صحرا صحرا دوپہریں ہیں، بادل بادل شام

خاکسار کی ایک غزل۔ ۔ ۔

غزل

صحرا صحرا دوپہریں ہیں، بادل بادل شام
دل نگری کی رات اداسی، چنچل چنچل شام

ڈالی ڈالی پھول ہیں رقصاں، دریا دریا موج
تتلی تتلی نقش ہیں رنگیں، کومل کومل شام

رنگِ جنوں دل دیوانے پر دید کے پیاسے نین
تیری گلی، تیری دہلیزیں، پاگل پاگل شام

نین ہیں کس کے، یاد ہے کس کی، کس کے ہیں آنسو
کس کی آنکھوں کا تحفہ ہیں، کاجل کاجل شام

رات کی رانی، اوس کا پانی، جگنو ، سرد ہوا
مُسکاتی، خوشبو مہکاتی، جنگل جنگل شام

ڈوبتا سورج، سونا رستہ، آس کے بجھتے دیپ
مایوسی کی گرد میں لپٹی اُتری پل پل شام

رنگ سنہرا، دھوپ سا اُس کا، گیسو جیسے رات
چاند سا اُجلا اُجلا چہرہ، اُس کا آنچل شام

خواب میں جب سے آیا ہے وہ، سوچوں میں گم ہوں
کیا ہو جو تعبیر بتانے آجائے کل شام

احمد کوئی نظم سُناؤ کچھ تو وقت کٹے
تنہا تنہا دل بھی ہے اور بوجھل بوجھل شام

16 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

عمراحمد بنگش کہا...

جناب سب سے پہلے تو حاضری قبول کریں اور اگر مناسب سمجھیں تو مجھے بھی اپنے بلاگو دوستو کی فہرست میں نتھی کر دیں۔
شاعری سے شغف بس سننے سنانے کو ہی ہے۔ اچھی کاوش ہے جناب، اللہ کرے زور قلم زیادہ ہو۔

محمد وارث کہا...

واہ واہ واہ کیا خوبصورت غزل ہے احمد صاحب، ایک ایک شعر لاجواب ہے، سبحان اللہ۔

محمد احمد کہا...

عمر احمد بنگش صاحب،

سب سے پہلے تو "رعنائیِ خیال" پر خوش آمدید!

خاکسار نے آپ کا بلاگ، بلاگران کی فہرست میں شامل کردیا ہے. شاعری سے سننے سنانے کا شغف بھی آج کل تو مفقود ہوتا جا رہا ہے سو جان کر اچھا لگا.

خوش رہیے.

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ وارث بھائی!

آپ کی توجہ اور رہنمائی میرے لئے مشعلِ راہ سے کم نہیں ہے.

Jafar کہا...

رات کی رانی، اوس کا پانی، جگنو ، سرد ہوا
مُسکاتی، خوشبو مہکاتی، جنگل جنگل شام
---------------------------------------
بہت عمدہ... خاص طور پر یہ شعر.. میری رائے میں حاصل غزل ہے...
ابن انشاٰء کے رنگ کی جھلک نظر آئی مجھے تو...

umeed کہا...

بہت خوب ۔ ۔اچھی گذل ہے ۔ ۔ اور بلاگ بھی اچھا ہے

امید

میرا پاکستان کہا...

وارث صاحب کی زبانی آپ سے تعارف ہوا اور آپ کی شاعری پڑھ کر آپ کے بارے میں وارث صاحب کی ساری باتیں سچی لگیں۔
ویسے تو آپ کی ساری غزل اچھی ہے مگر یہ شاعر ہمیں بہت پسند آیا۔
رات کی رانی، اوس کا پانی، جگنو، سرد ہوا
مسکاتی، خوشبو مہکاتی، جنگل جنگل شام

نوائے ادب کہا...

السلام علیکم پہلے تو جناب احمد صاحب آپ کو بلاگ بنانے پر بہت بہت مبارک باد پیش کرتا ہوں اور اس کے بعد آپ کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہیں ۔ اردو محفل پر تو آپ کی شاعری پہلے ہی پڑھ چکا اہوں اور متاثر بھی ہوا ہوں ۔ آپ کے بلاگ کا ایک فائدہ یہ بھی ہے اب آپ کی شاعری ایک ہی جگہ پر آسانی سے مل جائے گی شکریہ

محمد احمد کہا...

جعفر بھائی

یہ آپ کا حسنِ ذوق ہے کہ آپ کو غزل پسند آئی. آپ کو جو شعر اچھا لگا وہ مجھے بھی بہت پسند ہے. ابنِ انشاء نے اس طرح کی رواں بحروں کو بہت خوبی سے استعمال کیا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ آپ کو یہ غزل پڑھ کر ابنِ انشاء یاد آگئے.

خوش رہیے.

محمد احمد کہا...

اُمید صاحبہ، (اگر میں غلطی پر نہیں ہوں تو.. )

سب سے پہلے تو بلاگ پر خوش آمدید!

بلاگ اور کلام آپ کو اچھا لگا یہ ہماری خوش بختی ہے، امید ہے کہ آئندہ بھی آپ کی نظرِ التفات اس بلاگ پر رہے گی.

محمد احمد کہا...

میرا پاکستان،

بلاگ پر خوش آمدید!

وارث بھائی کی انتہائی محبت ہے کہ اُنہوں نے میرے بلاگ کا تعارف بھی پیش کیا اور میرے بارے میں بھی بہت حسنِ زن سے کام لیا، ورنہ میں ہرگز اس قابل نہیں ہوں.

غزل کی پسندیدگی کا بہت شکریہ!

اُمید ہے کہ آپ آتے رہیں گے اور حوصلہ افزائی فرماتے رہیں گے.

محمد احمد کہا...

خرم بھائی !

بلاگ پر خوش آمدید!

مبارکباد کی بہت شکریہ! آپ کی حوصلہ افزائی میرے لئے بے حد اہم ہے.

خوش رہیے.

یاور ماجد کہا...

بہت خوبصورت غزل ہے، کیا کمال کی منظر کشی کی ہے۔
یاور ماجد

محمد احمد کہا...

یاور ماجد صاحب،

سب سے پہلے تو "رعنائیِ خیال" پر خوش آمدید!

غزل آپ کو پسند آئی یہ آپ کا حسنِ ذوق ہے. خوش رہیے. اور آتے جاتے رہیے.

فرحت کیانی کہا...

واہ۔ بہت خوب
پوری غزل ہی بہت اچھی ہے۔ :)

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ فرحت صاحبہ .

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک