اقوالِ سعید - حکیم محمد سعید کے سنہرے اقوال

اقوالِ سعید 
حکیم محمد سعید کے اقوال

اہلیانِ پاکستان کے لئے حکیم محمد سعید صاحب کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ حکیم محمد سعید صاحب نہ صرف  ایک مایہ ناز حکیم تھے بلکہ مملکتِ پاکستان کے باسیوں کے لئے ایک عظیم مصلح بھی تھے۔ آپ نے مذہب ، طب و حکمت پر بے شمار کتب تصنیف و تالیف کیں۔ آپ کا قائم کردہ ادارہ ہمدرد پاکستان آج بھی اپنی ساکھ کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ 

حکیم محمد سعید  نے ہی بچوں کے معروف رسالے  ہمدرد نونہال کا اجراء کیا جو  اطفالِ وطن کی  تعلیم و تربیت میں  مشعلِ راہ کا کام کرتا رہا ہے۔



یہاں ہم حکیم محمد سعید صاحب کے مختصر کتابچے اقوالِ سعید سے کچھ اقوال رقم کریں گے جو نا صرف نونہالانِ پاکستان بلکہ پاکستان کے ہر شہری کے لئے بہت اہم ہیں۔

جس طرح سورج ہر انسان کو بلا امتیا ز اپنی روشنی سے منوّر کرتا ہے اسی طرح ایک انسان کو دوسرے انسان کو روشنی دینا چاہیے۔ روشن ضمیری صرف ایک انسا ن کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کو روشنی میں رکھتی ہے۔ انسان جب اپنی ذات کے لئے اضافی آرام و آسائش حاصل کرنے کا خواہاں ہو گا، اُسے خودی اور خود داری کو قربان کرنا پڑے گا۔ قومیں اور افراد چراغِ حُرّیت اپنے خون سے روشن رکھتے ہیں۔ دولت کی بے پناہ محبّت خباثت کی دلیل ہے اس لئے کہ یہ ہمیشہ بُرائی کی طرف لے جاتی ہے۔ مسلمان کی حیاتِ مستعار کا ہر لمحہ قرانِ حکیم کی تعلیمات کی روشنی میں بسر ہونا چاہیے اور اُس کی ہر آن اتّباعِ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عبارت ہونا چاہیے۔ تعلیم ایک ارتقائی عمل ہے جس کے ذریعے اقوام و اُمم اپنے مقصدِ حیات سے آگاہ ہو کر اس کے حاصل کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرتی ہیں۔
حکیم محمد سعید

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ شکریہ

شکریہ

ہفتہٴ غزل کے اختتام پر ہم اپنے احباب کے شکر گزار ہیں کہ جن سے ہمیں بہت حوصلہ افزائی ملی۔

بالخصوص ہم راحیل فاروق بھائی کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے ناصرف ہفتہٴ غزل کے انعقاد پر ہماری حوصلہ افزائی فرمائی بلکہ اپنے گہر بار قلم سے ایک عدد مضمون بھی اس سلسلے میں رقم کیا۔ اس کے بعد ہم محمد تابش صدیقی بھائی کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں کہ اُنہوں نے پورے ہفتہ کم و بیش ہر پوسٹ پر ہماری حوصلہ افزائی فرمائی اور انتخاب پر اپنے رائے سے بھی نوازا۔



ہمارے عزیز برادران ذوالقرنین سرور المعروف نیرنگِ خیال بھائی اور بلال اعظم بھیا نے بھی ہفتہٴ غزل کے آغاز پرا پنے تبصروں سے اس موقع پر ہماری ہمت بندھائی۔ عزیزی فلک شیر بھائی سے بھی ہمیں گاہے گاہے کچھ نہ کچھ کر گزرنے کی ہمت ملتی رہتی ہے اور اس سلسلے میں بھی اُنہوں نے اپنے احباب کی توجہ ہفتہٴ غزل کی طرف مبذول فرما کر ہمیں حوصلہ بخشا۔

ہمیں اعتراف ہے کہ ہمارے مذکورہ اور غیر مذکورہ احباب کی حوصلہ افزائی نہ ہوتی تو ہمارا ہفتہٴ غزل بُری طرح فلاپ ہو جاتا جو اب اللہ کا شکر ہے کہ اچھی طرح فلاپ ہوا ہے۔ ☺☺☺

ہم اپنے بلاگ کے قارئین کے بھی شکر گزار ہیں کہ جو گاہے گاہے بلاگ پر آتے رہتے ہیں اور اُن کے تبصروں اور کبھی محض نقشِ قدم سے اُن کی آمد کے نشاں ملتے رہتے ہیں۔

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ یہ آرزو تھی تجھے گُل کے رُوبرُو کرتے ۔ خواجہ حیدر علی آتش

آج کی معروف غزل

یہ آرزو تھی تجھے گُل کے رُوبرُو کرتے
ہم اور بلبل ِبے تاب گفتگو کرتے

پیام بر نہ میّسر ہوا تو خوب ہوا
زبانِ غیر سے کیا شرحِ آرزو کرتے

مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ
کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے

ہمیشہ رنگ زمانہ بدلتا رہتا ہے
سفید رنگ ہیں آخر سیاہ مُو کرتے

لٹاتے دولتِ دنیا کو میکدے میں ہم
طلائی ساغر مئے نقرئی سبُو کرتے

ہمیشہ میں نے گریباں کو چاک چاک کیا
تمام عمر رفو گر رہے رفو کرتے

جو دیکھتے تری زنجیر زلف کا عالم
اسیر ہونے کی آزاد آرزو کرتے

بیاضِ گردنِ جاناں کو صبح کہتے جو ہم
ستارہء سحری تکمہء گلُو کرتے

یہ کعبہ سے نہیں بے وجہ نسبتِ رخ ِیار
یہ بے سبب نہیں مردے کو قبلہ رُو کرتے

سکھاتے نالہء شب گیر کو در اندازی
غمِ فراق کا اس چرخ کو عدو کرتے

وہ جانِ جاں نہیں آتا تو موت ہی آتی
دل و جگر کو کہاں تک بھلا لہو کرتے

نہ پوچھ عالمِ برگشتہ طالعی آتش
برستی آگ، جو باراں کی آرزو کرتے

خواجہ حیدر علی آتش

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ گردِ سفر میں بُھول کے منزل کی راہ تک ۔ امجد اسلام امجدؔ

غزل

گردِ سفر میں بُھول کے منزل کی راہ تک
پھر آ گئے ہیں لوگ نئی قتل گاہ تک

اِک بے کسی کا جال ہے پھیلا چہار سُو
اِک بے بسی کی دُھند ہے دل سے نگاہ تک

بالائے سطحِ آب تھے جتنے، تھے بے خبر
اُبھرے نہیں ہیں وہ کہ جو پہنچے ہیں تھاہ تک

اِک دُوسرے پہ جان کا دینا تھا جس میں کھیل
اب رہ گیا ہے صرف وہ رشتہ نباہ تک

اہلِ نظر ہی جانے ہیں کیسے اُفق مثال!
حدِّ ثواب جاتی ہے حدِّ گناہ تک

زنجیرِ عدل اب نہیں کھینچے گا کوئی ہاتھ
رُلنے ہیں اب تو پاؤں میں تاج و کُلاہ تک

پُھولوں سے اِک بھری ہوئی بستی یہاں پہ تھی
اب دل پہ اُس کا ہوتا نہیں اشتباہ تک

آتی ہے جب بہار تو آتی ہے ایک ساتھ
باغوں سے لے کے دشت میں اُگتی گیاہ تک

جانا ہے ہم کو خواب کی کشتی میں بیٹھ کر
کاجل سے اِک بھری ہُوئی چشمِ سیاہ تک

جذبات بجھ گئے ہوں تو کیسے جلے یہ دل
میرِ سپہ کا نام  ہے اُس کی سپاہ تک

امجدؔ اب اس زمین پہ آنے کو ہے وہ دن
عالم کے ہاتھ پہنچیں گے عالم پناہ تک

امجد اسلام امجدؔ


[ہفتہ ٴ غزل] ۔ عشّاق کو وہ کوھکنی یاد نہیں کیا ۔ مرتضیٰ برلاس

غزل

عشّاق کو وہ کوھکنی یاد نہیں کیا
اس شہر میں اب کوئی بھی فرہاد نہیں کیا

ملبوس جدا کیوں ہیں ، زبانیں ہیں جدا کیوں
ہم ایک قبیلے کے سب افراد نہیں کیا

ناداں، تُو ہمیں دیکھ کے گرداب میں خوش ہے
سیلاب کی زد پر تری بنیاد نہیں کیا

آنکھیں مری صدیوں سے کرن ڈھونڈ رہی ہیں
اِس ظلمتِ شب کی کوئی معیاد نہیں کیا

اُڑنے کے لئے کر دیا سمتوں کا تعیّن
زنجیر کٹی، پھر بھی ہم آزاد نہیں کیا

پھر جادہ ء پُر پیچ پہ لغزیدہ خرامی
ٹھوکر جو ابھی کھائی تھی وہ یاد نہیں کیا

مرتضیٰ برلاس

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ یہ پنگھٹوں کو کیا ہوا۔ جو چُپ سی لگ گئی انہیں ۔ اعجاز عبیدؔ


دوغزلہ
(قحط زدہ گاؤں میں غزل)

وہ ہولیاں منانے والے کس طرف چلے گئے
وہ تعزئے اٹھانے والے کس طرف چلے گئے

سویرے گاؤں کی فضا کا وہ دھواں کہاں گیا
وہ بیل دھول اڑانے والے کس طرف چلے گئے

یہ پنگھٹوں کو کیا ہوا۔ جو چُپ سی لگ گئی انہیں
وہ رنگ دل لبھانے والے کس طرف چلے گئے

پہاڑیوں پہ چرنے والی بکریاں کدھر گئیں
وہ بانسری بجانے والے کس طرف چلے گئے

وہ ’’پیاس پیاس‘‘ چیختی ٹٹہرباں کہاں گئیں
وہ ہنس موتی کھانے والے کس طرف چلے گئے

الاؤ جل رہا ہے اور لوگ سب خموش ہیں
وہ ماہیا سنانے والے کس طرف چلے گئے

تڑخ رہی ہے گرم دھرتی پیر کس طرف رکھیں
وہ میگھ راگ گانے والے کس طرف چلے گئے

----

وہ ہاتھ گدگدانے والے کس طرف چلے گئے
وہ بچے چہچہانے والے کس طرف چلے گئے

وہ چار دن کی چاندنی تھی یہ اندھیری رات ہے
وہ جگنو جگمگانے والے کس طرف چلے گئے

جو ہاتھ خشک بالوں کو سنوارتے تھے کیا ہوئے
سکوں کی نیند لانے والے کس طرف چلے گئے

کتابوں میں لکھا تھا، ایسے ہی یُگوں میں آئیں گے
وہ جو نبی تھے آنے والے ، کس طرف چلے گئے

ادھر تو شہرِ گریہ ہے ، فصیل کے اُدھر مگر
وہ ہونٹ مسکرانے والے کس طرف چلے گئے

ہر اک طرف پکار دیکھا کوئی بھی نہیں یہاں
وہ بستیاں بسانے والے کس طرف چلے گئے

اعجاز عبیدؔ

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ آئینہ اندھیروں کو دکھا کیوں نہیں دیتے ۔ مقبول نقشؔ

غزل

آئینہ اندھیروں کو دکھا کیوں نہیں دیتے
اک شمع سرِ دار جَلا کیوں نہیں دیتے 

پتھر بھی چٹختے ہیں تو دے جاتے ہیں آواز
دل ٹوٹ رہے ہیں تو صَدا کیوں نہیں دیتے

کب تک پسِ دیوار سِسکتے رہے انساں
شہروں کی فصیلوں کو گرا کیوں نہیں دیتے

پابندیء اظہار سے بات اور بڑھے گی
احساس کو سولی پہ چڑھا کیوں نہیں دیتے 

کیا میری طرح خانماں برباد ہو تم بھی 
کیا بات ہے، تُم گھر کا پتا کیوں نہیں دیتے

ہم کو تو نہیں یاد کبھی دل بھی دُکھا تھا
رنجش کا سبب تم بھی بُھلا کیوں نہیں دیتے 

ساحل پہ کھڑے ہیں جو غمِ دل کے سفینے 
یادوں کے سمندر میں بَہا کیوں نہیں دیتے

معلوم تو ہو شہر ہے یا شہرِ خموشاں
تم نقشؔ کسی در پہ صدا کیوں نہیں دیتے

مقبول نقشؔ

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ ہم اپنے آپ سے بیگانے تھوڑی ہوتے ہیں ۔ انور شعورؔ

غزل

ہم اپنے آپ سے بیگانے تھوڑی ہوتے ہیں
سرور  و کیف میں دیوانے تھوڑی ہوتے ہیں

گنا کرو نہ پیالے ہمیں پلاتے وقت
ظروف ظرف کے پیمانے تھوڑی ہوتے ہیں

براہِ راست اثر ڈالتے ہیں سچے لوگ
کسی دلیل سے منوانے تھوڑی ہوتے ہیں

جو لوگ آتے ہیں ملنے ترے حوالے سے
نئے تو ہوتے ہیں، انجانے تھوڑی ہوتے ہیں

ہمیشہ ہاتھ میں رہتے ہیں پھول اُن کے لئے
کسی کو بھیج کے منگوانے تھوڑی ہوتے ہیں

کسی غریب کو زخمی کرے کہ قتل کرے
نگاہِ ناز کو جُرمانے تھوڑی ہوتے ہیں

شعورؔ تم نے خدا جانے کیا کیا ہوگا
ذرا سی بات کے افسانے تھوڑی ہوتے ہیں

انور شعورؔ

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ پھر اِس سے قبل کہ بارِ دگر بنایا جائے ۔ طارق نعیم

غزل 

پھر اِس سے قبل کہ بارِ دگر بنایا جائے
یہ آئینہ ہے اسے دیکھ کر بنایا جائے

میں سوچتا ہوں ترے لامکاں  کی اس جانب
مکان کیسا بنے گا اگر بنایا جائے

ذرا ذرا سے کئی نقص ہیں ابھی مجھ میں 
نئے سرے سے مجھے گوندھ کر بنایا جائے

بہت سے لفظ پڑے حاشیوں میں سوچتے ہیں
کسی طرح سے عبارت میں در بنایا جائے

زمین اتنی نہیں ہے کہ پاؤں رکھ پائیں
دلِ خراب کی ضد ہے کہ گھر بنایا جائے

وہ جا رہا ہے تو جاتے ہوئے کو روکنا کیا
ذرا سی بات کو کیوں دردِ سر بنایا جائے

کہیں رُکیں گے تو طارق نعیم دیکھیں گے
سفر میں کیا کوئی زادِ سفر بنایا جائے

طارق نعیم

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ ہوا نے باندھ دیا رات سلسلہ ایسے

آج کی معروف غزل

ہوا نے باندھ دیا رات سلسلہ ایسے
بلا رہا ہے کوئی دور سے لگا ایسے

جہاں بھی دیکھو وہاں پھول کھلنے لگتے ہیں
زمیں پہ چھوڑ گیا کوئی نقشِ  پا ایسے

ہمیں لگا کہ کوئی شعر کہہ لیا ہم  نے
ذرا سی دیر کہیں کوئی مل گیا ایسے

سکوت ایسا کہ اب خاک تک نہیں اڑتی
ہوائیں بھول بھی سکتی ہیں راستہ ایسے

- نامعلوم -

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے۔ باصرؔ کاظمی

غزل

یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے
میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے

اس قدر ہجر میں کی نجم شماری ہم نے
جان لیتے ہیں کہاں کوئی ستارہ کم ہے

دوستی میں تو کوئی شک نہیں اُس کی پر وہ
دوست دشمن کا زیادہ ہے ہمارا کم ہے

صاف اظہار ہو اور وہ بھی کم از کم دو بار
ہم وہ عاقل ہیں جنہیں ایک اشارہ کم ہے

اتنی جلدی نہ بنا رائے مرے بارے میں
ہم نے ہمراہ ابھی وقت گزارا کم ہے

باغ اک ہم کو ملا تھا مگر اس کو افسوس 
ہم نے جی بھر کے بگاڑا ہے سنوارا کم ہے

آج تک اپنی سمجھ میں نہیں آیا باصرؔ
کون سا کام ہے وہ جس میں خسارہ کم ہے

باصرؔ کاظمی

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ سفر کے ساتھ مسافر کی دل لگی بھی گئی ۔ عبید الرحمٰن عبیدؔ

غزل

سفر کے ساتھ مسافر کی دل لگی بھی گئی 
جو شام آ گئی ، صحرا کی دل کشی بھی گئی

وہ جس پہ تکیہ کیا  سر کشیدہ موجوں  میں 
سو اب تو ہاتھ سے وہ ناؤ کاغذی بھی گئی

وہ خامشی کہ فقط میں ہی سُن رہا تھا جسے
دُروں کا شور بڑھا اور وہ خامُشی بھی گئی

ابھی سفینہ ٴ جاں ڈوبنے ہی والا تھا
کہ سر کشیدہ سی موجوں کی سرکشی بھی گئی

ہوا بھی تِیرہ شبی کی حلیف ہی ٹھیری
سحر سے پہلے چراغوں کی روشنی بھی گئی

اگرچہ دعوے بہت تھے کہ دوست ہیں ہم بھی 
پڑا جو اُن سے کبھی کام ،  دوستی بھی گئی

وہ تِیرہ شب سے اکیلے ہی لڑ رہا تھا عبیدؔ
دیا بُجھا تو ہواؤں کی برہمی بھی گئی

عبید الرحمٰن عبیدؔ

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ وہ کج کلہ جو کبھی سنگ بار گزرا تھا ۔ محمد یعقوب آسیؔ

غزل

وہ کج  کلہ جو کبھی سنگ بار گزرا تھا
کل اس گلی سے وہی سوگوار گزرا تھا

کوئی چراغ جلا تھا نہ کوئی در وا تھا
سنا رات گئے شہریار گزرا تھا

گہر جب آنکھ سے ٹپکا زمیں میں جذب ہوا
وہ ایک لمحہ بڑا باوقار گزرا تھا

جو تیرے شہر کو گلگوں بہار بخش گیا
قدم قدم بہ سرِ نوکِ خار گزرا تھا

وہ جس کے چہرے پہ لپٹا ہوا تبسم تھا
چھپائے حسرتیں دل میں ہزار گزرا تھا

جسے میں اپنی صدا کا جواب سمجھا تھا
وہ اک فقیر تھا، کرکے پکار گزرا تھا

ترے بغیر بڑے بے قرار ہیں، آسیؔ
ترا وجود جنہیں ناگوار گزرا تھا

محمد یعقوب آسی

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ کچھ اور سخن کر کہ غزل سلکِ گہر ہے! از راحیل فاروق

کچھ اور سخن کر کہ غزل سلکِ گہر ہے!
ہفتہ ٴ غزل کے لئے ہمارے عزیز دوست راحیل فاروق کا خصوصی مضمون

عالمی ادب کے تناظر میں دیکھا جائے تو غزل یوں معلوم ہوتی ہے جیسے جل پریوں کے جمگھٹ میں کوئی آسمانی پری سطحِ آب پر اتر آئی ہو۔ اجنبی اجنبی، وحشی وحشی، تنہا تنہا۔ جس کے حسنِ سوگوار پر لوگ ریجھ بھی جائیں اور سٹپٹا بھی جائیں۔ دیوانوں کو اس کا جمالِ بے ہمتا وجد میں لے آتا ہے اور فرزانوں کو اس کی ہئیتِ منفردہ فتنے میں ڈال دیتی ہے۔ کوئی سر دھنتا ہے اور کوئی پیٹتا ہے۔ سب سچے ہیں۔

غزل وہ بے نظیر صنفِ شاعری ہے جسے نظم کہنا ممکن نہیں۔ دنیا بھر کی اصنافِ شعر نظم ہی کی مختلف صورتیں ہیں جن میں کوئی خیال آہنگ اور قافیے کے التزام کے ساتھ اجمال یا تفصیل کے ساتھ باندھا جاتا ہے۔ رباعی اور قصیدے سے لے کر سانیٹ اور ہائیکو تک سب کی سب اصنافِ سخن اسی بحرِ جمالیات کی جل پریاں ہیں۔ مگر غزل چیزے دگر ہے۔ یہ جمالیات سے نکلی نہیں بلکہ الہام کی طرح اس پر نازل ہوئی ہے۔ اس سمندر کے رنگین چھینٹے اس کے دامنِ بیضا پر پڑتے تو ہیں مگر عرش کی پہنائیوں سے اس کا رشتہ منقطع نہیں کر سکتے۔ ممکن ہے کہ مجرد فلسفیانہ اور مذہبی خیالات کے اظہار کی غیر معمولی قوت اس میں اسی باعث پائی جاتی ہو۔

ارفع حقائق کو سادہ لفظوں میں بیان کرنے کی کوششیں یا مبالغے پر منتج ہوتی ہیں یا مغالطے پر۔ مگر کیا کیجیے کہ مناسبِ حال پیرایۂِ اظہار اور زیادہ بڑا امتحان ہے۔ ہر دو انتہاؤں سے بچتے ہوئے ہم زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ شاعری کی حدود کے اندر رہتے ہوئے غزل درحقیقت نظم کی نقیض ہے۔ یعنی نہ صرف یہ کہ نظم میں اور اس میں کوئی قدرِ مشترک نہیں بلکہ یہ دونوں ایسے معنوی بعد پر واقع ہوئی ہیں جس کی مثال ادبیات میں شاذ ہے۔ نظم کثرت کے اندر وحدت ہے اور غزل وحدت کے اندر کثرت!

غزل کی تقویم کچھ ایسی ہے کہ ہئیتی اعتبار سے تو وہ ایک وحدت ہوتی ہے مگر معنوی اعتبار سے نظموں کے ایک گلدستے کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا غزل کا ہر شعر ایک جداگانہ نظم ہے اور ایک نظم فی الاصل غزل کے ایک طویل شعر سے زیادہ کچھ نہیں۔ اقبالؔ علیہ الرحمۃ کی شہرۂِ آفاق نظم "شکوہ" اٹھائیے اور غالبؔ کے اس شعر کے سامنے رکھیے۔ بات کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگے گی۔


ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
گستاخئِ فرشتہ ہماری جناب میں!​

مگر اس سیدھی سادی سی حقیقت کی الٹی سیدھی تفہیمات نے بڑے بڑوں کی چیں بلوائی ہے اور اب بھی کئی ہیں کہ اس نیرنگی پر اعتراض کرتے ہیں اور اسے روحِ شاعری کے شایان نہیں سمجھتے۔ مگر ہم جس طرح اور جس قدر غزل کو سمجھتے ہیں اس لحاظ سے بہت رعایت بھی کریں تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ بدقسمت ہے وہ شخص جو غزل کا ذوق نہیں رکھتا اور نامکمل ہے وہ ادب جس میں اس صنف نے بار نہیں پایا۔ ایجاز اور شوخی سے لے کر تہہ داری اور آفاقیت تک الوانِ ادب میں کیا ہے جس کی تجسیم غزل میں نہیں؟ ہمیں پوری ایمان داری کے ساتھ نظریۂِ ادب، تنقید، جمالیات اور لسانیات وغیرہ کی دریافت کردہ کوئی وقیع قدر ایسی نظر نہیں آتی جس کی کامل ترجمانی غزل میں نہ ہو چکی ہو۔ بلکہ ہم تو یہاں تک کہنے کو تیار ہیں کہ ایسے سب اصولوں کی بیک وقت متحمل بھی صرف اور صرف غزل ہی ہو سکتی ہے۔ کسی اور صنفِ ادب کی یہ تاب نہیں کہ وہ مثلاً ایجاز اور اطناب کے جلوے ایک ہی شہ پارے میں یکجا کر سکے۔

غزل کی یہ تکثیریت بجائے خود بڑی معنیٰ خیز اور عالم فریب ہے۔ یعنی شاعر ایک شعر میں وصال کی امید پر رقص کرتا ہے تو دوسرے شعر میں ہجر کی یاس اسے مفلوج کر ڈالتی ہے۔ نا آشنایانِ راز یہیں سے دھوکا کھاتے ہیں اور اسے غیر فطری یا وحشیانہ خیال کرتے ہیں۔ محرمِ درونِ خانہ کے نزدیک یہی سیمابی نہ صرف غزل بلکہ خود اس کارخانۂِ فطرت کا بھی جوہر ہے جس کی ترجمانی غزل کرتی ہے۔ ایک بالغ نظر اور باشعور شخص، خواہ وہ کسی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتا ہو، گواہی دے گا کہ انسان کے افکار اور وجود ایک شرارِ جستہ سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے۔ ادھر ایک خیال آتا ہے اور ادھر اس کے دامن سے ایک اور ٹپک پڑتا ہے اور ذہنِ انسانی کو کشاں کشاں کسی اور سمت لیے جاتا ہے۔ وہاں پہنچتا نہیں کہ راہ کی بوقلمونیاں ایک نئی منزل کا اشارہ دے دیتی ہیں۔ ادھر کو چلتا ہے تو ناگہاں کوئی اور خیال وارد ہو کر راہ مارتا ہے۔ اس مظہر کو ماہرینِ نفسیات شعور کی رو (stream of consciousness) سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ ایک قدرتی اور فطرتی بہاؤ ہے جس میں رکاوٹ جنون کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ جنون خیالات کے ایک نکتے پر منجمد یا مرتکز ہو جانے کے سوا کچھ اور نہیں!

حیرت ہے کہ مغربی اکابرینِ ادب کو شعور کی رو سے ادب میں استفادے کا خیال بیسویں صدی میں جا کر آیا اور یہ استفادہ کیا بھی گیا تو ایسا بھونڈا کہ بجائے خود دیوانے کی بڑ معلوم ہوتا ہے۔ متغزلین کو دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ عرصۂِ دراز سے اس راہ کے شہسوار ہیں۔ اور شہسوار بھی ایسے کہ جن کی اڑائی ہوئی گرد بھی شعور کی رو کے تحت لکھنے والے مصنفین کے لیے سرمۂِ مفتِ نظر کی حیثیت رکھتی ہے۔ غزل کے مطلع سے لے کر مقطع تک احساسات اور افکار کا ایک دریا ہے جو بہتا چلا جاتا ہے اور میدانِ ہستی کے ذرے ذرے کو ساتھ بہائے لیے جاتا ہے۔ کیا ہے جو اس کی دست برد میں نہیں؟

بعض کا خیال ہے کہ غزل گو کو قافیے اور ردیف کی قید کہیں کی اینٹ، کہیں کا روڑا اٹھا کر بھان متی کا کنبہ جوڑنے پر مجبور کرتی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ نہیں۔ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ ایک اوسط درجے کے شخص کے لیے نظم لکھنا درحقیقت غزل لکھنے سے زیادہ آسان ہے۔ اس کی صاف صاف وجہ یہ ہے کہ ایک خیال کا کسی مناسبِ حال ہئیت میں موزوں تفصیل کے ساتھ اظہار کرنا کسی غیر معمولی لیاقت کا تقاضا نہیں کرتا مگر آٹھ دس اشعار میں آٹھ دس خیالات کو کمالِ ایجاز و بلاغت کے ساتھ بیان کرنا پتا پانی کر دیتا ہے۔

اس سے مترشح ہوتا ہے کہ غزل کا حقیقی شاعر تخلیقی اور فکری وفور کے اعتبار سے باقی شعرا پر ایک غیرمعمولی فوقیت رکھتا ہے۔ وہ خیالات، احساسات اور اسالیب کی ایسی فراوانی سے بہرہ ور ہوتا ہے جو اظہارِ فن کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو گویا ایک نئے موقع کے طور پر دیکھتی ہے۔ جہاں زمینِ غزل نے کوئی ایسی کروٹ لی کہ جس پر بحر، قافیے یا ردیف کی غرابت کے باعث مرگِ فن کا شبہ ہو، وہیں ایک طرفہ خیال اور ایک نادر احساس جو نہاں خانۂِ دل میں گویا ازل سے اسی انتظار میں بیٹھا تھا، نکل کر مسکرانے لگا۔ متغزلین کے دیوان اٹھا کر دیکھیے۔ آپ کو اندازہ ہو گا کہ فکر اور احساس کا تنوع کیا شے ہے۔ بالفاظِ دیگر، انسان کیا شے ہے اور کائنات کیا شے ہے۔ یہ بصیرت آپ کو نظم نہیں دے سکتی!

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ میں کچھ دنوں میں اِسے چھوڑ جانے والا تھا ۔ ادریس بابر

غزل 

میں کچھ دنوں میں اِسے چھوڑ جانے والا تھا
جہاز غرق ہوا جو خزانے والا تھا

گلوں سے بوئے شکست اٹھ رہی ہے، نغمہ گرو!
یہیں کہیں کوئی کوزے بنانے والا تھا

عجیب حال تھا اِس دشت کا، میں آیا تو
نہ خاک تھی نہ کوئی خاک اُڑانے والا تھا

تمام دوست الاؤ کے گرد جمع تھے، اور
ہر ایک اپنی کہانی سنانے والا تھا

کہانی، جس میں یہ دنیا نئی تھی، اچھی تھی
اس اس پہ وقت، برا وقت، آنے والا تھا

بس ایک خواب کی دوری پہ ہے ہو شہر جہاں
میں اپنے نام کا سکہ چلانے والا تھا

شجر کے ساتھ مجھے بھی ہلا گیا، بابر
وہ سانحہ جو اُسے پیش آنے والا تھا

ادریس بابر

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ اپنے خوں سے جو ہم اک شمع جلائے ہوئے ہیں ۔ سحر انصاری

غزل

اپنے خوں سے جو ہم اک شمع جلائے ہوئے ہیں
شب پرستوں پہ قیامت بھی تو ڈھائے ہوئے ہیں

جانے کیوں رنگِ بغاوت نہیں چھپنے پاتا
ہم تو خاموش بھی ہیں سر بھی جھکائے ہوئے ہیں

محفل آرائی ہماری نہیں افراط کا نام
کوئی ہو یا کہ نہ ہو آپ تو آئے ہوئے ہیں

وقت کو ساعت و تقویم سمجھنے والوں
وقت ہی کے تو یہ سب حشر اُٹھائے ہوئے ہیں

اک تبسم کو بھی انعام سمجھتے ہیں سحر
ہم بھی کیا قحطِ  محبت کے ستائے  ہوئے ہیں

سحر انصاری

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ لہر دریا کو تو کُہسار کو قامت ملی تھی ۔ شہزاد اظہر

غزل

لہر دریا کو تو کُہسار کو قامت ملی تھی
دل کی کیا پوچھتے ہو دل کو محبت ملی تھی

پھول کچھ ہم نے بھی دامن میں اُٹھائے ہوئے ہیں
ہم کو بھی سیرِ گلستاں کی اجازت ملی تھی

توڑ سکتی تھی کسی لفظ کی ٹھوکر مجھ کو
میری مشکل، مجھے شیشے کی طبیعت ملی تھی

ایک میں ہی نہیں افزونیِ خواہش کا شکار
کوئی بتلاؤ کسی دل کو قناعت ملی تھی

دھوپ کے شہر میں سنولا گیا تِتلی کا بدن
پھول سی جان کو پوشاکِ تمازت ملی تھی

مجھ سے آباد ہوا تھا مرے حصے کا ورق
لفظ کا گھر تھا، مجھے جس کی اقامت ملی تھی

شہزاد اظہر

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ پیام آئے ہیں اُس یارِ بے وفا کے مجھے ۔ احمد فراز

آج کی معروف غزل

پیام آئے ہیں اُس یارِ بے وفا کے مجھے
جسے قرار نہ آیا کہیں بھلا کے مجھے

جدائیاں ہوں تو ایسی کہ عمر بھر نہ ملیں
فریب دو تو ذرا سلسلے بڑھا کے مجھے

نشے سے کم تو نہیں یادِ یار کا عالم
کہ لے اُڑا ہے کوئی دوش پر ہوا کے مجھے

میں خود کو بھول چکا تھا مگر جہاں والے
اداس چھوڑ گے آئینہ دکھا کے مجھے

تمہارے بام سے اب کم نہیں ہے رفعتِ دار
جو دیکھنا ہو تو دیکھو نظر اٹھا کے مجھے

کھنچی ہوئی ہے مرے آنسوؤں میں اک تصویر
فراز دیکھ رہا ہے وہ مسکرا کے مجھے

احمد فراز

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ تری جستجو میں بتاؤں کیا ، میں کہاں کہاں سے گزر گیا ۔ مقبول نقش

غزل

تری جستجو میں بتاؤں کیا ، میں کہاں کہاں سے گزر گیا
کہیں دل کی دھڑکنیں رُک گئیں، کہیں وقت جیسے ٹھہر گیا

ترے غم کی عمر دراز ہو، مرا فن اسی سے سنور گیا
یہی درد بن کے چمک گیا، یہی چوٹ بن کے اُبھر گیا

یہ تو اپنا اپنا ہے حوصلہ ، کہیں عزم اور کہیں گِلہ 
کوئی بارِ دوشِ زمیں رہا، کوئی کہکشاں سے گزر گیا

یہ اختلافِ مذاق ہے، یہی فرقِ وصل و فراق ہے
کوئی پائمالِ نشاط ہے، کوئی غم بھی پا کے سنور گیا

ترا لطف ہو کہ تری جفا، مِرے غم کی یہ تو نہیں دوا
مجھے اب تو اپنی تلاش ہے، میں تری طلب سے گزر گیا

وہ اُمنگ اور وہ ہما ہمی، جسے نقشؔ کہتے ہیں زندگی
دلِ نامُراد کے دَم سے تھی، دلِ نامُراد تو مر گیا

مقبول نقش

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ ہر طرف شورِ فغا ں ہے کوئی سنتا ہی نہیں ۔ عباس رضوی

غزل

ہر طرف شورِ فغا ں ہے کوئی سنتا ہی نہیں
قافلہ ہے کہ رواں ہے کوئی سنتا ہی نہیں

اک صدا پوچھتی رہتی ہے کوئی زندہ ہے ؟
میں کہے جاتا ہوں ہاں ہے کوئی سنتا ہی نہیں

میں جو چپ تھا ، ہمہ تن گوش تھی بستی ساری
اب مرے منھ میں زباں ہے کوئی سنتا ہی نہیں

ایک ہنگامہ کہ اس دل میں بپا رہتا تھا
اب کراں تابہ کراں ہے کوئی سنتا ہی نہیں

دیکھنے والے تو اس شہر میں یوں بھی کم تھے
اب سماعت بھی گراں ہے کوئی سنتا ہی نہیں

کیا ستم ہے کہ مرے شہر میں میری آواز
جیسے آوازِ سگاں ہے کوئی سنتا ہی نہیں

عباس رضوی