نوشتۂ قمیص



نوشتۂ قمیص


آپ نے وہ ٹی شرٹس تو دیکھی ہی ہوں گی جن پر نوجوانوں کے اقوالِ زرّیں درج ہوتے ہیں، یہ اقوال چونکہ نوجوانوں کے ہوتے ہیں لہٰذا اقوال کم اور زرّیں زیادہ ہوتے ہیں ۔ ان ٹی شرٹس کو پہنتے بھی نوجوان ہی ہیں اور وہ اُن پرہی جچتی ہیں۔ یعنی آج کے نوجوانوں کو اظہارِ ذات کے لئے بلاگ لکھنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اظہارِ ذات کا یہ نسخہ آپ کے لئے بھی ضرور کام کرے گا بس خود کو نوجوان سمجھنا ہوگا اورایسا نہ سمجھنے والوں کو حاسد۔

ان ٹی شرٹس پرآپ کو اس قدر متنوع موضوعات کی تحریریں مل جائیں گی کہ بس ذرا سی کوشش سے آپ کو بھی اپنی مطلوبہ شرٹ مل جائے گی جو آپ کی جگہ کلام کرے گی۔شاید آپ سوچیں کہ یہ ٹی شرٹ کیسی ہونی چاہیے تو بس اتنا سمجھ لیجے کہ شرٹ کیسی بھی ہو بس اُس پر ایک عجیب و غریب قسم کا جملہ درج ہونا چاہیے ۔ انداز کچھ جارحانہ ہو اور تھوڑی سی بے باکی۔ ٹی شرٹ پسند کرتے ہوئے اپنے بزرگوں سمیت اُن سب لوگوں کو بالکل یاد نہ کریں جو ہمہ وقت نصیحتوں میں مشغول رہتے ہیں اور جنہیں ہر دوسری بات بے ہودہ لگتی ہے اور پہلی واہیات۔

بس ، اب تو آپ کو امجد اسلام امجد بھی نہیں کہ سکیں گے کہ " کرو جو بات کرنی ہے۔ اگر اس آس پہ بیٹھے کہ دنیا بس تمھیں سننے کی خاطرگوش بر آواز ہوکر بیٹھ جائے گی تو ایسا ہو نہیں سکتا" سو اب اگر ایسا نہیں ہوگاتو پھر ویسابھی نہیں ہوگا بلکہ اب تو آپ اجنبیوں سے بھی کلام کریں گے عین ممکن ہے کہ وہ آپ کا نوشتۂ قمیص پڑھ کر تلملا جائیں لیکن جواباً کچھ نہیں کہہ سکیں گے۔ یعنی وہ جو آپ اپنے بلاگ کے قاریوں اور تبصرہ نگارو ں کو صفائیاں پیش کر کر کے عاجز ہوجاتے ہیں اُس سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔

بزرگوں سے درخواست ہے کہ ان ٹی شرٹس پر درج اقوالِ زرّیں سے نوجوانوں کی شخصیت کا اندازہ لگانے کی غلطی ہرگز نہ کریں کیونکہ اگر وہ ایسا کریں گے تو آدھے سے زیادہ نوجوانوں کو اوباش اور آوارہ قرار پانے سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ لیکن در حقیقت ایسا نہیں ہے کیونکہ آدھے سے زیادہ نوجوانوں کو نہ تو اس بات کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی اس بات سےکوئی سروکارکہ اُن کی شرٹ پرجو کچھ لکھا ہے اس کا کیا مطلب نکلتا ہے اور مزید کیا کیا مطالب نکالے جا سکتے ہیں۔

بہر کیف ٹی شرٹ کہانی کو مختصر کرتے ہوئے آپ کو بتانا یہ ہے کہ خاکسار نے بھی خاص الخاص اردو بلاگرز کے لئے اُن کے رجحانات اور میلانات کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے کچھ ٹی شرٹس ڈیزائین کی ہیں۔یعنی وہ تمام باتیں جو آپ اکثر کہتے ہیں اور وہ بھی جو "خیال و خاطرِ احباب"کی رٹ لگانے والوں کی وجہ سے یا پھر " خوفِ فساد خلق" کے باعث نا گفتہ رہ جاتیں ہیں اب نہیں رہیں گی۔ یعنی :

جو حق کی بات تھی وہ ہم نے برملا کہہ دی
خیال و خاطر احباب کب تلک کرتے؟

تو پھر آئیے شرٹس دیکھتے ہیں:


گو امریکہ







آزادی اظہار






کراچی








جلوہ






دینِ ملا








دیا جلائے رکھنا ہے






بات






ناصح








پاکستان



بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے








میں نہیں مانتا



اور یہ آخری ٹی شرٹ کمپلیمینٹری سب بلاگرز کے لئے


میرا اعتبار کیجے



آپ چاہیں تو آپ بھی اپنی ٹی شرٹ کے لئے اقوالِ زرّیں تجویز کر سکتے ہیں۔







یہ تحریر اور تصاویر صرف ازراہِ تفنن پیش کی جارہی ہیں اور کسی کی دل آزاری ہرگز مقصود نہیں ہے۔

فرض شناسی


فرض شناسی

اقتباس


ایک بڑھیا بےچاری بڑی مشکل سے ہانپتی کانپتی ٹرین کے ڈبے میں سوار ہوگئی ۔ چھوٹی سی گٹھری اس کے ساتھ تھی ۔ اسے لے کر بامشکل وہ ایک طرف کو تھوڑی سی جگہ بنا کر بیٹھ گئی ۔ یہ دو آدمیوں کا چھوٹا سا فرسٹ کلاس کا ڈبہ تھا لیکن اس کے اندر بیس آدمی ٹھسے ہوئے تھے۔ کوئی کھڑا تھا، کوئی بیٹھا تھا، جو جگہ لوگوں سے بچ گئی تھی اس میں سامان رکھا ہوا تھا۔ حالات کچھ ایسے تھے کہ کوئی کسی سے پوچھ نہ سکتا تھاکہ ۔۔۔۔ بھیا تم کس درجہ کے مسافر ہو؟ یہ فرسٹ کلاس کا ڈبہ ہے اور پہلے سے دو آدمیوں کے لئے ریزرو ہے۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ملک تقسیم ہوا تھا پاکستان وجود میں آیا ہی تھا، اللہ اور رسول ﷺ کے نام پر۔ اس لئے یہی مسلمانوں کا وطن تھا۔ ہندوستان سے مسلمان سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جان بچائے کسی نہ کسی طرح پاکستان پہنچ رہے تھے ۔

پاکستان ۔۔۔۔ جو اُن کی تمناؤں کا ثمرِ نورس تھا۔
پاکستان ۔۔۔۔جس کے لئے اُنہوں نے تن من دھن کی قربانی دی تھی۔
پاکستان ۔۔۔۔جسے اسلام کی نشاطِ ثانیہ کا گہوارہ بننا تھا۔ پاکستان ان کے لئے سب کچھ تھا۔ دین بھی دنیا بھی۔ اس کا چپّہ
چپّہ ان کے لئے مقدس تھا۔

اس گلِ تازہ کی خاطر اُنہوں نے خیابان و گلزار سب چھوڑ دئیے تھے۔ ایک لمحے کے لئے بھی یہ نہ سوچا تھا کہ ان کا کیا ہوگا۔ اُنہیں تو بس یہی ایک خوشی تھی کہ دو صدیاں گزرنے کے بعد پھر وہ دن آئے تھے کہ ارضِ ہمالہ کے ایک گوشے میں لا الہ الاللہ کا پرچم لہرا رہا تھا۔ وہ پرچم جو مسلمانوں کی عزت و وقار کا مظہر تھا۔

یہ بے چاری بُڑھیا بھی اپنا سب کچھ لٹا کر نہ جانے کس طرح بچتی بچاتی پاکستان پہنچ گئی تھی۔ اسے اتنا ہوش ہی کہاں تھا کہ یہ تمیز کر سکتی کہ وہ کس درجہ میں آکر بیٹھ گئی۔ اُسے تو بس ایک بات معلوم تھی کہ ۔۔ ۔ یہ ہمارا ملک ہے ، یہ ہماری گاڑی ہے۔ جو دوسرے مسافر تھے ان کا بھی یہی حال تھا۔ ہر ایک کا چہرہ غم و الم کی تصویر تھا۔ کیا کیا کچھ کھویا تھا کہ اس ملک کو پا لیں یہ کون کہتا ؟کیا کہتا ؟ کس سے کہتا؟ مسلسل صدمات برداشت کرتے کرتے دلوں میں ناسور پڑ گئے تھے اور زبانیں گنگ ہوگئی تھیں۔

گاڑی کو پاکستان کی سرحد میں داخل ہوئے کچھ بہت زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ایک اسٹیشن پر ٹکٹ چیکر ڈبے میں داخل ہوا ۔ اس کے ہاتھ میں ایک کاپی تھی، مشتاق احمد صاحب اپنی آپ بیتی کا روانِ حیات میں لکھتے ہیں۔ "ٹکٹ چیکر کو دیکھ کر معاً مجھے خیال آیا کہ مدتوں میں ریلوے کا افسر رہا ہوں۔ دیکھو ! یہ چیکر کیا کرتا ہے۔

چیکر نے بڑھیا کو دیکھا تو اس سے ٹکٹ کا مطالبہ کیا۔ و ہ اللہ کی بندی کسی قابل ہوتی تو کچھ کہتی۔ بے اختیار اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ پڑے ۔ اس کے پاس ٹکٹ نہ تھا۔ کسی درجہ کا بھی ٹکٹ نہ تھا ۔ ملک کے حالات، بڑھیا کی کیفیت ، غم واندوہ کی فضا ایسی تھی کہ عام معمولات کی پابندی بہت مشکل تھی۔ مشتاق صاحب لکھتے ہیں ۔ میں نے بڑٰی حیرت سے دیکھا کہ چیکر نے اپنی نوٹ بک نکالی اور بلا ٹکٹ سفر پر بُڑھیا کا چالان کر دیا۔ اس نے رسید کاٹ دی تو بُڑھیا اُس سے بے اختیار بولی ۔ ۔۔۔ بیٹا! میرے پاس کچھ نہیں تو یہ رسید نہ کاٹ ۔ جواب ملا ۔۔۔ امّاں اگر ہم بلا ٹکٹ سفر کریں تو ہمارے نئے ملک کا کام کیسے چلے گا؟ تمھارا چالان ہوگا پیسے داخل ہوں گے۔ تم بہت دکھیاری ہو ۔ تمھارے لئے میرا دل بھی دکھی ہے۔ یہ جرمانہ تم نہیں دوگی میں اپنی طرف سے دے دوں گا۔

احساسِ فرض، ملک کی محبت اور بے سہاروں کی خدمت کا یہ ایسا انمول واقعہ تھا کہ سب مسافروں کے دلوں پر نقش ہوگیا۔ آج کوئی نہیں جانتا کہ یہ فرض شناس اور ملک دوست ٹکٹ چیکر کون تھا؟ لیکن دل بے اختیار کہتا ہے کہ وہ بہت بڑا آدمی تھا۔


شاہ بلیغ الدین کی کتاب "روشنی " سے اقتباس۔



۔

چیمپئن اور چہیتا


چیمپئن اور چہیتا


جارج برنارڈ شا نے کہا تھا ۔ "میں ڈائنامائٹ کی ایجاد پر الفریڈ نوبل کو تو معاف کرسکتا ہوں لیکن نوبل پرائز کی ایجاد کا کام ایک شیطان ہی کرسکتا ہے۔ "

I can forgive Alfred Nobel for inventing dynamite, but only a fiend in human form could have invented the Nobel Prize.

جارج برناڈ شا کو لٹریچر کے نوبل پرائز سے نوازا گیا اُس نے اپنی اہلیہ کے اصرار پر نوبل پرائز تو قبول کرلیا لیکن انعام میں ملنے والی رقم لینے سے انکار کردیا تھا اور مذکورہ بالا تاریخی جملہ ادا کیا۔ یہ ہے وہ رویّہ جو غلط کو ہر حال میں غلط کہتا ہے چاہے اُس میں اپنا ہی نقصان کیوں نہ ہو۔ لیکن ایسے لوگ شاذ ہی ملتے ہیں جبکہ دنیا میں دُہرے معیار ات کی مثالوں کی کمی نہیں ہے۔

ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر نیوکلیئر بم گرانے والا امریکہ آج ایران کے نیوکلیئر طاقت کے حصول کی کوششوں کو پوری قوت سے روک رہا ہے اور ہر ہر محاذ پر اس کے آگے بند باندھ رہا ہے۔ یہی امن کا چیمپئن جنوبی کوریا اور شام سے تو شدید خائف ہے لیکن اپنے چہیتے اسرائیل کے لئے سب کچھ حاضر ہے ، سب کچھ جائز ہے ۔ کیوں ؟ وہی ڈبل سٹینڈرڈ۔

ایک ہی بات کوئی اور کرے تو امنِ عالم کے لئے خطرہ اور وہی بات اپنے لئے اور اپنے حواریوں کے لئے جائز! عراق اور افغانستان پر غاصبانہ قبضہ کرنے اور لاکھوں لوگوں کو ہلاک و برباد کرنے والوں کے لئے امن کا نوبل انعام اور اپنے حق اور حب الوطنی کے لئے لڑنے والے دہشت گرد۔ ٹیرارسٹ!کیوں ؟ وہی ڈبل سٹینڈرڈ۔

آج اسرائیل فلسطین کے خلاف کھلی دہشت گردی پر اُترا ہوا ہے لیکن صاحب بہادر کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے آخر کیوں؟ اگر امریکہ جیسا موڈریٹ، امن پسنداور انسانی حقوق کا علمبردار ملک اپنی پالیسیوں میں اس قدر تنگ نظری برت رہا ہے تو پھر وہ لوگ جو کہلاتے ہی دہشت گرد ہیں اُن سے کوئی کیا اُمید رکھ سکتا ہے۔


حوالہ جات: ۱ ۲ ۳

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک