غزل ۔ بے حس و کج فہم و لاپروا کہے ۔ مرتضی برلاس

غزل

بے حس و کج فہم و لاپروا کہے
کل مورّخ جانے ہم کو کیا کہے

اس طرح رہتے ہیں اس گھر کے مکیں
جس طرح بہرہ سُنے، گونگا کہے

راز ہائے ضبطِ غم کیا چھپ سکیں
ہونٹ جب خاموش ہوں چہرہ کہے

اس لئے ہر شخص کو دیکھا کیا
کاش کوئی تو مجھے اپنا کہے

ہے تکلّم آئینہ احساس کا
جس کی جیسی سوچ ہو ، ویسا کہے

پڑھ چکے دریا قصیدہ ابر کا
کیا زبانِ خشک سے صحرا کہے

بدگمانی صرف میری ذات سے
میں تو وہ کہتا ہوں جو دنیا کہے

مرتضیٰ برلاس

0 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک