مظفر حنفی کی دو نظمیں

نئے نظریے کی تخلیق   


کانچ کی رنگین ٹؤٹی چوڑیوں کو
آئینے کے تین ٹکڑوں  میں 
کسی بھی ڈھنگ سے رکھ دو
نیا خاکہ بنے گا
جس میں اک ترکیب ہوگی
لاکھ جھٹکے دیجئے
ہر بار یہ ترکیب اک ترکیبِ نو میں ہی ڈھلے گی
جب بھی کچھ ٹوٹے ہوئے لوگوں میں
اپنے تجرباتِ خام کے قصّے چھڑیں گے
اِک نظریہ جنم لے گا


صورِ اسرافیل   


اب تو بستر کو جلدی سے تہہ کر چکو
لقمہ ہاتھوں میں ہے تو اسے پھینک دو
اپنے بچوں کی جانب سے منہ پھیر لو
اس گھڑی بیویوں کی نہ پرواہ کرو
راہ میں دوستوں کی نظر سے بچو
اس سے پہلے کے تعمیل میں دیر ہو
سائرن بج رہا ہے چلو دوستو


*******

0 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک