جب بھی ہنسی کی گرد میں چہرہ چھپا لیا ۔ اسلم کولسری

اسلم کولسری صاحب کی خوبصورت غزل، قارئینِ بلاگ کے اعلیٰ زوق کی نذر

غزل

جب بھی ہنسی کی گرد میں چہرہ چھپا لیا
بے لوث دوستی کا بڑا ہی مزہ لیا

اک لمحہء سکوں تو ملا تھا نصیب سے
لیکن  کسی شریر صدی نے چرا لیا

کانٹے سے بھی نچوڑ لی غیروں نے بوئے گُل 
یاروں نے بوئے گل سے بھی کانٹا بنا لیا

اسلم بڑے وقار سے ڈگری وصول کی
اور اُس کے بعد شہر میں خوانچہ لگا لیا

اسلم کولسری


8 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

fiza khan کہا...

بہت خوب - آپ واقعی اردو کی خدمت کر رہے ہیں۔
ہر قسم کی مبارک باد شیئر کرنے کے لئے بہترین بلاگ:
/http://fizagreetings.blogspot.in

Muhammad Ahmed کہا...

Fizakhan

آپ کی زرہ نوازی کا شکریہ ورنہ اردو کی خدمت تو بہت بڑی چیز ہے اور یہ سعادت قسمت والوں کو ہی ملتی ہے۔

نیرنگ خیال کہا...

مبارک ہو احمد بھائی۔۔۔ آپ کو بھی زرہ نواز دی گئی ہے۔۔۔ :p

Muhammad Ahmed کہا...

ہاہاہہاہاہا ۔۔۔۔ کیا بات ہے نیرنگِ خیال بھائی ۔۔۔ نکتہ نوازی کے لئے ممنون ہوں۔ :) :)

نیرنگ خیال کہا...

یعنی "نوازی" رہے گی بہرحال جملے میں۔۔۔ ٹھیک ہے سرکار۔۔۔۔ :)

Muhammad Ahmed کہا...

عہدِ نواز شریف میں اس کے بغیر چارہ بھی تو نہیں ہے۔ :)

نیرنگ خیال کہا...

ہاہاہاہاہااااااا۔۔۔۔ :)

Shafaur Rahman کہا...

عمدہ ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک