جہانگیر کا ہندوستان ۔ ۲



جہانگیر کا ہندوستان - ۲


گذشتہ سے پیوستہ

اور اب پیلسے ئرٹ آپ سے مخاطب ہیں:

یہ رپورٹ میرے اُن تجربات اور مشاہدات پر مبنی ہے کہ جو میں نے یونائیٹڈ ایسٹ انڈیا کمپنی کے سینئر فیکٹر کی حیثیت سے پیٹرفان ۔ ڈین ۔ بروکے کی ماتحتی میں آگرہ کی تجارتی کوٹھی میں سات سالہ قیام کے دوران لکھی۔ اس دوران میں مجھے تجارت کی غرض سے دوسرے شہر بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ ذیل میں اس رپورٹ کی تفصیل (یہاں صرف منتخب اقتباسات دئیے گئے ہیں)ہے۔

آگرہ

سب سے پہلے آگرہ شہر کا ذکر کروں کہ جو کافی وسیع و عریض ، کھلا ہوا ، اور بغیر فصیلوں کے ہے۔ مگر اس پر زوال کے آثار نظر آتے ہیں۔ شہر کے مکانات اور سڑکیں بغیر کسی منصوبہ اور پلان کے بنی ہوئی ہیں۔ اگرچہ یہاں پر شہزادوں اور امراء کی حویلیاں موجود ہیں مگر وہ سب تنگ و تاریک گلیوں میں چھپی ہوئی ہیں۔ اس کی وجہ اس شہر کی اچانک اور غیر معمولی ترقی ہے۔ ورنہ اس سے پہلے یہ بیانہ کی حدود میں واقع ایک معمولی سا قصبہ تھا۔ لیکن 1566ء میں اکبر نے اس شہر کو اپنی رہائش کے لئے منتخب کیا اور دریائے جمنا کے کنارے ایک عالیشان قلعہ تعمیر کرایا تو اس قصبہ کی شکل و صورت ہی بدل گئی۔

اس کے ارد گرد گھنے جنگلات کی وجہ سے اب یہ شہر ایک شاہی باغ معلوم ہوتا ہے۔ شاہی محلات اور قلعہ کی وجہ سے امراء نے بھی اس شہر میں کہ جہاں اُنہیں جگہ ملی اپنی حویلیاں تعمیر کرائیں۔ اس غیر منصوبہ بندی کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہاں پر کوئی منڈیاں یا بازار اس طرح سے نہیں ہیں جیسے کہ لاہور، برہانپور، احمدآباد یا دوسرے شہروں میں ہیں۔ شہر میں مکانات ایک دوسرے کےقریب قریب ہیں۔ ہندو مسلمان اور امیرو غریب سب آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ اگر موجودہ بادشاہ (جہاں گیر) اس شہر کو اپنی رہائش گاہ بنا لیتا جیسا کہ اکبر نے بنایا تھا، تو یہ شہر دنیا کے مشہور شہروں میں سے ایک ہوجاتا۔ اس شہر کے دروازے جو اکبر نے دفاع اور حفاظت کے لئے تعمیر کرائے تھے وہ اب شہر کے درمیان آگئے ہیں، اور اس کے آگے جو شہر پھیلا ہے وہ موجودہ شہر سے تین گنا زیادہ ہے۔

شہر کی چوڑائی، اس کی لمبائی کے مقابلے میں زیادہ نہیں ہے کیونکہ ہر ایک کی یہ کوشش ہے کہ دریا کے قریب رہے۔ اس لئے دریا کے کناروں پر امراء کے شاندار محلات ہیں جس کی وجہ سے یہ خوبصورت اور دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔

ان محلات کے بعد شاہ برج یا شاہی قلعہ ہے۔ اس کی فصیلیں سرخ پتھروں سے تعمیر کی گئ ہیں۔ فصیلوں کی چوڑائی ¾ گز ہے ،پھیلاؤ میں یہ 2 کوس ہے۔ اس کی تعمیر میں جو بھی خرچہ ہوا، اور اس کا جو طرزِ تعمیر ہے۔ اس وجہ سے یہ دنیا کی مشہور عمارتوں میں سے ایک ہے۔ یہ عمارت مناسب جگہ پر واقع ہے اس کے اردگرد کا ماحول انتہائی خوشگوار ہے۔ اس کا جو حصہ دریا کے رخ پر ہے وہاں پتھروں کی خوبصورت جالیاں اور سنہری کھڑکیاں ہیں۔ یہاں سے بادشاہ اکثر ہاتھیوں کی لڑائی دیکھتا ہے۔ اس کے تھوڑے فاصلہ پر غسل خانہ (وہ جگہ جہاں بادشاہ خاص خاص امراء سے ملتا تھا۔ یہ نجی محفلوں کے لئے بھی مخصوص تھا) ہے جو کہ سنگِ مرمر سے تعمیرکیا گیا ہے۔ شکل میں‌یہ چوکور ہے ۔ اس کے گنبد پر باہر سے طلاء کاری ہے جس کی وجہ سے یہ قریب سے دیکھنے پر شاہی اور دور سے دیکھنے پر شہنشاہی نظر آتا ہے۔ اس کے آگے موجودہ ملکہ نور جہاں کا محل ہے۔ قلعہ میں شہزادوں، بیگمات، اور حرم کی خواتین کی رہائش گاہیں ہیں۔ انہیں میں‌ایک محل مریم زمانی کا ہے جو کہ اکبر کی بیگم اور موجودہ بادشاہ کی ماں ہے۔ ان کے علاوہ تین اور محلات ہیں کہ جو اتوار، منگل اور سنیچر کہلاتے ہیں بادشاہ انہیں دنوں میں‌یہاں ہوتا ہے۔ بنگالی محل میں مختلف اقوام کی عورتیں رہتی ہیں ۔ دیکھا جائے تو یہ قلعہ ایک چھوٹا سا شہر ہے کہ جس میں مکانات ہیں، سڑکیں ہیں، دوکانیں ہیں، اندر سے یہ قلعہ معلوم نہیں‌ہوتا، مگر باہر سے دیکھو تو یہ ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ نظر آتا ہے ۔

دریا کے دوسری جانب سکندرہ نامی شہر ہے۔ یہ آباد شہر ہے اور خوبصورتی و منصوبہ بندی کے ساتھ بنایا گیا ہے یہاں کی اکثر آبادی تاجروں کی ہے۔ اسی شہر سے مشرقی علاقوں اور بھوٹان سے تجارتی سامان آتا ہے۔ یہاں پر نورجہاں کے عہدے دار ان اشیاء پر دریا پار کرنے سے قبل کسٹم ڈیوٹی وصول کرتے ہیں۔ یہ جگہ تجارت کی سب سے بڑی منڈی ہے یہ دو سو کوس کی لمبائی میں پھیلا ہوا ہے ، اگرچہ چوڑائی کم ہے مگر یہاں پر خوبصورت باغات اور بلند و بالا عمارتیں ہیں۔

ان میں سے مشہور سلطان پرویز، نورجہاں اور اس کے مرحوم باپ اعتمادالدولہ کی عمارتیں ہیں۔ اس کا مقبرہ بھی اس شہر میں ہے۔ اس کی تعمیر پر تین لاکھ پچاس ہزار روپیہ کا خرچہ آچکا ہے اور یہ ابھی تک مکمل نہیں‌ہوا ہے۔ اندازہ ہے کہ اس کے ختم ہونے تک اس پر دس لاکھ مزید خرچ ہوں گے۔ یہاں پر دو مشہور باغات ہیں کہ جو بادشاہ کی ملکیت ہیں، یہ چہار باغ اور موتی محل کے نام سے موسوم ہیں۔ ان کے علاوہ اور بہت سے باغات ہیں کہ جو اونچی دیواروں سے گھرے ہوئے ہیں۔ اور جن کے دروازے باغ سے زیادہ قلعہ کے معلوم ہوتے ہیں۔ ان باغات و محلات کی وجہ سے شہر کی خوبصورتی بڑھ گئی ہے۔ یہاں کے امراء کی دولت اور شان و شوکت ہمارے ہاں کے امراء سے زیادہ ہے۔ جب تک وہ زندہ رہتے ہیں، اپنے باغات سے لطف اُٹھاتے ہیں، جب یہ مرجاتے ہیں تو یہی باغات ان کے مقبرے بن جاتے ہیں۔ اس شہر میں ان کی تعداد اس قدر ہے کہ میں ان کا ذکر کرنا نہیں چاہتا۔

آگرہ کے مشرقی علاقوں کی تجارت

اکبر کے دور حکومت میں‌تجارت کو بڑا فروغ تھا، یہ صورت حال موجودہ بادشاہ کے ابتدائی عہد میں بھی رہی، کیونکہ اس وقت تک اس میں تازگی و توانائی اور حکومت کرنے کا سلیقہ تھا۔ لیکن جب سے اس نے خود کو لہو و لعب میں مبتلا کر لیا ہے، اس وقت سے عدل و انصاف کی جگہ ظلم و ستم نے لے لی ہے۔ اگرچہ ہر گورنر کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عوام کی حفاظت کرے ، لیکن اس کے برعکس ہو یہ رہا ہے کہ ہر گورنر مختلف حیلوں، بہانوں سے لوگوں کو لوٹ رہا ہے اور ان کی ذرائع آمدن پر قابض ہو رہا ہے ۔ کیونکہ وہ اس بات سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں کہ ان غریب لوگوں کی پہنچ نہ تو دربار تک ہے اور نہ ہی بادشاہ تک اپنی شکایات پہنچا سکتے ہیں۔ نتیجہ ان سب باتوں کا یہ ہوا ہے کہ ملک تباہ ہوگیا ہے، لوگ غریب سے غریب تر ہو رہے ہیں۔ اس شہر کے پرانے لوگوں کا کہنا ہے کہ اب اس میں ماضی کی کوئی شان وشوکت باقی نہیں رہی ہے کہ جس کی وجہ سے کبھی یہ دنیا بھر میں مشہور تھا۔ اس شہر کی تجارتی اہمیت اس لئے ابھی تک باقی ہے کیونکہ جغرافیائی طور پر یہ ایک ایسی جگہ ہے کہ جہاں سے تمام ملکوں کو راستے جاتے ہیں۔ اس لئے اس راستے سے تمام تجارتی اشیاء کو گزرنا ہوتا ہے، مثلا گجرات، ٹھٹھہ، کابل، قندھار،ملتان اور دکن برہانپور اور لاہور کے راستے یہیں سے گزرتے ہیں بلکہ بنگال اور تمام مشرقی علاقے بھی یہاں سے ملے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ اور کوئی دوسرا راستہ نعم البدل کے طور پر نہیں ہے۔ ان راستوں پر بڑی تعداد میں تجارتی اشیاء آتی جاتی ہیں۔

آگرہ کے مشرق اور مغرب میں واقع صوبوں کا ذکر

لاہور، آگرہ سے 300 کوس مشرق، مغرب میں‌واقع ہے۔ انگریزوں کے آگرہ آنے سے پہلے یہ ہندوستان کا مشہور تجارتی مرکز تھا اور یہاں آرمینا اور شام کے تاجر منافع بخش تجارت کرتے تھے۔ اس وقت نیل کی اہم منڈی آگرہ نہیں بلکہ لاہور تھا کیونکہ یہ تاجروں کے لئے سہولت کا باعث تھا کہ جو مقررہ موسموں میں قندھار سے اصفہاں اور شام قافلوں کی شکل میں جاتے تھے۔ اس لئے نیل شام کے راستے سے یورپ جاتی تھی، یہ یورپ میں‌لاؤری یا لاہوری کہلاتی تھی اب بھی یہاں سے گولکنڈا، منگاپٹم اور مالی پٹم کے بنے ہوئے کپڑوں کی تجارت ہوتی ہے، مگر بہرحال تجارت کی پہلی والی صورت اب باقی نہیں رہی ہے۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ اب یہ تجارت مر چکی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں سے درآمد کرنے والی اشیاء اب صرف ترکی اور ایران کی ضروریات کو پورا کرتی ہیں کہ جس کی مانگ محدود ہے۔ چونکہ اب تجارت خشکی سے زیادہ سمندری راستوں سے ہوتی ہے، اس لئے اس کی اہمیت گھٹ کر رہ گئ ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر لاہور کی تجارت عملی طور پر ختم ہوگئی ہے، ہندو یا کھتری تاجر جو یہ تجارت کرتے تھے ان کی شہرت اب تک باقی ہے مگر ان کا گذارہ پرانے کمائے ہوئے منافع پر ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ سے موجودہ بادشاہ سال کے پانچ یا چھ مہینے لاہور میں گزارتا ہے (بقیہ وقت، خصوصیت سے گرمیوں کا زمانہ یہ کشمیر یا کابل میں‌رہ کر گزارتا ہے) اس کی رہائش کی وجہ سے شہر کی حالت تھوڑی بہت بہتر ہوگئی ہے۔ لیکن اس کی یہ ساری شان و شوکت، شاہی عمارتوں، محلات، باغات اور شاہی اخراجات کی وجہ سے ہے، اس لئے اس کے اثرات بھی محدود ہیں۔

کشمیر

کشمیر 35 این۔ عرض البلد پر واقع ہے۔ مشرق کی جانب اس کی سرحدیں تبت خورو و کلاں تک جاتی ہیں جو کہ دس دنوں کے سفر کے فاصلے پر ہے۔ جنوب میں‌اس کی سرحدیں کابل سے جا کر ملتی ہیں جو کہ یہاں سے 30 دن کا سفر ہے۔ مغرب میں پونچھ اور پشاور واقع ہیں۔ اس کا سب سے خوبصورت شہر دیرناگ ہے جہاں کہ بادشاہ کے لئے ہندوستان میں‌سب عمدہ شکار گاہیں ہیں۔ اس علاقے میں بڑے خوبصور شہر اور گاؤں واقع ہیں ان کی اتنی تعداد ہے کہ ان سب کا بیان کر مشکل ہے۔

اس لئے اب ہم سب سے مشہور شہر کشمیر (سری نگر) کا بیان کرتے ہیں جو کہ اونچے اونچے پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے۔ یہاں کا ایک پہاڑ مسلمانوں میں تخت سلیمان کہلاتا ہے جس کے بارے میں عجیب و غریب باتیں مشہور ہیں، اور کئی کراماتیں اس سے منسوب ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس پر کئی قدیم تحریریں موجود ہیں، اور یہ کہ خود حضرت سلیمان نے یہاں اپنا تخت بنوایا تھا۔ شہر میں پھلوں والے اور دوسرے لا تعداد درخت ہیں۔ یہاں پر دو دریا بہتے ہیں۔ ان میں‌سے بڑا دریا دیر ناگ سےآتا ہے، دوسرا چشمہ کی صورت ابلتا ہے۔ لیکن ان دونوں دریاؤں کا پانی نہ تو میٹھا ہے اور نہ ہی صحت مند۔ اس لئے یہاں کے باشندے اسے پینے سے پہلے ابال لیتے ہیں۔ بادشاہ اور اس کے امراء کے لئے 3 یا 4 کوس سے پانی لایا جاتا ہے جو صاف اور برف کی طرح سفید ہوتا ہے۔ جہانگیر بادشاہ نے پانی کو محفوظ رکھنے کی غرض سے ایک کاریز تعمیر کرائی تھی کہ جو کہ 10 یا 12 کوس کے فاصلہ سے قلعہ میں پانی لاتی تھی۔ لیکن اس خیال سے کہ اسے آسانی کے ساتھ دشمن یا باغی زہر آلود کر سکتے ہیں اس نے کوئی 10 ہزار روپیہ خرچ کرنے کے بعد اس منصوبہ کو ترک کردیا۔

اس ملک اور شہر کے لوگوں کی اکثریت غریب ہے۔ لیکن جسمانی طور پر یہ لوگ طاقتور ہیں، اور بمقابلہ ہندوستانیوں کے زیادہ بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ اس لئے حیرت کی بات ہے کہ یہاں مردوں اور عورتوں کو بہت کم کھانے کو ملتا ہے۔ ان کے بچے اس ملک اور شہر کے لوگوں کی اکثریت غریب ہے۔ لیکن جسمانی طور پر یہ لوگ طاقتور ہیں، اور بمقابلہ ہندوستانیوں کے زیادہ بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ اس لئے حیرت کی بات ہے کہ یہاں مردوں اور عورتوں کو بہت کم کھانے کو ملتا ہے۔ ان کے بچے گورے اور خوبصورت ہوتے ہیں، لیکن جب یہ بڑے ہوتے ہیں‌تو پیلے اور بدصورت ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ان کے طور طریق خوراک اور رہائش کو دیکھا جائے تو وہ انسانوں سے زیادہ جانوروں سے نسبت رکھتے ہیں۔

یہ لوگ مذہبی امور میں بڑے سخت ہیں۔ اکبر کے زمانہ میں کشمیر کو اس کے جنرل راجہ بھگوان داس نے حیلے و بہانے سے فتح کیا تھا کیونکہ دوسری صورت میں پہاڑوں اور دشوار گزار راستوں کی وجہ سے اس ملک کو فتح کرنا آسان نہ تھا۔

کشمیر میں پھلوں کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں۔ جیسے سیب، ناشپاتی اور اخروٹ وغیرہ لیکن ذائقہ میں یہ ایران و کابل کے پھلوں کے مقابلہ میں کم تر ہیں۔ دسمبر جنوری اور فروری میں‌یہاں سخت سردی ہوتی ہے۔ ان مہینوں‌میں‌بارش اور برف باری ہوتی ہے اور پہاڑ برف کی وجہ سے سفید نظر آتے ہیں۔ جب گرمی میں سورج چمکتا ہے تو اس وقت برف پگھلنے سے دریاؤں میں‌سیلاب آجاتا ہے۔

بادشاہ کشمیر کو اس لئے پسند کرتا ہے کہ جب ہندوستان میں گرمیوں کا موسم آتا ہے تو اس کا جسم کثرت سے شراب پینے اور افیم کھانے کی وجہ سے جلنے لگتا ہے۔ اس لئے وہ مارچ یا اپریل میں لاہور سے کشمیر کے لئے روانہ ہوجاتا ہے۔ مئی کے مہینے میں‌یہاں پہنچ جاتا ہے۔ یہ سفر انتہائی دشوار اور خطرناک ہے۔ پہاڑی راستوں کی وجہ سے جانوروں کے لئے سامان اُٹھا کر چلنا مشکل ہوتا ہے اس لئے بادشاہ اور اُمراء کا سامان مزدور اپنے سروں پر اُٹھا کر لاتے ہیں۔ بادشاہ کے کیمپ کے تمام لوگ اس سفر کو اپنے لئے عذابِ الہٰی سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اس میں امیر لوگ غریب ہو جاتے ہیں اور غریبوں کو کھانے کے لالے پڑ جاتے ہیں کیونکہ یہاں ہر چیز انتہائی مہنگی ہے۔ مگر بادشاہ ان سب باتوں سے بے پرواہ ہو کر اپنی آسائش و آرام کو دیکھتا ہے اور عوام کی تکلیف کا اسے خیال تک نہیں آتا۔



گذشتہ حوالہ: جہانگیر کا ہندوستان-۱


6 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

Abdullah کہا...

عدل جہانگیری کی کہانیاں پڑھنے والوں کو تو یہ تحریر نری تعصبانہ لگے گی!

محمد ریاض شاہد کہا...

خوب ہے

arifkarim کہا...

بادشاہت کا مذاق اڑانے والے سیاست دانوں کے کارنامے بھی لکھیں۔

عنیقہ ناز کہا...

سیاستدانوں کے کارنامے تو عوام دیکھ ہی رہی ہے۔ لیکن تاریخ جسے ہمیشہ سنہرا اور خالص دور سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں جو تاریخ زیادہ پڑھنے کو ملتی ہے وہ درباری مءورخوں کی ہوتی ہے اور اس وجہ سے بہت ساری باتیں صحیح سے نہیں پتہ چل پاتیں۔

محمد احمد کہا...

عبداللہ بھائی !

دعا کیجے کہ اللہ ہمیں اور آپ کو وسعتِ نظری عطا فرمائے تاکہ جو باتیں ہمارے مزاج اور عقائد کے خلاف بھی ہوں تو بھی ہم اُنہیں کھلے دل سے جانچ سکیں.

محمد ریاض شاہد صاحب، بہت شکریہ

عارف کریم صاحب، یوں تو آپ کو جواب عنیقہ صاحبہ نے دے ہی دیا ہے پھر یہ تحریر ڈاکٹر مبارک علی کی ہے اگر ان کی کوئی ایسی تحریر ملی جس کا آپ نے تقاضہ کیا ہے تو اسے بھی پیش کرنے کی کوشش کروں گا.

عنیقہ صاحبہ، آپ کا بھی شکریہ!

نیرنگ خیال کہا...

مغلیہ بادشاہوں کے عدل و فتوحات کے کارناموں کو تو ہر اک نے بیاں کیا ہے۔ مگر یہ رخ کسی نے کبھی بیان کرنے کی ضرورت کیوں نہیں سمجھی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک