وہ جھانسہ دے کے غائب ہے سرِ بازار می رقصم

نمکین غزل

وہ جھانسہ دے کے غائب ہے سرِ بازار می رقصم
بھروسہ کرکے دھوکہ باز پر بے کار می رقصم

سناتا ہوں میں ہر محفل میں اکلوتی غزل اپنی
نہیں ملتی اگر کچھ داد تو سو بار می رقصم

کیا کرتے تھے اوور ٹیک جاو پر حسینوں کو
ہوئی آٹو کی وہ ٹکر کہ آخر کار می رقصم

وہ رکشے پر گزرتی ہے میں پیدل ٹاپ لیتا ہوں
خیالوں میں پکڑ کر دامنِ دلدار می رقصم

نشہ اُترا تو بتلایا مجھے لوگوں نے آ آ کر
بہت اچھلم، بہت کودم برہنہ وار می رقصم

جہاں بجتی ہے شہنائی جلیل اکثر یہ دیکھا ہے
ادھر پتلون می رقصم ادھر شلوار می رقصم 

رشید عبدالسمیع جلیل 

جادو کا کھلونا ۔۔۔ از ۔۔۔ محمد احمدؔ


آج تو میں اِس دنیا کو انفرینڈ کر ہی دوں گا۔

میں نے آج پھر تلملاتے ہوئے کہا۔ ویسے ہی جیسے ہر بار زخم کھا کر ہاتھ ڈریسنگ باکس میں رکھے مرہم و نشتر کی طرف بڑھتا ہے کہ اب کچھ علاج ہونا ہی چاہیے۔ لیکن بقول راشد:

زہرِ غم کی نگہِ دوست بھی تریاق نہیں
جا ترے درد کا درماں دلِ صد چاک نہیں
ن ۔م راشد

خیر ! نہ جانے کس جھونک میں اُڑتا ہوا میں اُس کی پروفائل تک پہنچ گیا۔ کیا حسین پروفائل تھی، میں ہمیشہ کی طرح مبہوت ہو کر رہ گیا۔ لیکن پھر قاصر کی نصیحت یاد آئی۔

حسین سانپ کے نقش و نگار خوب سہی
نگاہ زہر پہ رکھ، خوشنما بدن پہ نہ جا

وہی پھولوں سا بدن، اور وہی ڈستی خوشبو! میں نے گھبرا کر نظریں چاروں طرف دوڑائیں۔

کہاں ہے؟ ان فرینڈ کا بٹن کہاں ہے؟ کوئی نیلا، کوئی سُرخ بٹن! کہ جسے پوری قوت سے ضرب لگا کر ہی دل کو کچھ تسکین ملے۔ کہ جس پر کلک کرتے ہوئے انگشت تلوار بن جائے اور دل اس زور سے دھڑکے کہ گرج آسمان میں سنائی دے۔

لیکن نہیں یہاں تو کوئی بٹن ہے ہی نہیں! کیسے انفرینڈ کروں؟ کیسے جان چھڑاؤں؟ آخر کیسے؟

کہاں ہیں جون ایلیا، جو کہتے تھے کہ

ترکِ تعلقات کوئی مسئلہ نہیں
یہ تو وہ راستہ ہے کہ بس چل پڑے کوئی

پھر تو، پھر تو لیاقت علی عاصم ہی اچھے رہے:

عاجز تھا بے عجز نبھائی، رسمِ جُدائی میں نے بھی
اُس نے مجھ سے ہاتھ چُھڑایا، جان چھڑائی میں نے بھی

۔۔۔۔
مگر نہیں ! یہاں تو کوئی انفرینڈ کا بٹن ہی نہیں ہے۔ ہاں ایک بٹن ہے اور کہتا ہے کہ دوستی کی درخواست بھیجو! یا حیرت!

ہم سے نہیں رشتہ بھی، ہم سے نہیں ملتا بھی
ہے پاس وہ بیٹھا بھی، دھوکہ ہو تو ایسا ہو
ابن انشاء

لیجے ایک نئی کشمکش! ہم تو ترکِ دوستی کو تُلے بیٹھے تھے، لیکن کون سا دوست؟ کہاں کا دوست؟ یہاں کوئی دوست ہے ہی نہیں کہ جس سے ترک دوستی کی جائے۔ کہ جس پر تین حرف بھیجے جا سکیں۔ صد حیف کہ دل کے تپتے صحرا کو اوس کے تین قطرے بھی نصیب نہیں!

دیکھیں اب کہ امتحان میں سُرخ رو ہوتا ہے کون
وہ بھی کچھ سوچے ہوئے ہیں، ہم بھی کچھ ٹھانے ہوئے
کلیم عاجز

ماؤس کرسر ایک وحشت لئے اسکرین پر اِدھر سے اُدھر غزالِ دشت کی مانند بھٹک رہا ہے۔ کسی کل چین نہیں پڑتا ۔ ایک بٹن واپسی کا بھی ہے لیکن وہ شاید ڈس ایبل ہے یا کرسر وہاں پہنچنا ہی نہیں جانتا۔

کسی کے ہاتھ کا نکلا ہوا وہ تیر ہوں میں
حدف کو چھو نہ سکا اور کمان سے بھی گیا
شاہد کبیر

اک کشمکش ہے۔ کہیں اندر سے صدا آتی ہے کہ اب جا۔ دفع ہو جا۔ آیا تھا ترکِ دوستی کرنے۔ جو تیرا دوست کبھی تھا ہی نہیں اُس سے کیا ترک راہ و رسم کرے گا۔ ہے کوئی عقل تجھے۔ لیکن ماؤس کرسر، ماؤس کرسر ہے کہ دیوانوں کی طرح ایک نیلے بٹن کا طواف کر رہا ہے اور نیلا بٹن اُسے اپنے مرکز کی سمت کھینچ رہا ہے۔

دائرے اِنکار کے، اِقرار کی سرگوشیاں
یہ اگر ٹوٹیں کبھی تو فاصلہ رہ جائے گا
افتخار امام صدیقی

ارے ! ارے یہ کیا! ماؤس کا تیر نیلے بٹن کے بیچوں بیچ پہنچ گیا ہے، وہی نیلا بٹن جو کہتا ہے کہ دوستی کی درخواست بھیجو۔ دوستی کی درخواست! اس ناہنجار دنیا کو۔ جو کسی اور کا ہونے دے، نہ اپنا رکھے۔ نہیں! میں تو ترکِ دنیا کا ارادہ کرکے یہاں پہنچا تھا۔ پھر میں دوستی کی درخواست کیونکر بھیجنے لگا۔ آخر کیوں!

نہ جانےیہ کیسی کشش تھی جو میری نحیف انگلی کو خود رفتہ کر گئی۔ میں! میں دوستی کی درخواست بھیج چکا تھا۔ اُسی دنیا کو کہ جس سے جان چھڑانے آیا تھا۔ وہی دنیا جس پر تین حروف بھیجنے تھے۔ آنسوؤں کے دو تین تپتے قطرے میرے صحرا ایسے سینے پر گرے اور صحرا یکایک بادِ صر صر کی زد میں آکر آگ بگولہ ہو گیا۔ وائے حسرت!!!

دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے
مل جائے تو مٹی ہے، کھو جائے تو سونا ہے
ندا فاضلی



نظم : آزادی ۔۔۔ از ۔۔۔۔ حفیظ جالندھری

آزادی
حفیظ جالندھری

شیروں کو آزادی ہے آزادی کے پابند رہیں‌
جس کو چاہیں چیریں پھاڑیں کھائیں‌ پییں آنند رہیں‌

شاہیں کو آزادی ہے آزادی سے پرواز کرے
ننھی منی چڑیوں پر جب چاہے مشق ناز کرے

سانپوں کو آزادی ہے ہر بستے گھر میں بسنے کی
ان کے سر میں زہر بھی ہے اور عادت بھی ہے ڈسنے کی

پانی میں آزادی ہے گھڑیالوں اور نہنگوں کو
جیسے چاہیں پالیں پوسیں اپنی تند امنگوں کو

انسان نے بھی شوخی سیکھی وحشت کے ان رنگوں سے
شیروں ،سانپوں، شاہینوں‌،گھڑیالوں اور نہنگوں سے

انسان بھی کچھ شیر ہیں باقی بھڑوں‌کی آبادی ہے
بھیڑیں سب پابند ہیں لیکن شیروں کو آزادی ہے

شیر کے آگے بھیڑیں کیا ،اک من بھاتا کھاجاہے
باقی ساری دنیا پرجا، شیر اکیلا راجا ہے

بھیڑیں‌ لا تعداد ‌ہیں لیکن سب کو جان کے لالے ہیں
ان کو یہ تعلیم ملی ہے بھیڑیے طاقت والے ہیں

ماس بھی کھائیں‌ کھال بھی نوچیں ہر دم لا گو جانوں کے
بھیڑیں کاٹیں دورِ غلامی بل پر گلّہ بانوں کے

بھیڑ وں‌ سےگویا قائم امن ہے اس آبادی کا
بھیڑیں جب تک شیر نہ بن لیں نام نہ لیں‌آزادی کا

حفیظ جالندھری

احمد فراز کی سدا بہار غزل

احمد فراز میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔ خیر یہ بات تو نہ جانے کتنے لوگ کہتے ہیں ہم نے کہہ دیا تو کیا کہا۔ فراز شاعر ہی ایسے تھے کہ اُنہیں پسند کرنے والے بہت ہیں، خاص طور پر عوام میں سے۔ خواص میں سے کچھ لوگ شاید ایسے ہوں جو احمد فراز سے کچھ خائف نظر آتے ہیں تاہم اُن کے اپنے تحفظات ہیں اور اُن کے کہنے سے احمد فراز کی ہر دلعزیزی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

احمد فراز کی یہ غزل ہمیشہ سے میری پسندیدہ رہی ہے اور جب بھی پڑھوں اچھی لگتی ہے۔ قارئینِ بلاگ کی نذر:


غزل

کیا ایسے کم سُخن سے کوئی گفتگو کرے
جو مُستقل سُکوت سے دِل کو لہو کرے

اب تو ہمیں بھی ترک مراسم کا دُکھ نہیں
پر دل یہ چاہتا ہے کہ آغاز تُو کرے

تیرے بغیر بھی تو غنیمت ہے زندگی
خود کو گنوا کے کون تری جُستجو کرے

اب تو یہ آرزو ہے کہ وہ زخم کھائیے
تا زندگی یہ دل نہ کوئی آرزو کرے

تجھ کو بھلا کے دل ہے وہ شرمندۂ نظر
اب کوئی حادثہ ہی ترے روبرو کرے

چپ چاپ اپنی آگ میں جلتے رہو فرازؔ
دنیا تو عرض حال سے بے آبرو کرے

احمد فرازؔ



عقل ہے محوِ تماشا

عقل ہے محوِ تماشا
محمد احمدؔ​

رحیم چاچا اچھے خاصے گدھے تھے اور میں اُن کا بھی گدھا تھا۔

یوں تو گدھا ہونے میں کوئی خاص برائی نہیں ہے لیکن جب انسانوں میں گدھے کے نام سے سے منسوب خصوصیات والے لوگ دیکھتا ہوں تو مجھے کافی شرمندگی ہوتی ہے۔ ان میں سے بھی کچھ لوگ تو نرے گدھے ہی ہوتے ہیں۔ نہ جانے نرے گدھے سے انسانوں کا کیا مطلب ہوتا ہے لیکن میری ذاتی رائے تو یہ ہے کہ ایسے لوگ گدھے کہلائے جانے کے لائق بھی نہیں ہوتے۔

ع ۔ پیشے میں عیب نہیں، رکھیے نہ فرہاد کو نام

خیر تو میں ذکر کر رہا تھا رحیم چاچا کا۔ پیشے کے اعتبار سے چاچا نمک کے سپلائر تھے لیکن اُن کی لوجسٹک فلیٹ میں میرے علاوہ باربرداری کا کوئی خاطر خواہ بندوبست نہیں تھا۔ خود چاچا بھی اچھے خاصے گدھے ہونے کے باوجود وزن اُٹھانے سے جی چراتے تھے اور نمک کی بوریاں میری کمر پر لاکر یوں پٹختے کہ جیسے سامان رکھنے کے بجائے دشمن پر حملہ کر رہے ہوں۔ خیر مجھے کیا، میں تو ہوں ہی گدھا۔


نمک کی دو بوریاں تقریباً پون پون بھری ہوئی وہ میری کمر کے دونوں طرف لٹکاتے اور اپنے اکلوتے کسٹمر نمکدان خان کی طرف لے جاتے۔ اس طرح دو بوری صبح اور دو بوری شام وہ نمکدان کو سپلائی کرتے اور راستے میں اُسی میں سے چلر والوں کو بھی نمٹاتے جاتے۔ اگر یہ چکر جلدی پورے ہو جاتے تو پھر وہ کچھ نمک لے کر نکلتے اور قریبی گلی محلوں میں خود سے بیچا کرتے۔ تاہم حرام ہے کہ میں نے یہ نمک کبھی چکھا ہو، سو چاچا چاہ کر بھی مجھے نمک حرامی کا طعنہ نہیں دے سکے۔

چاچا بتاتے ہیں (مجھے نہیں بلکہ لوگوں کو)کہ نمکدان خان جب پیدا ہوا تو ان کے والد کی پہلی نظر اس پر پڑنے کے بعد نمکدان پر پڑی، سو اُس کا نام نمک دان خان رکھ دیا گیا۔ اب یہ پتہ نہیں کہ اُس نے اپنی نام کی نسبت سے نمک کا کام شروع کیا یا اُسے پیدا ہی اس لئے کیا گیا تھا۔ نمکدان خان بہت سیدھا سادھا پٹھان ہے جو اپنے آپ کو بہت تیز سمجھتا ہے لیکن سمجھنے سے کیا ہوتا ہے وہ تو ہمارے سیاست دان بھی خود کو صادق اور امین سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ عوام بھی ایسا ہی سمجھتے ہوں گے۔ لیکن میں بحیثیت ایک گدھا اُن کی اس بات کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہوں۔ ہاں نرے گدھوں کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی کہ وہ ہم گدھوں میں سے نہیں ہوتے۔

میرا سپلائی روٹ یوں تو تمام کا تمام خشکی کے راستہ پر ہی مبنی تھا تاہم ایک جگہ مجھے ایک ندی پار کرنی پڑتی تھی جس میں میرے گھٹنوں سے کچھ نیچے تک پانی ہوا کرتا تھا سو میں وہ ندی با آسانی پار کر لیا کرتا تھا۔ چاچا کبھی کبھی ندی پر رُک کر منہ دھویا کرتے تھے لیکن مجھے اُن کا یہ عمل سراسر بے مصرف معلوم ہوتا تھا کہ چاچا کے چہرے پر تو کوئی فرق پڑتا نہیں تھا البتہ میں کھڑا کھڑا وزن سے دُہرا ہوتا رہتا تھا۔

ایک دن یا تو وزن زیادہ تھا یا مجھ پر تھکن غالب تھی کہ مجھے نمک کی بوریاں اُٹھانے میں کافی دقت کا سامنا تھا۔ اچانک ندی کے بیچوں بیچ چاچا کو اپنا منہ دھونے کا خیال آ گیا۔ جب چاچا پوری شد و مد سے منہ دھو نے لگے اور یہ بھی بھول گئے کہ میں ندی کے درمیان وزن اُٹھائے کھڑا ہوں تو مارے تھکن کے میں ندی میں ہی بیٹھ گیا اور با مشکل اپنا منہ سانس لینے کے لئے اوپر کیے رکھا۔ چاچا منہ دھونے کے بعد ہوش میں آئے تو اُنہوں نے مجھے ندی میں بیٹھا ہوا پایا۔ نہ جانے ا ُنہیں کیا ہوا کہ سارے ادب آداب بھول گئے اور ڈنڈا اُٹھا کر میرے ڈینٹ نکالنا شروع کردیے۔ اذیت کے مارے میں اُنہیں ٹویوٹا کرولا اور کھوتا کرولا کا فرق بھی نہیں سمجھا سکا۔ خیر مار کھانے کے بعد میں خود کو اچھا خاصا ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ گدھوں کا کتھارسس مکالمے سے نہیں بلکہ پھینیٹی لگانے سے ہی ہوا کرتا ہے۔ (زیادہ مسکرانے کی ضرورت نہیں، یہاں پٹواریوں یا انصافیوں کا ذکر ہرگز مطلوب نہیں ہے)۔

خیر جب نمکدان خان کے ہاں پہنچے تو اُس نے بتایا کہ آج نمک کا وزن آدھا رہ گیا ہے اور آدھا نمک غالباً پانی میں گھل گیا۔ آدھے پیسے وصول کرکے چاچا کو غصہ تو کافی آیا لیکن وہ اپنا غصہ پہلے ہی اُتار چکے تھے سو مجھے اب کچھ نہیں کہا گیا۔

سیانے کہتے ہیں کہ جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے سو میں بھی کُٹائی کھا کر ایک گُر کی بات سیکھ گیا۔ اب جب کبھی مجھے وزن زیادہ لگتا تو میں ندی میں کچھ دیر کے لئے بیٹھ جاتا۔ اس واقعے کے بعد چاچا تو منہ دھونا ہی بھول گئے تھے اور صبح بھی چاچی کے خونخوار اصرار پر ہی منہ دھونے کی ہمت کرتے۔ شروع شروع میں چاچا نے میرے اس طرح ندی میں بیٹھ جانے کو اتفاقی سمجھا اور جلد سے جلد مجھے اُٹھا کر اپنی راہ لی۔ لیکن جب یہ معاملہ پیٹرول کی قیمتوں کی بڑھوتری کی طرح جلد جلد واقع ہونے لگا تو چاچا کو فکر لاحق ہو گئی۔

ایک روز چاچا نے میری شکایت نمکدان خان کو کی کہ میں ندی میں بیٹھ جایا کرتا ہوں اور اس طرح کافی نمک ضائع ہو جاتا ہے۔ نمکدان خان کچھ سوچنے لگا اور پھر اُس کے چہرے پر ازلی حماقت برسنے لگی۔ اُس نے چاچا کو کان قریب لانے کا کہا اور آداب ِ محفل بھولتے ہوئے اُن کے کان میں کُھسر پھسر کرنے لگا۔ مجھے بہت غصہ آیا اور دل چاہا کہ اس نمکدان کو بھی ندی میں غوطہ دے کر اس کا وزن آدھا کر دیا جائے لیکن پھر میں نے پہلی غلطی سمجھ کر معاف کر دیا۔

اگلے روز چاچا کو نہ جانے کیا ہوا کہ بجائے نمک کے بوریوں میں روئی بھرنے لگا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم گدھے تو بس یونہی بدنام ہیں اور انسان صرف اپنے نام کی وجہ سے ہی انسان کہلاتا ہے۔ خیر مجھے کیا۔ دونوں بوریوں میں روئی لادنے کے بعد ہم اپنے مخصوص راستے پر چل پڑے۔ آج تو مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے میں چاچا کے ساتھ گھومنے نکلا ہوں۔ جب ندی آئی تو بھی میں اُسی انداز میں چلتا رہا۔

جب ندی تقریباً پار ہونے والی تھی تو چاچا کو پتہ نہیں کیا ہوا کہ مجھے روک کر میرے کمر پر زور دینے لگے۔ جب میں ٹس سے مس نہ ہو ا تو چاچا تقریباً مجھ پر چڑھ ہی گئے۔ لیکن وہ گدھا ہی کیا جو اڑیل نہ ہو میں ندی میں چٹان کی طرح کھڑا رہا۔ چاچا نے اپنے دونوں ہاتھ آپس میں ملا کر نہ جانے مجھے کیا اشارہ کیا اور پھر مجھے لے کر آگے چل پڑے۔

نمکدان خان کے پاس پہنچنے پر چاچا کافی غصہ میں معلوم ہوتے تھے اور نہ جانے نمکدان خان کو کیا کیا کہہ رہے تھے ۔ بالآخر نمکدان خان نے چاچا سے کہا کہ چاچا تم فکر نہ کرو۔ ہمارا مشورہ تو بالکل ٹھیک تھا لیکن تمہارا گدھا تو بالکل ہی گدھا ہے۔ ہم ایسا کرتا ہے کہ تم سے روئی خرید لیتا ہے کہ ہمارا گھر والی ویسے بھی نئے لحاف اور گدے تیار کرنے کا کہتی رہتی ہے۔

اُس دن نمکدان خان کے ہاں تین چکر لگانے پڑے ایک روئی لے کر اور باقی دو نمک لے کر۔ شام تک چاچا تھکن سے ہلکان ہو رہا تھا، لیکن مجھے آج بہت لطف آیا۔ اگر چاچا ایسے ہی مجھے کبھی کبھی گھمانے لے جائیں تو اُن کا کیا جائے۔

ویسے میں سوچتا ہوں کہ چاچا اگر یہ سمجھ رہے تھے کہ اُس روز میں روئی لے کر ندی میں بیٹھ جاؤں گا تو عرض کروں گا کہ اب میں اتنا بھی گدھا نہیں ہوں۔ دراصل سوال میری ذات پر نہیں چاچا کی ذات پر اُٹھایا جانا چاہیے کہ ایک تو اُنہیں مشورہ کرنے کے لئے نمکدان خان کے علاوہ کوئی ملا نہیں دوسرے یہ کہ وہ اُس مشورے پر عمل بھی کر بیٹھے۔

پھر بھی گدھے ہم ہیں۔

--------------
مرکزی خیال ماخوذ برائے تفہیم نو

غزل ۔ یہ مرے ہی شہر کے لوگ تھے مرے گھر سے گھر ہے ملا ہوا

غزل

مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا، سرِ بزم رات یہ کیا ہوا
مری آنکھ کیسے چھلک گئی، مجھے رنج ہے یہ برا ہوا

مری زندگی کے چراغ کا یہ مزاج کوئی نیا نہیں
ابھی روشنی ابھی تیرگی، نہ جلا ہوا نہ بجھا ہوا

مجھے جو بھی دشمنِ جاں ملا وہی پختہ کارِ جفا ملا
نہ کسی کی ضرب غلط پڑی، نہ کسی کا تیر خطا ہوا

مجھے آپ کیوں نہ سمجھ سکے یہ خود اپنے دل ہی سے پوچھیے
مری داستانِ حیات کا تو ورق ورق ہے کھلا ہوا

جو نظر بچا کے گزر گئے مرے سامنے سے ابھی ابھی
یہ مرے ہی شہر کے لوگ تھے مرے گھر سے گھر ہے ملا ہوا

ہمیں اس کا کوئی بھی حق نہیں کہ شریکِ بزمِ خلوص ہوں
نہ ہمارے پاس نقاب ہے نہ کچھ آستیں میں چھپا ہوا

مرے ایک گوشۂ فکر میں، میری زندگی سے عزیز تر
مرا ایک ایسا بھی دوست ہے جو کبھی ملا نہ جدا ہوا

مجھے ایک گلی میں پڑا ہوا کسی بدنصیب کا خط ملا
کہیں خونِ دل سے لکھا ہوا، کہیں آنسوؤں سے مٹاہوا


مجھے ہم سفر بھی ملا کوئی تو شکستہ حال مری طرح
کئی منزلوں کا تھکا ہوا، کہیں راستے میں لٹا ہوا

ہمیں اپنے گھر سے چلے ہوئے سرِ راہ عمر گزر گئی
کوئی جستجو کا صلہ ملا، نہ سفر کا حق ہی ادا ہوا

اقبال عظیم

کہنے کو تو گلشن میں ہیں رنگ رنگیلے پھول

غزل

کہنے کو تو گلشن میں ہیں رنگ رنگیلے پھول
روشن آنکھیں عنقا ہوں تو سارے رنگ فضول

خوشیاں اپنی الم غلم، غم بھی اول جلول
شکر کہ پھر بھی دامن میں ہیں کچھ کانٹے کچھ پھول

دل میں کچھ اور منہ پر کچھ تو سب باتیں بے کار
ہو ناپید اخلاص کی خوشبو تو سب پھو ل ببول

کیا تم کو معلوم ہے تم نے کیوں کر مجھ کو مارا
آج کہیں یہ پوچھ رہا تھا قاتل سے مقتول

یارو! اس سے اخذ کروں میں آخر کیا مفہوم
اُس نے خط کے ساتھ پرویا اک کانٹا، ایک پھول

پوچھو تو یہ لوگ کوئی بھی کام نہیں ہیں کرتے
دیکھنے میں جو لگتے ہیں ہر دم، ہر پل مشغول

سُندر لب جب پیار سے زرّیں لاکٹ چومتے ہیں
مہر و وفا کے جذبے کتنے لگتے ہیں مجہول

کاش ہمیں بھی آوارہ گردی کی مہلت ملتی
قریہ قریہ خاک اُڑاتے بستی بستی دھول

اس نے کسی سے کہا نہیں وہ شعر بھی کہتا ہے
اِسی لئے تو لوگ سمجھتے ہیں اُس کو معقول

تم کو احمدؔ شعر و سخن کی کیسے چاٹ لگی
شہر میں تو کچھ اور بھی ہوں گے تنہا اور ملول

محمد احمدؔ


احسان دانش کی دو خوبصورت غزلیں

احسان دانش کی دو خوبصورت غزلیں

وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئے
وہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لئے

بندھا ہوا ہے بہاروں کا اب وہیں تانتا
جہاں رکا تھا میں کانٹے نکالنے کے لئے

کوئی نسیم کا نغمہ کوئی شمیم کا راگ
فضا کو امن کے قالب میں ڈھالنے کے لئے

خدا نہ کردہ زمیں پاؤں سے اگر کھسکی
بڑھیں گے تند بگولے سنبھالنے کے لئے

اتر پڑے ہیں کدھر سے یہ آندھیوں کے جلوس
سمندروں سے جزیرے نکالنے کے لئے

ترے سلیقۂ ترتیب نو کا کیا کہنا
ہمیں تھے قریۂ دل سے نکالنے کے لئے

کبھی ہماری ضرورت پڑے گی دنیا کو
دلوں کی برف کو شعلوں میں ڈھالنے کے لئے

یہ شعبدے ہی سہی کچھ فسوں گردوں کو بلاؤ
نئی فضا میں ستارے اچھالنے کے لئے

ہے صرف ہم کو ترے خال و خد کا اندازہ
یہ آئنے تو ہیں حیرت میں ڈالنے کے لئے

نہ جانے کتنی مسافت سے آئے گا سورج
نگار شب کا جنازہ نکالنے کے لئے

میں پیش رو ہوں اسی خاک سے اگیں گے چراغ
نگاہ و دل کے افق کو اجالنے کے لئے

فصیل شب سے کوئی ہاتھ بڑھنے والا ہے
فضا کی جیب سے سورج نکالنے کے لئے

کنوئیں میں پھینک کے پچھتا رہا ہوں اے دانشؔ
کمند تھی جو مناروں پر ڈالنے کے لئے

****

پُرسشِ غم کا شکریہ، کیا تجھے آگہی نہیں
تیرے بغیر زندگی، درد ہے زندگی نہیں

دور تھا اک گزر گیا، نشہ تھا اک اُتَر گیا
اب وہ مقام ہے جہاں شکوہٴ بے رُخی نہیں

تیرے سوا کروں پسند، کیا تیری کائنات میں
دونوں جہاں کی نعمتیں، قیمتِ بندگی نہیں

لاکھ زمانہ ظلم ڈھائے، وقت نہ وہ خدا دکھائے
جب مجھے ہو یقیں کہ تُو، حاصلِ زندگی نہیں

دل کی شگفتگی کے ساتھ، راحتِ مےکدہ گئی
فرصتِ مہ کشی تو ہے، حسرتِ مہ کشی نہیں

زخم پہ زخم کھا کے جی، اپنے لہو کے گھونٹ پی
آہ نہ کر، لبوں کو سی، عشق ہے دل لگی نہیں

دیکھ کے خشک و زرد پھول، دل ہے کچھ اس طرح ملول
جیسے تری خزاں کے بعد، دورِ بہار ہی نہیں

احسان دانش

مجھے یہ جستجو کیوں ہو کہ کیا ہوں اور کیا تھا میں ۔ انور شعور

غزل

مجھے یہ جستجو کیوں ہو کہ کیا ہوں اور کیا تھا میں
کوئی اپنے سوا ہوں  میں، کوئی اپنے سوا تھا میں

نہ جانے کون سا آتش فشاں تھا میرے سینے میں
کہ خالی تھا بہت  پھر بھی دھمک کر پھٹ پڑا تھا میں

تو کیا میں نے نشے میں واقعی یہ گفتگو کی تھی
مجھے خود بھی نہیں معلوم تھا جو سوچتا تھا میں

خود اپنے خول میں گُھٹ کر نہ رہ جاتا تو کیا کرتا
یہاں اک بھیڑ تھی جس بھیڑ میں گم ہو گیا تھا میں

نہ لُٹنا میری قسمت  ہی میں  تھا لکھا ہوا ورنہ
اندھیری رات تھی اور بیچ رستے میں کھڑا تھا میں

گزرنے کو تو مجھ پر بھی عجب اک حادثہ گزرا
مگر اُس وقت جب صدموں کا عادی ہوچکا تھا میں

میں کہتا تھا سُنو سچائی تو خود ہے صلہ اپنا
یہ نکتہ اکتسابی تھا مگر سچ بولتا تھا میں

تجھے تو دوسروں سے بھی اُلجھنے میں تکلّف تھا
مجھے تو دیکھ، اپنے آپ سے اُلجھا ہوا تھا میں

خلوص و التفات و مہر، جو ہے، اب اُسی سے ہے
جسے پہلے نہ جانے کس نظر سے دیکھتا تھا میں

جو اَب یوں میرے گردا گرد ہیں، کچھ روز پہلے تک
اِنہی لوگوں کے حق میں کس قدر صبر آزما تھا میں

بہت خوش خلق تھا میں بھی مگر یہ بات جب کی ہے
نہ اوروں ہی سے واقف تھا، نہ خود کو جانتا تھا میں

انور شعورؔ


رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک