پہل اتراتے ہیں اور پھر ایسے اَڑتے ہیں کہ زبان میں لکنت اور پھر منہ جھاگ سے بھرنے لگتا ہے۔ وہ کسی ایسی نادیدہ چیز کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں کہ جس کو سامنے لاتے ہوئے ان کا دل ڈوبنے لگتا ہے کہ جس کو ’بکواس‘ کہہ کر مخالف اپنا منہ دوسری طرف نہ پھیر لیں۔ ’’قشقہ کھینچا‘‘ یا ’’مَرے بُت خانے میں کعبے میں گاڑو برہمن کو‘‘ ان کے نزدیک شعری اعتبار سے فکر کا ایک علامتی یا استعاراتی اظہار نہیں ہوتا بلکہ ایک مذہبی مسئلہ ہوتا ہے۔ اب ایسے یاروں کی شعرفہمی پر سَر نہ دُھنا جائے تو کیا کِیا جائے !!

اچھا شعری ابلاغ طنز کے جوہر کو ہر دو سطح پر برقرار رکھتا ہے۔ لفظ کی سماجی قدر کے اعتبار سے بھی اور معنیٰ کی نئی دریافت کے اعتبار سے بھی۔صراطِ مستقیم پر چلنے والے انسان کے درجات دنیا و آخرت میں بہت بلند ہیں لیکن شاعر ہونا اپنے جوہر میں ایسے انسانوں کے لیے جھوٹا، مکار، فریبی، فسادی، جنونی اور خاص طور پر عقل کا اندھا ہوتا ہے۔ شاعر صراطِ مستقیم کو ٹھٹھہ اُڑاتا ہے اور ایک ایسے راستے پر چلنے میں زیادہ عافیت محسوس کرتا ہے کہ جہاں قدم قدم پر خار ہوں، رسوائی ہو، ذلت ہو، رکاوٹیں ہوں، دشنام ہو، بے راہ روی اور گمراہی کے عمیق غار ہوں۔ یہ ایک اور طرح سے زندگی بسر کرنے کا حوصلہ ہے۔ ایک خاص طرح کی بے نیازی اور فارغ البالی ہے۔ ایسا شاعر ترکِ رسوم کی بات اس لیے نہیں کرتا کہ وہ ان رسوم کو نسل انسانی کی بقا کے لیے مہلک تصور کرتا ہے بلکہ وہ اپنے لیے ایک اور طرح کی فکر کی نمو چاہتا ہے کہ جس کے انجام سے خود شاعر کو بھی کوئی خاص پروا نہیں ہوتی۔ ایک جارح تلوارباز کے پاس شمشیرزنی کا فن نہ ہو تو خود اس کا اشتعال جارح کی گردن کو دشمن کی تلوار کی دھار کے نیچے پٹخ دیتا ہے۔ غزل کے دو مصرعوں میں شاعر کی جارحیت جس فن کا تقاضا کرتی ہے اس کے اسرارو رموز کے سرچشمے علوم و افکار کے ہمہ جہت شعبوں سے پھوٹتے ہیں۔ تب کہیں جا کر غزل کا کوئی شعر سر اٹھانے کے قابل ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے شاعر دوست کسی یک طرفہ عشق کی چوٹ، زندگی سے مایوسی اور خودمکتفی بے زاری اور اجنبیت کے غلبے سے معمور ہو کر ایک ذرا خیالوںمیں گھومتے ہیں، قلم اٹھائی، لو جی مصرعِ تر کاغذ کو بھگونے لگا۔ یہ انتہائی سطحی اور نجی سطح کی مصنوعی واردات ہوتی ہے کہ جس کے سیاق و سباق میں خود شاعر کی جہالت اور بے خبری کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ چنانچہ احباب خاموش رہتے ہیں یا دبی سی مسکراہٹ کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں۔ لیکن شاعر کم بخت کا کیا کِیا جائے کہ وہ خاموشی اور استہزا آمیز مسکراہٹ کو نیم رضامندی سمجھ کر اِترائے پھرتا ہے۔

غزل اپنی کرافٹ کی تکمیل میں فلسفی کا دماغ مانگتی ہے جو انتہائی شاطر، زیرک اور بیشتر مہلک ہوتا ہے۔ زیرکی اور عیاری کا یہ فن انفس و آفاق کے گہرے مطالعے اور مشاہدے کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ شاعر سیاسی و معاشرتی زندگی یا حسن و عشق کے معاملے کو محض تہذیبی اور تاریخی تناظرات میں نہیں دیکھتا بلکہ ان کے نتائج کو بھی مرتب کرتا ہے۔ اکثر یہ نتائج ایسے ہوتے ہیں کہ جو غزل کے شعر میں وارد ہو کر نقد و بحث کو ہَوا دیتے ہیں۔ ایسا شعر فکری، لسانی اور جمالیاتی سطح پر فنون میں موجود جمود کی مختلف صورتوں کو توڑ دیتا ہے۔غزل کا ایسا شعر یاسیت سے کوسوں دُور ہوتا ہے۔ مایوسی اور بے زاری کی مختلف مریضانہ جہتوں کا ظہور غزل میں اس لیے ہوتا ہے کیونکہ شاعر کے پاس کسی معاملے پر غوروفکر کرنے کے لیے دیگر متبادل صورتوں، افکار اور نظریات کا کوئی شعور نہیں ہوتا۔ غزل کے ایسے تمام شاعر دراصل صراطِ مستقیم پر چلنے والے ہوتے ہیں۔ زندگی کے جس اسلوب یا ڈھب کواپنے لیے سہل سمجھتے ہیں، جب اس میں کوئی نیا موڑ آجاتا ہے تو خندہ پیشانی سے اس کا سامنا کرنے کی بجائے اپنے محبوب، دوست، دشمن، قوم یا قبیلے سے ان آفاقی اقدار کی نمائش کی توقع رکھتے ہیں کہ جو عصری معاملات کی تفہیم میں ایک کوڑی کی حیثیت نہیں رکھتیں۔ یاروں نے غزل میں موجود جس شکست اور ملال کو اپنی شخصی زندگی کا مقدر سمجھ رکھا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ جس گلی، کوچے، محبوب، معاشرت یا قوم سے انھوں نے وفا کی امیدباندھ رکھی تھی وہ سب لفظ ’وفا‘ سے ناآشنا تھے۔ انھیں اپنے معاملات میں مریضانہ وفا سے زیادہ کاروبارِ حیات عزیز تھا۔ کاروبارِ حیات کو مذاق سمجھنے والا غزل کا نام نہاد مجذوب شاعر عشق کے حوالے سے کسی ذوقِ سلیم کی نشوونما سے محروم رہے، ضروری ہے۔

غزل کا بُرے سے بُرا شعر بھی منطقی استدلال ضرور رکھتا ہے۔ بات معاملے کی ہے۔ محبوب جدا ہو گیا، شاعر دھاڑیں مار مار روتا آہیں بھرتا ہے، محبوب کی یاد آتی ہے تو دل کی کلی کھِل اُٹھی، کانٹوں بھرا راستہ ہے تو پائوں زخمی ہو گئے، کسی نے جان مانگی سر دے دیا، کوئی چوٹ لگی درد سے بلبلا اُٹھے، قوم گمراہ ہوئی درسِ عبرت دے ڈالا، حکمران بددیانت ہوئے تو ایمانداری کے فوائد بتا دیے، رات ہوئی تو چاند ہے، دن چڑھا تو سورج لپکا۔ ہماری غزل کے کلاسیکی ورثے میں مذکورہ استدلال کی مختلف صورتوں نے کیسے کیسے رنگ جمائے کہ دل آج بھی واہ واہ کر اٹھتا ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر اگر آج کا یا ماضی قریب کا کوئی شاعر ایسے استدلالی نظامِ فکر کو شعر میں بروئے کار لانے کی کوشش کرتا ہے تو اُبکائی سی آنے لگتی ہے۔ قاری زیرِلب بڑبڑانے لگتا ہے کہ یا کیا بکواس ہے۔ اس کی شاید وجہ یہ ہو کہ غزل کا قاری شاعر سے کہیں زیادہ معاملات کا تجربہ رکھتا ہے اور استدلال کی متبادل صورتوں سے بھی آگاہ ہوتا ہے۔ اب ایسے زیرک قاری کو منطق کے معروف استدلال سے قابو میں نہیں کیا جا سکتا، اسے شعر میں آنے والے گھِسے پٹے استدلال سے کوئی رغبت نہیں ہو پاتی۔ چنانچہ شاعر، مجموعے اپنی جیب سے چھاپتا ہے، یاروں میں مفت تقسیم کرتا ہے اور یار کسی فٹ پاتھ پر بنی غیرقانونی دکان میں اس مجموعے کے ساتھ بیس تیس مزید مجموعوں کو بھی ردی کے بھائو بیچ آتا ہے۔ یقینا ایسے منطقی استدلال کی قیمت اتنی ہی ہوتی ہے۔ اب غزل کا اچھا شاعر وہی قرار پائے گا جو بے خبری میں مرنے کی بجائے خودآگہی کی زندگی اختیار کرنے کو ترجیح دے گا، وہ دوسروں کے فیصلے اور قوتِ اختیار پر نہ بھیگی بِلّی بنے گا اور نہ قربانی کا بکرا۔ وہ محبوب کی جدائی کا سبب خود اپنے ذہن، شخصیت، کردار اور نفسیاتی الجھنوں میں تلاش کرے گا، محبوب کی یاد میں دل کی کلی کو کھِلانے کی بجائے صحبتِ یار اور لطفِ قرب کے اسباب و دلائل ڈھونڈے گا، کانٹوں بھرے راستے کو خود اپنا انتخاب سمجھے گا، جان مانگنے والے کی حتمیت پسند رعونت آمیز بیانیے پر سوالات وارد کرے گا، چوٹ لگے گی تو اپنی بے بسی، بے خبری اور حماقت پر مسکرائے گا، قوم کی گمراہی کو اس کے اعمال کی نسبت معقول اور درست جانے گا، حکمرانوں کی بددیانتی کو خود اپنے ایمان کی رمق سے ناپے گا، رات میں چراغ روشن کرے گا اور دن میں سورج کی شعاعوں کو گرفتار کرے گا۔

غزل کہنے والے یار دوستوں کو یہ بات سمجھانا نہایت مشکل ہے کہ جسے خود تم غزل کا اچھا شعر کہتے ہو، وہ اپنے اندر ایک بھرپور علمی سرگرمی بھی رکھتا ہے۔ یہ سرگرمی شعر کے فن میں رونق پیدا کر دیتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ غزل کا اچھا شعر طبیعت کو بشاش کر دیتا ہے، قلب و ذہن کی گرانی کو فی الفور ختم کر دیتا ہے۔ قاری کی ایسی ذہنی حالت کا سبب دانش یا دانش مندی کے کسی پہلو میں اضافہ ہوتا ہے۔ میرؔ سے لے کر ناصرکاظمی تک ہمارے تمام بڑے شعرا ایک بڑی تہذیبی زندگی کے شارح اور ناقد بھی تھے لیکن تمھارے پاس تو سکولوں کالجوں کی درسی کتابوں کا تجزیاتی مطالعہ بھی نہیں ہے۔ تم نے اپنی معاشرت میں جو کچھ بھی جانا اور سیکھا تم اس کے معروضات اور مضمرات سے آگاہی کو وقت کا زیاں سمجھتے ہو، تم ایک حاکم اور جرنیل بننے کی بجائے ایک غلام اور سلیوٹ مار سپاہی بننا چاہتے ہو تو کوئی نطشے تمھیں ذلت سے نکالنے کا کوئی نسخۂ کیمیا مفت میں ہرگزنہیں تھمائے گا۔ لگے رہو مُناّ بھائی۔ لیکن اس بات سے یہ مرادہرگز نہیں ہے کہ اگر کوئی شاعر صاحبِ مطالعہ و مشاہدہ و بصیرت ہو گا یا بڑی تہذیبی زندگی کا شعور رکھتا ہو گا وہ لازماً بڑا شاعر بھی ہو گا۔ بات شاعر کی نہیں غزل کی بڑی شاعری کی ہے کہ جسے اپنی معنویت کی توسیع کے لیے فلسفیانہ بصیرت، تہذیب سے آگاہی، علوم کی مختلف شاخوں، شعبوں اور افکار و نظریات کے متبادل نظاموں اور تحریکوں سے کافی قدر راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

بشکریہ ادبی دنیا

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ اب نہ بہل سکے گا دل اب نہ دیے جلائیے ۔ احمد مشتاقؔ

غزل 

اب نہ بہل سکے گا دل اب نہ دیے جلائیے
عشق و ہوس ہیں سب فریب آپ سے کیا چھپائیے

اس نے کہا کہ یاد ہیں رنگ طلوع عشق کے
میں نے کہا کہ چھوڑیئے اب انہیں بھول جائیے

کیسے نفیس تھے مکاں ،صاف تھا کتنا آسماں
میں نے کہا کہ وہ سماں آج کہاں سے لائیے

کچھ تو سراغ مل سکے موسم درد ہجر کا
سنگ جمال یار پر نقش کوئی بنائیے

کوئی شرر نہیں بچا پچھلے برس کی راکھ میں
ہم نفسان شعلہ خو آگ نئی جلائیے

احمد مشتاق

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ عرصۂ خواب کے پردے میں چھپا لگتا ہے . محمد بلال اعظم

غزل

عرصۂ خواب کے پردے میں چھپا لگتا ہے
وقت درویش کے حجرے کا دیا لگتا ہے

میری ہر بات مکمل ہے ترے ہونے سے
تیرا ہر لفظ مجھے مثلِ ثنا لگتا ہے

یہ زمانہ تو نہیں میرے لئے ربِ سحر!
اِس زمانے میں تو ہر شخص خدا لگتا ہے

اس قدر تیز ہوئی تیز ہوئی عمرِ رواں
اے خدا! وقت مجھے ٹھہرا ہوا لگتا ہے

ہاں محبت ہے، مگر مجھ کو انا بھی ہے عزیز
تجھ کو جانا ہے تو جا، تُو مرا کیا لگتا ہے

شاید اک اور بھی دنیا ہے مرے پہلو میں
مجھے کچھ کچھ یہ جہاں سمٹا ہوا لگتا ہے

اک ہیولیٰ ہے کہ رہتا ہے ہر اک پل مرے ساتھ
ایک منظر ہے، مجھے خود سے جدا لگتا ہے

محمد بلال اعظم

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ نام اُسی کا نام سویرے شام لکھا ۔ بشیر بدر

غزل

نام اُسی کا نام سویرے شام لکھا
شعر لکھا یا خط اُس کو گمنام لکھا

اُس د ن پہلا پھول کھلا جب پت جھڑ نے
پتّی پتّی جوڑ کے تیرا نا لکھا

اُس بچے کی کاپی اکثر پڑھتا ہوں
سورج کے ماتھے پر جس نے شام لکھا

کیسے دونوں وقت گلے ملتے ہیں روز
یہ منظر میں نے دشمن کے نام لکھا

سات زمینیں ایک ستارہ، نیا نیا
صدیوں بعد غزل نے کوئی نام لکھا

میرؔ ، کبیرؔ، بشیرؔ اسی مکتب کے ہیں
آ، دل کے مکتب میں اپنا نام لکھا

بشیر بدر

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ کچھ دن تو بسو مِری آنکھوں میں ۔ عبید اللہ علیم

آج کی معروف غزل

کچھ دن تو بسو مِری آنکھوں میں
پھر خواب اگر ہو جاؤ تو کیا

کوئی رنگ تو دو مِرے چہرے کو
پھر زخم اگر مہکاؤ تو کیا

جب ہم ہی نہ مہکے پھر صاحب
تم بادِ صبا کہلاؤ تو کیا

اِک آئینہ تھا سو ٹوٹ گیا
اب خود سے اگر  شرماؤ تو کیا

تم آس بندھانے والے تھے
اب تم بھی ہمیں ٹھکراؤ تو کیا

دنیا بھی وہی اور تم بھی وہی
پھر تم سے آس لگاؤ تو کیا

میں تنہا تھا میں تنہا ہوں
تم آؤ تو کیا نہ آؤ تو کیا

جب دیکھنے والا کوئی نہیں
بجھ جاؤ تو کیا گہناؤ تو کیا

اِک وہم ہے یہ دُنیا اس  میں
کچھ کھوؤ تو کیا اور پاؤ تو کیا

ہے یوں بھی زیاں اور یوں بھی زیاں
جی جاؤ تو کیا مر جاؤ تو کیا

عبید اللہ علیم

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ ہم جو محفل میں تری سینہ فگار آتے ہیں ۔ سردار جعفری

غزل 

ہم جو محفل میں تری سینہ فگار آتے ہیں
رنگ بردوش، گلستاں بہ کنار آتے ہیں

چاک دل، چاک جگر، چاک گریباں والے
مثلِ گُل آتے ہیں، مانندِ بہار آتے ہیں

کوئی معشوق سزاوارِ غزل  ہے شاید
ہم غزل لے کے سوئے شہرِ نگار آتے ہیں

کیا وہاں کوئی دل و جاں کا طلب گار نہیں
جا کے ہم کوچہ ٴ قاتل میں پکار آتے ہیں

قافلے شوق کے رُکتے نہیں دیواروں سے 
سینکڑوں محبس  و زنداں کے دیار آتے ہیں

منزلیں دوڑ کے روہرو کے قدم لیتی ہیں
بوسہ ٴ پا کے لئے رہ گزار آتے ہیں

خود کبھی موج و تلاطم سے نہ نکلے باہر
پار جو سارے زمانے کو اتار آتے ہیں

کم ہو کیوں ابروئے قاتل  کی کمانوں کا کھنچاؤ
جب سرِ تیرِ ستم آپ شکار آتے ہیں

سردار جعفری

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ تصویر ہے یا کوئی پری ہے ۔ احمد صغیر صدیقی

غزل 

تصویر ہے یا کوئی پری ہے 
کیا سلسلہ ٴ خوش نظری ہے

ہونٹوں پہ ہیں کچھ برف زدہ لفظ 
سینے میں عجب آگ بھری ہے

کچھ بھی نہیں یہ نیند یہ بستر
جو کچھ بھی سب خواب گری ہے

جینے کے لئے پاس ہمارے 
تقدیر ہے اور رنج وری ہے

دل ہے تو بہت درد کے امکاں
سر ہے تو بہت دردِ سری ہے

انجامِ سفر ایک تھکن بس
رودادِ خبر بے خبری ہے

مل جائے تو کچھ بھی نہیں دنیا
کھو جائے تو جادو نگری ہے

احمد صغیر صدیقی

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ تیرگی سرِ مژگاں جگنوؤں کی آسانی ۔ م م مغل

غزل

تیرگی سرِ مژگاں جگنوؤں کی آسانی
مشکلوں سے ملتی ہے مشکلوں کی آسانی

انتظار کی شب میں صبح جاگ اٹھی ہے
شام سے خفا سی ہے دستکوں کی آسانی

ہر نفس سلگتی ہے چہرگی کو روتی ہے
آئنوں کے جنگل میں حیرتوں کی آسانی

دل سراب زار ایسا عشق میں نہیں ہوتا
تشنگی سلامت اور بارشوں کی آسانی

وصل ایک اندیشہ بُن رہا ہے مدت سے
ہجر میں یقیں کا دکھ واہموں کی آسانی

دھڑکنیں ملامت سی سانس تازیانہ سی
ایسے میں غنیمت ہے آنسوؤں کی آسانی

مطمعن نہ ہوجانا یہ سخن کا صحرا ہے
اس میں کم ہی ملتی ہے آہوؤں کی آسانی

شعر گوئی بھی محمود یار سے عبارت ہے
گر تجھے میسر ہو رتجگوں کی آسانی

محمد محمود مغل

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ تعریف غزل کی

تعریف غزل کی
محمد احمدؔ

وکیپیڈیا کے مطابق غزل کے لغوی معنی ہیں"عورتوں سے باتیں کرنا" یا "عورتوں کی باتیں کرنا"۔ تاہم اس تعریف میں لفظ "یا" بہت اہم ہے ورنہ اگر آپ کسی خاتون سے دیگر خواتین کی باتیں کرنا شروع کردیں تو غزل کہیں پیچھے رہ جائے گی اور باقی ماندہ شعراء آپ کا مرثیہ لکھ رہے ہوں گے۔


رہاغزل میں "عورتوں سے باتیں کرنا " تو سب سے پہلے تو اس میں لفظ 'عورتوں' محلِ نظر ہے۔ اب نہ تو شاعر کوئی خطیب ہے اور نہ ہی غزل کوئی خطاب کے پنڈال میں عورتوں کو بٹھا کر وعظ و نصیحت شروع کرنے کی کوشش کی جائے۔ کوشش ہی ہو سکتی ہے ممکنات کی سرحدیں تو ابھی اتنی وسیع نہیں ہوئی ہیں۔ سو ہمارا خیال ہے کہ اس جمع لفظ کو واحد سے تبدیل کر لیا جائے اور عورتوں سے باتیں کرنے کے بجائے کسی خاتون سے مخاطب ہونے کو فی الوقت غزل سمجھا جائے۔ یعنی عورت سے باتیں کرنا۔

غزل کی تعریف کی اب جو صورت نکلی ہے ہمیں اُس میں بھی کچھ اشکال ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ اگر خاتون موجود ہیں تو اُن سے باتیں محاورتاً تو کی جا سکتی ہیں لیکن دراصل ان سے باتیں کرنے کا مطلب اُن کی باتیں سننا ہے ۔ ہمیں کامل یقین ہے کہ آپ کسی خاتون کی موجودگی میں بولنے کا وقت ہرگز نہیں نکال پائیں گے۔ سو حاضر خاتون سے باتیں کرنا ممکن نہیں تو غزل کہنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔

رہ گئی غزل کی باقی ماندہ تعریف ، تو اس سے گمان ہوتا ہے کہ غزل دراصل کسی خاتون سے اُس کے غیاب میں باتیں کرنا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شعراء کو تو لوگ پہلے ہی مخبوط الحواس سمجھتے ہیں اگر وہ اکیلے بیٹھ کر غزل کہیں یعنی کسی ناری سے ہمکلام ہوں تو بہت سے لوگوں کو اُن کی دماغی حالت پر جو شکوک ہوا کرتے ہیں وہ فی الفور یقین میں بدل سکتے ہیں۔ اس مشکل کا حل شاعر نے ایک مفروضے کی صورت میں نکالا۔ وہ مفروضہ کچھ یوں ہے۔

تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

یعنی جب کوئی ہماری دماغی حالت پر شک کرنے والا نہ ہو تو آپ ہمارے پاس فرض کیے جائیں گے وہ بھی ایک سامع کی حیثیت سے مقرر کی حیثیت سے نہیں ! اور پھر ہوگی غزل۔

اقبال نے کہا تھا کہ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا ۔ عین ممکن ہے کہ اس دیدہ وری سے اُن کی مراد غزل گوئی ہی رہی ہو۔ یعنی غزل کا ہونا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے تاہم جوئے شیر لانے کے مقابلے میں بہرحال آسان ہے جب ہی تو شعراء کدال اُٹھا نے کے بجائے شاعری کرکے فرہاد میاں سے مقابلے کیا کرتے ہیں اور اپنے تئیں جیت بھی جاتے ہیں۔ فرہاد نے تو یوں بھی آخر کار چاروں شانے اور آٹھوں گانٹھ چِت ہی ہونا ہوتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کے دور میں کچھ خواتین زود گوئی کے ساتھ ساتھ غزل گوئی بھی کرتی نظر آتی ہیں۔ تاہم ہمارا نہیں خیال کے یہ شاعرات عورتوں سے باتیں کرنے کے لئے غزل کہتی ہوں گی بلکہ اس کام کے لئے اُنہیں ہجو کی ضرورت پڑتی ہوگئی۔ غزل یہاں غالباً کسی اور مصرف میں آتی ہوگی ۔ تاہم غزل کی تعریف گھڑنے والوں کو اتنی جلدی تھی کہ اُنہوں نے غزل کی تعریف میں خواتین شعراء کی غزل گوئی کا انتظار ہی نہیں کیا اور خشتِ اول کج رکھ کر ہر دوسری خشت کو اُسی تناسب سے کج رکھتے گئے نتیجتاً دیوار ثریّا تک جانے کے بجائے ثریّا دیوار کی زد میں آگئی۔ موخر الذکر ثریّا پر کسی شاعرہ کا گمان کر نا آپ کی صوابدید پر ہے۔

بہرکیف :

آمدم برسرِ تعریف ِ غزل

بات چل نکلی ہے سو چل سو چل

غزل کی تعریف میں مزید یہ بات بھی ملتی ہے کہ یہ وارداتِ عشق کی مختلف کیفیات کا بیان ہوتا ہے۔ اگر وارداتِ عشق کی اصطلاح میں واردات کا لفظ شامل نہ ہوتا تو عین ممکن تھا کہ ہم اسے کسی کہنہ زمانے کی کوئی متروک اصطلاح سمجھتے ۔ لیکن واردات کی نا صرف اصطلاح بلکہ واردات باذاتِ خود آج کے دور میں کافی ان فیشن چیز ہے اور اس سے رو گردانی زمینی حقائق کو بہ یک جنبشِ سر نظر انداز کرنے کے مترادف ہو گی۔

غزل کی تعریف میں وکیپیڈیا مزید رقم طراز ہے کہ " غزل اس آواز کو بھی کہا جاتا ہے جو ہرن کے گلے سے اس وقت نکلتی ہے جب وہ شیر کے خوف سے بھاگ رہی ہوتی ہے۔" ویسے اگر ایسا ہے بھی تو ہمیں اس تعریف کی ہماری مروجہ غزل سے کوئی نسبت نظر نہیں آتی۔ ہاں البتہ غزل اُس آواز کو ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جو ایک شاعر دوسرے شاعر کے پیچھے بھاگتے ہوئے نکالتا ہے اور دوسرا شاعر وہ آواز ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتا ہے اور منہ سے تحسین کے الفاظ نکالنا اپنی شان کے خلاف سمجھتا ہے۔

بہر کیف غزل کی یہ سب تعریفیں تو وہ لوگ کرتے ہیں جو دوسروں کی غزل کی تعریف کرنے سے جی چراتے ہیں۔ حالانکہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ غزل اچھی لگے تو اُس کی تعریف کر دی جائے اور نہ لگے تو پھر یہ دیکھا جائے کہ غزل کس کی ہے۔ اگر غزل کے آگے پیچھے کسی بڑے شاعر کا نام نظر آئے تو غزل کی طرف سے آنکھ بند کرکے تعریف کر دینی چاہیے۔ ہاں اگر غزل کسی معاصر شاعر کی ہے تو اُس کی تعریف اُس انداز سے کی جائے کے شاعر بے چارہ تین دن تک سوچتا رہے کہ یہ تعریف ہی تھی یا کچھ اور۔

ویسے اگر آپ واقعی غزل کی تعریف پڑھنے میں سنجیدہ ہیں تو یہاں سے پڑھ سکتے ہیں۔

ہماری رائے میں غزل کی تعریف توجہ چاہتی ہے سو اس پر مزید بات کرتے ہیں ایک آدھ دن میں۔  :)

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ زمیں پہ چل نہ سکا آسمان سے بھی گیا ۔ شاہد کبیر

غزل

زمیں پہ چل نہ سکا آسمان سے بھی گیا
کٹا کے پر کو پرندہ اُڑان سے بھی گیا

تباہ کر گئی پکے مکان کی خواہش
میں اپنے گاؤں کے کچے مکان سے بھی گیا

پرائی آگ میں جل کر بھی  کیا ملا تجھ کو
اُسے بچا نہ سکا  اپنی جان سے بھی گیا

بُھلا دیا تو بُھلانے کی انتہا کردی
وہ شخص اب مرے وہم و گمان سے بھی گیا

کسی کے ہاتھ کا نکلا ہوا وہ تیر ہوں میں
حدف کو چھو نہ سکا اور کمان سے بھی گیا

شاہد  کبیر

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ اک ہوا تھی جس میں سب بہتے رہے ۔ سہیل احمد زیدی

غزل 

اِک ہوا تھی جس میں سب بہتے رہے
اور اُسے اپنی سمجھ کہتے رہے

اس توقع پر کہ دن پھر جائیں گے
رات کے جور و ستم سہتے  رہے

لوگ شاہوں سے تقرب کے لئے
کربلا کی داستاں کہتے رہے

زلزلوں کے قہر سے محفوظ تھے
ہم کہ اپنے آپ میں رہتے رہے

اِک نگاہِ لطف کے محتاج تھے
ویسے ہم خود کو غنی کہتے رہے

شیخ زیدی طنطنے کے باوجود
وقت کے سیلاب میں بہتے رہے

سہیل احمد زیدی


[ہفتہ ٴ غزل] ۔ نعتِ رسول مقبول ﷺ

نعتِ رسول مقبول ﷺ

اپنے آقاؐ کے مدینے کی طرف دیکھتے ہیں
دِل اُلجھتا ہے تو سینے کی طرف دیکھتے ہیں

اب یہ دنیا جسے چاہے اُسے دیکھے سَرِ سیل
ہم تو بس ایک سفینے کی طرف دیکھتے ہیں

عہدِ آسودگیِ جاں ہو کہ دورِ ادبار
اُسی رحمت کے خزینے کی طرف دیکھتے ہیں

وہ جو پَل بھر میں سرِ عرشِ بریں کُھلتا ہے
بس اُسی نور کے زینے کی طرف دیکھتے ہیں

بہرِ تصدیقِ سند نامہ ٴ نسبت، عُشّاق
مُہرِ خاتم کے نگینے کی طرف دیکھتے ہیں

دیکھنے والوں نے دیکھے ہیں وہ آشفتہ مزاج
جو حرم سے بھی مدینے کی طرف دیکھتے ہیں

افتخار عارف



[ہفتہ ٴ غزل] ۔ حمدِ جنابِ باری

حمدِ جنابِ باری

حجابِ شب میں تب و تابِ خواب رکھتا ہے
درون ِخواب ہزار آفتاب رکھتا ہے

کبھی خزاں میں کھلاتا ہے رنگ رنگ کے پھول
کبھی بہار کو بے رنگ و آب رکھتا ہے

کبھی زمین کا منصب بلند کرتا ہے
کبھی اِسی پہ بِنائے عذاب رکھتا ہے

کبھی یہ کہتا ہے سورج ہے روشنی پہ گواہ
کبھی اِسی پہ دلیلِ حجاب رکھتا ہے

کبھی فغاں کی طرح رائیگاں اثاثہ ٴ حرف
کبھی دُعا کی طرح مُستجاب رکھتا ہے

کبھی برستے ہوئے بادلوں میں پیاس ہی پیاس
کبھی سراب میں تاثیرِ آب رکھتا ہے

بشارتوں کی زمینیں جب آگ اُگلتی ہیں
اِس آگ ہی میں گُلِ انقلاب رکھتا ہے

میں جب بھی صبح کا انکار کرنے لگتا ہوں
تو کوئی دل میں مرے آفتاب رکھتا ہے

سوال اُٹھانے کی توفیق بھی اُسی کی عطا
سوال ہی میں جو سارے جواب رکھتا ہے

میں صابروں کے قبیلے سے ہوں  مگر میرا رب
وہ مُحتسب ہے کہ سارے حساب رکھتا ہے

افتخار عارف

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ تعارف

ہفتہ ٴ غزل

ہمیں نہیں معلوم کہ ہمیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہونی چاہیے کہ نہیں تاہم امرِ واقعہ یہ ہے کہ ہم رعنائیِ خیال پر ایک عدد ہفتہ، غزل کے نام کرنا چاہتے ہیں۔ ایک ہفتہ خالصتاً اردو غزل کے نام۔

اس ہفتہ ٴ غزل میں ہم ایک ہفتے تک یعنی یکم جنوری سے سات جنوری تک روزانہ منتخب کلام پیش کریں گے اور ساتھ میں کچھ ہلکے پھلکے مضامین بھی۔ چند منتخب غزلیات کے ساتھ روز ایک معروف غزل بھی پیش کی جائے گی۔ یوں تو معروف غزل کی تعریف ممکن نہیں ہے تاہم ہم نے زیادہ تر وہ غزلیں چنی ہیں کہ جنہیں گایا بھی گیا ہے اور اُنہیں عوام و خواص میں قبولِ عام نصیب ہوا ہے۔

انتخاب:

ہفتہ ٴ غزل میں پیش کی جانے والی غزلیات ہمارا اپنا انتخاب ہیں یعنی جو غزلیات ہمیں اچھی لگی ہم نے اُنہیں چن لیا۔ پہلے ہماری زیادہ تر کوشش یہ تھی کہ یہاں ایسا کلام پیش کیا جائے جو انٹرنیٹ کی دنیا میں موجود نہ ہو اور اسی لئے زیادہ تر کلام ہم نے خود ٹائپ کیا۔ تاہم ہم نے اس کام میں اتنا وقت لگا دیا کہ اس میں سے بھی بہت سا کلام اب انٹرنیٹ پر شامل ہو چکا ہے۔ بہرکیف چونکہ ہم نے یہ کلام ہفتہ ٴ غزل کے لئے منتخب کیا ہے سو ہم نے کچھ چیزیں ایسی بھی شامل کر دی ہیں جو انٹرنیٹ پر موجود تو ہیں لیکن کونوں کھدروں میں پڑی ہیں۔

زمانہ:

اگر زمانے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو پیش کی جانے والی غزلیات نہ تو بالکل جدید ہیں اور نہ ہی قدیم یعنی یوں سمجھیے کہ روزِ حاضر سے دس پندرہ سال ادھر اُدھر کا زمان ہوگا جہاں سے یہ غزلیات اخذ کی گئی ہیں اور کچھ شاید اس کلیے سے بھی ماورا ء ہوں۔

ترتیب:

ہفتہ ٴ غزل میں غزلیات نہ تو حروفِ تہجی کے اعتبار سے پیش کی جائیں گی اور نہ ہی شعراء میں تقدیم و تاخیر کا خیال رکھا جائے گا بلکہ ہماری خواہش ہے کہ مختلف رنگوں کے پھولوں سے ایک گلدستہ سا بنا کر روز پیش کیا جائے کہ جس میں رنگ ہا رنگ گلوں کی موجودگی ایک حسین امتزاج کی مانند محسوس ہو۔ اور ہر طرح کے شائقین ِ غزل کے تشفی کا سامان ہو سکے۔

رسائی :

اگر آپ اس ہفتہ ٴ غزل میں دلچسپی رکھتے ہیں تو اپڈیٹ رہنے کے لئے یا تو آپ کو گاہے گاہے رعنائیِ خیال کا دورہ کرنا ہوگا یا پھر آپ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ سائیڈ بار کے آخر میں دیے گئے"سبسکرپشن بذریعہ ای میل" کے خانے میں اپنی ای میل درج کر دیجے۔ نئی پوسٹس کی اطلاع آپ تک بذریعہ ای میل پہنچ جائے گی۔

آپ کی آراء:

اگر آپ ہفتہ ٴ غزل پر یا اس میں شامل کردہ کلام یا مضامین پر اپنی اچھی یا بری رائے دیں گے تو ہمیں خوشی ہوگی۔ آپ چاہیں تو اپنا تبصرہ ہر پوسٹ کے آخر میں درج کر سکتے ہیں ۔ مزید براں اگر آپ کسی اور ذریعے سے اپنا تبصرہ ہم تک پہنچانا جانتے ہیں تو یہ آپ کی صوابدید پر ہے۔

اغراض و مقاصد:

اس ہفتہ ٴ غزل سے ہمیں کوئی مالی منفعت ہر گز درکار نہیں ہے اور نہ ہی ہم اس سے کسی اور قسم کے فوائد اُٹھانے کے خواہاں ہیں تاہم اپنی اور باذوق قارئین کے ذوق کی تسکین اگر ایک پوسٹ سے بھی ہوتی ہے تو یہ ہمارے لئے باعثِ مسرت ہوگا۔

خیر اندیش

محمد احمدؔ

ستارے مُڑ کے بہت دیکھتے ہیں، کیا ہوا تھا

غزل 

ستارے مُڑ کے بہت دیکھتے ہیں، کیا ہوا تھا
کہ دل، یہ پھول ہمیشہ سے کب کِھلا ہوا تھا

کسی غزال کا نام و نشان پوچھنا ہے
تو پوچھیے، میں اُسی دشت میں بڑا ہوا تھا

کمال ہے کہ مِرے ساتھ ساتھ رہتے ہوئے
وہ شخص جیسے کہیں اور بھی گیا ہوا تھا

ہنسی خوشی سبھی رہنے لگے، مگر کب تک
میں پوچھتا ہوں کہانی کے بعد کیا ہوا تھا

پھر ایک دن مجھے اپنی کتاب یاد آئی 
تو وہ چراغ وہیں تھا، مگر بجھا ہوا تھا

خوشی سے اُس کو سہارا نہیں دیا میں نے
مگر وہ سب سے اکیلا تھا، ڈوبتا ہوا تھا

کہ جیسے آنکھ جہانِ دگر میں وا ہوگی
بتا رہے ہیں کہ میں اِس قدر تھکا ہوا تھا

ادریس بابر

بشکریہ : فلک شیربھائی

مژگاں تو کھول

مژگاں تو کھول
محمد احمدؔ​

اگر آپ تاریخ سے دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ نے کئی ایک جگہ سنا اور پڑھا ہوگا کہ سنہ سترہ سو فلاں فلاں میں فلاں صاحب کی ولولہ انگیز تقریر سے قوم میں بیداری کے لہر دوڑ گئی ۔ اور پھر 60 سال بعد فلاں فلاں واقعے کے ظہور پذیر ہونے سے ملت جاگ اُٹھی ۔ اور پھر 90 سال بعد فلاں سانحے یا جنگ وغیرہ سے قوم کے جوان بیدار ہوگئے۔ اگر دیکھا جائے تو ہر سو پچاس سال بعد اُٹھنے والی یہ بیداری کی لہریں بتاتی ہیں کہ بیچ کے عرصے میں قوم سوتی رہی ہے اور اُسے جگانے کے لئے درونِ خانہ کوئی بندوبست نہ تھا سو بیرونی بیداری کی لہریں ادھر اُدھر سے تشریف لائیں اور قوم کو خوابِ غفلت سے اس بُری طرح جگایا کہ قوم بھونچکا رہ گئی۔ اور اس نو بیدار قوم کی حالت دیکھ کر شاعر نے کہا کہ: 

ہر کہ اُو بیدار تر، پُر درد تر​

مزے کی بات یہ ہے کہ کچھ منفی ذہنیت کے لوگوں نے قوم کی میٹھی نیند میں دخل اندازی کرنے والے ان عناصر کو ہیرو بنا کر پیش کیا اور نیند سے نئی نئی جاگی قوم صورتحال کو کماحقہ سمجھ نہ پائی۔ نتیجتاً یہ عناصر آج تک ہیرو لکھے اور پُکارے جاتے ہیں۔ یہ تو شکر ہے کہ اُس زمانے میں قوم کا کوئی نیریٹو یعنی بیانیہ نہیں ہوا کرتا تھا ورنہ ہر سو پچاس سال بعد یہ بیانیہ بیداری کی لہر کی بھینٹ چڑھ جاتا۔ 

ہمارے ہاں خوابِ غفلت اورنام نہاد بیداری کا کھیل اس تسلسل سے کھیلا جا رہا ہے کہ اگر کچھ عرصے بیداری کی لہر نہ اُٹھے تو اکثر لوگوں کے پیٹ میں مروڑ اُٹھنے لگتے ہیں تاہم عقلمندی کا تقاضہ یہ ہےکہ اگر آپ کو اس قسم کی کوئی تکلیف ہو بھی تو ادب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے اور ناصر کاظمی کی طرز پر شکایت کو ادب کا جامہ پہنایا جائے۔ یعنی طبیب سے کہا جائے کہ "دل میں اِک لہر سی اُٹھی ہے ابھی!" اور جب طبیب مکرر استفسار کرے کہ "دل میں؟" تو کہیں "تھوڑا سا نیچے" ۔ ویسے ہمارا خیال ہے کہ ناصر کاظمی کے ہاں اتنی لہریں نہیں اُٹھیں تھیں جتنی غلام علی صاحب کے بطن سے اُٹھیں ۔ تاہم جن لوگوں نے غلام علی کو نہیں سُنا اُن کے ہاں تو محض سردی اور گرمی کی لہریں ہی رہ جاتی ہیں جو میڈیا والے خبروں کی قلت کے دنوں میں اٹھایا کرتے ہیں۔ 

آپ کہہ رہے ہوں گے کہ ہم پٹری سے اُتر رہے ہیں اور ہم سوچ رہے ہیں کہ ہم کسی طرح پٹری پر چڑھ جائیں تاکہ زندگی کی گاڑی کو کسی سکون والے اسٹیشن پر کھڑی کرکے باقی ماندہ نیند پوری کر سکیں۔ 

بہرکیف بات ہو رہی تھی لمحاتی بیداری کی اور خوابِ غفلت کی ہمیشگی کی۔ ہمارے ہاں بیداری کی تحریکیں مختلف ادوار میں مختلف انداز میں اُٹھتی رہی ہیں۔ ہر مصلح نے اپنے تئیں قوم کو جگانے کی کوشش کی اور کچھ بے چارے کچی نیند کے مارے اُن کی چکنی چپڑی باتوں میں آ بھی گئے جو آگے چل کر خود بھی مصلح کہلائے۔ باقی قوم ہنوز خوابِ خر میں مبتلا رہی اور داعیانِ بیداری کی جانب گوش ِ ناشنوائی کو ڈھال بنائے رکھا۔ 

کسی ایسے موڑ پر جب قوم کو بیدار کرنے کے دشوار گزار کام میں مسلسل ناکامی سے مصلحین عاجز آئے ہوئے تھے ، اُن کی مڈبھیڑ سیانوں سے ہو گئی جیسا کہ سیانے ہر موقع پر کچھ نہ کچھ کہتے ہیں اُنہوں نے اس موقع کو بھی خالی نہیں جانے دیا اور مصلحین کو سمجھایا کہ جب بھی کوئی عظیم کام درپیش ہو تو اُسے ایک دم سے انجام دے دینا ممکن نہیں ہوتا ۔ سو بڑے کام کو ہمیشہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ لیں، درجہ بہ درجہ کام آسانی سے نمٹ جائے گا۔ 

کچھ سمجھتے ہوئے اور کچھ نہ سمجھتے ہوئے مصلحین نے اس کارِ عظیم کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا اور پھر سے اپنے محاذ پر جُت گئے ۔ اب اُنہوں نے پوری قوم کو ایک ساتھ جگانے کے بجائے اُنہیں ٹکڑوں میں بانٹ کر جگانے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں تاریخ میں مختلف قسم کے بیداری کے نعرے ملتے ہیں جن کی ٹارگیٹ آڈینس الگ الگ تھی۔ 

اب کبھی وہ جا گ مہاجر جاگ کا نعرہ لگاتے تو کبھی جاگ پنجابی جاگ ۔ باقی زبانوں میں بھی یقیناً لوگوں کو جگانے کا کام کیا جاتا رہا ہو گا تاہم زبان سے ناآشنائی کے باعث ہم قیاس آرائی سے احتراز برتتے ہیں۔ پھر جب لسانی بنیادوں پر لوگ اُن کی نہ سنتے تو مسلکی اور مذہبی بنیادوں پر جاگ ۔۔۔۔۔ جاگ کا نعرہ لگاتے اور بیچ میں اپنے مخاطب کو اٹکا دیتے۔ 

مجھے یاد ہے بچپن میں کچھ ایسے پمفلٹ دیکھنے کو ملتے کہ جن میں ماؤں بہنوں سے خطاب کیا جاتا اور ان پمفلٹس سے پتہ چلتا کہ فلانی قوم آپ کی قوم کو تباہ برباد کرنے کے درپے ہے اور آپ اب بھی نہ جاگے تو تاریخ میں آپ کا نام و نشان تک نہیں رہے گا۔ یقیناً فلانی قوم کو بھی اسی قسم کے دھمکی آمیز پیغام ملتے رہتے ہوں گے۔ یہاں بھی وہ لوگ جو پہلے سے بے خوابی کا شکار ہوا کرتے تھے ان مصلحین کے ساتھ مل جاتے اور خوفِ فساد خلق سے بیگانہ ہو کر نہ جانے کیا کیا کہتے پھرتے۔ 

شعرائے کرام کسی بھی تحریک کی روحِ رواں ہو ا کرتے ہیں سو اُنہوں نے گاہے بہ گاہے اُٹھنے والی بیداری کی لہروں میں بھی اپنی شاعری سے مزید ارتعاش پیدا کیا جن سے بیش تر سونے والوں کے کان جھنّا کر رہ گئے لیکن تب بھی آفرین ہے، شعراء کو نہیں! بلکہ سونے والوں کو کہ اُنہوں نے شعراء کی چارہ سازی کا کوئی بندوبست نہ کیا یعنی اُنہیں گھاس نہیں ڈھالی۔ اس نعمت بہ رنگِ زحمت کے باعث شعراء کرام کا "بے چارہ" طبقہ گھاس کھائے جانے کے الزام سے بچ گیا۔ 

یوں تو اگر اردو شاعری سے بیداری کے لئے لکھی جانے والی شاعری کی تلاش شروع کی جائے تو ڈھیر لگ جائے لیکن یہاں ہم فقط دو چار مثالیں پیش کر رہے ہیں۔ 

مثلاً یہ شعر دیکھیے:

اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہو گا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا​

اُٹھو اور دوڑو! ارے بھئی اُٹھنے اور دوڑنے کے بیچ میں اگر ناشتہ تیار ہے کی صدا بھی لگا دی جاتی تو شاید کچھ پوستی مارے ناشتہ کرنے کے لئے ہی اُٹھ جاتے ۔ لیکن شاعر نے زورِ بیان پر دھیان دیا اور سونے والوں کی فطرت سے غفلت برتی ۔ نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ 

یہ شعر بھی دیکھیے:

اے آنکھ!اب تو خواب کی دُنیا سے لوٹ آ
مژگاں تو کھول!شہر کو سیلاب لے گیا!​

یہاں بھی مصلحین نے سیانوں والی تکنیک آزمائی یعنی پورے بندے کو جگانے کے بجائے صرف آنکھ پر قسمت آزمائی کی۔ سونے والوں نے یہ تو سنا کہ کوئی اُنہیں کچھ کہہ رہا ہے تاہم نیند میں یہ نہ سمجھ پائے کہ مژگاں کھولنے سے مراد پلکیں اُٹھانا ہے ورنہ وہ اتنے بھی سست نہ تھے کہ پلکیں بھی نہ اُٹھا پاتے۔ 

لیکن جس طرح پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتی اور جس طرح سارے پوستی ایک جیسے نہیں ہوتے اُسی طرح سب شاعر بھی ایک سے نہیں ہوتے اور کچھ ہماری طرح کے بھی ہوتے ہیں جو خود غافلین میں شمار ہوتے ہیں اور کیا خوب شمار ہوتے ہیں۔ ایسے ہی کسی شاعر کا شعر دیکھیے:

ڈالی ہے اس خوش فہمی نے مجھ کو سونے کی عادت 
نکلے گا جب سورج تو خود مجھ کو آن جگائے گا
جب اس مسئلےپر ہم نے غور کیا تو ہمیں ایک ہی بات سمجھ آئی اور وہ یہ کہ اگر بچپن سے ہی لوگوں میں بیداری کی عادت ڈالی جائے تو وہ بعد میں بھی سوتے رہنے کی کیفیت سے نکل کر سونے جاگنے کی کیفیت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ دیکھا جائے تو بچوں میں بیداری کی لہریں بڑوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ قوی ہوتی ہیں۔ تاہم بچوں کی یہ بیداری کی لہریں اکثر بڑوں کی نیند کے اوقات سے متصادم ہوا کرتی ہیں اور بڑے جو مصلحین کو بھی کسی گنتی میں نہیں لاتے بچوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ نتیجتاً ہمارے ہاں مائیں اکثر بچوں کو مار مار کر سُلاتی نظر آتی ہیں کہ "کمبخت سوجا۔ کیا تو نے جینا حرام کیا ہوا ہے میرا"۔ اور سوتے بچوں کو مار مار کر اُٹھایا جاتا ہےکہ"کمبخت اس وقت سو رہا ہے اور جب سونے کا وقت ہو گا تو اُٹھ بیٹھے گا"۔ اس شدید تشدد کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچوں میں اُٹھنے والی بیداری کی لہریں پسپا ہو جاتی ہیں اور وہ ماں باپ کے ساتھ ساتھ سونے اُٹھنے لگتے ہیں اور کبھی خدانخواستہ بچوں کی آنکھ کھل جائے اور ماں باپ سو رہے ہوں تو بیچارے سہم کر پھر سے سو جاتے ہیں۔ 

نونہالوں میں بیداری کی لہر کا گر کسی نے اہتمام کیا تو وہ ہمارے عزیز ترین مصلح جناب حکیم محمد سعید صاحب تھے کہ جو بچوں کا رسالہ "نونہال" نکالا کرتے تھے اور اُس کا پہلا مضمون ہی "جاگو جگاؤ" ہوا کرتا تھا۔ اس مضمون میں بیدار مغز لوگوں کی باتیں ہوا کرتی تھیں اور جو بچوں کو عملی زندگی میں غافلین میں شامل ہونے سے روکتی تھیں۔ 

اس جاگو جگاؤ تحریک کا توڑ لوگوں نے یہ نکالا کہ نونہالوں میں بچوں کے رسالے پڑھنے کا ماحول ہی ختم کر دیا ۔ اب مزے کی بات یہ ہے کہ جو بچے بچوں کے رسائل پڑھے بغیر پروان چڑھے وہ بڑے ہو کر بھی یہ طفلانہ رسائل نہیں پڑھ سکتے۔ جان بچی سو لاکھوں پائے۔ 



آج کے دور میں بیداری کی سب سے بڑی تحریک کا عَلم موبائل فون کے الارمز نے اُٹھایا ہوا ہے اور اُن کے مقابل وہ ناقابلِ شکست ہاتھ ہیں کہ جن کا عزمِ مصمّم ہر بار الارم بجنے پر اسنوز کی ناب دبانے کا فریضہ جی جان سے انجام دیتے ہیں اور کبھی کبھی اسنوز پر ہی بس نہیں کرتے بلکہ الارم ہی ڈِس مِس کر دیتے ہیں۔ ایسے میں اگر اسکول یا دفتر سے چھٹی ہو جائے تو خود کو بیمار سمجھتے ہیں اور ڈاکٹر سے سفارش کرتے ہیں کہ وہ اُن کے لئے آرام کی سفارش کرے ۔ اگر ڈاکٹر ایسا ہی کرے تو ٹھیک ورنہ وہ ڈاکٹر کے لئے آرام تجویز کرتے ہیں اور دوسرے ڈاکٹر کے ہو جاتے ہیں۔ آخر ڈاکٹر کو اتنا بیدار مغز تو ہونا ہی چاہیے کہ سمجھ سکے کہ مریض کو کس طرح آرام آئے گا۔ 

٭٭٭٭٭​