چالیس سال بعد ۔۔۔


آج پھر سولہ دسمبر ہے ۔ وہی تاریخ جب آج سے چالیس سال پہلے پاکستان کا ایک حصہ ہم سے جدا ہوگیا تھا ۔

کہتے ہیں دنیا کی زیادہ تر لڑائیاں "شئرنگ" پر ہوتی ہیں۔ یہاں بھی یہی ہوا۔ ہمارے اس وقت کے اربابِ اختیار اپنے اختیارت میں کسی کی شمولیت برداشت نہیں کر سکے اور نتیجہ وہ ہوا جس کی اُمید بھی نہیں تھی۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا ۔ بچپن میں کہیں پڑھا تھا کہ حقدار کو حق دینا انصاف کہلاتا ہے۔ ہمارے رہنمائے ملت بھی اگر انصاف سے کام لیتے تو شاید کبھی بھی یہ نوبت نہ آتی۔ اس تقسیم سے ہمیں ہی نقصان نہیں ہوا بلکہ خود بنگلہ دیش کو بھی نقصان ہوا اور فائدے میں رہے وہ لوگ جو اتنے بڑے اسلامی ملک سے خوفزدہ تھے۔

بہر کیف بنگلہ دیش آج ہم سے بہتر ہے ۔ بنگلہ دیش ہر سال ہی سیلاب کی تباہی کا شکار رہتا ہے لیکن وہاں وہ تباہ کاری دیکھنے میں نہیں آتی جو ہمارے ہاں عمومی صورتِ حال میں نظر آتی ہے۔ آج بنگلہ دیش کی کرنسی مستحکم ہے اور مزید بہتر ہو رہی ہے۔ ہمارا روپیہ دن بہ دن پستیوں میں اُتر رہا ہے۔

آج سقوطِ ڈھاکہ کو چالیس سال گزر چکے ہیں لیکن ہماری صورتِ حال آج بھی وہی ہے جو پہلے تھی۔ ہمارے ہاں آج بھی لوگ انصاف کو ترس رہے ہیں۔ ہم نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا سو آج اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ یہ افسوس کی بات ہے لیکن زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم آج بھی کوئی سبق سیکھنا نہیں چاہتے ۔



تیسری تصویر


یوں تو تحریکِ پاکستان میں بے شمار عظیم ہستیوں نے بہت لگن اور محنت سے کام کیا اور بے شمار قربانیاں بھی دیں ۔تاہم جب کبھی پاکستان اور اس کی نظریاتی اساس کا ذکر آتا ہے ، سب سے پہلے یاد آنے والی دو شخصیات ہمیشہ علامہ اقبال اور قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی ہیں ہوتی۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں جوکوئی بھی اپنے تئیں پاکستان کی فلاح اور استحکام کا علم لے کر نکلتا ہے وہ اپنی وابستگی انہی دو شخصیات سے ظاہر کرتا ہے۔ شاید آپ کو یہاں فلاح اور استحکام کی تراکیب بے محل لگیں کیونکہ اب تک کی تاریخ میں یہ دونوں اصطلاحات اُن لوگوں کا آلہء کار بنتی رہی ہیں جو پاکستان سے کبھی مخلص تھے ہی نہیں اور اُنہوں نے جوبھی کیا وہ اپنی ذاتی مفاد کے لئے ہی کیا۔ سو ہمارے ہر سیاسی پمفلٹ اور اشتہار پر کوئی ہو نہ ہو قائدِ اعظم اور علامہ اقبال کی تصاویر ضرور ہوتی ہیں۔ ان دو تصاویر کے ساتھ ہی ایک تیسرا سانچہ بھی ضرور ہوتا ہے جس میں آپ گاہے بہ گاہے ہمارے کسی نہ کسی خیر خواہ اور نجات دہندہ کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس تیسرے سانچے میں تصاویر تبدیل ہوتی رہتی ہیں، کبھی کوئی لیڈر تو کبھی کوئی قائد۔ کبھی کوئی نجات دہندہ کبھی کوئی درد مند دل رکھنے والا قوم کا ہمدرد۔

آج کل اس تیسرے سانچے میں عمران خان کی تصویر نظر آرہی ہے۔ یہ بات تو خیر میرے جیسے دقیانوسی خیالات رکھنے والے ہی سوچ سکتے ہیں کہ بھلا یہ رہبرانِ ملت علامہ اور قائد کے بالکل برابر ہی کیوں متمکن ہوتے ہیں۔ پاسِ ادب نہ سہی ، خیالِ تقدیم و تاخیر ہی سہی ۔ لیکن کہاں! یہ سب باتیں میرے جیسے فرسودہ خیالات رکھنے والے لوگوں کے ہی حصے میں آتی ہیں۔

بہر کیف آج کل عمران خان اس مملکتِ خدا داد کی سیاسی بساط پر اہم ہوتے جا رہے ہیں۔ لوگ اب اُنہیں اپنے نجات دہندہ کی حیثیت سے دیکھ رہے ہیں۔ ویسے اگر لوگ اُنہیں نجات دہندہ کی حیثیت سے دیکھ رہے ہیں تو بھی کوئی حرج نہیں کہ وہ باقی سب کو تو اچھی طرح آزما ہی چکے ہیں سو اُمید پر دنیا قائم ہے کہ مصداق عمران خان کو بھی موقع دینے پر تُلے بیٹھے ہیں۔

اور تو سب ٹھیک لیکن بھیڑ چال چلنے کی عادت ہمارے سیاست دانوں میں عام ہے۔ جب ہی تو کئی پرانے اور گھاگ سیاستدان اس نئی جماعت میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ تحریکِ انصاف نے جس نظام کے خلاف آواز اُٹھائی ہے اگر اس کی بنیادوں میں اسی نظام کے کرتا دھرتا شامل ہوگئے تو پھر یہ تحریک کس حد تک کامیاب ہوگی۔ یا پھر ہمیشہ کی طرح چہرے بدل جائیں گے اور نظام اپنی جگہ اور بدنظمی اپنی جگہ برقرار رہے گی۔

ایک خیال یہ بھی ہے کہ اگر عمران خان اپنی جماعت میں لوٹوں کو شامل نہ کریں تو پھر ایسے پاک دامن سیاست دان کہاں سے لائیں جنہیں لوگ ووٹ دینے پر بھی آمادہ ہوجائیں ۔ بافرضِ محال اگر پہلی شرط پوری ہو بھی گئی تو دوسری شرط پوری ہونے کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آتے۔

ایک انگریزی کہاوت ہے کہ "اگر آپ اُن سے جیت نہیں سکتے تو اُن سے ہی مل جائیں"۔ اب یہ سمجھ نہیں آرہا کہ اس مقولے پر عمل کون کر رہا ہے خود عمران خان یااُن کے حریف؟

صدائے شکستِ نکہت و رنگ

غزل

دیارِ عشق کا یہ حادثہ عجیب سا تھا
رُخِ رقیب پہ بھی پرتوِ حبیب سا تھا

فراق زخم سہی، کم نہ تھی جراحتِ وصل
معانقہ مرے محبوب کا، صلیب سا تھا

ترے جمال کی سرحد سے کبریا کا مقام
بہت قریب تو کیا تھا، مگر قریب سا تھا

سنی ہے میں نے صدائے شکستِ نکہت و رنگ
خزاں کی راہ میں ہر پھول ، عندلیب سا تھا

برادرانِ وطن کے سلوک کی سوگند
ندیمؔ یوسفِ کنعاں کا ہم نصیب سا تھا

احمد ندیم قاسمی

فرحت عباس شاہ کی ایک نظم

"اذیت"

کتنے چہرے
دن بھر دھوکہ دیتے ہیں
کتنی آنکھیں
دن بھر دھوکہ کھاتی ہیں
کتنے دل
ہر روز نئی ویرانی سے
بھر جاتے ہیں
مر جاتے ہیں
لیکن تو
سب کچھ دیکھتا رہتا ہے خاموشی سے

فرحت عباس شاہ

دو شاعر ایک ترنگ



ایک خوبصورت بحر میں دو بہت اچھی غزلیں آپ کے ذوق کی نظر۔


پہلی غزل سلیم کوثر کی


غزل

اس عالمِ حیرت و عبرت میں کچھ بھی تو سراب نہیں ہوتا
کوئی نیند مثال نہیں بنتی کوئی لمحہ خواب نہیں ہوتا

اک عمر نمو کی خواہش میں موسم کے جبر سہے تو کھلا
ہر خوشبو عام نہیں ہوتی ہر پھول گلاب نہیں ہوتا

اس لمحۂ خیر و شر میں کہیں اک ساعت ایسی ہے جس میں
ہر بات گناہ نہیں ہوتی سب کارِ ثواب نہیں ہوتا

مرے چار طرف آوازیں اور دیواریں پھیل گئیں لیکن
کب تیری یاد نہیں آتی اور جی بے تاب نہیں ہوتا

یہاں منظر سے پس منظر تک حیرانی ہی حیرانی ہے
کبھی اصل کا بھید نہیں کھلتا کبھی سچّا خواب نہیں ہوتا

کبھی عشق کرو اور پھر دیکھو اس آگ میں جلتے رہنے سے
کبھی دل پر آنچ نہیں آتی کبھی رنگ خراب نہیں ہوتا

مری باتیں جیون سپنوں کی مرے شعر امانت نسلوں کی
میں شاہ کے گیت نہیں گاتا مجھ سے آداب نہیں ہوتا

سلیم کوثر


اور دوسری غزل جمال احسانی کی

غزل

کب پاؤں فگار نہیں ہوتے، کب سر پر دھول نہیں ہوتی
تری راہ میں چلنے والوں سے لیکن کبھی بھول نہیں ہوتی

سرِ کوچۂ عشق آ پہنچے ہو لیکن ذرا دھیان رہے کہ یہاں
کوئی نیکی کام نہیں آتی کوئی دعا قبول نہیں ہوتی

ہر چند اندیشۂ جاں ہے بہت لیکن اس کارِ محبت میں
کوئی پل بے کار نہیں جاتا، کوئی بات فضول نہیں ہوتی

ترے وصل کی آس بدلتے ہوئے ترے ہجر کی آگ میں جلتے ہوئے
کب دل مصروف نہیں رہتا، کب جاں مشغول نہیں ہوتی

ہر رنگِ جنوں بھرنے والو، شب بیداری کرنے والو
ہے عشق وہ مزدوری جس میں محنت بھی وصول نہیں ہوتی

جمال احسانی


اور یہ بحر کون سی ہے یہ تو وارث بھائی ہی بتا سکیں گے۔ :)
۔

جمال احسانی کی دو خوبصورت غزلیں




جو تو گیا تھا تو تیرا خیال رہ جاتا
ہمارا کوئی تو پُرسانِ حال رہ جاتا

بُرا تھا یا وہ بھلا، لمحۂ محبت تھا
وہیں پہ سلسلہ ماہ و سال رہ جاتا

بچھڑتے وقت ڈھلکتا نہ گر اُن آنکھو ں سے
اُس ایک اشک کا کیا کیا ملال رہ جاتا

تمام آئینہ خانے کی لاج رہ جاتی
کوئی بھی عکس اگر بے مثال رہ جاتا

گر امتحانِ جنوں میں نہ کرتے قیس کی نقل
جمالؔ سب سے ضروری سوال رہ جاتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک فقیر چلا جاتا ہے پکّی سڑک پر گاؤں کی
آگے راہ کا سناٹا ہے پیچھے گونج کھڑاؤں کی

آنکھوں آنکھوں ہریالی کے خواب دکھائی دینےلگے
ہم ایسے کئی جاگنے والے نیند ہوئے صحراؤں کی

اپنے عکس کو چھونے کی خواہش میں پرندہ ڈوب گیا
پھر کبھی لوٹ کر آئی نہیں دریا پر گھڑی دعاؤں کی

ڈار سے بچھڑا ہوا کبوتر، شاخ سے ٹوٹا ہوا گلاب
آدھا دھوپ کا سرمایہ ہے، آدھی دولت چھاؤں کی

اُس رستے پر پیچھے سے اتنی آوازیں آئیں جمال
ایک جگہ تو گھوم کے رہ گئی ایڑی سیدھے پاؤں کی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جمال احسانی کی ستارۂ سفر سے انتخاب

عظمی جون کی ایک نظم



مرے دل سے لے کر
ترے سنگِ دل تک
گماں کی چٹاں
اور
حقیقت کی سل تک
جو آنکھوں سے میری
ترے کالے تل تک
بُنا تھا محبت کی مکڑی نے جالا
زمانے کے ہاتھوں نے
وہ تارِ الفت
یہاں سے وہاں تک
سبھی نوچ ڈالا
تو دونوں ہی دل اب رہا ہو چکے ہیں
چٹان اور سل بھی جدا ہو چکے ہیں
وہ آنکھیں وہ تل بھی فنا ہو چکے ہیں
وہ چاہت نہ جانے کدھر کو گئی ہے
وہ مکڑی بھی شاید کہیں کھو گئی ہے

عظمی جون

بولتے کیوں نہیں مرے حق میں



ہمارے وزیرِ اعظم صاحب کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے پہلے منتخب وزیرِ اعظم ہیں اور وہ کسی چور دروازے سے نہیں آئے ہیں ۔ وہ عوام کے ووٹ سے آئے ہیں اور عوام کے حقیقی نمائندے ہیں۔

کچھ اسی قسم کے راگ ہمارے دوسرے ممبرانِ اسمبلی الاپتے نظر آتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ آخر عوامی نمائندے کیا ہوتے ہیں اور اسمبلی میں عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والے یہ لوگ کس طرح سے عوامی نمائندگی کر رہے ہیں کہ عوام کی مشکلات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور عوام کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔

ہمارے ہاں کرپشن اپنے عروج پر ہے، امداد کے نام پر بھیک لی جا رہی ہے، معیشت قرض کے ستونوں پر استوار ہے۔ لاقانونیت نے پورے ملک کو جکڑا ہواہے۔ کسی شہر میں آٹھ دس لوگوں کا مرنا کسی گنتی شمار میں نہیں ہے۔ پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔مہنگائی اور بے روزگاری اپنی انتہا پر پہنچی ہوئی۔ تعلیم کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے کہ تعلیمی ادارے بھی سیاسی جماعتوں کے اکھاڑے بنے ہوئے ہیں۔ بجلی اور گیس کی شدید قلت ہے۔ مستقبل کی منصوبہ بندی صرف سوئس بنک اکاونٹ بھرنے تک محدود ہے۔

قصہ کوتاہ ، پاکستان اور پاکستانی اس وقت انتہائی ابتر حالات میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔ جبکہ ہمارے نام نہاد عوامی نمائندے، اعلیٰ سے اعلیٰ گاڑیوں میں گھومتے ہیں۔ فائیو اسٹار ہوٹلز میں کھاتے ہیں، منرل واٹر پیتے ہیں۔ لاکھوں کروڑوں روپے اپنی ذات پر خرچ کرتے ہیں۔ بجلی ،ایندھن اور بے شمار مراعات سرکار کی طرف سے ۔ عیش کیجے جناب ۔ آ پ تو عوامی نمائندے ہیں۔ یہ سب کچھ آپ کا ہی تو ہے۔

عوامی نمائندے خوش ہوتے ہیں تو ذاتی مفاد کے حصول پر ۔ اور ناراض ہوتے ہیں تو بھی اپنے ہی نقصان پر۔ ہماری سیاسی جماعتیں حکومت میں شامل ہوتی ہیں تو سیٹس اور وزرارتیں ملنے پر ۔ الگ ہوتی ہیں تب بھی سیٹیں اور وزراتیں ہی ان کے پیشِ نظر ہوتی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو کرپشن ، بے روزگاری، لوڈ شیڈنگ یا کسی اور عوامی مسئلے کی وجہ سے حکومت سے علیحدہ ہو یا ان مسائل کے حل کی شرط پر حکومت میں شامل ہو۔

شاید جون ایلیا نے ایسے ہی کسی ہمدرد سے کہا ہوگا:

بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا

افسوس کہ یہ ہمارے عوامی نمائندے ہیں ۔ کاش یہ نہ ہوتے تو شاید عوامی مسائل بھی نہ ہوتے کہ یہ مسائل حل کرنے والے ہرگز نہیں ہیں بلکہ ہر مسئلے کی جڑ یہی لوگ ہیں۔ ہر وہ شخص جو آ ج اسمبلی میں بیٹھا ہے چاہے وہ کسی بھی سیاسی، علاقائی یا لسانی گروہ سے تعلق رکھنے والا ہو وہ اس قوم کا مجرم ہے۔ یہ بات واقعی ٹھیک ہے کہ ہمارے وزیرِ اعظم کسی چور دروازے سے نہیں آئے ہیں لیکن ہمیں یقین ہے کہ جاتے ہوئے وہ اور اُن کے حواری اسی دروازے کا انتخاب کریں گے۔

سنگ ہوا کے کھیل رچانا بھول گئے

غزل

سنگ ہوا کے کھیل رچانا بھول گئے
شام ڈھلی تو دیپ جلانا بھول گئے

دل آنگن میں دھوپ غموں کی کیا پھیلی
جگنو آنکھوں میں مسکانا بھول گئے

تعبیروں کی تعزیروں کا خوف رہا
وہ سمجھے ہم خواب سنانا بھول گئے

صدیاں جیسے لمحوں میں آ ٹھہری ہوں
لمحے جیسے آنا جانا بھول گئے

جب قحطِ اجناس ٹلا احساس ہوا
بستی والے پھول اُگانا بھول گئے

سِسکی سِسکی ہونٹوں کو مسکان کیا
پلکوں پلکوں باڑ لگانا بھول گئے

تیز ہوا کو خاک اُڑانا یاد رہا
بادل کیوں بارش برسانا بھول گئے

بے صبری یادیں رستے میں آن ملیں
ہم دیوانے گھر بھی جانا بھول گئے

بادِ صبا نے اور دریچے دیکھ لئے
ہم بھی احمدؔ گیت سہانا بھول گئے

محمد احمدؔ


ایمان کا شیشہ


رمضان کے دن تھے ہمارے ایک دوست دن کے وقت سرِ عام کھاتے پیتے نظر آئے۔ ہم نے عرض کیا محترم کیا آج روزہ نہیں رکھا ۔ کہنے لگے۔ "بھائی! آ پ نے کیا سمجھا ہوا ہے۔ کیا ہمارا روزہ اتنا کچا ہے کہ چھوٹی موٹی چیزیں کھانے سے ٹوٹ جائے گا"۔ اسی طرح ایک دن وضو کرکے آئے ہی تھے کہ کچھ "ان ۔ فیشن " الفاظ کی جگالی کرنے لگے۔ ہم نے پھر وضو کی پختگی کی بابت پوچھ لیا۔ جواب وہی تھا یعنی ہمارا وضو اتنا بھی گیا گزرا نہیں کہ ان معمولی باتوں سے متاثر ہو جائے۔

ہماری جگہ کوئی اور ناعاقبت اندیش ہوتا تو کہتا کہ "بھائی ! ایمان شیشے کی طرح ہوتا ہے اور شیشے پر مذاق میں بھی اگر کوئی خراش ڈالی جائے تو بال پڑجاتاہے۔اور شیشے پر بال پڑ جائے تو مشکل سے ہی جاتا ہے "

لیکن ہم اتنے تنگ نظر تھوڑی ہیں ہم مسکرا دیئے اور کہنے لگے "ا ٓپ سے اللہ ہی پوچھے گا "۔ اس بات کا مطلب بھی کم و بیش یہی نکلتا ہے جو نا عاقبت اندیش بھائی نے کہی۔

ہم نے اب تک کی زندگی میں ایک ہی کام کی چیز سیکھی ہے اور وہ ہے اعتدال۔ یہ اعتدال کوئی آسان چیز ہر گز نہیں ہے لیکن اگر اعتدال سے کام لیا جائے تو ہر مسئلہ کی شدت از خود آدھی ہو سکتی ہے۔ سو ہم اور ہمارے دوست اگر اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں تو بہت سے مسائل اور تلخیاں پیدا ہی نہ ہوں۔

محاصرہ ۔ ایک لازوال نظم

آج سے دس بارہ سال پہلے اکیڈمی ادبیات نے مزاحمتی ادب کے نام سے ایک انتخاب شائع کیا تھا۔ اس انتخاب میں ایسا کلام شائع کیا گیا تھا جو مختلف ادوار میں ظلم و استبداد کے خلاف لکھا گیا۔ اس میں زیادہ تر کلام وہ ہے جو اُن ادوار میں لکھا گیا جب فوجی آمریت نے ملک پر شب خون مارا۔ اس موضوعاتی انتخاب میں بہت عمدہ کلام پیش کیا گیا ہے۔ اس اعلیٰ ترین انتخاب میں بھی جو نظم مجھے سب سے زیادہ پسند آئی وہ کوئی اور نہیں بلکہ احمد فرازؔ کی محاصرہ ہی تھی۔

محاصرہ ایسی نظم ہے جو ظلم و جبر کے خلاف واضح اور واشگاف انکار ہے جو تمام تر جبر، خوف اورسمجھوتے کی شکل میں ملنے والی مراعات ، مفادات اور دیگر ترغیبات کے باوجود حق و باطل کا ادارک نہیں کھونے دیتی۔ یہاں فراز صاحب نے اُن لوگوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے جو یوں تو حق کی بات کرتے ہیں لیکن مفادات کے حصول کے لئے کسی بھی بے ضمیر سے سمجھوتے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ۔ میرے نزدیک محاصرہ اپنے موضوع کے اعتبار سے اب تک کی بہترین تخلیق ہے۔ اور اس پر احمد فراز کو جتنا بھی سراہا جائے کم ہے لیکن بقول فراز صاحب کے:

تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ
ہم بھی کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ

سو فراز صاحب جیسی قد آور شخصیت کو سراہنا بھی سورج کو چراغ دکھانے والی ہی بات ہے لیکن کیا کریں کہ ۔ بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر۔

یوں تو گوگل پر تلاش کی کل دباتے ہی محاصرہ کے بے شمار ربط نظر آئیں گے لیکن یہ وہ نظم ہے کہ میری خواہش ہے کہ جب لوگ ویب پر اس نظم کو تلاش کریں تو سینکڑوں روابط میں سے ایک ربط میرے بلاگ کا بھی ہو۔ مزید کچھ کہے بغیر ایک بار پھر اس خوبصورت تخلیق سے فیضیاب ہوتے ہیں۔

محاصرہ

میرے غنیم نے مجھکو پیام بھیجا ہے
کہ حلقہ زن ہیں میرے گرد لشکری اُسکے
فصیل شہر کے ہر برج، ہر مینارے پر
کماں بدست ستادہ ہیں عسکری اُس کے
وہ برقِ لہر بجھا دی گئی ہے جسکی تپش
وجودِ خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی
بچھا دیا گیا بارود اسکے پانی میں
وہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھی
سبھی دریدہ دہن اب بدن دریدہ ہوئے
سپرد ِدار و رسن سارے سر کشیدہ ہوئے
تمام صوفی و سالک، سبھی شیوخ و امام
امید ِلطف پہ ایوان ِکجکلاہ میں ہیں
معززین ِعدالت حلف اٹھانے کو
مثال سائلِ مبرم نشستہ راہ میں ہیں
تم اہلِ حرف کے پندار کے ثنا گر تھے
وہ آسمان ِہنر کے نجوم سامنے ہیں
بس اس قدر تھا کہ دربار سے بلاوا تھا
گداگران ِسخن کے ہجوم سامنے ہیں
قلندرانِ وفا کی اساس تو دیکھو
تمھارے ساتھ ہے کون؟‌آس پاس تو دیکھو
تو شرط یہ ہے جو جاں کی امان چاہتے ہو
تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو
وگرنہ اب کہ نشانہ کمان داروں کا
بس ایک تم ہو، سو غیرت کو راہ میں رکھ دو
یہ شرط نامہ جو دیکھا، تو ایلچی سے کہا
اسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے

کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے
تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے
تو یہ جواب ہے میرا میرے عدو کے لیے
کہ مجھکو حرصِ کرم ہے نہ خوفِ خمیازہ
اسے ہے سطوتِ شمشیر پہ گھمنڈ بہت
اسے شکوہِ قلم کا نہیں ہے اندازہ

میرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا
جو اپنے شہر کو محصور کر کے ناز کرے
میرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا
جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے

میرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا
جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے
میرا قلم نہیں اس دزدِنیم شب کا رفیق
جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے

میرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کی
جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے
میرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کی
جو اپنے چہرے پہ دوہرا نقاب رکھتا ہے
میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
میرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے

اسی لیے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا
جبھی تو لوچ کماں کا، زبان تیر کی ہے
میں کٹ گروں یا سلامت رہوں، یقیں ہے مجھے
کہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا
تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
میرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا

احمد فرازؔ


ایک خیال کی رو میں ۔۔۔

ایک خیال کی رو میں ۔۔۔

کہیں سنا ہے
گئے زمانوں میں
لوگ جب قافلوں کی صورت
مسافتوں کو عبور کرتے
تو قافلے میں اک ایسا ہمراہ ساتھ ہوتا
کہ جو سفر میں
تمام لوگوں کے پیچھے چلتا
اور اُس کے ذمّے یہ کام ہوتا
کہ آگے جاتے مسافروں سے
اگر کوئی چیز گر گئی ہو
جو کوئی شے پیچھے رہ گئی ہو
تو وہ مسافر
تمام چیزوں کو چُنتا جائے
اور آنے والے کسی پڑاؤ میں ساری چیزیں
تما م ایسے مُسافروں کے حوالے کردے
کہ جو منازل کی چاہ دل میں لئے شتابی سے
اپنے رستے تو پاٹ آئے
پر اپنی عجلت میں کتنی چیزیں
گرا بھی آئے ، گنوا بھی آئے

میں سوچتا ہوں
کہ زندگانی کے اس سفر میں
مجھے بھی ایسا ہی کوئی کردار مل گیا ہے
کہ میرے ہمراہ جو بھی احباب تھے
منازل کی چاہ دل میں لئے شتابی سے
راستوں پر بہت ہی آگے نکل گئے ہیں
میں سب سے پیچھے ہوں اس سفر میں
سو دیکھتا ہوں کہ راستے میں
وفا، مروت، خلوص و ایثار، مہر و الفت
اور اس طرح کی بہت سی چیزیں
جگہ جگہ پر پڑی ہوئی ہیں
میں اپنے خود ساختہ اُصولوں کی
زرد گٹھری میں ساری چیزیں سمیٹتا ہوں
اور اپنے احساس کے جلو میں
ہر اک پڑاؤ پہ جانے والوں کو ڈھونڈتا ہوں
پر ایسا لگتا ہے
جیسے میرے تمام احباب منزلوں کو گلے لگانے
بہت ہی آگے نکل گئے ہیں
یا میں ہی شاید
وفا، مروت، خلوص و ایثار، مہر و الفت
اور اس طرح کی بہت سی چیزیں سمیٹنے میں کئی زمانے بتا چکا ہوں۔


محمد احمدؔ

کھڑکی ۔ اسد محمد خان

کھڑکی
اسد محمد خان

دوسروں کو بہادری کا سبق دینے والوں پر بھی کبھی ایسا وقت آ جاتا ہے ۔ ایک کھڑکی کی کہانی جس کے پار بحران کے ایک لمحے کا حل تھا۔ افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، شاعر اور کہانی کار اسد محمد خان کی کہانی ۔جسے صرف وہی لکھ سکتے تھے۔ آپ کے اعلٰی ذوق کی نذر:

میں نے پہلی بار اسے اپنے محلے کے ایک کلینک میں دیکھا تھا مجھے ڈاکٹر سے کسی قسم کا سرٹیفیکیٹ لینا تھا اور وہ انجکشن لگوانے آئی تھی۔ آئی کیا بلکہ لائی گئی تھی۔ ایک نوجوان جو شاید چچا یا ماموں ہوگا اسے گود میں اُٹھائے سمجھا رہا تھا کہ سوئی لگوانے میں زیادہ تکلیف تو نہیں ہوتی البتہ ٹافی کھانے کو ملتی ہے اور امی پر اور دوسرے لوگوں پر رعب الگ پڑتا ہے۔ بات یقینا اس کی سمجھ میں آ رہی تھی۔ رعب شاید سمجھ میں نہ آ رہا ہوگا لیکن ٹافی کا سن کر ذرا حوصلہ مند دکھائی دی تھی پھر تھوڑی دیر بعد وہ فکر مند اور خوف زدہ ہو کر ادھر اُدھر دیکھنے لگتی تھی جدھر سے کمپاؤنڈر کو سوئی لے کر آنا تھا۔

چچا ماموں کی نشست ایسی تھی کہ وہ میری طرف پیٹھ کئے بیٹھا تھا اس کے پہلو اور بانہوں سے جیسے کھڑکی سی بن گئی تھی اور اس کھڑکی میں سے اس کا پورا چہرہ، اس کا ایک ایک تاثر مجھے صاف نظر آ رہا تھا۔ کھڑکی سے دیکھتے ہوئے ایک بار میری نظریں اس سے ملیں۔ اس وقت چچا ماموں اُسے سمجھا رہا تھا کہ تیرا بھائی جان تو انجکشن لگواتے ہوئے روتا ہے۔ ڈرتا ہے نا! اس لئے روتا ہے۔ تو بالکل نہیں ڈرتی، بڑی بہادر ہے۔

جس وقت چچے ماموں نے یہ بات کہی ٹھیک اس وقت منی بانہوں کی کھڑکی سے جھانک کر مجھے دیکھ رہی تھی۔ میں نے آہستہ سے سر ہلا دیا۔ اس بات سے اتفاق کیا۔ منی نے جب دیکھا کہ چچا ماموں کے علاوہ دوسرا کوئی اسے بہادر سمجھ رہا ہے تو وہ ہولے سے مسکرادی۔ میں نے دیکھا کہ وہ اترا کر مسکرائی تھی۔ جیسے مجھے اپنی بہادری کے رعب میں لے رہی ہو۔ جتنی دیر میں کمپاؤنڈر آیا اتنی دیر میں منی اشاروں میں مجھے سمجھا چکی تھی کہ اصل میں وہ بڑی بہادر ہے۔ انجکشن ونجکشن سے بالکل نہیں ڈرتی۔

میں نے بھی بانہوں کی کھڑکی سے رازدارانہ دیکھتے ہوئے سر ہلا ہلا کر اس بات سے اتفاق کیا اور بتا دیا کہ میں پوری طرح اس کی بہادری کے رعب میں آگیا ہوں۔ منی نے اپنی نو دریافت دلیری کے غرور میں ذرا سر اٹھایا تھا کہ سامنے سوئی اُٹھائے کمپاؤنڈر آن کھڑا ہوا۔ بہادری اور خوف کی کسی درمیانی کیفیت میں اس نے ہلکی سی آواز نکالی اور گھبرا کر بانہوں کی کی کھڑکی کے پار شاید مدد کے کے لئے میری طرح دیکھا۔ اس وقت کمپاؤنڈر نے اس کے بازو پر اسپرٹ میں بھیگی روئی ملنا شروع کردی تھی۔ منی متوقع تکلیف کے خیال سے منہ بسورنے لگی ٹھیک اس وقت جب کہ وہ آواز سے رو سکتی تھی میری نظریں اسکی نظریں پھر ملیں۔ میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے دونوں ہاتھوں کی مٹّھیاں بنا کر ہمت والوں کی سی شکل بنائی اور مسکرا کر شاید آنکھوں کے کسی اشارے سے اسے یاد دلایا کہ وہ تو بڑی بہادر ہے۔

بحران کے اس لمحے میں بھی منی نے میری بات سمجھ لی۔ اس نے منہ بسورنا بند کردیا اور آواز نکالے بغیر انجکشن لگوالیا۔ میں نے اپنی شہادت کی انگلی اور انگوٹھا ملا کر تعریف کا اشارہ دیا۔ اور منی اپنے اس چچا یا ماموں کی گود میں چڑھی ہوئی کلینک سے چلی گئی۔

کمپاؤنڈر اور منی کا چچا یا ماموں حیران تھے مگر مجھ کوئی حیرت نہیں ہوئی تھی منی واقعی بہادر تھی۔

اس بات کو بہت دن ہوگئے ۔ میں یہ واقعہ اور منی کا چہرہ کچھ کچھ بھول چلا تھا۔ باہر کڑواہٹ اور دکھ ہو تو میٹھے چہرے اور بھولی باتیں کب تک یاد رہ سکتی ہیں۔ میں خود ایک بحران سے گزر رہا تھا میرے والد دماغ کی رگ پھٹ جانے پر طویل بے ہوشی میں تھے۔ وہ ملک سے باہر تھے میں اپنے سفری کاغذات کی تیاری میں مصروف تھا۔ ساتھ ہی دن میں کئی کئی بار ان کے تیمارداروں سے ٹیلی فون پر رابطہ قائم کرنا چاہتا تھا تھا مگر مجھے ناکامی ہورہی تھی۔ کاغذات بننے میں دیر تھی۔ نہ وہاں جا سکتا تھا نہ کسی سے بات کر سکتا تھا۔ عجیب بے بسی کا عالم تھا۔ تیسرے چوتھے دن عزیزوں کی طرف سے ایک تار آجاتا تھا۔ حالت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی دعا کیجے۔ پھر آخری تار آیا کہ خدا مغفرت کرے وہ گزر گئے۔

میں بچپن کے ایک دوست کے ہمراہ تار گھر پہنچا اور جیسے ہوش و حواس سے عاری کوئی شخص ہوتا ہے بالکل اسی طرح بلند آواز میں لوگوں کو اپنے ذاتی نقصان کے بارے میں بتانے لگا پھر وہیں بیٹھے بیٹھے میں نے اپنے چھوٹوں کے نام ایک تار لکھا جس میں انہیں تسلّی دینے کے بجائے یہ لکھا کہ سفر کا ارادہ میں نے ترک کردیا ہے کیونکہ اب کوئی فائدہ نہیں۔ جس کے لئے سفر کرتا وہی نہ رہے۔

میں یہ سب کچھ کر رہا تھا اور اس بات سے بے خبر تھا کہ تار گھر کی بنچ پر بیٹھے ہوئے ایک نوجوان کے شانے سے لگی کوئی بچی اچک اچک کر مجھے دیکھنے یا متوجہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ لوگ سامنے سے ہٹے تو دیکھنے کے لئے ایک کھڑکی سی بن گئی۔ میں نے اس کھڑکی میں سے پہچان لیا۔ یہ منی تھی۔ منی مجھے دیکھ کر مسکرائی۔ اس کے چھوٹے سے ذہن نے اسے بتا دیا تھا کہ مجھے ضرور کوئی پریشانی ہے یا شاید میں ڈرا ہوا ہوں۔ اس لئے وہ مسکرائی اور اس نے ننھی ہتھیلیاں اپنی آنکھوں پر ملیں جیسے مجھے آنسو پونچھ لینے کی ترغیب دے رہی ہو پھر اس نے دونوں ہاتھوں کی مٹّھیاں بنا کر ہمت والوں کی سی شکل بنائی اور مسکرانے لگی۔ بالکل اسی طرح جیسے مہینوں پہلے میں اسے ہمت دلا کر مسکرایا تھا۔

میں نے دکھ بڑھانے والا وہ تار پھاڑ کر پھینک دیا اور نئے تار میں اپنے چھوٹوں کو لکھا کہ حوصلہ رکھو، میں آ رہا ہوں۔


بشکریہ ۔ روزنامہ اُمت



زبیر رضوی کی چار نظمیں

زبیر رضوی کی چار نظمیں

صفا اور صدق کے بیٹے

پرانی بات ہے
لیکن یہ انہونی سی لگتی ہے
سوادِ شرق کا اک شہر
تاریکی میں ڈوبا تھا
اچانک شور سا اُٹھا
زمیں جیسے تڑخ جائے
ندی میں باڑھ آجائے
کوئی کوہِ گراں جیسے
جگہ سے اپنی ہٹ جائے
بڑا کہرام تھا
خلقت
متاع و مال سے محروم، ننگے سر
گھروں سے چیخ کر نکلی
مگر آلِ صفا و صدق کے خیمے نہیں اُکھڑے
وہ اپنی خواب گاہوں سے نہیں نکلے
روایت ہے
صفا و صدق کے بیٹے
ہمیشہ رات آتے ہی
حصارِ حمد
اپنے چار جانب کھینچ لیتے تھے
مقدس آیتوں کو اپنے پہ
دم کرکے سوتے تھے
روایت ہے
بلائیں اُن کے دروازوں سے
واپس لوٹ جاتی تھیں
سوادِ شرق کا وہ شہر
اُس شب ڈھیر تھا لیکن
صفا و صدق کی اولاد کے خیمے نہیں اُکھڑے!



بنی عمران کے بیٹے

پُرانی بات ہے
لیکن یہ انہونی سی لگتی ہے
بنی عمران کے بیٹوں کی
شادابی کا عالم تھا
امارت اور ثروت
ان کو ورثے میں ملی تھی
اُن کے تہہ خانے جواہر سے بھرے ہوتے
کنیزیں، داشتائیں
جسم کی انمول سوغاتیں لئے
کھل کھیلتی رہتیں
مصاحب رات بھر دیوان خانوں میں
بنی عمران کی عیّاشیوں کی
داستاں کہتے
رو پہلی صحبتوں کا تذکرہ کرتے
اچانک مخملیں پردے سرکتے
اک پری چہرہ
الف لیلیٰ کے سب سے خوبصورت
جسم کی صورت
تھرکتی ، دف بجاتی
خواہشوں کو دعوتیں دیتی
بنی عمران کے بیٹے
اشارہ کرتے اور سارے مصاحب
سر جھکائے ، تخلیہ کرتے
بنی عمران کے بیٹے
نشے میں چُور
اپنی خواب گاہوں سے نکلتے
صبح سے پہلے
سپیروں کو بُلاتے
اور الف لیلیٰ کے
سب سے خوبصورت جسم کو
سانپوں سے ڈسواتے
مصاحب داخلہ پاتے
بنی عمران کی بدکاریوں کو
نیچے تہ خانے میں جاکر دفن کر آتے!




قصہ گورکنوں کا

پُرانی بات ہے
لیکن یہ انہونی سے لگتی ہے
وہ ایسے گورکن تھے
چار، چھ قبریں
ہمیشہ مرنے والوں کے لئیے تیار رکھتے تھے
کوئی مرتا
تو وہ روتے
سیہ چادر لپیٹے مرنے والے کی
بہت سی خوبیوں کا تذکرہ کرتے
اعزّا، اقربا سے تعزیت کرتے
جنازہ اپنے کاندھوں پر اُٹھاتے
اور دفناتے ہوئے ہر رسم کی تکمیل کرواتے
وہ ایسے گورکن
چالیسویں دن تک
سبھی تازہ بنی قبروں پہ
ہر شب روشنی کرتے
جمعہ کے دن
سپارے پڑھ کے
مرحومین کے حق میں
دعائے مغفرت کرتے
مگر اک دن کہ جب
قبریں پُرانی اور خستہ ہو چکی تھیں
اُن کی اولادوں نے
قبروں پر لگی لوحیں اُکھاڑیں
تازہ قبروں کے لئے ہر سو
زمیں ہموار کی
وہ بھی
بزرگوں کی طرح روتے
سیہ چادر لپیٹے مرنے والے کے
اعزّا، اقربا سے تعزیت کرتے
جنازہ اپنے کاندھوں پر اُٹھاتے
اور دفناتے ہوئے ہر رسم کی تکمیل کرواتے
مگر جب رات آتی تو
وہ قبریں کھودتے
اور تازہ دفنائی ہوئی لاشوں کو
لاوارث بنا کر
شہر کے مردہ گھروں کو بیچ آتے تھے۔





انجام قصّہ گو کا

پُرانی بات ہے
لیکن یہ انہونی سی لگتی ہے
وہ شب وعدے کی شب تھی
گاؤں کی چوپال
پوری بھر چکی تھی
تازہ حقّے ہر طرف رکھے ہوئے تھے
قصّہ گو نے
ایک شب پہلے کہا تھا
صاحبو!
تم اپنی نیندیں بستروں پر چھوڑ کر آنا
میں کل کی شب تمھیں
اپنے سلف کا
آخری قصّہ سناؤں گا
جگر کو تھام کر کل رات تم چوپال میں آنا
وہ شب وعدے کی شب تھی
گاؤں کی چوپال پوری بھر چکی تھی
رات گہری ہو چلی تھی
حقّے ٹھنڈے ہوگئے تھے
لالٹینیں بجھ گئی تھیں
گاؤں کے سب مرد و زن
اُس قصّہ گو کی راہ تکتے تھک گئے تھے
دُور تاریکی میں گیدڑ اور کتے
مل کے نوحہ کر رہے تھے
دفعتاً بجلی سی کوندی
روشنی میں سب نے دیکھا
قصّہ گو برگد تلے
بے حس پڑا تھا
اُس کی آنکھیں
آخری قصّہ سنانے کی تڑپ میں جاگتی تھی
پر زباں اُس کی کٹی تھی
قصّہ گو کا، ان کہا
اپنے سلف کا
آخری قصّہ لبوں پر کانپتا تھا!








بشکریہ:

مکالمہ ۶۔ کراچی
جون ۔۔۔ ستمبر ۲۰۰۰

دل میں ٹھہرنے والے ۔ عزم بہزاد

دل میں ٹھہرنے والے ۔ عزم بہزاد

عہدِ طفلی میں جب اسکول کی اسمبلی میں اقبال کی دعا "لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنّا میری" پڑھی جاتی تھی تو میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ زندگی شمع کی صورت کیوں اور کیوں کر ہوسکتی ہے اور کامیاب زندگی کے استعارے کے لئے شمع کا ہی انتخاب کیوں کیا گیا۔ اس وقت تو یہ باتیں بتانے والا کوئی نہیں تھا لیکن آہستہ آہستہ اقبال کی اس دعا کے مفاہیم آشکار ہوتے رہے اور آج بھی جب خاکسار اس حرفِ شکستہ کے توسط سے محترم عزمؔ بہزاد صاحب سے اپنے تعلقِ خاطر کے اظہار کی سعی کر رہا ہے تو عزم بھائی کےحوالے سے ذہن میں آنے والا پہلا خیال "شمع کی صورت زندگی " کا ہی ہے۔

آج سے چند برس پہلے ایک شام جب میں اپنے عمزاد بھائی اور استاد محترم عبید الرحمٰن عبیدؔ کے ساتھ محوِ گفتگو تھا تو اُنہوں نے عزم بہزادؔ اور لیاقت علی عاصمؔ کا ذکر بہت محبت سے کیا اور اُن کے کچھ اشعار بھی سُنائے۔ عبید بھائی کی زبانی عزم بھائی کی معروف غزل "میں عمر کے رستے میں چپ چاپ بکھر جاتا" کے کچھ اشعار سن کر بہت لطف آیا، عبید بھائی نے اس غزل کا پس منظر بھی بتایا ۔ بس یہیں سے خاکسار عزم بہزاد ؔ کی شاعری کے سحر میں گرفتار ہوگیا اور آج بھی ہے۔ پھر خدا کا کرنا یہ ہوا کہ عزم بھائی انٹرنیٹ پر اردو کی خوبصورت محفل، محفلِ سخن پر بھی جلوہ افروز ہونے لگے اور اس طرح مجھ ایسے طفلِ مکتب کو بھی عزم بھائی کی محبت اور رہنمائی کی دولت ہاتھ آگئی ۔

جب تک عزم بھائی سے راہ و رسم نہیں تھی میرا اُن کا رشتہ ایک قاری اور اس کے پسندیدہ شاعر کا رشتہ تھا ، مختلف ذرائع سے عزم بھائی کا کلام پڑھ کر میں اُن کی شاعری کاگرویدہ ہو چکا تھا لیکن جب عزم بھائی سے راہ و رسم بڑھی اور اُن سے گفتگو اور ملاقات ہوئی تب مجھے اندازہ ہوا کہ عزم بہزاد کی خوبصورت شاعری کے پس منظر میں رہنے والی شخصیت اس سے کہیں زیادہ متاثر کن اور دل موہ لینے والی ہے۔ عزم بھائی بے حد محبت کرنے والے اور انتہائی شفیق انسان تھے۔ لہجہ بہت دھیما ، بہت میٹھا اور انداز ہمیشہ سمجھانے والا ۔

عزم بھائی سے میری ملاقاتیں تو بہت کم رہیں لیکن محفلِ سخن کے توسط سے اُن سے گفتگو کا سلسلہ ضرور رہا یہ گفتگو زیادہ تر محفل کے اراکین (بشمول خاکسار) کے کلام پر ہوتی تھی یا کبھی کبھی ذاتی پیغامات کے ذریعے۔ عزم بھائی کسی بھی دوست کے کلام کے محاسن پر خصوصی توجہ دیتے تھے اور اچھے کلام پر دل کھول کر داد دیا کرتے تھے لیکن جہاں کہیں اصلاح اور بہتری کی گنجائش نکلتی اُس کی نشاندہی ضرور کرتے تاہم اصلاح میں بھی عزم بھائی کا انداز اتنا نرم اور عاجزانہ ہوتا کہ کسی کو بھی گراں نہیں گزرتا تھا۔ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے عزم بھائی سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ساتھ ساتھ میری نالائقی بھی کہ میں عزم بھائی کی محافل سے بہت ہی کم فیضیاب ہو سکا۔

جیسا کہ میں نے شروع میں لکھا عزم بھائی کا مزاج شمع کی مانند زندگی والا ہی تھا، سب کے لئے مشعلِ راہ اور اپنی جان گھلانے والا۔ اُن کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی تھی کہ نوجوان شاعر بہتر سے بہتر لکھنے کی کوشش کریں اسی لئے وہ رہنمائی اور مثبت تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے اور صرف ستائشِ باہمی کے لئے منعقد کی جانے والی محافل کے بے حد خلاف تھے۔ نئے آنے والوں سے اُن کا رویّہ کیسا تھا اس کی ایک جھلک آپ کو اُن کی اس نظم میں ملے گی۔

مجھے تم سے محبت ہوگئی تھی

مجھے تم سے محبت ہو گئی تھی
کہ تم اپنے اکیلے پن کا دکھ لے کر
مرے رستے میں آئے تھے

تمھاری آنکھ سے تنہائی کا آزار بہتا تھا
سو میں نے تم کو اُن چہروں کی قربت بخش دی
ایسے مناظر تم پہ روشن کردئیے
جن پر بصارت ناز کرنے کے بہانے ڈھونڈ تی ہے
تمھاری گفتگو مایوس سناٹوں کا جنگل تھی
سو میں نے تم کو ایسی محفلوں کی اولیں صف میں بٹھایا
ایسے لوگوں سے ملایا
جہاں ہونٹوں کی جنبش نو جواں قصوں میں ڈھلتی ہے
قہقہوں کی رسم چلتی ہے
تمھیں اپنی سماعت سے بھی شکوہ تھا
کہ تم نے نغمگی کے دن نہیں دیکھے
حرف کو آواز کے پہلو میں خوابیدہ نہیں پایا
سو میں بھی گنگاتی صبح کی مانند لہجوں کو
تمھارے ذوق کی محروم خلوتوں میں بلا لایا
کئی رس گھولتی شامیں تمھاری روح میں بیدار کر ڈالیں
مگر ہونا وہی تھا
مگرہونا وہی تھا
جو تعلق جوڑنے والوں کا دیرینہ مقدر ہے
گذشتہ رات تم نے مجھ کو بے مصرف سمجھ کر
پنے ہنگاموں کی جانب ہی نظر رکھی
لہٰذا اب اجازت دو
مرے رستے کی جانب غور سے دیکھو
وہ دیکھو ایک درماندہ مسافر
میری قربت کے لئے بے چین لگتا ہے
تم اس کی آنکھ سے تنہائی کا آزار بہتا دیکھ سکتے ہو
اور اس کی گفتگو مایوس سناٹوں کا جنگل ہے
اسے اپنی سماعت سے بھی شکوہ ہے
مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے

عزم بہزاد

اس نظم کا انجام شاید کچھ لوگوں کے لئے عجیب ہو لیکن اگر شمع کی مانند زندگی والی بات ذہن میں رکھی جائے تو یہی فطری انجام ہے۔ یہ ہی اچھے لوگوں کی پہچان ہے کہ وہ چاہیں بھی تو بھلائی کرنا نہیں چھوڑ سکتے۔ کیا خوب کہا ہے غلام محمد قاصر صاحب نے کہ:

کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

عزم بھائی کیسے تھے ؟ کیا سوچتے تھے ؟ کیا خیالات تھے، کتنے مجلسی اور کتنے تنہائی پسند تھے یہ بات تو وہ لوگ ہی بتا سکیں گے جو اُن کے بہت زیادہ قریب تھے لیکن اس سے کہیں زیادہ اُن کی شاعری اُن کے بارے میں بتاتی ہے۔ وہ کیا سوچتے تھے۔ کتنے مجلسی تھے ،کتنے تنہائی پسند تھے، اقدار سے کتنی محبت تھی، روایت سے کتنا لگاؤ تھا اور روایت میں رہتے ہوئے جدت کے کیا انداز تھے۔ساتھ ساتھ مختلف سماجی معاملات پر اُن کے ہاں کیا ردِ عمل رہا۔ یہ اور اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کہ سچی شاعری شاعر کے دُروں کی آئنہ دار ہوتی ہے ۔ اُن کے کچھ شعر دیکھتے ہیں۔

مجھے کل اچانک خیال آگیا آسماں کھونہ جائے
سمند ر کو سر کرتے کرتے کہیں بادباں کھو نہ جائے


تہذیبِ غم کے ساتھ عزم بھائی کی وابستگی دیکھیے کہ یہ ایک شاعر کا سب سے بڑا اساسہ ہوتی ہے۔

یہ ہنستا ہوا شور سنجیدگی کے لیے امتحاں ہے
سو محتاط رہنا کہ تہذیبِ آہ وفغاں کھو نہ جائے


دوستوں سے محبت کا انداز:

میں اپنے ارادوں کی گٹھری اٹھائے کہیں جا نہ پایا
ہمیشہ یہ دھڑکا رہا محفلِ دوستاں کھو نہ جائے

اُن کی محافل کا ایک عکس:

یہ قصّوں کی رم جھم میں بھیگا ہوا حلقہِ گفتگو ہے
یہاں چپ ہی رہنا کہ تاثیرِ لفظ و بیاں کھو نہ جائے

اور یہ نصیحت نئے آنے والوں کے لئے۔

یہ بازار ِ‌نفع و ضرر ہے یہاں بے توازن نہ ہونا
سمیٹو اگر سود تو دھیان رکھنا زیاں کھو نہ جائے

کچھ اور اشعار دیکھیے:


میں خزاں کا آئینہ تھا اپنی ویرانی سے خوش
تم نے مجھ میں باغ ڈھونڈا، میرا صحرا جل گیا

خواب میں دیکھا تھا خود کو راکھ ہونے کے قریب
نیند سے چونکا تو باہر کا تماشا جل گیا

حکم تھا آنکھیں کھلی رکھّوں کہ شمعیں بجھ نہ جائیں
میں بھی اس خوبی سے جاگا جس نے دیکھا جل گیا


اور کچھ اشعار دیکھیے:


یہ رفتگاں کا نوحہ ہے، وہ جو ہر حال میں اعلٰی اقدار کی بقا کے لئے کوشاں رہے۔


کہاں گئے وہ لوگ جنہیں ظلمت منظور نہیں تھی
دیا جلانے کی کوشش میں‌خود جل جانے والے

ایک بار خاکسار نے عزم بھائی سے محفلِ سخن میں عدم حاضری کی بابت دریافت کیا تو اُنہوں نے فراق گورکھپوری کا یہ خوبصورت شعر سنایا:


ماتم کی انجمن ہو کہ بزمِ نشاط ہو
شامل ہیں اک ادائے کنارہ کشی سے ہم


یہی رنگ آپ کو عزم بھائی کے ان شعروں میں بھی نظر آئے گا۔


کسی تماشے میں رہتے تو کب کے گم ہوجاتے
اک گوشے میں رہ کر اپنا آپ بچانےو الے

ہمیں کہاں ان ہنگاموں میں تم کھینچے پھرتے ہو
ہم ہیں اپنی تنہائی میں رنگ جمانے والے


کچھ اور اشعار:


اس رونق میں شامل سب چہرے ہیں خالی خالی
تنہا رہنے والے یا تنہا رہ جانے والے

اپنی لے سے غافل رہ کر ہجر بیاں کرتے ہیں
آہوں سے ناواقف ہیں یہ شور مچانے والے

عزم یہ شہر نہیں ہے نفسا نفسی کا صحرا ہے
یہاں نہ ڈھونڈو کسی مسافر کو ٹھیرانے والے


یہ غزل عزم بھائی کے اسلوب اور طرز کی نمائندہ ہے:


وسعتِ چشم کو اندوہِ بصارت لکھا
میں نے اک وصل کو اک ہجر کی حالت لکھا

میں نے لکھا کہ صفِ دل کبھی خالی نہ ہوئی
اور خالی جو ہوئی بھی تو ملامت لکھا

یہ سفر پاؤں ہلانے کا نہیں آنکھ کا ہے
میں نے اس باب میں رکنے کو مسافت لکھا

لکھنے والوں نے تو ہونے کا سبب لکھا ہے
میں نے ہونے کو نہ ہونے کی وضاحت لکھا

اشک اگر سب نے لکھے میں نے ستارے لکھے
عاجزی سب نے لکھی میں نے عبادت لکھا

میں نے خوشبو کو لکھا دسترسِ گمشدگی
رنگ کو فاصلہ رکھنے کی رعایت لکھا

زخم لکھنے کے لئے میں نے لکھی ہے غفلت
خون لکھنا تھا مگر میں نے حرارت لکھا

میں نے پرواز لکھی حدِ فلک سے آگے
اور بے بال و پری کو بھی نہایت لکھا

حسنِ گویائی کو لکھنا تھا لکھی سرگوشی
شور لکھنا تھا سو آزارِ سماعت لکھا


اس کے باوجود انکساری دیکھیے۔

اتنے دعوؤں سے گذر کر یہ خیال آتا ہے
عزم کیا تم نے کبھی حرفِ ندامت لکھا


مزید کچھ اور اشعار دیکھیے:

جو بات شرطِ وصال ٹہھری، وہی ہے اب وجہِ بدگمانی
ادھر ہے اس بات پر خموشی، ادھر ہے پہلی سے بے زبانی

کسی ستارے سے کیا شکایت کہ رات سب کچھ بجھا ہوا تھا
فسردگی لکھ رہی تھی دل پر، شکستگی کی نئی کہانی

عجیب آشوبِ وضع داری، ہمارے آعصاب پر ہے طاری
لبوں پہ ترتیبِ خوش کلامی، دلوں میں تنظیمَ نوحہ خوانی

ہمارے لہجے میں یہ توازن بڑی صعوبت کے بعد آیا
کئی مزاجوں کے دشت دیکھے، کئی رویّوں کی خاک چھانی


اور آخر میں وہ خوبصورت غزل جس سے اس مضمون کا عنوان مستعار لیا گیا ہے جو میری پسندیدہ ترین غزلوں میں سے ایک ہے ۔

اب کہاں ہیں نگہِ یار پہ مرنے والے
صورتِ شمع سرِ شام سنورنے والے

رونقِ شہر انہیں اپنے تجسس میں نہ رکھ
یہ مسافر ہیں کسی دل میں ٹھہرنے والے

کس قدر کرب میں بیٹھے ہیں سرِ ساحلِ غم
ڈوب جانے کی تمنا میں اُبھرنے والے

جانے کس عہدِ طرب خیز کی اُمید میں ہیں
ایک لمحے کو بھی آرام نہ کرنے والے

عزم یہ ضبط کے آداب کہاں سے سیکھے
تم تو ہر رنگ میں لگتے تھے بکھرنے والے

ایسے بے شمار خوبصورت اشعار آپ کو جا بجا عزم بھائی کے کلام میں ملیں گے جنہیں طوالت کے خوف سے میں نے اس مضمون میں شامل نہیں کیا ہے۔

۴ مارچ ۲۰۱۱ سے پہلے کبھی اس بات کا خیال تک نہ آیا تھا کہ عزم بھائی یوں اچانک ایک دن ہم سے ایسے روٹھ جائیں گے کہ پھر کبھی ملاقات کا سوال ہی نہیں رہے گا۔ اُس صبح جب عبید بھائی کی زبانی جب یہ خبر سُنی کہ عزم بھائی اب ہم میں نہیں رہے تو کافی دیر تک تو سمجھ ہی نہ آیا کہ کیا بات ہو رہی ہے لیکن ہونی بہر کیف ہو چکی تھی ۔ دو چاردن تو کچھ سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا کریں اور کیا نہیں، کیا کہیں اور کیا نہ کہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اب بھی اس بارے میں کچھ کہنے کا یارا نہیں ہے ۔

کہاں گئے وہ لہجے دل میں پھول کھلانے والے
آنکھیں دیکھ کے خوابوں کی تعبیر بتانے والے

بس یوں سمجھ لیجے کہ جو خاکسار کی سمجھ میں آیا لکھ دیا ورنہ عزم بھائی سے جو محبت اور شفقت ہمیں ملی اُسے دیکھا جائے تو "حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا"۔

رہی بات اُن کی شاعری کی سو اُس پر بات کرنا میرا مقام ہی نہیں ہے۔

دعا ہے اللہ رب العزت عزم بھائی کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔ (آمین)

اے ہم نفسانِ محفلِ ما
رفتید ولے از نہ دلِ ما

ویل ڈن آفریدی الیون

ویل ڈن آفریدی الیون۔۔۔۔!

آپ کچھ بھی کہیں پاکستانی قوم ہمت و جذبے میں کسی سے بھی کم نہیں ہے۔ پاکستان کے حالات جیسے ہیں وہ پاکستانی ہی جانتے ہیں لیکن پھر بھی پاکستانی قوم کبھی مایوس نہیں ہوتی ، ہمت نہیں ہارتی اور بڑے سے بڑا صدمہ سہہ کر بھی پھر سے کھڑی ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہی کچھ کرکٹ میں بھی ہوا۔ کرکٹ سے بھی پاکستانی قوم بہت اُنسیت رکھتی ہے اور پاکستان میں کرکٹ سے محبت کی شاندار تاریخ ملتی ہے۔ آج بھی جب سازشیوں نے یہاں کے میدانوں کو سونا کردیا اور سوچا کہ اس طرح وہ پاکستان میں کرکٹ ختم کردیں گے پاکستان میں کرکٹ جنون اپنے عروج پر ہے۔

اس قدر بُرے حالات میں بھی پاکستانی ٹیم عالمی مقابلے کے لئے میدان میں اُتری اور اُن لوگوں کو حیران و پریشان کردیا جو اس بات کی توقع بھی نہیں رکھتے تھے کہ پاکستان جیسی ٹیم کوارٹر فائنل کے لئے کوالیفائی کرے گی۔ شاہد آفریدی کی باصلاحیت قیادت میں اس ٹیم نے ناصرف کوارٹر فائنل بلکہ سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی اورآسٹریلیا جیسی نا قابلِ شکست ٹیم کو بھی بتا دیا کہ زخمی شیر بھی شیر ہی ہوتا ہے۔ پہ در پہ کامیابی اور سیمی فائنل تک رسائی کے لئے ہم پاکستانی ٹیم کو بھر پور خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

سیمی فائنل میں گو کہ پاکستان کی کارکردگی مایوس کُن رہی ۔ لیکن ہمیں زیادہ افسوس اس بات کا رہا کہ میڈیا نے اس کھیل کو جنگ بنا دیا ۔ ایسا کرنے سے وہ لوگ بھی جذباتی طور پر اس کھیل سے وابسطہ ہو گئے جو عموماً اس طرح کی سرگرمیوں میں نہیں پڑتے۔ کھیل سے پہلے ہی عجیب جارحانہ اور مخاصمانہ جذبات پیدا کردیے گئے کہ جس سے ساری فضا مکدر ہو کر رہ گئی۔ رہی سہی کسر ہمارے "محبِ وطن " رہنماؤں نے پہنچ کر پوری کر دی جن کے سایہ عاطفت میں ملک کا یہ حال ہوگیا ہے، کرکٹ سیمی فائنل میں بھی کچھ نہ کچھ اثر تو ضرور رہا ہوگا۔

بہر کیف، ہم پھر بھی قومی کرکٹ ٹیم بالخصوص شاہد خان آفریدی کو شاندار کامیابیوں پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔


ویل ڈن آفریدی الیون

ترا انتظار بھی اب نہیں

غزل

نہ ہوا نصیب قرارِ جاں، ہوسِ قرار بھی اب نہیں
ترا انتظار بہت کیا، ترا انتظار بھی اب نہیں

تجھے کیا خبر مہ و سال نے ہمیں کیسے زخم دیئے یہاں
تری یادگار تھی اک خلش، تری یادگار بھی اب نہیں

نہ گلے رہے نہ گماں رہے، نہ گزارشیں ہیں نہ گفتگو
وہ نشاطِ وعدہء وصل کیا، ہمیں اعتبار بھی اب نہیں

کسے نذر دیں دل و جاں بہم کہ نہیں وہ کاکُلِ خم بہ خم
کِسے ہر نفس کا حساب دیں کہ شمیمِ یار بھی اب نہیں

وہ ہجومِ دل زدگاں کہ تھا، تجھے مژدہ ہو کہ بکھر گیا
ترے آستانے کی خیر ہو، سرِ رہ غبار بھی اب نہیں

وہ جو اپنی جاں سے گزر گئے، انہیں کیا خبر ہے کہ شہر میں
کسی جاں نثار کا ذکر کیا، کوئی سوگوار بھی اب نہیں

نہیں اب تو اہلِ جنوں میں بھی، وہ جو شوق شہر میں عام تھا
وہ جو رنگ تھا کبھی کو بہ کو، سرِ کوئے یار بھی اب نہیں

جون ایلیا

گول میز



یہ کیا ہے ؟
یہ گول میز ہے ۔

اس کی کیا ضرورت تھی بھلا؟
اس پر گول میز کانفرنس ہوگی ، گفتگو ہوگی۔

لیکن گفتگو تو چوکور میز پر بھی ہوسکتی ہے گول میز کی ہی تحصیص کیوں؟
ہاں ہو تو سکتی ہے لیکن جو بات گول میز میں ہے وہ چوکور میں کہاں۔

وہ کیسے ؟
وہ ایسے کہ گول میز پر بیٹھ کر چاہے کتنی ہی دیر گفتگو ہوتی رہے نہ گفتگو کا کوئی سرا ہاتھ آتا ہے اور نہ ہی میز کا۔ پھر گول میز پر بیٹھ کر باعثِ شرم میرا مطلب ہے قابلِ گرفت باتوں کو گول کر جانے کا بھی اپنا ہی مزہ ہے۔ (شرم و غیرت کا ذکر تو ہم نے محاورتاً ہی کر دیا ورنہ تیمور کے گھر سے جو چیز رخصت ہوئی تھی وہ ہمارے ایوانِ اقتدار میں تو ہمیشہ سے ہی ناپید ہے۔ ) ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ گول میز پر کسی بھی موضوع کو ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر گھمانا بہت آسان ہو جاتا ہے۔

اچھا ! اور کیا خصوصیات ہیں اس گول میز کی ؟
اس گول میز کا محیط اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ مقابل چاہے بھی تو آپ پر دست درازی نہیں کر پاتا ، رہی بات گلدان اُٹھا کے مارنے کی تو اس کا اندازہ لگانا بھی بہت مشکل ہوتا ہے کہ حریف آپ کے عین شمال میں ہے یا قدرے جنوب میں۔ ہاں البتہ گول میز کے مدار میں دشنام طرازی کے سیارے باآسانی گھمائے جا سکتے ہیں ۔

تو پھر وہ کون کون سے موضوعات ہے جنہیں گول مول کرنے کے لئے اس گول میز کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
اصل قصہ اسیرِ افرنگ کا ہے کہ جس کی زنجیر کا حلقہ ہمارے حکام کے ذہنوں میں موئے آتش دیدہ کی طرح پگھلا چلا جارہا ہے۔

تو اس میں گول میز کا کیا کام؟
صاحب بہادر کی دھمکیاں سہارنے کے لئے کوئی تو سہارا چاہیے نا۔۔۔۔! گول میز ہی سہی ۔

پھر کیا اسیرِ افرنگ کو رہائی ملنے کا امکا ن ہے ؟
یوں تو یہ کام پہلے دن ہی ہو جانا تھا کہ صاحب بہادر کو ناراض کرنے کا خطرہ کوئی بھی مول نہیں لینا چاہتا لیکن ہمارے حکام خوفِ فسادِ خلق سے ڈرے ہوئے ہیں کہ یہ سال قوم کی مرضی کے خلاف چلنے والوں کے لئے کوئی اتنا اچھا نہیں لگ رہا، بس اب گول میز کا ہی سہارا رہ گیا ہے کہ شاید سارے چور مل کر کوئی چور راستہ نکال لیں اور یہ سارا مسئلہ ہی گول مول ہو جائے۔


پسِ مرگِ تمنا کون دیکھے


غزل


پسِ مرگِ تمنا کون دیکھے
مرے نقشِ کفِ پا کون دیکھے

کوئی دیکھے مری آنکھوں میں آکر
مگر دریا میں صحرا کون دیکھے

اب اس دشتِ طلب میں کون آئے
سرابوں کا تماشہ کون دیکھے

اگرچہ دامنِ دل ہے دریدہ
دُرونِ نخلِ تازہ کون دیکھے

بہت مربوط رہتا ہوں میں سب سے
مری بے ربط دُنیا کون دیکھے

شمارِ اشکِ شمعِ بزم ممکن
ہمارا دل پگھلتا کون دیکھے

میں کیا دیکھوں کہ تم آئے ہو ملنے
کھلی آنکھوں سے سپنا کون دیکھے

میں جیسا ہوں، میں ویسا تو نہیں ہوں
مگر جیسا ہوں ویسا کون دیکھے

محمد احمدؔ


تیری ہنسی کا راز


خوشی اورغم انسان کی زندگی کا حصہ ہیں بلکہ شاید یوں کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ انسان کی زندگی ہی خوشی اور غم سے عبارت ہے۔ یوں تو آنسو غم اور ہنسی خوشی کی نمائندگی کرتی ہے لیکن جب جب صورتحال پیچیدہ ہوتی ہے یہ دونوں ایک دوسرے کے فرائض بھی سنبھال لیتے ہیں۔

پہلے پہل جب صدر زرداری منصبِ صدارت پر متمکن ہوئے تھے تو مسکراہٹ اُن کے چہرے پر کھیلتی رہتی تھی یہ مسکراہٹ اس قدر دلنشیں واقع ہوئی تھی کہ اُنہیں دیکھ کر ٹوتھ پیسٹ کے اشتہاربھی شرماجاتے تھے۔ لیکن جب اُنہوں نے دیکھا کہ شاید اس ملک میں، وہ اکیلے ہی مسکرا رہے ہیں اور خلقت درج ذیل شعر کی مجسم تصویر نظر آنے لگی ہےتو اُنہوں نے نمائش کے اوقات میں واضح کمی کا اہتمام کیا۔

آنسو مرے تو خیر وضاحت طلب نہ تھے
تیری ہنسی کا راز بھی دُنیا پہ فاش ہے
محسن نقوی

بات کچھ ایسی آگئی تھی کہ ہم بھی ہنسی خوشی موضوع سے سرک گئے بہرکیف ذکر ہو رہا تھا اُس صورتحال کا جب آنسو خوشی اور ہنسی بے بسی کی ترجمانی کرتی ہے۔ہمارے ملک کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہوگئی ہے ۔ روز روز کی گریہ وزاری آخر کہاں تک ممکن ہے سو مملکتِ خداداد کے عوام ڈھیٹ ہوگئے ہیں۔ بے حس کہوں گا تو شاید لینے کے دینے پڑ جائیں سو ڈھیٹ ہی ٹھیک ہے کیونکہ ڈھٹائی میں جو مزا ہے وہ بے حسی میں کہاں۔ سو اب ہم بھی بات بات پر ہنستے ہیں اور مسکراتے ہیں کہ

کچھ نہ کچھ ہوتی ہے تسکین زیادہ نہ سہی
درد بڑھتا ہے تو ہنستا ہی چلا جاتا ہوں

یہی کچھ آج صبح بھی ہوا جب ہم ٹی وی پر شہ سرخیاں دیکھ رہے تھے تو دو خبروں پر بڑی ہنسی آئی۔پہلی خبر وزیرِ اعظم صاحب کی مشترکہ مفاد کونسل کے اجلاس میں شرکت کے بارے میں تھی اور دوسری صدر صاحب کی عالمی توانائی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

مشترکہ مفاد کونسل کا نام سُن کر نیا کچھ نہیں لگا بلکہ ایسا محسوس ہوا کہ ہماری سیاست اور ایوان کو اُن کی صحیح پہچان مل گئی۔ صدر صاحب کے بارے میں بھی خیال آیا کہ وہ عالمی توانائی کانفرنس میں کس منہ سے شرکت کر رہے ہیں اور پاکستان کی نمائندگی کیونکر ممکن ہو سکے گی۔ بہرحال ہم ہنس کر رہ گئے کہ ہم اس کے علاوہ کریں تو کیا کریں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک