رئیس فروغ کی دو خوبصورت غزلیں

غزل

سڑکوں پہ گھومنے کو نکلتے ہیں شام سے
آسیب اپنے کام سے، ہم اپنے کام سے

نشّے میں ڈگمگا کے نہ چل، سیٹیاں بجا
شاید کوئی چراغ اُتر آئے بام سے

غصّے میں دوڑتے ہیں ٹرک بھی لدے ہوئے
میں بھی بھرا ہُوا ہوں بہت انتقام سے

دشمن ہے ایک شخص بہت، ایک شخص کا
ہاں عشق ایک نام کو ہے ایک نام سے

میرے تمام عکس مرے کرّ و فر کے ساتھ
میں نے بھی سب کو دفن کیا دھوم دھام سے

مجھ بے عمل سے ربط بڑھانے کو آئے ہو
یہ بات ہے اگر، تو گئے تم بھی کام سے

ڈر تو یہ ہے ہوئی جو کبھی دن کی روشنی
اُس روشنی میں تم بھی لگو گے عوام سے

جس دن سے اپنی بات رکھی شاعری کے بیچ
میں کٹ کے رہ گیا شعرائے کرام سے

****

پھول زمین پر گرا، پھر مجھے نیند آگئی
دُور کسی نے کچھ کہا، پھر مجھے نیند آگئی

ابر کی اوٹ سے کہیں، نرم سی دستکیں ہوئیں
ساتھ ہی کوئی در کُھلا، پھر مجھے نیند آگئی

رات بہت ہوا چلی، اور شجر بہت ڈرے
میں بھِی ذرا ذرا ڈرا، پھر مجھے نیند آگئی

اور ہی ایک سمت سے، اور ہی اک مقام پر
گرد نے شہر کو چُھوا، پھر مجھے نیند آ گئی

اپنے ہی ایک رُوپ سے، تازہ سخن کے درمیاں
میں کسی بات پر ہنسا، پھر مجھے نیند آگئی

تُو کہیں آس پاس تھا، وہ ترا التباس تھا
میں اُسے دیکھتا رہا، پھر مجھے نیند آگئی

ایک عجب فراق سے، ایک عجب وصال تک
اپنے خیال میں چلا، پھر مجھے نیند آگئی

رئیس فروغ

سوشل میدیا اسٹیٹس یا دُکھوں کے اشتہار

سوشل میدیا اسٹیٹس یا دُکھوں کے اشتہار
از : محمد احمدؔ

پہلے دنیا میں عمومی طور پر دو طرح کے لوگ ہوتے تھے۔ یعنی لوگ دوطرح کے رویّے رکھتے تھے۔ کچھ لوگ ایکسٹروورٹ (باہر کی دُنیا میں جینے والے) ہوتے تھے اور چاہتے تھے کہ جو کچھ اُن پر بیت رہی ہے وہ گا گا کر سب کو بتا دیں ۔ وہ ایک ایک کو پکڑتے اور اپنا غم خوشی اُس کے گوش و گزار کر دیتے اور اس طرح اُنہیں صبر آ جاتا تھا۔

دوسری قسم کے لوگ وہ ہوتے جو انٹروورٹ (اپنے دل کی دنیا میں بسنے والے) ہوتے اور جو اپنے دل کی بات اپنے دل میں ہی رکھتے تھے ۔ کسی کو نہ بتاتے کہ اُن پر کیا بیت رہی ہے یا وہ کیا سوچ رہے ہیں۔ دوست احباب اُن کی اُداسی کا سبب پوچھ پوچھ کر مر جاتے لیکن وہ کچھ نہ بتاتے۔ کبھی موسم کا بہانہ کر دیتے تو کبھی طبیعت کا۔

لیکن جب سے ہماری زندگیوں میں سوشل میڈیا کی آمد ہوئی ہے ۔ ہم میں سے انٹروورٹ لوگ بہت کم ہی رہ گئے ہیں ۔ جو اپنے دوستوں اور اقرباء سے کچھ نہیں کہہ پاتے وہ بھی سوشل میڈیا پر اپنے غموں کے اشتہار سجا دیتے ہیں۔ اور ایسی ایسی باتیں ادھر اُدھر سے اُٹھا کر چپکا دیتے ہیں کہ اگر وہ بات کوئی اور اپنی طرف سے اُن سے کہے تو اُنہیں معیوب محسوس ہو۔

سچی بات تو یہ ہے کہ پہلے دنیا بہت خوبصورت ہوا کرتی تھی۔ پہلے لوگوں کے دُکھ اُن کے دلوں میں ہوتے تھے یا قریبی دوستوں کے سینوں میں۔ لیکن اب ہر شخص کے دُکھ سوشل میڈیا / اسٹیٹس پر جا بجا بکھرے نظر آتے ہیں۔ اور لوگ خوشی کو ضرب دینے اور دُکھوں کو مختصر کرنے کی حکایت بھول چُکے ہیں۔

آپ کو ایک دوست کی طرف سے کوئی غلط فہمی ہو گئی ۔ آپ نے سوشل میڈیا سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر 19 جلی کٹی تصاویر اور اقوال اپنے فیس بک یا واٹس ایپ اسٹیٹس پر لگا دیے۔ جنہیں 34 لوگوں نے دیکھا اور نہ جانے کیا کیا سوچا۔

کچھ نے یہ سوچا کہ نہ جانے آپ کو کیا مسئلہ درپیش ہے اور کچھ نے یہ سوچا کہ یہ دنیا اور اُس کے لوگ اور لوگوں کے رویّے کس قدر بدصورت ہیں اور کچھ نے آپ کے مظلومیت کے فریم میں اپنی تصویر جڑ دی۔ اور نتیجتاً یہ دُنیا مزید ناقابلِ برداشت ہو گئی۔ اور آپ دُکھوں کی ترویج کرنے والے بن گئے۔ اور آپ نے جانے انجانے میں نہ جانے کتنے چہروں سے مُسکراہٹیں چھین لیں۔

شام تک آپ کی اپنے دوست کے ساتھ ہو جانے والی غلط فہمی دور ہو گئی اور آپ کے درمیان مُسکراہٹوں کے تبادلے شروع ہو گئے۔ لوگ اب بھی اسٹیٹس دیکھ کر آپ کو زود رنج کہہ رہے ہیں یا دُنیا کو کوس رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ہم اتنے بے صبرے کیوں ہو گئے کہ معمولی معمولی باتوں پر ہمارےصبر کا پیمانہ چھلک جاتا ہے اور ہمار ے اسٹیٹس رشتے ناطوں اور احباب کے خلاف زہر میں بجھے تیر بن جاتے ہیں اور اُس سے جانے انجانے میں نہ جانے کون کون زخمی ہو جاتا ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے رویّوں میں اعتدال کی شدید ضرورت ہے۔

سو اسٹیٹس لکھنے یا منتخب کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچیے کہ جن پچیس تیس لوگوں نے یہ اسٹیٹس دیکھنا ہے کیا یہ بات میں اُن سب کے سامنے بھی اسی طرح کہہ سکوں گا اگر ہاں تو ضرور لکھیے لیکن اگر آپ کو لگے کہ اُن میں سے ایک بھی شخص سے میں یہ بات منہ در منہ نہیں کہہ سکوں گا تو پھر آپ کو یقیناً سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس قسم کے اسٹیٹس بظاہر آپ کو اوجھل رکھتے ہیں لیکن دراصل آپ اپنے جملہ خیالات(اور وقتی جذبات و اشتعالات سمیت) سب کے سامنے عیاں ہو جاتے ہیں۔

اسٹیٹس ضرور لگائیے اور جتنے دل چاہے لگائیے مگر زیادہ تر کوشش یہی ہونی چاہیے کہ آپ کے اسٹیٹس دیکھنے والے آپ کے بارے میں اچھی رائے قائم کریں اور آپ کا اسٹیٹس اُن کے من میں مسکراہٹوں کے پھول کھلائے۔ مزید یہ کہ اگر کسی سے شکوہ گلہ بھی کرنا ہے تو مہذب ترین لہجے میں۔ بالکل ایسے ہی جیسے کہ آپ ایک اچھی محفل کے ایک اچھے شریک کی حیثیت سے کیا کرتے ہیں۔



چراغ حسن حسرت کی دو خوبصورت غزلیں


اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے چراغ حسن حسرت کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ حسرت طرح دار شاعر و ادیب تھے، آپ کا بنیادی شعبہ صحافت تھا اور مزاح نگاری میں بھی کمال انداز رکھتے تھے۔

ایک بار حسرت سے مشاعرے میں ماہیا سنانے کی فرمائش کی گئی تو انہوں نے یہ ماہیا سُنایا۔

باغوں میں پڑے جھولے
تم بھول گئے ہم کو
ہم تم کو نہیں بھولے

بقول راوی مشاعرے میں داد و تحسین سے چھت کا اُڑ جانا کیا ہوتا ہے وہ ہم نے آج دیکھا۔

ہم نے چراغ حسن حسرت کی  دو خوبصورت غزلیں آپ کے لئے منتخب کی ہیں ملاحظہ فرمائیے:



یارب غم ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا
جو ہاتھ جگر پر ہے وہ دست دعا ہوتا

اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت
یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا

ناکام تمنا دل اس سوچ میں رہتا ہے
یوں ہوتا تو کیا ہوتا یوں ہوتا تو کیا ہوتا

امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی
وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا

غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا

****



یہ مایوسی کہیں وجہ سکون دل نہ بن جائے
غم بے حاصلی ہی عشق کا حاصل نہ بن جائے

مدد اے جذب دل راہ محبت سخت مشکل ہے
خیال دورئ منزل کہیں منزل نہ بن جائے

نہیں ہے دل تو کیا پہلو میں ہلکی سی خلش تو ہے
یہ ہلکی سی خلش ہی رفتہ رفتہ دل نہ بن جائے

ہجوم شوق اور راہ محبت کی بلا خیزی
کہیں پہلا قدم ہی آخری منزل نہ بن جائے

چراغ حسن حسرت

ہمسفر بن کے ہم ساتھ ہیں آج بھی ۔۔۔

 
رعنائیِ خیال پر   گنتی کے دو چار گیت ہی موجود ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رعنائیِ خیال کا مزاج  ایسا ہے کہ اس میں عامیانہ گیتوں کی شاعری  جچتی نہیں ہے ۔ سو بس کچھ گیت جو اپنی شاعری کی وجہ سے انتہائی ممتاز ہیں اور خاکسار کو خاص طور پر پسند ہیں وہ میں  بلاگ میں شامل کیے دیتا ہوں۔ 


آج جو گیت میں بلاگ پر شامل کر رہا ہوں یہ  بھی مجھے بے حد پسند ہے۔ گیت کی شاعری مدن پال کی ہے اور اسے جگجیت سنگھ نے بہت خوب گایا ہے۔ آئیے آپ بھی اس گیت کی شاعری سے لطف اندوز ہوں

ہمسفر بن کے ہم ساتھ ہیں آج بھی، پھر بھی ہے یہ سفر اجنبی اجنبی​
راہ بھی اجنبی، موڑ بھی اجنبی، جائیں گے ہم کدھر اجنبی اجنبی​

زندگی ہو گئی ہے سلگتا سفر، دور تک آ رہا ہے دھواں سا نظر​
جانے کس موڑ پر کھو گئی ہر خوشی، دے کے دردِ جگر اجنبی اجنبی​

ہم نے چن چن کے تنکے بنایا تھا جو، آشیاں حسرتوں سے سجایا تھا جو​
ہے چمن میں وہی آشیاں آج بھی، لگ رہا ہے مگر اجنبی اجنبی​

کس کو معلوم تھا دن یہ بھی آئیں گے، موسموں کی طرح دل بدل جائیں گے​
دن ہوا اجنبی، رات بھی اجنبی، ہر گھڑی، ہر پہر اجنبی اجنبی​
شاعر : مدن لال

جون ایلیا کی دو خوبصورت غزلیں

غزل

زخمِ امید بھر گیا کب کا
قیس تو اپنے گھر گیا کب کا

آپ اک اور نیند لے لیجئے
قافلہ کُوچ کر گیا کب کا

دکھ کا لمحہ ازل ابد لمحہ
وقت کے پار اتر گیا کب کا

اپنا منہ اب تو مت دکھاؤ مجھے
ناصحو، میں سُدھر گیا کب کا

نشہ ہونے کا بےطرح تھا کبھی
پر وہ ظالم اتر گیا کب کا

آپ اب پوچھنے کو آئے ہیں؟
دل میری جاں، مر گیا کب کا

*****

اے صبح! میں اب کہاں رہا ہوں
خوابوں ہی میں صرف ہو چکا ہوں

کیا ہے جو بدل گئی ہے دنیا
میں بھی تو بہت بدل گیا ہوں

میں جُرم کا اعتراف کر کے
کچھ اور ہے جو چھُپا گیا ہوں

میں اور فقط اسی کی تلاش
اخلاق میں جھوٹ بولتا ہوں

رویا ہوں تو اپنے دوستوں میں
پر تجھ سے تو ہنس کے ہی ملا ہوں

اے شخص! میں تیری جستجو میں
بےزار نہیں ہوں، تھک گیا ہوں
 
جون ایلیا

اپنے روز مرہ کاموں کی فہرست بنائیں

فہرستِ امورِ ضروری
اپنے روز مرہ کاموں کی فہرست بنائیں

اگر آپ اپنے روز مرہ کے کاموں کی فہرست مرتب نہیں کرتے اور اُس کے باوجود آپ کے سب کام ٹھیک ٹھاک اور اپنے وقت پر ہو جاتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لئے نہیں ہیں۔ آپ بالکل ٹھیک جا رہے ہیں آپ اپنے کام پر توجہ رکھیے اور دوسروں کو بھی یہ گُر سکھائیے۔

لیکن اگر آپ کے کام بروقت نہیں ہو پاتے اور بہت سے کام آپ کے ذہن سے نکل جاتے ہیں تو آپ کو چاہیے کہ روزانہ یا کم از کم ہفتے میں دو تین بار کاموں کی فہرست مرتب کریں اور گاہے گاہے اُس کو دیکھتے رہیے تاکہ آپ کو یاد رہے کہ کون سا کام ہو چکا ہے اور کون سا کام ابھی باقی ہے۔

فہرست امورِ ضروری مرتب کرتے ہوئے درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

کام کی حیثیت:

کام چھوٹا ہو یا بڑا اُسے آپ کی فہرست میں جگہ ضرور ملنی چاہیے۔ اکثر ہم چھوٹے کاموں کو فہرست میں جگہ نہیں دیتے کہ اسے کیا لکھنا ۔لیکن دراصل چھوٹے چھوٹے کام نہ ہو تو اُن کی وجہ سے بہت سے بڑے بڑے معاملات رُکے رہتے ہیں۔ اس لئے یا تو چھوٹے چھوٹے کاموں کو فوراً کر لیا جائے یا پھر فہرست میں لکھ لیا جائے۔

کام اگر بڑا ہو تو ہمیں چاہیے کہ اُسے چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر لیں اس سے ہمیں کام کو نمٹانے میں آسانی ہوگی۔ کسی دانش مند نے کہا ہے کہ اگر آپ پہاڑ کو سرکانا چاہتے ہیں تو ذروں کو سرکانے کا فن سیکھیے۔

مثلاً اگر آپ گھر میں ہونے والی ایک تقریب کے انتظامات کو اپنی کاموں کی فہرست میں جگہ دینا چاہتے ہیں تو ایک دم سے تقریب کا نام لکھ دینے سے بات نہیں بنے گی۔ بلکہ آپ کو چاہیے کہ انتظامات کو مختلف حصو ں میں تقسیم کر لیں۔ مثال کے طور پر ، دعوت ناموں کی تقسیم یا فون کالز، بازار سے منگوانے کے لئے سامان کی فہرست، گھر کی صفائی ستھرائی اور سجاوٹ کا کام وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح ان کاموں کو مزید ٹکڑوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔

ترجیحات:


ہماری فہرست میں کاموں کی ترجیح بہت اہم چیز ہے ۔ یعنی ہمیں یہ پتہ ہونا چاہیے کہ کون سا کام زیادہ اہم اور ہے کون سا کم اہم ہے ۔ یا وقت کے حساب سے کون سا کام پہلے کرنا ضروری ہے اور کون سا کام ایساہے جسے بعد میں بھی کیا جا سکتا ہے۔

سو ہر کام کے سامنے اُس کے ترجیح ضرور لکھیں مبادا ہم کم اہمیت کے کاموں میں سارا وقت کھپا دیں اور اہم کام رہ جائیں۔ سو جو کام سب سے زیادہ اہم ہو اُس کے سامنے ترجیح ایک (1) لکھ لیں اور جو اُس سے کم اہمیت کا ہو اُس کے سامنےدو (2) لکھ لیا جائے اور اسی طرح ایک سے پانچ تک سب کاموں کی ترجیحات متعین کر لی جائیں۔

معیاد اور دورانیہ


کچھ کام ایسے ہوتے ہیں کہ جو ہمیں ایک خاص وقت تک مکمل کرنے ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ طالب علموں کے اسائنمنٹ وغیرہ ۔ لیکن عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ مقررہ وقت یا تاریخ ہمیں مہمیز کرنے کے بجائے سست کرد یتی ہے اور ہم میں سے اکثر یہ سوچتے ہیں کہ ابھی وقت ہے اور کر لیں گے آرام سے۔ لیکن یہی سوچتے سوچتے بہت وقت گزر جاتا ہے اور اچانک ہمیں خیال آتا ہے کہ مقرررہ وقت پورا ہونے میں بس ذرا سی کسر رہ گئی ہے۔ پھر ہم جلدی جلدی میں اُلٹا سیدھا کام کرتے ہیں اور جیسے تیسے جان چھڑا لیتے ہیں ۔

پارکنسن کے مطابق:

Work expands to fill the time available for its completion

یعنی کام عموماً تمام تر میسر وقت میں پھیل جاتا ہے اور وقت کا ایک بڑا حصہ ایک ایسے کام میں کھپ جاتا ہے کہ جو دراصل بہت کم وقت چاہتا ہے۔

اس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کام کو لکھتے ہوئے ہمیں اُس کی ڈیڈ لائن کے ساتھ ساتھ اُس کے لئے درکار وقت کا تعین کرنا بھی ضروری ہے ۔ فرض کیجے کہ ایک اسائنمنٹ مکمل کرنے کے لئے آپ کو تین سے پانچ گھنٹے درکار ہیں اور اُس کی ڈیڈ لائن ایک مہینے بعد کی ہے۔ اگر آپ کام کے ساتھ صرف ڈیڈ لائن لکھیں گے تو زیادہ تر اُمید یہی ہے کہ یہ تین سے پانچ گھنٹے کا اسائنمنٹ پورے مہینے پر پھیل جائے اور آخر میں کام بھی معیار ی نہ ہو۔ سو ہمیں چاہیے کہ کام کے ساتھ کام کی ڈیڈ لائن اور اندازاً درکار وقت بھی ضرور لکھیں۔

کب اور کہاں


بہت سے کام صرف اس لئے پورے نہیں ہوتے کہ وہ شروع نہیں ہو پاتےاور وہ روز بروز ٹلتے رہتے ہیں اور مہینے بیت جاتے ہیں ۔ سو ایسے کاموں کو لکھتے وقت دو باتیں اور طے کر لیجے اور وہ دو باتیں ہیں کب اور کہاں؟

فرض کیجے کوئی کام کئی ہفتوں سے ٹل رہا ہے اور آپ سوچتے ہیں کہ اسے بھی کرنا ہے تو پھر آپ سب سے پہلے یہ فیصلہ کریں کہ آیا آپ یہ کام کرنا بھی چاہتے ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں کرنا چاہتے تو اپنی فہرست میں اس کام پر خطِ تنسیخ پھیر دیجے تاکہ آپ کے ذہن کا بوجھ ہلکا ہو سکے ۔ یا اگر آپ اس کام کو واقعتاً کرنا چاہتے ہیں تو پھر اس کے کرنے کے لئے وقت ، دن، تاریخ کا تعین کر لیں اور اگر کسی جگہ کا تعین بھی ضروری ہو تو وہ بھی کر لیجے۔ ایسا کرنے سے وہ کام ضرور ہو جائے گا۔

کیسے


ضروری امور کی فہرست کیسے بنائیں ؟ یوں تو یہ فہرست بنانے کے لئے کاغذ کا ایک تراشہ اور قلم یا پنسل ہی کافی ہیں لیکن آپ یہ کام کرنے کے لئے کوئی ڈائری بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کسی ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھتے تو بہتر ہو گا کہ آپ ایک پاکٹ ڈائری میں یہ فہرست بنائیں۔

اگر آپ اینڈرائڈ فون استعمال کر تے ہیں تو کچھ ایپس آپ کو اس قسم کی لسٹ بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ آپ چاہیں تو کلر نوٹ یا اسی انواع کی دیگر ایپس استعمال کر سکتے ہیں۔ یا ونڈوز پر اسٹکی نوٹس بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

آخر میں سب سے اہم بات، اور وہ یہ ہے کہ اگر آپ اس ڈائری کو بار بار دیکھ کر اپنی کارکردگی کا جائزہ نہیں لیتے اور اسے ہاتھ ہاتھ کے ہاتھ اپڈیٹ یعنی تازہ نہیں کرتے تو پھر یہ سب مشقت بے کار جائے گی۔ یاد رکھیے کہ پودا لگانا صرف ایک دن کا کام ہے لیکن اسے پانی روز دینا پڑتا ہے۔

واجدہ تبسم کی دو خوبصورت غزلیں


واجدہ تبسم کا نام شاید آپ نے بطورِ افسانہ نگار سنا ہو لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے شعر بھی کہےہیں ۔ تاہم ان کی شاعری انٹرنیٹ پر نظر نہیں آتی۔ واجدہ تبسم اپنے زمانے کی بہت معروف افسانہ نگار رہی ہیں اور انہوں نے کئی ایک معروف افسانے رقم کیے ہیں اور وہ افسانہ نگاروں میں ایک مخصوص مزاج کے حوالے سے پہچانی جاتی ہیں۔ اُن کی کتابوں میں اترن، بند دروازے ، پھول کھلنے دو، جیسے دریا، ساتواں پھیر، اور شہر ممنوع شامل ہیں۔ ذیل میں اُن کی دو غزلیں قارئین کے ذوق کے لئے پیش کی جا رہی ہیں۔


کیسے کیسے حادثے سہتے رہے
پھر بھی ہم جیتے رہے ہنستے رہے

اس کے آ جانے کی امیدیں لیے
راستہ مڑ مڑ کے ہم تکتے رہے

وقت تو گزرا مگر کچھ اس طرح
ہم چراغوں کی طرح جلتے رہے

کتنے چہرے تھے ہمارے آس پاس
تم ہی تم دل میں مگر بستے رہے

****

یا تو مٹ جائیے یا مٹا دیجیے
کیجیے جب بھی سودا کھرا کیجیے

اب جفا کیجیے یا وفا کیجیے
آخری وقت ہے بس دعا کیجیے

اپنے چہرے سے زلفیں ہٹا دیجیے
اور پھر چاند کا سامنا کیجیے

ہر طرف پھول ہی پھول کھل جائیں گے
آپ ایسے ہی ہنستے رہا کیجیے

آپ کی یہ ہنسی جیسے گھنگھرو بجیں
اور قیامت ہے کیا یہ بتا دیجیے

واجدہ تبسم

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا

غزل

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
اک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا

اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں
شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
دریائے غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا

منیر نیازی

ایک شاعر کے دو متضاد اشعار

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت عجیب و غریب بنایا ہے ۔ یہ بہ یک وقت متضاد خیالات میں گھرا رہتا ہے ۔ اس میں نیکی اور بدی ایک ساتھ قیام پذیر رہتی ہے اور یہ اکثر اُمید و نا اُمیدی کے مابین کہیں بہتا نظر آتا ہے۔ مجھے آج جناب پیرزادہ قاسم کے دو اشعار ایک ساتھ یاد آئے جو دیکھا جائے تو ایک دوسرے کے بالکل متضاد ہیں۔ لیکن انسانی زندگی اسی مد و جزر کا نام ہے۔

اشعار یہ ہیں۔

اسیر کب یہ قفس ساتھ لے کے اُڑتے ہیں
رہے جو طاقتِ پرواز پر میں رہنے دو


عجب نہ تھا کہ قفس ساتھ لے کے اُڑ جاتے
تڑپنا چاہیے تھا، پھڑپھڑانا چاہیے تھا

 

اب میں یہ سو چ رہا ہوں کہ شاعر نے ان میں سے پہلے کون سا شعر کہا ہوگا۔ اور کیا شاعر کو خود بھی اس بات کا احساس ہوگا کہ اس کے یہ دو اشعار بالکل ایک دوسرے کے متضاد ہیں؟

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک