اشک ہو، آنکھیں بھگونا ہو تو پھر

غزل 

اشک ہو، آنکھیں بھگونا ہو تو پھر
آنکھ میں سپنا سلونا ہو تو پھر

کب تلک بخیہ گری کا شوق بھی
عمر بھر سینا پرونا ہو تو پھر

دوست! انٹرنیٹ پر؟ اچھا، چلو 
اور گلے جو لگ کےرونا ہو تو پھر

وہ مری دلجوئی کو حاضر مگر
اُس کا ہونا بھی نہ ہونا ہو تو پھر

اُس کو پانے کی طلب!پر سوچ لو
اُس کو پا نا ، اُس کوکھونا ہو تو پھر؟

نازُکی تو سیکھی اُس نے پھو ل سے
تتلیوں کا بوجھ ڈھونا ہو تو پھر؟

یوں جو خوش ہو اُس کو ہنستا دیکھ کر
اُس کا ہنسنا ،اُس کا رونا ہو تو پھر؟

یوں تو گجروں سے کلائی سج گئی
چاہ اُس کی چاندی سونا ہو تو پھر؟

لوگ کہتے ہیں کہ دُنیا گول ہے
مفلسی کونہ بہ کونہ ہو تو پھر

احمدؔ اپنے دل کو خوش کرنے چلے
اور غم دل کا کھلونا ہو تو پھر؟

محمد احمدؔ​

0 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک