اپنی کلاہ کج ہے اسی بانکپن کے ساتھ



ایک انٹرویو میں کسی نے جناب سراج الحق صاحب (امیر ِ جماعتِ اسلامی) سے پوچھا کہ آپ ٹوپی ٹیڑھی کیوں لگاتے ہیں تو سراج الحق صاحب نے جو جواب دیا وہ بڑا حیران کن تھا۔

انہوں نے کہا کہ بچپن میں جب وہ اسکول جاتے تھے تو اُن کے پاس پہننے کے لئے چپلیں نہیں تھیں۔ سو اسکول جاتے وقت اُن کی والدہ اُن کی ٹوپی زرا سی ٹیڑھی کردیا کرتیں کہ اس طرح دیکھنے والوں کی توجہ ٹوپی کی طرف رہے گی اور پیروں کی طرف کوئی نہیں دیکھے گا۔

سراج الحق صاحب نے کہا کہ جب سے ایسی عادت ہے کہ میں ٹیڑھی ٹوپی ہی لگاتا ہوں۔

سر پر ہوائے ظلم چلے سو جتن کے ساتھ
اپنی کلاہ کج ہے اسی بانکپن کے ساتھ

مجروح سلطان پوری

میں سوچتا ہوں کہ وہ کیسی عظیم ماں ہو گی کہ وسائل کی عدم دستیابی کے باوجود اُنہوں نے اپنے بچوں کی پڑھائی لکھائی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آج سراج الحق صاحب جماعتِ اسلامی کے امیر ہیں اور میرا ذاتی خیال ہے کہ جماعتِ اسلامی میں اگے بڑھنے کے لئے پڑھا لکھا اور قابل ہونا ضروری ہے۔

آج ہماری قوم کا حال یہ ہےکہ بے شمار بچے وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود پڑھائی کے معاملے میں بالکل سنجیدہ نظر نہیں آتے نہ ہی اُن کے والدین کو اس بات کی کوئی خاص فکر ہوتی ہے۔ رہے کم وسائل والے لوگ تو اُن کے ہاں اس سوچ کا ہی فقدان ہے کہ پڑھائی لکھائی ہر بچے کے لئے ضروری ہے۔ اور پھر ایسی مائیں بھی ملک میں خال خال ہی ہوں گی کہ جو بچوں کی پڑھائی کی راہ میں آنے والی کسی رُکاوٹ کو خاطر میں نہ لائیں۔

کاش ہمارے وطن میں بھی تعلیم کی اہمیت کو سمجھا جائے اور اسناد اور ڈگریوں کے حصول کے بجائے تعلیم کو قابلیت کے حصول اور زندگی کو خوب سے خوب تر بنانے کا نسخہ سمجھا جائے۔ کاش۔۔۔!


2 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

راحیل فاروق کہا...

بہت عمدہ، احمد بھائی۔
صد فیصد متفق۔ المیہ یہی ہے کہ عظیم لوگ تھوڑے ہوتے ہیں۔ ہمارے لیے لمحۂِ فکریہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں عظیم لوگوں کے متبعین بھی تھوڑے ہیں۔
میں جماعتِ اسلامی کا رکن نہیں۔ مگر اس ترچھی ٹوپی والے نے اپنے کردار اور عظمت کا دیوانہ بنا رکھا ہے۔

Muhammad Ahmed کہا...

شکریہ راحیل بھائی!

میری بھی جماعتِ اسلامی سے کوئی وابستگی نہیں ہے تاہم جو بات لائقِ تعریف ہو اُسے کسی تعلق کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔ سراج الحق ہمارے سیاسی اُفق پر واقعی قدرے مختلف شخصیت واقع ہوئے ہیں۔

آپ غالباً پہلی بار خاکسار کے بلاگ پر تشریف لائے ہیں سو خوش آمدید!

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک