یوں تو کوئی دوش نہیں تھا کشتی کا ، پتواروں کا


کسی زمانے میں ہم نے ایک طرحی غزل مشاعرہ ڈاٹ آرگ کے لئے لکھی تھی، یوں تو یہ ایک مقابلہ تھا اور یہ غزل سرِ فہرست بھی رہی تاہم ہمارا مقصد محض تفریحِ طبع ہی تھا۔ یہ غزل ابنِ انشاء کے مصرعہ پر لکھی گئی ہے۔ کچھ اُن دنوں طبیعت میں روانی بھی تھی ورنہ ہم ہمیشہ طرحی غزل لکھنے سے گھبراتے ہیں۔ آج یہ غزل یاد آئی تو سوچا بلاگ پر ہی پیش کردی جائے۔


غزل

یوں تو کوئی دوش نہیں تھا کشتی کا ، پتواروں کا
ہم نے خود ہی دیکھ لیا تھا ایک سراب کناروں کا

جھڑتی اینٹیں سُرخ بُرادہ کب تک اپنے ساتھ رکھیں
وقت چھتوں کو چاٹ رہا ہے ، دشمن ہے دیوارں کا

تیز ہوا نے تنکا تنکا آنگن آنگن دان کیا
گم صُم چڑیا طاق میں بیٹھی سوچ رہی ہے پیاروں کا

سُرخ گلابوں کی رنگت بھی اچھی ہے پر سوچتا ہوں
قوس و قزح سی اُس کی آنکھیں ، رنگِ حیا  رخساروں کا

کاش سروں کی بھی قیمت ہو دستاروں کے میلے میں
کاش وفا بھی جنسِ گراں ہو طور تِرے بازاروں کا

دھوکہ دینے والی آنکھیں ، دھوکہ کھا بھی لیتی ہیں
راکھ اُڑا کے دیکھ تو لیتے رنگ ہے کیا انگاروں کا

من میں غم کے پھول کھلیں تو لفظ مہکنے لگتے ہیں
دل آنگن بھی دیکھا ہوتا ، تم نے خوش گُفتاروں کا

بند گلی بھی خود میں جانے رستے کتنے رکھتی ہے
ہم دروازے کھوج نہ پائے ، دوش ہے کیا دیواروں کا

ایسا تھا کہ آنچل بن کے دھرتی کو سُکھ دینا تھا
ورنہ امبر بھی کیا کرتا ، سورج ، چاند ، ستاروں کا

بس یادوں کی کو مل رُت میں عمر تمام گزر جائے
ورنہ احمدؔ ہجر کا موسم ، موسم ہے آزاروں کا

محمد احمدؔ

11 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

اخلاق احمد کہا...

واہ واہ،کیا بات ہے جناب،کیا بات ہے۔سارے کے سارے شعر ہی کمال کے ہیں۔اللہ کرئے زورِ قلم اور زیادہ

میرا پاکستان کہا...

بہت اچھے اشعار ہیں۔ یہ تو بتا دیں کہ یہ شعر کس بحر میں لکھی گئی ہے اور ایک شعر کی اگر تقطیع ہو جائے تو ہم جیسے عام سے آدمی کو اشعار سمجھنے میں مدد ملے گی۔

محمد احمد کہا...

@اخلاق صاحب،

بلاگ پر خوش آمدید محترم۔۔۔! غزل آپ کو پسند آئی یہ بات میرے لئے باعثِ مسرت ہے۔

خوش رہیے۔

محمد احمد کہا...

@میرا پاکستان

بہت شکریہ محترم،

میں علمِ عروض کا ماہر نہیں ہوں بلکہ معمولی طالبِ علم ہی ہوں اور فی الوقت عروض سے زیادہ موزونیِ طبع پر انحصار کرتا ہوں۔ تاہم آپ کی فرمائش کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اتنا ضرور بتاسکتا ہوں کہ اس غزل کی بحر ہندی بحر کہلاتی ہے اور اس کے افاعیل درج ذیل ہیں۔

افاعیل:
فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن فع

پہلے شعر کی تقطیع کچھ یوں ہوگی:

یوں تو - فعلن
کوئی-فعلن
دوش ن-فعلن
ہی تھا-فعلن
کشتی-فعلن
کا پت-فعلن
واروں-فعلن
کا-فع

ہم نے-فعلن
خود ہی –فعلن
دیکھ ل-فعلن
یا تھا-فعلن
ایک س-فعلن
راب ک-فعلن
ناروں-فعلن
کا-فع

اُمید ہے آپ کی تسلی ہوجائے گی ۔ اگر آپ علمِ عروض میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ کے لئے محمد وارث صاحب کا بلاگ "صریرِ خامہ وارث" دیکھنا کافی سود مند ثابت ہوگا بلکہ شاید آپ اس بلاگ سے بخوبی واقف بھی ہوں گے۔

علی کہا...

بہت عمدہ لکھی ہے آپ نے

عمران اقبال کہا...

بہترین۔۔۔ بہت عمدہ

Waseem Rana کہا...

بہترین۔۔۔

درویش خُراسانی کہا...

بہت اچھی لکھی ہے۔

محمد احمد کہا...

@علی
@عمران اقبال
@وسیم رانا
@درویش خراسانی

آپ سب کی توجہ اور غزل کی پسندیدگی کے لئے شکر گزار ہوں۔

محمد بلال اعظم کہا...

احمد بھائی آپ نے ہندی بحر میں جتنی بھی غزلیں لکھی ہے، بہت خوب لکھی ہیں۔
اس غزل پہ بھی داد قبول کریں۔

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ بلال خوش رہیے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک