عقل ہے محوِ تماشا

عقل ہے محوِ تماشا
محمد احمدؔ​

رحیم چاچا اچھے خاصے گدھے تھے اور میں اُن کا بھی گدھا تھا۔

یوں تو گدھا ہونے میں کوئی خاص برائی نہیں ہے لیکن جب انسانوں میں گدھے کے نام سے سے منسوب خصوصیات والے لوگ دیکھتا ہوں تو مجھے کافی شرمندگی ہوتی ہے۔ ان میں سے بھی کچھ لوگ تو نرے گدھے ہی ہوتے ہیں۔ نہ جانے نرے گدھے سے انسانوں کا کیا مطلب ہوتا ہے لیکن میری ذاتی رائے تو یہ ہے کہ ایسے لوگ گدھے کہلائے جانے کے لائق بھی نہیں ہوتے۔

ع ۔ پیشے میں عیب نہیں، رکھیے نہ فرہاد کو نام

خیر تو میں ذکر کر رہا تھا رحیم چاچا کا۔ پیشے کے اعتبار سے چاچا نمک کے سپلائر تھے لیکن اُن کی لوجسٹک فلیٹ میں میرے علاوہ باربرداری کا کوئی خاطر خواہ بندوبست نہیں تھا۔ خود چاچا بھی اچھے خاصے گدھے ہونے کے باوجود وزن اُٹھانے سے جی چراتے تھے اور نمک کی بوریاں میری کمر پر لاکر یوں پٹختے کہ جیسے سامان رکھنے کے بجائے دشمن پر حملہ کر رہے ہوں۔ خیر مجھے کیا، میں تو ہوں ہی گدھا۔


نمک کی دو بوریاں تقریباً پون پون بھری ہوئی وہ میری کمر کے دونوں طرف لٹکاتے اور اپنے اکلوتے کسٹمر نمکدان خان کی طرف لے جاتے۔ اس طرح دو بوری صبح اور دو بوری شام وہ نمکدان کو سپلائی کرتے اور راستے میں اُسی میں سے چلر والوں کو بھی نمٹاتے جاتے۔ اگر یہ چکر جلدی پورے ہو جاتے تو پھر وہ کچھ نمک لے کر نکلتے اور قریبی گلی محلوں میں خود سے بیچا کرتے۔ تاہم حرام ہے کہ میں نے یہ نمک کبھی چکھا ہو، سو چاچا چاہ کر بھی مجھے نمک حرامی کا طعنہ نہیں دے سکے۔

چاچا بتاتے ہیں (مجھے نہیں بلکہ لوگوں کو)کہ نمکدان خان جب پیدا ہوا تو ان کے والد کی پہلی نظر اس پر پڑنے کے بعد نمکدان پر پڑی، سو اُس کا نام نمک دان خان رکھ دیا گیا۔ اب یہ پتہ نہیں کہ اُس نے اپنی نام کی نسبت سے نمک کا کام شروع کیا یا اُسے پیدا ہی اس لئے کیا گیا تھا۔ نمکدان خان بہت سیدھا سادھا پٹھان ہے جو اپنے آپ کو بہت تیز سمجھتا ہے لیکن سمجھنے سے کیا ہوتا ہے وہ تو ہمارے سیاست دان بھی خود کو صادق اور امین سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ عوام بھی ایسا ہی سمجھتے ہوں گے۔ لیکن میں بحیثیت ایک گدھا اُن کی اس بات کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہوں۔ ہاں نرے گدھوں کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی کہ وہ ہم گدھوں میں سے نہیں ہوتے۔

میرا سپلائی روٹ یوں تو تمام کا تمام خشکی کے راستہ پر ہی مبنی تھا تاہم ایک جگہ مجھے ایک ندی پار کرنی پڑتی تھی جس میں میرے گھٹنوں سے کچھ نیچے تک پانی ہوا کرتا تھا سو میں وہ ندی با آسانی پار کر لیا کرتا تھا۔ چاچا کبھی کبھی ندی پر رُک کر منہ دھویا کرتے تھے لیکن مجھے اُن کا یہ عمل سراسر بے مصرف معلوم ہوتا تھا کہ چاچا کے چہرے پر تو کوئی فرق پڑتا نہیں تھا البتہ میں کھڑا کھڑا وزن سے دُہرا ہوتا رہتا تھا۔

ایک دن یا تو وزن زیادہ تھا یا مجھ پر تھکن غالب تھی کہ مجھے نمک کی بوریاں اُٹھانے میں کافی دقت کا سامنا تھا۔ اچانک ندی کے بیچوں بیچ چاچا کو اپنا منہ دھونے کا خیال آ گیا۔ جب چاچا پوری شد و مد سے منہ دھو نے لگے اور یہ بھی بھول گئے کہ میں ندی کے درمیان وزن اُٹھائے کھڑا ہوں تو مارے تھکن کے میں ندی میں ہی بیٹھ گیا اور با مشکل اپنا منہ سانس لینے کے لئے اوپر کیے رکھا۔ چاچا منہ دھونے کے بعد ہوش میں آئے تو اُنہوں نے مجھے ندی میں بیٹھا ہوا پایا۔ نہ جانے ا ُنہیں کیا ہوا کہ سارے ادب آداب بھول گئے اور ڈنڈا اُٹھا کر میرے ڈینٹ نکالنا شروع کردیے۔ اذیت کے مارے میں اُنہیں ٹویوٹا کرولا اور کھوتا کرولا کا فرق بھی نہیں سمجھا سکا۔ خیر مار کھانے کے بعد میں خود کو اچھا خاصا ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ گدھوں کا کتھارسس مکالمے سے نہیں بلکہ پھینیٹی لگانے سے ہی ہوا کرتا ہے۔ (زیادہ مسکرانے کی ضرورت نہیں، یہاں پٹواریوں یا انصافیوں کا ذکر ہرگز مطلوب نہیں ہے)۔

خیر جب نمکدان خان کے ہاں پہنچے تو اُس نے بتایا کہ آج نمک کا وزن آدھا رہ گیا ہے اور آدھا نمک غالباً پانی میں گھل گیا۔ آدھے پیسے وصول کرکے چاچا کو غصہ تو کافی آیا لیکن وہ اپنا غصہ پہلے ہی اُتار چکے تھے سو مجھے اب کچھ نہیں کہا گیا۔

سیانے کہتے ہیں کہ جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے سو میں بھی کُٹائی کھا کر ایک گُر کی بات سیکھ گیا۔ اب جب کبھی مجھے وزن زیادہ لگتا تو میں ندی میں کچھ دیر کے لئے بیٹھ جاتا۔ اس واقعے کے بعد چاچا تو منہ دھونا ہی بھول گئے تھے اور صبح بھی چاچی کے خونخوار اصرار پر ہی منہ دھونے کی ہمت کرتے۔ شروع شروع میں چاچا نے میرے اس طرح ندی میں بیٹھ جانے کو اتفاقی سمجھا اور جلد سے جلد مجھے اُٹھا کر اپنی راہ لی۔ لیکن جب یہ معاملہ پیٹرول کی قیمتوں کی بڑھوتری کی طرح جلد جلد واقع ہونے لگا تو چاچا کو فکر لاحق ہو گئی۔

ایک روز چاچا نے میری شکایت نمکدان خان کو کی کہ میں ندی میں بیٹھ جایا کرتا ہوں اور اس طرح کافی نمک ضائع ہو جاتا ہے۔ نمکدان خان کچھ سوچنے لگا اور پھر اُس کے چہرے پر ازلی حماقت برسنے لگی۔ اُس نے چاچا کو کان قریب لانے کا کہا اور آداب ِ محفل بھولتے ہوئے اُن کے کان میں کُھسر پھسر کرنے لگا۔ مجھے بہت غصہ آیا اور دل چاہا کہ اس نمکدان کو بھی ندی میں غوطہ دے کر اس کا وزن آدھا کر دیا جائے لیکن پھر میں نے پہلی غلطی سمجھ کر معاف کر دیا۔

اگلے روز چاچا کو نہ جانے کیا ہوا کہ بجائے نمک کے بوریوں میں روئی بھرنے لگا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم گدھے تو بس یونہی بدنام ہیں اور انسان صرف اپنے نام کی وجہ سے ہی انسان کہلاتا ہے۔ خیر مجھے کیا۔ دونوں بوریوں میں روئی لادنے کے بعد ہم اپنے مخصوص راستے پر چل پڑے۔ آج تو مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے میں چاچا کے ساتھ گھومنے نکلا ہوں۔ جب ندی آئی تو بھی میں اُسی انداز میں چلتا رہا۔

جب ندی تقریباً پار ہونے والی تھی تو چاچا کو پتہ نہیں کیا ہوا کہ مجھے روک کر میرے کمر پر زور دینے لگے۔ جب میں ٹس سے مس نہ ہو ا تو چاچا تقریباً مجھ پر چڑھ ہی گئے۔ لیکن وہ گدھا ہی کیا جو اڑیل نہ ہو میں ندی میں چٹان کی طرح کھڑا رہا۔ چاچا نے اپنے دونوں ہاتھ آپس میں ملا کر نہ جانے مجھے کیا اشارہ کیا اور پھر مجھے لے کر آگے چل پڑے۔

نمکدان خان کے پاس پہنچنے پر چاچا کافی غصہ میں معلوم ہوتے تھے اور نہ جانے نمکدان خان کو کیا کیا کہہ رہے تھے ۔ بالآخر نمکدان خان نے چاچا سے کہا کہ چاچا تم فکر نہ کرو۔ ہمارا مشورہ تو بالکل ٹھیک تھا لیکن تمہارا گدھا تو بالکل ہی گدھا ہے۔ ہم ایسا کرتا ہے کہ تم سے روئی خرید لیتا ہے کہ ہمارا گھر والی ویسے بھی نئے لحاف اور گدے تیار کرنے کا کہتی رہتی ہے۔

اُس دن نمکدان خان کے ہاں تین چکر لگانے پڑے ایک روئی لے کر اور باقی دو نمک لے کر۔ شام تک چاچا تھکن سے ہلکان ہو رہا تھا، لیکن مجھے آج بہت لطف آیا۔ اگر چاچا ایسے ہی مجھے کبھی کبھی گھمانے لے جائیں تو اُن کا کیا جائے۔

ویسے میں سوچتا ہوں کہ چاچا اگر یہ سمجھ رہے تھے کہ اُس روز میں روئی لے کر ندی میں بیٹھ جاؤں گا تو عرض کروں گا کہ اب میں اتنا بھی گدھا نہیں ہوں۔ دراصل سوال میری ذات پر نہیں چاچا کی ذات پر اُٹھایا جانا چاہیے کہ ایک تو اُنہیں مشورہ کرنے کے لئے نمکدان خان کے علاوہ کوئی ملا نہیں دوسرے یہ کہ وہ اُس مشورے پر عمل بھی کر بیٹھے۔

پھر بھی گدھے ہم ہیں۔

--------------
مرکزی خیال ماخوذ برائے تفہیم نو

2 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

Babar Nisar کہا...

بہت اچھے

Muhammad Ahmed کہا...

بہت شکریہ بابر نثار صاحب!

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک