ہر گھر سے بھٹو نکلے گا


آپ نے یہ مشہورِ عوام شعر تو سنا ہی ہوگا۔ 

یہ بازی خون کی بازی ہے، یہ بازی تم ہارو گے
ہر گھر سے  بھٹو نکلے گا تم کتنے بھٹو مارو گے

یہ شعر پاکستان  پپلز پارٹی میں شاید بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد مقبول ہوا اور آج بھی گاہے گاہے سنائی دیتا ہے۔  کیا ہی اچھا ہوتا کہ واقعی اس شعر کے مصداق ہر گھر سے بھٹو جیسے قابل لیڈر نکلتے اور ان کو بلا امتیازِ رنگ و نسل پارٹی کی قیادت کا حق آئینی اور جمہوری طریقہ سے ملتا۔  لیکن ایسا ہوا نہیں ! بھٹو صاحب بلاشبہ قابل لیڈر تھے  لیکن بھٹو صاحب کسی  مقتدر خاندان کے چشم و چراغ نہیں تھے اور اُنہیں عوام نے منتخب کیا تھا۔ 

تاہم آج کی پپلز پارٹی بھٹو صاحب کے گھرانے تک محدود ہوگئی ہے اور کچھ دیگر قریب ترین لوگوں کو بھی پارٹی کا حصہ بننے کے لئے اپنے نام کے ساتھ بھٹو کا لاحقہ لگانا پڑتا ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) میں بھی اکثر نام نواز اور شہباز کے لاحقے کے ساتھ ہی نظر آتے ہیں ۔ ایسی سیاسی جماعتوں کو اگر کوئی بھی جمہوری پارٹی سمجھتا ہے تو شاید وہ جمہوریت کی روح سے واقف نہیں ہے۔ 

جمہوریت انتقام کا نام نہیں ہے۔ جمہوریت عوام کی حاکمیت کا نام ہے اور تمام لوگ جو سرکاری عہدوں پر موجود ہیں یا آئندہ ہوں گے وہ حاکم نہیں عوام کے خادم ہیں  کہ  ان کے گھر کا چولہا عوام کے ٹیکسز سے جلتا ہے۔ 

خرد کا نام جنوں رکھ دیا، جنوں کاخرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے



غزل ۔ تعلق رکھ لیا باقی، تیّقن توڑ آیا ہوں

غزل

تعلق رکھ لیا باقی، تیّقن توڑ آیا ہوں
کسی کا ساتھ دینا تھا، کسی کو چھوڑ آیا ہوں

تمھارے ساتھ جینے کی قسم کھانے سے کچھ پہلے
میں کچھ وعدے، کئی قسمیں، کہیں پر توڑ آیا ہوں

محبت کانچ کا زنداں تھی یوں سنگِ گراں کب تھی
جہاں سر پھوڑ سکتا تھا، وہیں سر پھوڑ آیا ہوں

پلٹ کر آگیا لیکن، یوں لگتا ہے کہ اپنا آپ
جہاں تم مجھ سے بچھڑے تھے، وہیں رکھ چھوڑ آیا ہوں

اُسے جانے کی جلدی تھی، سومیں آنکھوں ہی آنکھوں میں
جہاں تک چھوڑ سکتا تھا، وہاں تک چھوڑ آیا ہوں

کہاں تک میں لئے پھرتا محبت کا یہ اِکتارا
سو اب جو سانس ٹوٹی، گیت آدھا چھوڑ آیا ہوں

کہاں تک رم کیا جائے، غزالِ دشت کی صورت
سو احمدؔ دشتِ وحشت سے یکایک دوڑ آیا ہوں

محمد احمدؔ

تیرہواں کھمبا


تیرہواں کھمبا

منشا یاد /  محمد ابراہیم جمالی


پاکستان میں بولی جانے والی تقریباً تمام ہی زبانیں ادبی سرمائے سے مالا مال رہیں ہیں۔ ان زبانوں میں بلا شبہ بہترین ادب تخلیق ہوتا  رہا ہے اور اب بھی ہو رہا ہے۔ پنجابی ادب کا دامن بھی ایسی تحریروں سے خالی نہیں ہے۔ اسی ادب سے منتخب کردہ ایک شہ پارہ۔

محبت کبھی نہیں مرتی کی جیتی جاگتی عملی تصویر

گاڑی نے وسل دے کر سبز جھنڈی لہرا دی۔ 
ریل کار روانہ ہونے والی تھی۔ عین آخری لمحات میں ایک نو بیاہتا جوڑا اس کے سامنے والی سیٹوں پر آکر بیٹھ گیا۔ اچانک اسے محسوس ہوا جیسے وہ ریل کی نرم اور آرام دہ سیٹ پر نہیں بیٹھا بلکہ ریل کی تپتی ہوئی آہنی پٹری پر اوندھے منہ پڑا ہے۔ 

لڑکی اسے دیکھ کر یوں ٹھٹک گئی جیسے وہ راولپنڈی جانے والی ریل کار کے بجائے غلطی سے ملتان جانے والی گاڑی میں سوار ہو گئی ہو۔ اس کے شوہر نے آگے بڑھ کر اپنے رومال سے سیٹ صاف کرتے ہوئے محبت سے کہا "بیٹھو انجی!" 
"انجی۔۔۔ انجی۔۔۔ انجی۔۔۔!" گویا اس پر چاروں طرف سے اس نام کے پتھر برسنے لگے۔ اس کا پوار وجود لہولہان ہوگیا۔ اسے یوں لگا جیسے تیز رفتار ریل کا انجن اس کے اوپر سے گزر گیا ہو اور اس کا جسم لوتھڑوں کی صورت ہوا میں منتشر ہو گیا ہو۔ 

لڑکی اپنی سیٹ پر کھڑکی کی طرف منہ کرکے بیٹھ گئی اور اس سے نظریں چرانے لگی۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کی موجودگی سے وہ پریشان ہوگئی ہے۔ اس نے وہاں سے اٹھ جانا چاہا اور اسی خیال سے کسی خالی سیٹ کے لئے اِ‌دھر اُدھر نگاہیں دوڑائیں لیکن تمام سیٹوں پر مسافر بیغھے ہوئے تھے۔ کوئی سیٹ خالی نہیں تھی۔ اتنا طویل سفر، لاہور سے راولپنڈی تک۔۔۔ وہ کھڑے ہوکر کیسے گزار سکتا تھا؟

وہ سیٹ پر بیٹھا رہا۔ تاہم تہ کیا ہوا اخبار کھول کر اپنے سامنے کر لیا تھا۔ وہ اس کی اوٹ میں خود کو چھپانے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔ 
ریل کار حرکت میں آگئی۔ وہ کھڑکی سے لگی، گردن جھکائے شوہر سے سرگوشیوں میں باتیں کرنے لگی۔ وہ بظاہر اخبار پڑھ رہا تھا لیکن اس کے اندر کوئی دیو ہیکل انجن جلدی جلدی پٹریاں بدل رہا تھا۔ آخرکار اس نے اخبار چھوڑ کر کھڑکی سے باہر کے مناظر میں پناہ لی۔ ہر طرف ریل کی پٹریوں کا جال بچھا ہوا تھا۔ ریل کے خالی اور ناکارہ ڈبے اِ دھر سے اُدھر خاموشی سے کھڑے ہوئے تھے اور کانٹے بدلتی، فاصلہ طے کرتی ریل کا رکو رشک بھری نظروں‌سے دیکھ رہے تھے۔ 
ریل کی بے شمار پٹریاں دیکھ کر اسے خیال آیا ، اگر وہ ریل کا انجن ہوتا تو بوکھلا جاتا اور ضرور کسی غلط پٹری پر جا کر کسی دوسرے انجن سے جا ٹکراتا۔

تصادم کے خیال سے اسے عجیب خوشی اور لذت محسوس ہوئی۔ اس کا جی چاہا کہ کاش وہ واقعی کوئی طاقتور ریل کا انجن ہی ہوتا جو سیٹیاں بجاتا، شور مچاتا، دھول مٹی اُڑاتا، دندناتا ہوا کسی دوسرے انجن سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجاتا۔ کسی انجن کے نیچے آکر ٹکڑے ٹکڑئ ہوجانے اور خود انجن بن کر کسی دوسرے انجن سے ٹکرا کر منتشر ہوجانے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ 
ریل کار اب راوی پر سے گزر رہی تھی۔ 
بوٹنگ کرتے ہوئیے لوگ نظر آئے تو اس نے تڑپ کر انجم کی طرف دیکھا۔ لیکن وہ دونوں تو ایک دوسرے میں گم تھے۔ انجم اپنے شوہر سے سرگوشیوں میں میٹھی میٹھی باتیں کر رہی تھی۔ شوہر بڑے انہماک کے ساتھ شیریں لبوں سے جھڑنے والے پھول چن رہا تھا۔

راوی کسی حسین لمحے کی طرح جلدی سے گزر گیا۔ 
اس کے دل پر دیر تک چپو چلتے رہے۔ سینے میں مقید سرد آہ گویا حلق میں آکر اٹک گئی۔ اچانک کھڑکی سے باہر کچھ فاصلے پر کھجور کے درختوں کے عقب میں چھپی ہوئی مقبروں کی عمارتیں کسی حسین سپنے کی طرح دکھائی دینے لگیں۔ جہانگیر اور نور جہاں کے مقبرے قریب قریب تھے لیکن ان کے درمیان ریل کی پٹریاں حائل ہوگئی تھیں۔ وہ زنجیر کھینچے بغیر چلتی ہوئی تیز رفتار ریل کار سے اتر گیا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا پانچ برس کا طویل سفر طے کرنے لگا۔

پانچ برس قبل ایبٹ آباد میں ایک شام اسے انجم کا تار ملا تھا "فوراً  لاہور پہنچو۔"" 
اس نے لباس تک تبدیل نہیں کیا اور تار ملتے ہی لاہور کے لیے روانہ ہوگیا۔ اگلے دن علی الصباح خیبر میل سے اتر کر منہ ہاتھ دھوئے بغیر گرد آلود کپڑوں میں ہی بھاگم بھاگ گرلز ہاسٹل پہنچا۔ وہ اندر ہی اندر سخت پریشان تھا کہ انجم نے اسے کیوں بلوایا ہے۔ وہ اس کی خیریت کی دعائیں مانگتا ہوا منزل پر پہنچا لیکن جب اسے معلوم ہوا کہ انجم کی آج چھٹی تھی اور وہ اس کے ساتھ سیر کی غرض سے کہیں جانا چاہتی تھی۔۔۔ تو اس کی تمام تھکن دور ہو گئی۔ اس کا وجود خوشی اور چاہت سے سرشار ہوگیا۔

ایبٹ آباد سے لاہور تک کا سفر سمٹ کر ایک نقطہ بن گیا۔ سفر کی تکان ہوا ہوگئی۔ بس اور ٹرین کا طویل سفر اسے پھولوں کی ایک پینگ محسوس ہوا۔ اسے یوں لگا جیسے اس نے کسی فلم میں‌ہیرو کا بہروپ بھرنے کے لئے یہ گیٹ اَپ کیا تھا۔۔۔ یعنی شکن آلود لباس اور گرد میں اٹے بال۔

انجم سچ مچ نگاہوں کے کیمرے سے اس کی تصویریں اتار رہی تھی۔ پھر جب وہ ایبٹ آباد واپس چلا جائے گا تو فراق کے لمحات میں میں، تنہا اور تاریک کمرے میں بیٹھ کر آنکھوں کے کیمرے کی اس فلم کو اپنے آنسوؤں سے دھوئے گی اور تمام نیگیٹیوز کو یادوں کی کسی دو چھتی میں چھپا دے گی۔ پھر وہ لاکھ سر پٹختا رہے، اس کے ہاتھ کچھ نہ آئے گا۔ 
وہ بہت حیران ہوا۔ انجم یکایک اس پر اتنی مہربان کس طرح ہوگئی تھی۔ وہ تو ہمیشہ اس سے ہر تصویر چھپا کر رکھتی تھی لیکن آج۔۔۔؟ شاید وہ آج تک اسے آزما رہی تھی۔ شاید آج وہ اس کانٹے کا بھی ذکر کردے جو اسے اندر ہی اندر لہولہان کرتا رہتا تھا لیکن وہ بظاہر ہنستی، مسکراتی نظر آئی تھی۔ کوئی انجانا اندیشہ اسے ہر وقت روگی بنائے رکھتا تھا مگر وہ کچھ بتاتی نہ تھی۔ پوچھنے پر ہنس دیتی تھی۔

دونوں ایک دوسرے کی قربت سے مسرور ہنستے مسکراتے ایک ہوٹل میں چلے گئے۔ وہ چائے پینے سے پہلے اٹھ کر غسل خانے میں چلا گیا۔ منہ ہاتھ دھو کر بال درست کیے۔ پھر دونوں ناشتا کرنے لگے۔ وہ خوشی سے کھلی جا رہی تھی ۔ کہنے لگی

مجھے یقین تھا  تم ضرور آؤگے۔۔۔ میرا اندازہ تھا کہ تم خیبر میل سے پہنچو گے۔۔۔ مجھے معلوم تھا تم ناشتا بھی میرے ساتھ کروگے۔۔۔ میں‌جانتی تھی، تم ٹرین سے اتر کر سیدھے میرے پاس آؤگے۔۔۔ مجھے پتا تھا۔۔۔ مجھے یقین تھا۔۔۔ میں جانتی تھی۔۔۔ میں جانتی تھی۔۔۔

"تم نہیں جانتی انجی! میں نے تمھارے بغیر ولایت میں اتنا عرصہ کس طرح گزارا" اس کے شوہر نے کہا۔

"میں جانتی ہوں۔۔۔ میں جانتی ہوں۔۔۔" وہ مزید کچھ بھی نہ کہہ سکی ۔ ریل کار دوڑتی رہی ۔ مڑ کر دیکھے بغیر۔۔۔۔ وہ مڑکر دیکھ بھی نہیں سکتی تھی۔

اس کا جی چاہا کہ وہ اپنی انگلیوں کو چبا ڈالے تاکہ اسے معلوم ہو کہ کہیں وہ خواب تو نہیں دیکھ رہا۔ اس نے اسی خیال کے تحت اپنے ہاتھ کو جنبش دی تاکہ انگلیوں پر دانت گاڑ کر اس اذیت ناک خواب سے جاگ جائے لیکن۔۔۔۔ اس کے تو دونوں ہاتھ ہی موجود نہیں تھے پھر اس نے دیکھ کہ اس  کی دونوں ٹانگیں بھی غائب ہیں۔ گویا اس کا وجود ہوا میں تحلیل ہوگیا تھا۔ اس نے گھبرا کر اپنے جسم کو ٹٹوولا مگر وہ سیٹ جو اس نے اپنے لئے ریزرو کرائی تھی۔۔۔۔ اب خالی پڑی تھی۔ 
اسی وقت ، عین اسی لمحے جب وہ خود کو تلاش کر رہا تھا، اچانک اس کے قریب جیسے کوئی کلی چٹخی۔ جانی پہچانی خوشبو کا ایک ہلکا سا جھونکا آیا ۔ اس نے سکون کا سانس لیا۔ یہ جان کر کہ وہ مطمئن ہوگیا کہ جسم کے بغیر بھی وہ سونگھ سکتا ہے۔ سن سکتا ہے، سوچ سکتا ہے، رو سکتا ہے  اور گا سکتا ہے۔ وہ گانے لگا۔
"ڈولی چڑھدیاں ماریاں ہیر چیکاں
مینوں لے چلے بابلا لے چلے"

وہ گاتا رہا۔ درخت ، گاؤں، کچے پکے راستے، کھیت اور ریلوے اسٹیشن یکے بعد دیگرے گزرتے رہے۔ اسے ہیر وارث شاہ کے کئی اشعار ازبر تھے۔ ایک بند ختم ہوا تو اس نے دوسرا شروع کردیا۔ 
"وارث رن، فقیر، تلوار، گھوڑا 
چارے تھوک ایہہ کسے دے یار ناہیں"

اس کی آواز بلند سے بلند تر ہوتی چلی گئی۔ اس کی آواز میں بڑا درد اور سوز تھا۔ مگر پوری بوگی میں کسی نے بھی اس کے گانے پر توجہ نہ دی جیسے تمام لوگ اپنے کانوں میں روئی ٹھونس کر بیٹھے ہوں۔ وہ دونوں بدستور سرگوشیوں میں مصروف تھے۔ وہ اس کے گانے سے ذرا بھی متاثر نہیں ہوئے تھے۔ وہ خود ہی چپ ہو گیا۔ اس کا دل بیٹھ گیا اور مقدر سوگیا۔ 

بوگی میں کہیں ویت نام اور امریکا پر تو کہیں سوشلزم پر گفتگو ہو رہی تھی۔ کوئی ہنی مون اور مری کے نظاروں کا ذکر کر رہا تھا۔ اسے ڈائننگ کار کے بیرے پر بڑا ترس آیا۔  اس بے چارے کی بات کوئی سن ہی نہیں رہا تھا۔ اس کا جی چاہا کہ ڈائننگ کار کے بیرے کو بلا کر اپنے قریب بٹھائے اور اسے ہیر وارث شاہ کے اشعار سنائے۔ اسی وقت مری، سوات اور ہنی مون کے الفاظ کا شور اس قدر پھیل گیا کہ ویت نام،  امریکا، سوشلزم اور ڈائننگ کار کے بیرے کی آواز اس میں دب کر رہ گئی ۔

اس نے بڑے شور سے  بچنے کے لئے اپنے کانوں میں گاڑی کا شور بھر لیا۔ پھر وہ کھڑکی سے باہر ٹیلی فون کے لائن کے تار  اور کھمبے گننے لگا۔ ابھی وہ بارہ ہی کھمبے گن پایا تھا کہ ایک کھمبے کا فرق آگیا۔"  نہ جانے یہ تیرہواں کھمبا تھا یا چودھواں۔ وہ اسی الجھن میں تھا کہ دو تین کھمبے اور گزر گئے۔ اب جو کھمبا سامنے تھا جانے یہ سولہواں تھا یا سترہواں؟ اگر چودھواں  اصل میں تیرہواں تھا تو پھر یہ پندرہواں  ہونا چاہیے۔ یا شاید سولہواں تھا۔۔۔ لیکن پندرہواں تو اصل میں چودہواں تھا اور اس حساب سے۔۔۔"

"میری صرف پندرہ  چھٹیاں باقی رہ گئی ہیں ۔انجی!"
"اور ۔۔۔ اس حساب سے بیسواں اصل میں پندرہواں ۔۔۔ نہیں انیسواں ۔۔۔ سولہواں تو بالکل غلط گن گیا۔ وہ دراصل پندرہواں کھمبا تھا۔ اصل میں کھمبے صرف پندرہ ہی تھے۔ ہر پندرہویں کھمبے کے بعد پہلا کھمببا شروع ہوچاتا ہے لیکن وہ تمام کھمبوں کو گن گن کر پندرہ پر تقسیم بھی تو کر سکتا ہے۔ اسے یاد آیا کہ اس نے بچپن میں میں بہت سی چیزیں سیکھی تھی۔  ستاروں کی تعداد تو اب اسے  یاد نہیں رہی تھی لیکن ایک میل کے درمیان سترہ کھمبے تھے۔ اس نے سترہ کھمبوں سے ایک سو پچھتر میلوں کو ضرب دیا۔ دس میل لمبی  اس ضرب میں بے شمار چیزیں شامل ہو گئیں ۔ درخت، کھیت، چلتے پھرتے دیہاتی لوگ، جانور، بھیڑ بکریوں کے ریوڑ اور ریلوے لائن کے متوازی جاتی ہوئی شاہراہ اعظم کی بسیں، ٹرک، کاریں، ریڑھے اور ٹاہلی کے بے شمار درخت!
اس حساب سے نہ جانے کتنی بھیڑیں، کتنے ٹرک، درخت اور کھمبے حاصل ضرب تھے۔ اب معلوم نہیں اس ضرب کو پندرہ میلوں پر تقسیم کرنا تھا یا پندرہ بکیروں پر؟ لیکن وہ تو کھمبے گن رہا تھا۔ بارہ کھمبے اس نے صحیح سالم گن لئے تھے۔ تیرہویں کھمبے کا گھپلا ہوگیا تھا۔ اسے اپنے حساب  میں  نہ آنے والا تیرہواں کھمبا شدت سے یاد آتا تھا۔
بے چارہ تیرہواں کھمبا !
"بارہ برس بعد تو رُوڑی کے دن بھی پھر جاتے ہیں" یہ مثل اس نے سنی ہوئی تھی۔ 
پھر یہ تیرہواں کھمبا کس طرح گنتی میں آنے سے رہ گیا؟ 
نہ جانے کس  ویران جگہ پر خاموش اور تنہا کھڑا ہوگا بے چارہ ۔۔۔۔! نہ جانے کیا سوچ رہا ہوگا۔"
پھر اسے "تیرہ" کے محاورے یاد آنے لگے۔
"نہ تین میں نہ تیرہ میں۔"
"نو نقد نہ تیرہ ادھار۔"
"چناب آگیا انجی!" اس کے شوہر نے کہا " اور یہ لو چائے، چکن سلائس اور شامی کباب۔"
اس نے ناک سکوڑ کر کہا "میں نہیں کھاتی یہ کباب، اس میں سے کیسی بو آرہی ہے۔"
"انجی ! یہ مچھلی کے کباب ہیں۔ آج گوشت کا ناغہ ہے نا۔"
"شاید باسی مچھلی تھی۔۔۔ بڑی خراب بو آرہی ہے۔" انجم نے بدستور  ناگواری سے کہا۔ 
اس کی رانوں میں درد ہونے لگا۔ اس کے دل میں آیا کہ زخمی ران سے تمام پٹیاں نوچ کر اسے دکھائے اور بتائے " آج طورفان  اور بارش کی وجہ سے مجھے کوئی مچھلی نہ مل سکی اس لئے میں نے اپنی رانیں چیر کر تمھارے لئے کباب تلے ہیں۔۔۔ مگر تمھیں ان میں سے بو  آ رہی ہے۔! تم انہیں باسی کہتی ہو؟"
لیکن وہ یہ سب کچھ کہہ نہ سکا اور سگریٹ سلگا کر پینے لگا۔ وہ چکن سلائس کھاتے ہوئے چائے پیتی رہی ۔اس کے شوہر نے کہا "انجی! مجھے ستار بہت پسند ہے۔ میرا ایک دوست بہترین ستار نواز ہے۔ کبھی سنیں گے۔"
اس نے ریل کار میں بیٹھے بیٹھے ٹیلی فون لائن کے کھمبے اکھاڑے اور پھر ان کو آگے پیچھے کر کے گاڑ دیا۔ اس طرح ڈھیلے تار تن گئے۔ اس نے کھڑکی سے ہاتھ باہر نکال کر بازو  دراز   کیا اور ستار بجانے لگا۔ ستار بجاتے بجاتے اس کی  انگلیاں لہولہان ہو گئیں۔ گجرات سے جہلم تک ٹیلی فون لائن کی تمام تاریں سرخ ہوگئیں مگر اسے کسی نے داد نہ دی۔ جہلم اسٹیشن پر ریل کار رکی اور اس کا شوہر کسی کام سے نیچے اترا تو اس کا جی چاہا کہ وہ آگے بڑھ کے انجم کا ہاتھ تھام لے اور مخالف سمت کے دروازے سے نیچے اتر جائے۔ اور واپس لے جاکر اس وہ سارے تار دکھائے جو اس کی انگلیوں کے لہو سے سرخ ہوگئے تھے۔ پھر وہ دونوں پٹری کے ساتھ ساتھ چلتے  وارث شاہ  کے بکھرے  ہوئے مصرعے چنیں ۔۔ ۔ اور گنتی سے رہ جانے والے تنہا، اداس اور ویران تیرہویں کھمبے سےجا کر لپٹ جائیں۔ پھر وہ اتنا روئیں کہ اس کھمبے کے ارد گرد اور کچھ نہیں تو  کم سے کم گھاس ہی اُگ آئے۔ پھر اس نے سوچا کہ وہ کوئی ایسی بات کہے کہ انجم ایک بار اس کی طرف دیکھنے پر مجبور ہو جائے مگر اسے کوئی جملہ نہ سوجھ سکا۔ وہ خاموش رہا۔ وہ بار بار اس دروازے کی طر ف بے چینی سے دیکھ رہی تھی جہاں سے اس کا شوہر اترا تھا۔ 
ایک بار اسے یہ خیال بھی آیا کہ وہ اس لڑکی کو بالکل نہیں پہچانتا ۔ نہ جانے کون ہے؟
اس کا شوہر آیا تو وہ اس سے جھگڑنے لگی " آپ نے اتنی دیر کیوں لگا دی؟"
وہ ہنس دیا، کہنے لگا "تم تو بچوں کی طرح گھبرا جاتی ہو انجی!"
شام ہوگئی وہ کھڑکی کے شیشے میں اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے کے پس منظر میں ٹیڑھے میڑھے درخت، اداس کھمبے اور خشک پہاڑیاں تھیں۔ تاریک بڑھتی جا رہی تھی ۔ جس قدر اندھیرا بڑھتا جا رہا تھا، شیشے میں اس کی تصویر شوخ اور واضح ہوتی جا رہی تھی۔ وہ اس اندھیرے کو دعائیں دینے لگا۔ 
لیکن وہ اس اندھیرے سے سہم  گئی تھی۔ جیسے اس کے ارد گرد انسان نہیں چڑیلیں شور مچا رہی ہوں۔ وقت ایک سیاہ عفریت کی طرح  اس کے چہرے کے پس منظر میں ساتھ ساتھ  بھاگا جا رہا تھا۔ وہ اس قدر ڈر گئی تھی کہ وہ بھی اسے دیکھ کر سہم گیا۔ کھڑکی کے شیشے میں وقت کا عفریت تھا جسے وہ دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ اٹھا اور بوگی کے  دروازے پر آن کھڑا ہوا۔ 

اس کی طرف دونوں کی پشت تھی۔ وہ دونوں کے چہرے تو نہیں دیکھ سکتا تھا لیکن اسے یقین تھا کہ سامنے والی سیٹ خالی ہوتے ہی کھڑکی سے باہر والا عفریت کسی کھمبے سے ٹکرا کر مر گیا ہوگا۔ اس نے خالی سیٹ پر اپنے مہندی سے رچے  ہوئے پاؤں رکھ لئے ہوں گے اور بڑے سکون سے پہلے کی طرح دوبارہ اپنے شوہر سے میٹھی میٹھی باتیں کرنے لگی ہوگی۔ 
اسے ایک بار پھر تیرہواں کھمبا یاد آیا۔ نہ جانے کس ویران جگہ پر اداس کھڑا ہوگا اور نہ جانے کیا سوچ رہا ہوگا۔ بے چارہ۔۔۔ گنتی میں آجاتا تو کتنا خوش ہوتا۔ 
پھر اسے محسوس ہوا کہ وہ کھمبا پیچھے نہیں رہ گیا بلکہ  ساتھ ساتھ ہی دوڑا چلا آرہا ہے ۔ اس نے تاریکی میں آنکھیں پھاڑ کر گھورا اور حیران رہ گیا۔ "یہ تو وہی تیرہواں کھمبا ہے جو بار بار نظر آرہا ہے۔"
بارہ تک اس نے گنتی صحیح گنی تھی۔ جب تک وہ اس  تیرہویں کھمبے کو شمار نہیں کرلے گا یہ ساتھ ساتھ دوڑتا رہے گا۔ اس کا جی چاہا کہ وہ چھلانگ مار کر اس کھمبے سے لپٹ جائے لیکن اسی لمحے ہوا کا ایک جھونکا اس سے لپٹ کر کہنے لگا ۔ 
"باہر مت جانا، بہت اندھیرا ہے۔"
اس نے دروازہ بند کرنا چاہا تو سرد ہوا کے بے شمار جھونکے دروازے پر دستک دینے لگے۔ اس نے دروازہ کھول دیا۔ ہوا کے جھونکے  سسکتے ہوئے اندر آنے لگے ۔ اس نے تاریکی سے خوف زدہ اور سہمے ہوئے ہوا کے جھونکوں  کو اپنے سلگتے ہوئے وجود میں پناہ دی۔ اس طرح اسے بہت سکون محسوس ہوا پھر اس نے اپنے جلتے ہوئے بدن سے سگریٹ سلگایا۔ چنگاریاں اُڑیں اور اپنے ہی سگریٹ کا دھواں اس کی آنکھوں میں گھس گیا۔
ہوا کے سرد جھونکے اس کے جسم کے گرد لپٹے جا رہے تھے اور ریل کار پہاڑیوں کے درمیان بھاگی جا رہی تھی ۔ چہار سو تاریکی پھیلی  ہوئی تھی۔ کبھی کبھی کسی پہاڑی گاؤں میں روشن کوئی دیا ٹمٹماتا نظر آجاتا۔ ریل کار تیزی سے فاصلے سمیٹ رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے اسے کے پہیوں  کے نیچے خوفناک عفریت کٹتے جا رہے تھے۔ وسل دیتی،  سرنگیں پار کرتی، ریل کار اڑی چلی جارہی تھی۔ بوگی میں اب شور بہت کم ہوگیا تھا۔ ہر شخص اونگھ رہا تھا ۔ کچھ لوگ تھکے تھکے سے انداز میں اپنے ساتھیوں سے باتیں کر رہے تھے۔ مسافروں کے چہروں پر تھکاوٹ اور بیزاری عیاں تھی۔ 
اچانک ریل کار کی رفتار گھٹنے لگی اور ایک جھٹکے سے رک  گئی۔ لوگ ایک دوسرے پر گر گئے۔ "کیا ہوا؟"
"سگنل ڈاؤن نہیں ہوگا۔"
بھائی کوئی  نیچے تو نہیں آگیا۔"
کسی کے نیچے آجانے کی بات سن کر وہ لرز گئی۔ اسے محسوس ہوا جیسے اس کے اوپر سے ریل کار گزر گئی ۔ اس کا رنگ  فق ہوگیا اور چیخ کر بولی " ہائے میں مر گئی۔۔۔۔ اس نے خود کشی کر لی ہوگی۔" 
"کس نے  خود کشی کر لی ہوگی۔۔۔ اور تمھیں کیا ہوگیا انجی!"
"اس نے ۔۔۔" وہ سسکتی ہوئی سامنے کی خالی سیٹ کی طرف دیکھ کر بولی " جو یہاں۔۔۔ سامنے کی سیٹ پر بیٹھا تھا۔"
اس کے شوہر نے پلٹ کر دروازے  کی طرف دیکھا۔ وہ دروازے پر کھڑا سگریٹ کے کش لیتا ہوا، ہوا کے جھونکوں سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا۔ جیسے اس کے کھمبوں کی گنتی درست ہو گئی ہو۔ 

بشکریہ: سسپنس ڈائجسٹ۔

سلیم کوثر کی دو خوبصورت غزلیں


سلیم کوثر شہرِ کراچی کے معروف شاعر ہیں اور اپنا منفرد اسلوب رکھتے ہیں۔  اُن کی شاعری  گہری فکر اور  بسیط خیالات  پر مبنی ہے۔ سلیم کوثر کی شاعری اثر انگیزی  اور غنائیت کا حسین امتزاج ہے یوں تو غزل ہی  سلیم کوثر کی پہچان ہے لیکن اُن کے ہاں نظم بھی بڑے سلیقے سے کہی گئی ہے۔  

آج اُن کے شعری مجموعے "محبت اک شجر ہے" سے دو خوبصورت غزلیں  آپ کی  نظر۔


دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دلداری پر
دیکھ اب وہ بھی اُتر آیا اداکاری پر

میں نے دشمن کو جگایا تو بہت تھا لیکن
احتجاجاً نہیں جاگا مری بیداری پر

آدمی، آدمی کو کھائے چلا جاتا ہے
کچھ تو تحقیق کرو اس نئی بیماری پر

کبھی اِس جرم پہ سر کاٹ دئے جاتے تھے
اب تو انعام دیا جاتا ہے غدّاری پر

تیری قربت کا نشہ ٹوٹ رہا ہے مجھ میں
اس قدر سہل نہ ہو تو مری دشواری پر

مجھ میں یوں تازہ ملاقات کے موسم جاگے
آئینہ ہنسنے لگا ہے مری تیاری پر

کوئی دیکھے بھرے بازار کی ویرانی کو
کچھ نہ کچھ مفت ہے ہر شے کی خریداری پر

بس یہی وقت ہے سچ منہ سے نکل جانے دو
لوگ اُتر آئے ہیں ظالم کی طرف داری پر


اس خرابے کی تاریخ کچھ بھی سہی، رات ڈھلنی تو ہے  رُت بدلنی تو ہے
خیمہء خاک سے روشنی کی سواری نکلنی تو ہے  رُت بدلنی تو ہے

کیا ہوا جو ہوائیں نہیں مہرباں، اک تغیّر پہ آباد ہے یہ جہاں
بزم آغاز ہونے سے پہلے یہاں، شمع جلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہے

دامنِ دل ہو یا سایہ ء چشم و لب، دونوں بارش کی طرح برستے ہوں جب
ایسے عالم میں پھر بھیگ جانے کی  خواہش مچلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہے

ابر کے سلسلے اور پیاسی زمیں ، آگ بجھتی ہے پانی سے سورج نہیں
کہساروں پہ جمتی ہوئی برف اک دن پگھلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہے

عشق ایجاد ہم سے ہوا ہے سو ہم، اس کے رمز و کنایہ سے واقف بھی ہیں
تیرے بیمار کی یہ جو حالت ہے آخر سنبھلنی تو ہے، رُت بدلنی تو ہے

سلیم کوثر

یوں تو کوئی دوش نہیں تھا کشتی کا ، پتواروں کا


کسی زمانے میں ہم نے ایک طرحی غزل مشاعرہ ڈاٹ آرگ کے لئے لکھی تھی، یوں تو یہ ایک مقابلہ تھا اور یہ غزل سرِ فہرست بھی رہی تاہم ہمارا مقصد محض تفریحِ طبع ہی تھا۔ یہ غزل ابنِ انشاء کے مصرعہ پر لکھی گئی ہے۔ کچھ اُن دنوں طبیعت میں روانی بھی تھی ورنہ ہم ہمیشہ طرحی غزل لکھنے سے گھبراتے ہیں۔ آج یہ غزل یاد آئی تو سوچا بلاگ پر ہی پیش کردی جائے۔


غزل

یوں تو کوئی دوش نہیں تھا کشتی کا ، پتواروں کا
ہم نے خود ہی دیکھ لیا تھا ایک سراب کناروں کا

جھڑتی اینٹیں سُرخ بُرادہ کب تک اپنے ساتھ رکھیں
وقت چھتوں کو چاٹ رہا ہے ، دشمن ہے دیوارں کا

تیز ہوا نے تنکا تنکا آنگن آنگن دان کیا
گم صُم چڑیا طاق میں بیٹھی سوچ رہی ہے پیاروں کا

سُرخ گلابوں کی رنگت بھی اچھی ہے پر سوچتا ہوں
قوس و قزح سی اُس کی آنکھیں ، رنگِ حیا  رخساروں کا

کاش سروں کی بھی قیمت ہو دستاروں کے میلے میں
کاش وفا بھی جنسِ گراں ہو طور تِرے بازاروں کا

دھوکہ دینے والی آنکھیں ، دھوکہ کھا بھی لیتی ہیں
راکھ اُڑا کے دیکھ تو لیتے رنگ ہے کیا انگاروں کا

من میں غم کے پھول کھلیں تو لفظ مہکنے لگتے ہیں
دل آنگن بھی دیکھا ہوتا ، تم نے خوش گُفتاروں کا

بند گلی بھی خود میں جانے رستے کتنے رکھتی ہے
ہم دروازے کھوج نہ پائے ، دوش ہے کیا دیواروں کا

ایسا تھا کہ آنچل بن کے دھرتی کو سُکھ دینا تھا
ورنہ امبر بھی کیا کرتا ، سورج ، چاند ، ستاروں کا

بس یادوں کی کو مل رُت میں عمر تمام گزر جائے
ورنہ احمدؔ ہجر کا موسم ، موسم ہے آزاروں کا

محمد احمدؔ

تم مسیحا نہیں ہوتے ہو تو قاتل ہو جاؤ

غزل

میرے ہونے میں کسی طور تو شامل ہو جاؤ
تم مسیحا نہیں ہوتے ہو تو قاتل ہو جاؤ

دشت سے دُور بھی کیا رنگ دکھاتا ہے جنوں
دیکھنا ہے تو کسی شہر میں داخل ہو جاؤ

جس پہ ہوتا ہی نہیں خونِ دو عالم ثابت
بڑھ کے اک دن اسی گردن میں حمائل ہو جاؤ

وہ ستم گر تمھیں تسخیر کیا چاہتا ہے
خاک بن جاؤ اور اس شخص کو حاصل ہو جاؤ

عشق کیا کارِ ہوس بھی کوئی آسان نہیں
خیر سے پہلے اسی کام کے قابل ہو جاؤ

ابھی پیکر ہی جلا ہے تو یہ عالم ہے میاں
آگ یہ روح میں لگ جائے تو کامل ہو جاؤ

میں ہوں یا موجِ فنا اور یہاں کوئی نہیں
تم اگر ہو تو ذرا راہ میں حائل ہو جاؤ

عرفان صدیقی

فرار


کبھی کبھی دل چاہتا ہے اس دنیا سے کہیں بھاگ جاؤں یا کم از کم ایسی جگہ جہاں کوئی جاننے والا نہیں ہو کہ جاننے والے سب کچھ جان کر بھی کچھ نہیں جانتے۔ اجنبی اس لئے اچھے نہیں ہوتے کہ وہ اجنبی ہوتے ہیں بلکہ وہ صرف اس لئے اچھے ہوتے ہیں کہ اُنہیں آپ سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ لیکن دل کا کیا کہیے صاحب، دل تو دل ہے اسے کون سمجھا سکتا ہے، اسے تڑپتے رہنے دینا چاہیے تاکہ اسے بھی کچھ سکون ملے اور آپ کو بھی۔

مفقود جہاں تھے سبھی آثارِ فضیلت

غزل

مفقود جہاں تھے سبھی آثارِ فضیلت
واں ناز سے باندھی گئی دستارِ فضیلت

میں سادہ روش بات نہ سمجھا سکا اُن کو
حائل تھی کہیں بیچ میں دیوارِ فضیلت

کردار ہی جب اُس کے موافق نہ اگر ہو
کس کام کی ہے آپ کی گفتارِ فضیلت

آؤ کہ گلی کوچوں میں بیٹھیں، کریں باتیں
دربارِ فضیلت میں ہے آزارِ فضیلت

اب صوفی و مُلا بھی ہیں بازار کی رونق
اب سجنے لگے جا بجا بازارِ فضیلت

آیا ہے عجب زہد فروشی کا زمانہ
رائج ہوئے ہیں درہم و دینارِ فضیلت

آنکھوں میں ریا، ہونٹوں پہ مسکان سجائے
ملتے ہیں کئی ایک اداکارِ فضیلت

بس علم و حلم، عجز و محبت ہو جس کے پاس
گر ہے کوئی تو وہ ہے سزاوارِ فضیلت

احمدؔ وہ اگر رمزِ سخن پا نہیں سکتے
ہوتے ہیں عبث آپ گناہگارِ فضیلت


محمد احمدؔ

جشنِ آزادی مبارک


جشنِ آزادی مبارک 

اُن تمام دوستوں کو جو پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور محنت اور ترقی کی راہیں اپنا کر اس ملک کا وقار بلند کر رہے ہیں اور اُنہیں بھی جو پاکستان سے خائف ہیں اور اپنی ترقی کی راہ میں پاکستان کو رکاوٹ سمجھتے ہیں اور ہمیشہ شکایتیں ہی کرتے نظر آتے ہیں۔

ایسے لوگوں کو ہم کچھ نہیں کہیں گے کہ احمد فراز پہلے ہی کہہ چکے ہیں:

شکوہِ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

ایک نغمہ آپ سب کی نذر


دستِ عصائے معجزہ گر بھی اُسی کا ہے



دستِ عصائے معجزہ گر بھی اُسی کا ہے
گہرے سمندروں کا سفر بھی اُسی کا ہے

میرے جہاز اسی کی ہواؤں سے ہیں رواں
میری شناوری کا ہنر بھی اسی کا ہے

لشکر زمیں پہ جس نے اتارے ہیں رات کے
کھلتا ہوا نشانِ قمر بھی اسی کا ہے

آب رواں اسی کے اشارے سے ہے سراب
بادل کے پاس گنجِ گہر بھی اسی کا ہے

جو خشک ٹہنیوں سے اگاتا ہے برگ و بار
موسم تمام اس کے شجر بھی اسی کا ہے

منظر میں جتنے رنگ ہیں نیرنگ اسی کے ہیں
حیرانیوں میں ذوقِ نظر بھی اسی کا ہے

بس اپنا اپنا فرض ادا کر رہے ہیں لوگ
ورنہ سناں بھی اس کی ہے سر بھی اسی کا ہے

تیغِ ستم کو جس نے عطا کی ہیں مہلتیں
فریادِ کشتگاں میں اثر بھی اسی کا ہے

تیرا یقین سچ ہے مری چشمِ اعتبار
سب کچھ فصیلِ شب کے ادھر بھی اسی کا ہے

مجرم ہوں اور خرابہء جاں میں اماں نہیں
اب میں کہاں چھپوں کہ یہ گھر بھی اسی کا ہے

خود کو چراغ راہ گزر جانتا ہوں میں
لیکن چراغِ راہ گزر بھی اسی کا ہے

عرفان صدیقی

جب نمازِ محبت ادا کیجیے

غزل

جب نمازِ محبت ادا کیجیے
غیر کو بھی شریکِ دعا کیجیے

آنکھ والے نگاہیں چُراتے نہیں
آئینہ کیوں نہ ہو سامنا کیجیے

آپ کا گھر سدا جگمگاتا رہے
راہ میں بھی دیا رکھ دیا کیجیے

آنکھ میں اشکِ غم آ بھی جائیں تو کیا
چند قطرے تو ہیں پی لیا کیجے

شانتی صباؔ

وقت کی رفتار



پتہ نہیں کیوں آج کل مجھے لگ رہا ہے جیسے پچھلے کچھ دنوں سے وقت کا پہیہ بہت تیزی سے گھومنے لگا ہے۔ واقعات اتنی تیزی سے ایک کے بعد ایک رونما ہورہے ہیں کہ کچھ سمجھ نہیں آتا۔ اس تیز رفتاری کا المیہ یہ ہے کہ نہ تو ہم کسی کا غم کر پاتے ہیں نہ کوئی خوشی منا پاتے ہیں ۔ واقعات کی یلغار میں سمجھ نہیں آتا کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔ یوں لگتا ہے جیسے وقت کے تیز رفتار دریا میں ہم بے یار و مدد گار بہہ رہے ہیں، کبھی کنارہ نظر آتا ہے تو مسکرانا ہی چاہتے ہیں کہ پھر سے کوئی لہر ہمیں پستیوں اور اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔ 


سعداللہ شاہ نے کیا خوب کہا ہے:

وقت صحرا ہے کہاں اس میں نشاں ملتے ہیں
اک بگولہ ہی سبھی نقش مٹا جاتا ہے


معلوم نہیں ایسا مجھے ہی لگ رہا ہے یا سب کا یہی حال ہے۔


ایک غزل اقبال عظیم کی



اقبال عظیم کی ایک خوبصورت غزل جو مجھے بہت پسند ہے۔

غزل

ہم نے مانا اس زمانے میں ہنسی بھی جرم ہے
لیکن اس ماحول میں افسردگی بھی جرم ہے

دشمنی تو خیر ہر صورت میں ہوتی ہے گناہ
اک معین حد سے آگے دوستی بھی جرم ہے

ہم وفائیں کر کے رکھتے ہیں وفاوُں کی امید
دوستی میں اس قدر سوداگری بھی جرم ہے

اس سے پہلے زندگی میں ایسی پابندی نہ تھی
اب تو جیسے خود وجودِ زندگی بھی جرم ہے

آدمی اس زندگی سے بچ کے جائے بھی کہاں
مے کشی بھی جرم ہے اور خودکشی بھی جرم ہے

سادگی میں جان دے بیٹھے ہزاروں کوہ کن
آدمی سوچے تو اتنی سادگی بھی جرم ہے

کتنی دیواریں کھڑی ہیں ہر قدم ہر راہ پر
اور ستم یہ ہے کہ شوریدہ سری بھی جرم ہے

ایک ساغر کے لئے جو بیچ دے اپنا ضمیر
ایسے رندوں کے لئے تشنہ لبی بھی جرم ہے

اپنی بے نوری کا ہم اقبال ماتم کیوں کریں
آج کے حالات میں دیدہ وری بھی جرم ہے

اقبال عظیم

وجے کمار مسلمان ہو گیا


سر !  یہ چھٹی کا فارم تو بھر دیں۔"  وجے کمار نے 'لیو فارم' میری ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔
وجے کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے میں نے اپنی زیرِ تکمیل  دستاویز محفوظ کی  اور  'لیو فارم' کے مندرجات پُر کرنے لگا۔  وجے میرے دفتر میں خاکروب کا کام کرتا ہے اور اپنے لکھت پڑھت کے کام مجھ سے ہی کرواتا ہے۔  اسی لئے مجھے اس کا نام، ایمپلائی کوڈ  اور دیگر تفصیلات ازبر سی ہوگئی ہیں ۔

کیوں چُھٹی چاہیے؟"۔ فارم میں چھٹی کی وجہ  کے خانے تک پہنچ کر میں نے وجے سے پوچھا۔
سر ! وہ  رشتہ داروں کے ہاں جانا ہے ،  سوئم میں۔ کسی کا انتقال ہو گیا تھا"۔  وجے نے  سوچتے ہوئے بتایا۔
اچھا! تمھارے ہاں بھی سوئم ہوتا ہے؟" مجھے بڑی حیرت ہوئی۔
"ہاں سر! سوئم تو ہوتا ہے، کوئی مر جائے تو اس کے تیسرے دن۔" 
ہمم! اچھا کیا چالیسواں بھی ہوتا ہے؟" میں نے پُر خیال انداز میں پوچھا۔
جی سر! چالیسواں بھی ہوتا ہے اور سال مکمل ہونے پر برسی بھی ہوتی ہے"۔  اُس نے تفصیل سے بتایا تو مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ خوشگوار حیرت۔

بھائی! آپ کو پتہ ہے وجے کمار مسلمان ہوگیا ہے۔" میں سب کو خوشی خوشی  بتا رہا تھا۔ "وجے کمار  مسلمان ہو گیا ہے" میں نے جمال صاحب کو بھی نوید سُنائی ۔ سب میری بات پر خوش بھی ہو رہے تھے اور حیران بھی۔
اچانک کسی نے مجھے کندھے سے پکڑ کر جھنجوڑ دیا۔ دیکھا تو خالد صاحب تھے۔
یہ تم سب سے کیا کہتے پھر رہے ہو، وجے مسلمان ہوگیا ہے" خالد صاحب نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔
جی! خالد صاحب، میں صحیح کہہ رہا ہوں۔ وجے کمار سے آج ہی میری بات ہوئی ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ وہ اور اُس کا خاندان ہماری ہی طرح ، مرنے والوں کا سوئم بھی کرتے ہیں، چالیسواں  بھی اور برسی بھی۔ اور کیسے ہوتے ہیں مسلمان؟
خالد صاحب نے مجھے عجیب سی نظر سے دیکھا اور کہا۔" ارے بے وقوف! وجے کمار مسلمان نہیں ہوا ۔ مسلمان ہندو ہوگئے ہیں"  اُن کے  لہجے کا غصّہ  اب تاسُف کا روپ دھار چکا تھا اور اُن کی آنکھیں اپنے پیروں کے پاس فرش پرگڑھی ہوئی تھیں۔

میں اب تک ششدر کھڑا اُن کا منہ تک رہا تھا۔


لب لرزتے ہیں روانی بھی نہیں

غزل

لب لرزتے ہیں روانی بھی نہیں
گو کہانی سی کہانی بھی نہیں

چاندنی ٹھہری تھی اِس آنگن میں کل
اب کوئی اس کی نشانی بھی نہیں

رابطہ ہے پر زماں سے ماورا
فاصلہ ہے اور مکانی بھی نہیں

حالِ دل کہنا بھی چاہتا ہے یہ دل
اور یہ خفّت اُٹھانی بھی نہیں

غم ہے لیکن روح پر طاری نہیں
شادمانی، شادمانی بھی نہیں

جس میں آخر ہنستے بستے ہیں سبھی
یہ کہانی، وہ کہانی بھی نہیں

کچھ کچھ اندازہ تھا اس دل کا مجھے
عشق ایسا ناگہانی بھی نہیں

یاد رہ جائے گی بس اک آدھ بات
داستاں یہ جاویدانی بھی نہیں

کل مری بستی میں اک سیلاب تھا
آج دریاؤں میں پانی بھی نہیں

گو ہماری ترجماں ہے یہ غزل
یہ ہماری ترجمانی بھی نہیں

محمد احمدؔ

جو سنتا ہوں کہوں گا میں ۔ انور شعورؔ کی دو غزلیں


انور شعور ؔ عہدِ حاضر کے اُن  شعراء میں سے ہیں جن کا کلام اُن کو بہت سے دوسرے ہم عصر شعراء  سے ممتاز کرتا ہے۔ انور شعور کے ہاں جو  بے ساختگی اور  بے باکی ہمیں ملتی ہے وہ دیگر  شعراء میں شاذ ہی نظر آتی ہے ۔ بے باکی کو  اشعار  میں برتنا ، وہ بھی ایسے کہ شعر کا فطری حسن  ، نزاکتِ خیال اور  نغمگی  متاثر نہ ہو، آسان ہرگز نہیں ہے لیکن انور شعور کے ہاں ایسے اشعار جا بجا نظر آتے ہیں اور اُن کی قادر الکلامی پر دلالت کرتے ہیں۔   اُن کی دو خوبصورت غزلیں اہلِ  ذوق کی نذر کی جا رہی ہیں  جو  اپنی مثال آپ ہیں اور انور شعور کی  دل پزیر  شاعری کی  تمثیل بھی ہیں۔


غزل

توفیقِ علم و حلم و شرافت نہیں مجھے
حاصل کسی طرح کی سعادت نہیں مجھے

جب سے سنی ہیں متّقیوں کی کرامتیں
اپنے کیے پہ کوئی ندامت نہیں مجھے

دل چاہتا تو ہے کہ ہَوس کاریاں کروں
لیکن یہ استطاعت و ہمّت نہیں مجھے

خوبانِ شہر بھی نہ ہوئے مجھ پہ ملتفت
میں بھی وہ بد دماغ کہ حسرت نہیں مجھے

تا حشر حاسدوں کو سلامت رکھے خدا
ان کے طفیل کون سی راحت نہیں مجھے

درپے ہُوا ہی کرتے ہیں کج فہم و کم نظر
ان احمقوں سے کوئی شکایت نہیں مجھے

لکھّی گئی ہیں نامہ ء اعمال میں مرے
جن لغزشوں سے دور کی نسبت نہیں مجھے

کیا کیا ہُوئیں نہ حوصلہ افزائیاں کہ اب
زنہار صبر و ضبط کی طاقت نہیں مجھ

چُپ ہوں کہ بارگاہِ حقیقت پناہ سے
اسرار کھولنے کی اجازت نہیں مجھے

انور شعورؔ

*******

جو سنتا ہوں کہوں گا میں، جو کہتا ہوں سنوں گا میں
ہمیشہ مجلسِ نطق و سماعت میں رہوں گا میں

نہیں ہے تلخ گوئی شیوہ ء سنجیدگاں لیکن
مجھے وہ گالیاں دیں گے تو کیا چپ سادھ لوں گا میں

کم از کم گھر تو اپنا ہے، اگر ویران بھی ہوگا
تو دہلیز و در و دیوار سے باتیں کروں گا میں

یہی احساس کافی ہے کہ کیا تھا اور اب کیا ہوں
مجھے بالکل نہیں تشویش آگے کیا بنوں گا میں

مری آنکھوں کا سونا چاہے مٹی میں بکھر جائے
اندھیری رات! تیری مانگ میں افشاں بھروں گا میں

تساہل ایک مشکل لفظ ہے، اس لفظ کا مطلب
کتابوں میں کہاں ڈھونڈوں، کسی سے پوچھ لوں گا میں

حصول آگہی کے وقت کاش اتنی خبر ہوتی
کہ یہ وہ آگ ہے جس آگ میں زندہ جلوں گا میں

اُداسی کی ہوائیں آج پھر چلنے لگیں؟ اچھا
تو بس آج اور پی لوں، کل سے قطعا` چھوڑ دوں گا میں

کوئی اک آدھ تو ہوگا مجھے جو راس آجائے
بساطِ وقت پر ہیں جس قدر مہرے چلوں گا میں

نہ لکھ پایا ترے دل میں اگر تحریرِ غم اپنی
تری ماتھے پہ اک گہری شکن ہی کھینچ دوں گا میں

کیا ہے گردشوں سے تنگ آ کر فیصلہ میں نے
کہ محنت کے علاوہ چاپلوسی بھی کروں گا میں

اگر اس مرتبہ بھی آرزو پوری نہیں ہوگی
تو اس کے بعد آخر کس بھروسے پر جیوں گا میں

یہی ہوگا، کسی دن ڈوب جاؤں گا سمندر میں
تمناؤں کی خالی سیپیاں کب تک چنوں گا میں

انور شعورؔ



ٹی وی اینکرز




ٹی وی اینکرز



وہ مرے دوست تھے یا دشمن تھے
میری بے چارگی پہ روتے تھے
غم غلط ہو گیا مرا آخر


محمد احمدؔ



جانے کیا ہو گیا ہے کچھ دن سے

غزل

جانے کیا ہو گیا ہے کچھ دن سے
وحشتِ دل سوا ہے کچھ دن سے

لاکھ جشنِ طرب مناتے ہیں
روح نوحہ سرا ہے کچھ دن سے

ہے دعاؤں سے بھی گُریزاں دل
ربط ٹوٹا ہوا ہے کچھ دن سے

روح، تتلی ہو جیسے صحرا میں
اور آندھی بپا ہے کچھ دن سے

میں اُسے دیکھ تک نہیں سکتا
وہ مجھے تک رہا ہے کچھ دن سے

میں تو ایسا کبھی نہ تھا احمدؔ
یہ کوئی دوسرا ہے کچھ دن سے

محمد احمدؔ

یوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرے

غزل

یوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرے
کہاں لے جاؤں تجھے اے دلِ تنہا میرے

وہی محدود سا حلقہ ہے شناسائی کا
یہی احباب مرے ہیں، یہی اعدا میرے

میں تہِ کاسہ و لب تشنہ رہوں گا کب تک
تیرے ہوتے ہوئے ، اے صاحبِ دریا میرے

مجھ کو اس ابرِ بہاری سے ہے کب کی نسبت
پر مقدر میں وہی پیاس کے صحرا میرے

دیدہ و دل تو ترے ساتھ ہیں اے جانِ فراز
اپنے ہمراہ مگر خواب نہ لے جا میرے

احمد فراز

کراچی کی غزل خواں مر گئے کیا

غزل

سخن ہاے دل و جاں مر گئے کیا
کہو کچھ تو کہو ہاں مرگئے کیا

یہ کیا آٹھوں پہر چپ سی لگی ہے
وہ کچھ کہنے کے ارماں مر گئے کیا

جیے جاتے ہیں ہم اک دوسرے بن
ہمارے عہد و پیماں مر گئے کیا

یہ خاموشی تو اب رونے لگی ہے
وہ آنے والے طوفاں مرگئے کیا

یہ دل کیوں سینہ کوبی کر رہا ہے
یہ تم مجھ میں مری جاں مر گئے کیا

اسیرانِ خمِ زلفِ زمانہ
پریشاں تھے پریشاں مر گئے کیا

جو دن دھّمال کرتے آ رہے تھے
وہ رستے ہی میں رقصاں مر گئے کیا

کوئی تو دارسامانی کو آتا
گرانی میں سب ارزاں مر گئے کیا

میں ایسا کون زندہ ہوں کہ پوچھوں
کراچی کی غزل خواں مر گئے کیا

لیاقت علی عاصمؔ

اب نہ بدلے تو بدل جائے گا نقشہ اپنا

غزل

لوگ پہچان نہیں پائیں گے چہرا اپنا
اب نہ بدلے تو بدل جائے گا نقشہ اپنا

برق ایک ایک نشیمن کا پتہ جانتی ہے
اب کے پھر ڈھونڈ نکالے گی ٹھکانا اپنا

طعنہء دربدری دے مگر اتنا رہے دھیان
راستہ بھی تو بدل سکتے ہیں دریا اپنا

بول، اے بے سروسامانیء گلشن، کچھ بول
خلقتِ شہر طلب کرتی ہے حصّہ اپنا

یہ بھی کب تک کہ ہر آفت کا سبب ہے کوئی اور
منزلیں خود بھی تو گُم کرتی ہیں رستہ اپنا

ہم کہاں اپنے سوا اور کو گردانتے ہیں
ہم نے لِکھا بھی تو لکھیں گے قصیدہ اپنا

افتخار عارفؔ

تمھاری پارٹی میں، میں کہاں پر ہوں؟



ہمارے سیاستدانوں میں ایک جاوید ہاشمی کی شخصیت ایسی ہے جسے سب ہی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ ہیں بھی قابلِ قدر کیونکہ وہ ان گنے چنے سیاست دانوں میں سے ہیں جو مفاد پرستی کی سیاست میں نظریہ اور استقامت کی علامت ہیں۔ حال ہی میں جاوید ہاشمی نے مسلم لیگ۔ ن چھوڑ کر تحریکِ انصاف میں شمولیت اخیتار کی ہے۔ جب جاوید ہاشمی سے اس بابت استفسار کیا گیا تو ہمیں توقع تھی کہ اس تبدیلی کے پس منظر میں بھی کوئی نہ کوئی نظریہ یا نظریاتی اختلاف ہی ہوگا لیکن توقع کے برخلاف انہوں نے کہا کہ مجھے نظرانداز کردیا گیا، مجھے پوچھا نہیں گیا، مجھے پس منظر میں دھکیل دیا گیا ۔ یہ بات مایوس کن سہی لیکن اپنے ٹریک ریکارڈ کی وجہ سے جاوید ہاشمی اب بھی بہت سے دوسروں سے لاکھ درجے بہتر ہیں۔

باوجود یہ کہ تحریکِ انصاف اب تک ایک واضح نظریے کو لے کر چل رہی ہے اور عام لوگ اسے اس کی آئیڈیالوجی کی بنیاد پر ہی پسند کرنے لگے ہیں لیکن جتنے بھی بڑے رہنما تحریکِ انصاف میں شامل ہوئے ہیں اُن کے پیشِ نظرعوامل میں نظریہ کہیں بھی موجود نہیں ہے اور یہ ایک انتہائی منفی رجحان ہے جو بعد میں اس جماعت کو بھی دوسری جماعتوں کی طرح نظریہ ضرورت کی تال پر رقص کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

دراصل ہمارے ہاں نظریاتی سیاست کا بڑا فقدان ہے۔ یہاں رنگ، نسل ، زبان، علاقہ اور ہر طرح کی عصبیت پر سیاست کی جاتی ہے لیکن نظریہ پر نہیں کی جاتی۔ جب کبھی دو گروہ رنگ و نسل اور دیگر ایسی بنیاد وں پر آپس میں لڑتے ہیں تو ایسے میں دونوں ہی اپنی اپنی جگہ حق پر ہوتے ہیں اور دونوں ہی خود کو حق بجانب سمجھتے ہیں۔ اگر یہی تفرقہ نظریاتی اختلافات کی بنا پر ہو تو معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی صحیح اور غلط کی تمیز کر سکتا ہے کیونکہ صرف نظریاتی جنگ ہی ایسی جنگ ہے جس میں حق و باطل کی تفریق کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں جو مخالفتیں مختلف تعصبات کی وجہ سے ہوتی ہیں ان کا تعین ہی نہیں ہو پاتا کہ کون صحیح ہے اور کون غلط۔

اب آخر میں ذکر اُن سیاسی جماعتوں کا جن میں بہت ہی معتبر اور تجربہ کار سیاست دان موجود ہیں لیکن یہ جماعتیں ان کے ہوتے ہوئے بھی اپنے ننھے منے بچوں کو لاکر ان کے سر پر بٹھا دیتے ہیں۔ یہی کچھ مسلم لیگ۔ ن میں بھی ہوا اور ہو رہا ہے مسلم لیگ ۔ن جس کا تکیہ کلام ہی میثاقِ جمہوریت ہے اپنی پارٹی میں جمہوریت کو کوئی مقام دینے پر تیار نہیں ہے۔ جاوید ہاشمی کے ہوتے ہوئے بھی شریف خاندان کے نوجوان آج پارٹی کے کرتا دھرتا ہوگئے ہیں ۔ یعنی وہی موروثی سیاست۔ موروثی پارٹی کے ذکر پر پپلز پارٹی کا نام تو خود بہ خود ہی ذہن میں آجاتا ہے اور پپلز پارٹی آج بھی اسی ڈگر پر ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو جماعتِ اسلامی ، جیسی بھی ہے لیکن واقعتاً ایک جمہوری جماعت ہے اور اس میں باقاعدگی سے کارکنان کو رائے کا حق بھی دیا جاتا ہے اور قیادت کی منتقلی بھی اسی اعتبار سے کی جاتی ہے۔

ہماری وہ تمام جماعتیں جو جمہوریت کا راگ الاپتی ہیں ان کو چاہیے کہ وہ پہلے اندرونِ خانہ جمہوریت کا آغاز کریں اور پھر بعد میں جمہوریت کی بات۔ کیونکہ یہ
بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ

Charity begins at home.

جنوری پھر لوٹ آئی ہے - اعزاز احمد آذر

ہواؤں کے ہاتھ پیغام

وہی گلیاں وہی کوچہ وہی سردی کا موسم ہے
اسی انداز سے اپنا نظامِ زیست برہم ہے

یہ حسنِ اتفاق ایسا کہ پھیلی چاندنی بھی ہے
وہی ہر سمت ویرانی، اداسی، تشنگی سی ہے

وہی ہے بھیڑ سوچوں کی، وہی تنہائیاں پھر سے
مسافر اجنبی اور دشت کی پہنائیاں پھر سے

مجھے سب یاد ہے کچھ سال پہلے کا یہ قصہ ہے
وہی لمحہ تو ویرانے کا اک آباد حصہ ہے

مری آنکھوں میں وہ اک لمحہء موجود اب بھی ہے
وہ زندہ رات میرے ساتھ لاکھوں بار جاگی ہے

کسی نے رات کی تنہائی میں سرگوشیاں کی تھیں
کسی کی نرم گفتاری نے دل کو لوریاں دی تھیں

کسی نے میری تنہائی کا سارا کرب بانٹا تھا
کسی نے رات کی چنری میں روشن چاند ٹانکا تھا

چمکتے جگنوؤں کا سیل اک بخشاتھا راتوں کو
دھڑکتا سا نیا عنواں دیا تھا میرے خوابوں کو

مرے شعروں میں وہ الہام کی صورت میں نکلا تھا
معانی بن کے جو لفظوں میں پہلی بار دھڑکا تھا

وہ جس کے بعد گویا زندگی نوحہ سرائی ہے
"اُسے کہنا" کہ بھیگی جنوری پھر لوٹ آئی ہے

اعزاز احمد آذر ؔ کی " دھیان کی سیڑھیاں" سے انتخاب

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک