روشن و رخشاں، نیّر وتاباں ، پاکستان رہے

آج اگست کی پہلی تاریخ ہے یعنی جشنِ آزادی پاکستان کا مہینہ شروع ہو گیا ہے۔ اسی مناسبت سے آج ایک ملی نغمہ آپ کی سب کی نظر کر رہا ہوں کہ یہ مجھے بہت پسند ہے۔ یہ ملی نغمہ بھی ہے اور دعا بھی ساتھ ساتھ عہدِ طفلی کی یاد گار بھی۔ گو کہ ملک کے حالات دگر گوں ہیں اور مسائل کی بھرمار ہے لیکن پھر بھی مجھے یقین ہے کہ
؂ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

اس خوبصورت نغمہ کے شاعر کے بارے میں خاکسار لا علم ہے جس کے لئے پیشگی معذرت ۔ اس نغمہ کو حبیب ولی محمد نے گایا ہے اور کیا ہی خوب گایا ہے۔

روشن و رخشاں، نیّر وتاباں ، پاکستان رہے
جب تک سورج چاند ہے باقی، جب تک باقی جہان رہے ہے

پاکستان کا گوشہ گوشہ ،گلی گلی آباد رہے
پاکستان کا بچہ بچہ، شاد رہے ،آزاد رہے
آنکھیں ہوں خوابوں سے روشن، سینوں میں ایمان رہے

روشن و رخشاں نیّر وتاباں پاکستان رہے
جب تک سورج چاند ہے باقی، جب تک باقی جہان رہے ہے

اس کے پہاڑوں دریاؤں پر ، میدانوں ، صحراؤں پر
اس کے ہرے بھرے شہروں پر ، ہر قریئے، ہر گاؤں پر
اللہ تیری رحمت برسے ، تیرا کرم ہر آن رہے

روشن و رخشاں، نیّر وتاباں ، پاکستان رہے
جب تک سورج چاند ہے باقی، جب تک باقی جہان رہے ہے


روشن و رخشاں، نیّر وتاباں ، پاکستان رہے ۔ حبیب ولی محمد





روشن و رخشاں، نیّر وتاباں ، پاکستان رہے ۔ ٹینا ثانی




4 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یہ ایم اے قادری کی شاعری ہے۔ کتاب کا نام ہے ۔۔ سو ہنا پاکستان۔۔ انکی مزید کتاببوں کے یہ نام ہیں۔ بزم کونین۔صلی اللہ علیہ وسلم ، پھول پھول پاکستان ، رحمت مدینہ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ، ذکر خیر الوری۔ صلی اللہ علیہ وسلم، یاد نبی۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔ ۔
یہ بہت طویل نظم ہے جس میں پاکستان سے محبت چھلکتی ہے۔ اس کا اگلا کچھ حصہ یوں ہے ۔۔۔
اس کے طفل وجواں کو جنون دے عرفان و آگاہی کا

یا رب اس کو ڈھنگ سکھا دے دلوں کی شہنشاہی کا

علم محبت محنت دے دے، عام تیرا فیضان رہے

اللہ پاکستان رہے

پاکستان میں بسنے والے اپنی آپ نظیر رہیں

دل و دماغ و دست و بازو مصروف تعمیر رہیں

تو ہے ازل سے ابد تک قائم ، قائم تیرا نشان رہے

اللہ پاکستان رہے



--------------------------------------------------------------------------------

اے پاک وطن

اے پاک وطن میں ساری دنیا گھوم آیا

تیرے شہروں جیسے شہر نہیں تیری نہروں جیسی نہر نہیں

یہ رنگ نہیں یہ طور نہیں لاہور جہاں میں اور نہیں

پاک وطن ، اے پاک وطن۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہر کھیت پرانا میت مرا ہر راول چشمہ گيت مرا

کانٹے پھولوں کی خو والے یہ پتھر بھی خوشبو والے

اے پاک وطن اے پاک وطن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس موسم کی چھب ایسی ہے یہ دھوپ بھی چھاؤں جیسی ہے

کب ایسا مان جوانوں کا کب ایسا روپ چٹانوں کا

یہ لالہ رخ برسات کہاں یہ کرماں والی رات کہاں

اے پاک وطن ۔۔۔۔۔ اے پاک وطن

تیرا دن موتی تیری رات نگیں

اے پاک وطن ۔۔۔۔۔ اے پاک وطن

تیرا دن موتی تری رات نگیں

اے پاک وطن ۔۔۔۔۔ اے پاک وطن

تیرا دن موتی تیری رات نگیں

تو روشن آنکھ کے تل میں ہے

تیری روح میں ہے میرے دل میں ہے

میرے روۓ سحر میرے محو نظر

میری نظم فلک میری ماہ جبیں

ترا دن موتی تیری رات نگیں

تیرا دن موتی تیری رات نگیں

اے پاک وطن ۔۔۔۔۔ اے پاک وطن

تیرا دن موتی تیری رات نگیں

یہ دھوپ جلے اجلے چہرے

سب تیرے ماتھے کے سہرے

یہ اہل نطر یہ اہل یقین

اے پاک وطن ۔۔۔۔۔ اے پاک وطن

تیرا دن موتی تیری رات نگیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت لمبی ہے

نوائے ادب کہا...

بہت شکریہ احمد بھائی بہت پیارا نغمہ ہے
روشن و رخشاں، نیّر وتاباں ، پاکستان رہے
جب تک سورج چاند ہے باقی، جب تک باقی جہان رہے ہے

محمد احمد کہا...

جاوید گوندل صاحب،

سب سے پہلے تو "رعنائیِ خیال" پر خوش آمدید !

پھر شکریہ کہ آپ نے ناصرف اس خوبصورت نغمہ کے شاعر کے نام کی نشاندہی کی بلکہ مزید کلام بھی شئر کیا جو کہ بہت اعلیٰ بھی ہے اور شاعرکی پاکستان سے بے پناہ محبت کا ثبوت بھی.

اور سب سے آخر میں معذرت کے جواب میں کچھ تاخیر ہوگئی وجہ وہی مصروفیت اور کچھ نہیں.

ایک بار پھر شکریہ

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ خرم بھائی!

آپ کی توجہ اور نظرِ کرم کے لئے ممنون ہوں۔

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک