جہانگیر کا ہندوستان


جہانگیر کا ہندوستان




"جہانگیر کا ہندوستان" پیلسے ئرٹ (پیل سارٹ) کا سفرنامہ ہندوستان ہے۔ پیلسے ئرٹ نے یہ کتاب (سفرنامہ) ڈچ زبان میں1626ء میں لکھی جس کا انگریزی ترجمہ ڈبلیو ۔ ایچ۔ مورلینڈ نے 1925ء میں کیا ۔ اس انگریزی ترجمہ سے اردو ترجمہ کا کام ڈاکٹر مبارک علی نے 1997ء میں انجام دیا۔

پیلسے ئرٹ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کا ملازم تھا اور زیرِ نظر تحریر اُس نے اپنی کمپنی کے لئے بطور تجارتی رپورٹ لکھی تھی جس میں تجارتی معاملات کے ساتھ ساتھ اُس نے اُس وقت کے ہندوستان کے انتظامی امور، عوامی مزاج ا ور معاشرتی و ثقافتی پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا ہے ۔ تاریخ کے سنجیدہ قارئین کے ساتھ ساتھ اس تحریر میں عام لوگوں کے لئے بھی دلچسپی کا سامان ہے کہ اُس وقت کے ہندوستان کا عکس ہمارے آج کے منظرنامے سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہے۔ احباب کو شاملِ مطالعہ کرنے کے لئے اس کتاب سے چیدہ چیدہ اقتباسات درج کئے جارہے ہیں۔

ڈاکٹر مبارک علی کی اس کتاب کا انتساب بھی قابلِ ذکر ہے۔ انتساب کے عنوان کے تحت ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں " محترم عبدالعزیز کے نام ۔ جنہوں نے سیاسی مسائل پر ملک کے نامور دانشوروں اور سیاست دانوں سے بحث کی اور پھر اُن سے مایوس ہوکر اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمارے مسائل کا حل ہمیں ہی تلاش کرنا ہے"۔

دیباچہ میں ڈاکٹر مبارک علی لکھتے ہیں:

تاریخ اس وقت ہی سمجھ آتی ہے جب بنیادی ماخذوں کا مطالعہ کیا جائےاس لئے پیلسے ئرٹ کی کتاب کا ترجمہ کیا گیا ہے تاکہ جہانگیر کے ہندوستان سے آگہی ہو۔کتاب کا ترجمہ کرتے وقت اس چیز کو مدِّ نظر رکھا گیا ہے کہ اسے عام فہم زبان میں کیا جائے اس لئے وہ حصے شامل نہیں کئے گئے جن کا مقصد ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کو تجارتی معلومات فراہم کرنا تھا۔

نوٹ: ڈاکٹر مبارک علی نے جہانگیر کے بارےمیں مختصر تعارف بھی لکھا ہے تاکہ وہ لوگ جنہوں نے مغل تاریخ نہیں پڑی ہے وہ اس حکمران کے بارے میں جا ن سکیں بوجہ طوالت یہ تعارف اس مضمون میں شامل نہیں ہے اگر آپ یہ تعارف پڑھنا چاہیں تو یہاں سے اسکیننگ ڈاؤن لوڈ کرلیں۔

کتاب کے تعارف میں ڈاکٹر مبارک علی لکھتے ہیں:

ڈچ ہندوستان میں 1602 ء میں بغرضِ تجارت آئے۔ جب ہندوستان میں کپڑے کی زیادہ مانگ ہوئی تو انہوں نے کھمبے، بھڑوچ اور آگرہ میں اپنی تجارتی کوٹھیاں (فیکٹریاں) قائم کیں کہ جہاں کپڑا تیار ہوتا تھا ۔ آگرہ کی فیکٹری ہی میں ڈچ فیکٹر پیلسے ئرٹ آیا تھا۔ اُس کی آمد کا مقصد ڈچ تجارت کو فروغ دینا تھا۔ ہندوستان میں اپنے قیام کے دوران اس نے جو رپورٹ لکھی اگرچہ اس کا تعلق تجارتی معاملات سے ہے مگر اس میں جہانگیر کے عہد کے بہت سے واقعات ہیں ۔ خصوصیت کے ساتھ اس نےاس وقت کی سماجی زندگی کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے اس کی تاریخی اعتبار سے بڑی اہمیت ہے۔

چونکہ درباری مورخ اور واقعہ نویس صرف تعریفیں لکھتے ہیں اس لئے پیلسے ئرٹ کے مشاہدات میں جو عام لوگوں کی زندگی کے بارے میں مواد ملتا ہے اس سے ہماری تاریخیں خالی ہیں۔ اس رپورٹ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت کا معاشرہ بھی آج کی طرح امیر و غریب کے طبقوں میں بٹا ہوا تھا۔ رشوت، بدعنوانیاں، ناجائز طریقوں سے دولت اکھٹی کرنا اس وقت بھی حکمران طبقوں کا کام تھا۔ غریبوں کے طرزِ زندگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ مغل سلطنت کی شان و شوکت اور دولت محلات و حویلیوں سے اُتر کر جھونپڑیوں تک نہیں آئی تھی۔

یہ ظاہر ہے کہ جس معاشرہ میں غربت، مفلسی اور محرومی ہوگی وہ محروم لوگ توہمات میں پناہ لیں گے، اس لئے آج کی طرح ماضی میں بھی مزار لوگوں کی زیارت کا مرکز تھے کہ جہاں وہ نہ پوری ہونے والی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے منتیں مانتے تھے۔

اس لئے ذہن میں یہ سوال بھی آتا ہے کہ کیا ہماری تاریخ کا یہ تسلسل آج بھی اسی طرح سے برقرار ہے کہ جیسا یہ ماضی میں تھا؟ اس رپورٹ کے بہت سے حصوں کو پڑھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ باتیں جہانگیر کے عہد کی نہیں بلکہ ہمارے زمانے کی ہیں۔ تو کیا تاریخ کے اس پورے سفر میں ہمارا معاشرہ ایک ہی جگہ ٹھہرا رہا ہے یا اس میں کوئی تبدیلی بھی آئی ہے؟ اس میں امراء کی دولت مندی، دولت کی دکھاوٹ کے طریقے، رعونت، اور بدعنوانیوں کے جو تذکرے ہیں، دیکھا جائے تو آج کے حالات میں صرف ماحول بدلا ہے، ورنہ فرق کوئی نظر نہیں آتا ہے۔

اس رپورٹ سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ جس وقت اہلِ یورپ ہمارے معاشرہ کو جاننے اور سمجھنے میں مصروف تھے، اس وقت بھی ہم یورپ اور اس کے معاشرے سے ناواقف تھے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ یورپی علماء و فضلاء آکر ہمیں ہماری تاریخ اور روایات و اداروں کے بارے میں بتاتے ہیں۔ یہ تو دور کی بات ہے کہ ہم اہلِ یورپ کو ان کے بارے میں کچھ بتائیں ۔ اکثر تو ہم اس پر بھی خوش ہوجاتے ہیں کہ "تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی" اور اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کہ کب اس خود کشی کی خبر آتی ہے۔
اب چونکہ یورپ جانا زیادہ مشکل نہیں رہا ہے۔ اس لئے لوگ یورپ کے سفر نامے بہت لکھنے لگے ہیں، مگر ذرا مقابلہ کیجئے اس سترہویں صدی کے یورپی مسافر کے مشاہدات اور تاثرات کا اور ہمارے آج کے سیاحوں کا کہ جنہیں یورپ میں سوائے لڑکیوں اور محبوباؤں کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ ان سفرناموں کو پڑھ کر نہ تو یورپ کے بارے میں کچھ پتہ چلتا ہے اور نہ ان کے معاشرے کے بارے میں۔ یہ سفرنامے پیسہ کمانے کے لئے ہوتےہیں۔ علم دینے کے لئے نہیں۔

غیر ملکی سیاحوں کے بیانات کو آنکھیں بند کرکے قبول بھی نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ سیاح اپنے ملک کی تہذیب و روایات کے اس قدر عادی ہوتے ہیں کہ انہیں دوسرے معاشروں میں یہ اجنبی اور بری لگتی ہے۔ ان کے اپنے تعصبات اپنی جگہ، مگر ان کے ہاں وہ مشاہدات بھی مل جاتے ہیں کہ جنہیں ہماری نظریں نہیں دیکھتی ہیں۔

پیلسےئرٹ کے یہ مشاہدات نہ صرف ماضی کو بلکہ ہمارے حال کو بھی سمجھنے میں مدد دیں گے۔

6 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

عنیقہ ناز کہا...

منتظر ہیں۔

محمد ریاض شاہد کہا...

اچھا ہے ۔ جاری رکھیں

محمد وارث کہا...

بالکل درست بات ہے کہ ہمارے ہاں ابھی تک ہندوستان بلکہ تمام ملتِ اسلامیہ کی صحیح معنوں میں سماجی اور معاشی تاریخ نہیں لکھی گئی۔ تواریخ زیادہ تر درباری مورخوں کی ہیں جن میں ظاہر ہے صرف رطب و یابس ہے یا پھر صوفیا کے تذکرے ہیں لیکن عام آدمی کی اس زمانے میں کیا حالت تھی اس پر مکمل اندھیرا چھایا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر مبارک علی کا کام واقعی گراں قدر ہے۔

ابوشامل کہا...

مورخین سے میرا بھی ہمیشہ یہی گلہ رہا ہے کہ انہوں نے سوائے جنگوں اور درباری سازشوں اور میتھالوجی کے کچھ اور نہیں کیا۔ حالانکہ مسلم تاریخ کس قدر عظیم ورثے کی حامل ہے کہ اس کے ہر پہلو پر سینکڑوں کیا ہزاروں کتابیں لکھی جا سکتی ہیں جیسا کہ طرز تعمیر یا بود و باش حتی کہ فیشن پر بھی اچھی بھلی کتب لکھی جا سکتی ہیں۔
بہرحال ڈاکٹر مبارک علی، گو کہ مجھے کئی جگہ ان سے اختلاف رہا ہے، اس حوالے سے خوب کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے ایک مضمون کا ترجمہ کبھی نے میں اپنے بلاگ پر کیا تھا۔ آپ یہاں دیکھ لیجیے:

http://www.abushamil.com/%da%a9%d9%88%d9%84%d9%85%d8%a8%d8%b3-%e2%80%93-%d8%aa%d8%b5%d9%88%db%8c%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%d8%a7-%d8%b1%d8%ae/

محمد احمد کہا...

عنیقہ صاحبہ اور ریاض شاہد صاحب،

کل انشاءاللہ اس سلسلے کو مزید آگے بڑھاؤں گا.

وارث بھائی،

بجا فرمایا آپ نے. ڈاکٹر مبارک علی نے اس سلسلے میں قابلِ ذکر کام کیا ہے.

بھائی ابوشامل،

واقعی لکھنے کو بہت کچھ ہر دور میں رہا ہے لیکن ہمارے ہاں مورخین نے کسی نہ کسی مصلحت یا ذاتی میلان کے سبب سنجیدہ موضوعات پر سنجیدگی سے نہیں لکھا جس کی کمی محسوس ہوتی ہے. کرسٹوفر کولمبس والی تحریر انشاءاللہ ضرور دیکھوں گا.

نیرنگ خیال کہا...

بہت عمدہ اور معلوماتی۔۔ واقعی عام آدمی کی زندگی پر کبھی بھی کسی نے روشنی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہ کی ۔۔۔

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک