میں نے کہا کچھ اور ہے، سوچا کچھ اور تھا


غزل



جز رشتۂ خلوص یہ رشتہ کچھ اور تھا
تم میرے اور کچھ، میں تمھارا کچھ اور تھا

جو خواب تم نے مجھ کو سنایا، تھا اور کچھ
تعبیر کہہ رہی ہے کہ سپنا کچھ اور تھا

ہمراہیوں کو جشن منانے سےتھی غرض
منزل ہنوز دور تھی، رستہ کچھ اور تھا

اُمید و بیم، عِشرت و عُسرت کے درمیاں
اک کشمکش کچھ اور تھی، کچھ تھا، کچھ اور تھا

ہم بھی تھے یوں تو محوِ تماشائے دہر پر
دل میں کھٹک سی تھی کہ تماشا کچھ اور تھا

جو بات تم نے جیسی سنی ٹھیک ہے وہی
میں کیا کہوں کہ یار یہ قصّہ کچھ اور تھا

احمدؔ غزل کی اپنی روش اپنے طَور ہیں
میں نے کہا کچھ اور ہے، سوچا کچھ اور تھا

محمد احمدؔ


12 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

محمد وارث کہا...

خوبصورت غزل ہے احمد صاحب، اور خوشی ہوئی کافی عرصہ بعد آپ کی کوئی تخلیق دیکھ کر۔ سبھی اشعار بہت اچھے ہیں لیکن یہ خاص طور پر بہت پسند آیا

ہمراہیوں کو جشن منانے سےتھی غرض
منزل ہنوز دور تھی، رستہ کچھ اور تھا

واہ واہ واہ، لاجواب۔

Saad کہا...

واہ. بہت خوب جناب.

شازل کہا...

اس شعر کو کچھ یوں ہونا چاہئے تھا
جز رشتۂ خلوص یہ رشتہ کچھ اور تھا
تم میرے کچھ، میں تمھارا کچھ اور تھا

یہ اس شعر پر تھوڑی سی اصلاح کی ضرورت ہے
اُمید و بیم، عِشرت و عُسرت کے درمیاں
اک کشمکش کچھ اور تھی، کچھ تھا، کچھ اور تھا

امید ہے کہ نکتہ چینی سے میرے دوست ناراض نہیں ہونگے

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ وارث بھائی!

آپ سے داد مل جائے تو غزل سرخرو ہوجاتی ہے .

محمد احمد کہا...

سعد بھائی!

آپ کی توجہ اور محبت کا شکریہ!

محمد احمد کہا...

شازل صاحب،

سب سے پہلے تو بلاگ پہ خوش آمدید! پھر اُس کے بعد شکریہ کہ آپ نے اس ناچیز کی غزل کو قابلِ توجہ جانا. آپ نے غزل کے مطلع میں اصلاح کی ہے مجھے اندازہ نہیں ہو سکا کہ آپ نے یہ اصلاح کس خیال کے تحت کی ہے لیکن آپ کا دیا ہوا مصرعہ ثانی خارج از بحر ہے.

چوتھے شعر میں بھی آپ نے اصلاح کی ضرورت کا ذکر کیا ہے لیکن کوئی مشورہ نہیں دیا سو میں کیا کہہ سکتا ہوں. بہر کیف آپ کی آمد اور تبصرے کا شکریہ!

افتخار اجمل بھوپال کہا...

ميں يہاں پر کيوں آ گيا
مجھے جانا کہيں اور تھا

بھئی ۔ ميں شاعر نہيں ہوں ۔ ميں کچھ اور تلاش کرتے ہوئے کہيں پر آپ کا نام پڑھ کر يہاں آ گيا ۔ واپس جا رہا ہوں اپنی کھوج ميں

فکر پاکستان کہا...

بہت اچھی لگی غزل ..

محمد احمد کہا...

افتخار اجمل صاحب،

آپ غلطی سے آگئے اور دانستہ چلے گئے ایسا بھی ہوتا ہے بلکہ ویب کی گلیوں میں تو اکثر ہی ہم نہ جانے کہاں کہاں رُلتے رہتے ہیں. کوئی بات نہیں جو آپ شاعر نہیں ہیں. اُمید ہے کہ اب تک آپ کو اپنی مطلوبہ چیز مل چکی ہوگی.

محمد احمد کہا...

فکرِ پاکستان!

رعنائیِ خیال پر خوش آمدید! آپ کا . آپ کا نک اچھا ہے . مقامِ شکر ہے کہ اب بھی پاکستان کی فکر کرنے والے موجود ہیں. غزل آپ کو پسند آئی اور آپ نے اس کا اظہار بھی کیا. بے حد ممنون ہوں.

فکر پاکستان کہا...

شکریہ محمد احمد صاحب ... پاکستان کی فکر کرنے والے تو آپ کو بہت ملیں گے .. ٹی وی کے ٹاک شوز میں .. کالم نگاروں کی تحریروں میں .. سیمیناروں میں .. دعا کریں کہ ہم زبانی نہیں عملی فکر کریں .. بولنا تو بہت آسان ہوتا ہے .. عملی طور پر کچھ کرنا الگ .. :)

فکر پاکستان کہا...

شکریہ محمد احمد صاحب ... پاکستان کی فکر کرنے والے تو آپ کو بہت ملیں گے .. ٹی وی کے ٹاک شوز میں .. کالم نگاروں کی تحریروں میں .. سیمیناروں میں .. دعا کریں کہ ہم زبانی نہیں عملی فکر کریں .. بولنا تو بہت آسان ہوتا ہے .. عملی طور پر کچھ کرنا الگ .. :)

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک