مختصر نظم ۔۔۔۔۔ دل ۔۔۔۔۔ محمد احمدؔ

دل


بڑا تِیرہ بخت چراغ ہے
کہ تمام عمر جلا مگر
کوئی روشنی بھی نہ پا سکا

محمد احمدؔ

2 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

نیرنگ خیال کہا...

بہت خوب احمد بھائی۔۔ زبردست
ویسے چراغ کا کام روشنی لٹانا ہوتا ہے۔ تو جو لٹائے وہ پائے کہاں سے۔۔۔ :)

Muhammad Ahmed کہا...

شکریہ نیرنگ خیال بھائی

یہاں "کوئی" سے مُراد دل نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دل تمام عمر سینے میں جلا کیا لیکن اس کی روشنی سے کوئی مستفید نہیں ہو سکا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک