عشق اک دشت ہائے وحشت تھا

غزل

عشق اک دشت ہائے وحشت تھا
دل بنَا ہی برائے وحشت تھا

بے قراری سکوں کی زیریں تہہ
اور سکوں بر بِنائے وحشت تھا

اشک قطرہ نہ تھا، سمندر تھا
غمِ دل آبنائے وحشت تھا

تھی ازل سے ہی بے قرار ہوا
اس کی فطرت میں پائے وحشت تھا

اک تڑپ بانسری کی لے میں تھی
ساز گویا صدائے وحشت تھا

کیا اُسے حالِ دل سناتے ہم
نغمہء دل نوائے وحشت تھا​

محمد احمدؔ

پکسل پرفیکٹ پاکستان

پکسل پرفیکٹ پاکستان​

جب بھی ہم کسی ملک کی بات کرتے ہیں تو دراصل اُس کے لوگوں کی بات کرتے ہیں۔ اُس ملک کی خوبیاں اُس کے لوگوں کی خوبیاں ہوتی ہیں اور اُس کے عیب اُس کے لوگوں کے معائب ہوتے ہیں۔ 

اگر پاکستان ایک تصویر ہے تو ہم پاکستانی اُس کے پکسلز* ہیں۔ اگر ہر پکسل خود کو اُجلا اور روشن بنا لے تو پاکستان کا چہرہ سنور جائے اور اس تصویر کا تصور تک تابناک ہو جائے۔ 

جتنی پاکستان کی آبادی ہے اُس اعتبار سے دیکھا جائے تو اتنی اچھی ریزولوشن کی تصویر ہر خطے کی قسمت میں کہاں۔ بہت سی تصویریں تو اتنی مبہم ہیں کہ صحیح طرح خط و خال بھی واضح نہیں ہو پاتے۔ بس ضرورت اس بات کہ ہے کہ ہر پاکستانی اپنی خامیاں کوتاہیاں دور کرنے کی کوشش کرے اور خوبیوں کو فزوں تر کرنے کی۔ 

اقبال نے کہا تھا :

افراد کے ہاتھوں میں اقوام کی تقدیر 
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
اگر ہم سب پاکستانی خود کو بہتر بنانے کی کوشش کریں تو پاکستان کا مجموعی تاثر بہتر ہو جائے گا۔ اگر پاکستان کی تصویر کا ہر پکسل اپنی جگہ پرفیکٹ ہو جائے تو پھر ہمارا پاکستان "پکسل پرفیکٹ پاکستان" بن سکتا ہے۔ 

تمام دوستوں ، ساتھیوں اور احباب کو یومِ آزادی پاکستان مبارک۔ ​



 پکسل، ایسے نقظوں کو کہتے ہیں کہ جن کی مدد سے ڈجیٹل تصویر مکمل ہوتی ہے۔ *

غزل ۔ اب جو خوابِ گراں سے جاگے ہیں

غزل

اب جو خوابِ گراں سے جاگے ہیں
پاؤں سر پر رکھے ہیں، بھاگے ہیں

خارِ حسرت بھرے ہیں آنکھوں میں
پاؤں میں خواہشوں کے تاگے ہیں

خوف ہے، وسوسے ہیں لیکن شُکر
عزم و ہمت جو اپنے آگے ہیں

رخت اُمید ہے سفر کی جاں
ساز و ساماں تو کچے دھاگے ہیں

تم سے ملنا تو اک بہانہ ہے
ہم تو دراصل خود سے بھاگے ہیں

لاگ لاگے نہیں لگی احمدؔ
ہم جو سوئے تو بھاگ جاگے ہیں

محمد احمدؔ​

نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے زندگی اے دوست

غزل

نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے زندگی اے دوست
بڑی طویل کہانی ہے، پھر کبھی اے دوست

کوئی زمانے میں رہتا نہیں خوشی سے اُداس
بس اور کیا کہوں وجہِ فسردگی اے دوست

سمجھتے ناز کہاں تک ترے تغافل کو
خطا معاف کہ ہم بھی ہیں آدمی اے دوست

سیہ نصیب نہ مجھ سا بھی ہو زمانے میں
ترے بغیر گزرتی ہے چاندنی اے دوست

نہ جانے کیوں تری قربت کے بھی حسیں لمحات
گراں گزر گئے دل پر کبھی کبھی اے دوست

صادق القادری صادق

بات پھر ان کہی رہ گئی

خاکسار کی ایک پرانی غزل
قارئینِ بلاگ کے نام

غزل

اور کیا زندگی رہ گئی
اک مسلسل کمی رہ گئی

وقت پھر درمیاں آگیا
بات پھر ان کہی رہ گئی

پاس جنگل کوئی جل گیا
راکھ ہر سو جمی رہ گئی

زر کا ایندھن بنی فکرِ نو
شاعری ادھ مری رہ گئی

میں نہ رویا نہ کھل کر ہنسا
ہر نفس تشنگی رہ گئی

تم نہ آئے مری زندگی
راہ تکتی ہوئی رہ گئی

پاسِ دریا دلی رکھ لیا
لاکھ تشنہ لبی رہ گئی

پھر فنا کا پیام آگیا
ایک اُمید تھی، رہ گئی

آپ احمدؔ کہاں رہ گئے
اور کہاں زندگی رہ گئی

محمد احمدؔ​

افسانہ : عجیب بادشاہ ۔ اشفاق احمد

عجیب بادشاہ
اشفاق احمد

دور جدید کے تیکھے افسانہ نگار اشفاق احمد سے جب پوچھا گیا کہ آپ کی نظر میں آپ کا بہترین افسانہ کون سا ہے تو انہوں نے جوابا لکھا۔ "اپنے افسانوں کے بارے میں کسی ایک کے متعلق یہ فیصلہ کرنا کہ یہ مجھے سب سے زیادہ پسند ہے، ایک بہت ہی مشکل بات ہے۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اپنی ساری تحریریں لایعنی سی نظر آنے لگتی ہیں کہ وہ ایک ایک کر کے ماضی کے متعلق ہو چکی ہوتی ہیں اور ان کا ورود "حال" پر نہیں ہوتا بلکہ ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔ عجیب بادشاہ" ایک اچھا افسانہ ہے اور میری آرزو ہے کہ جس طرح اپنے زمانے میں ہم نے اسے پڑھ کر لطف لیا تھا آج کے قاری بھی اس سے لطف حاصل کریں۔ یہ میرے اس زمانے کے اچھے افسانوں میں شمار ہوتا تھا۔ آج کی بابت کچھ کہہ نہیں سکتا۔


کراچی کافی ہاوس کی سیڑھیاں اتر کر جب میں اپنی کرائے کی سائیکل کا تالا کھولنے لگا تو کسی نے پیچھے سے آ کر میری آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ سیدھے کھڑے ہو کر میں اس ہاتھ پر ہاتھ پھیرتا رہا لیکن پتا نہ چلا کہ کون ہے۔ لمبی لمبی مضبوط انگلیاں، پشتِ دست پر سخت بال، بڑھے ہوئے ناخن، سخت گرفت کی وجہ سے کلائی پر ابھری ہوئی نسیں اور سرسوں کے تیل کی سگریٹ میں ملی جلی خوشبو۔ "معظم؟" میں نے کہا مگر کوئی جواب نہ ملا۔ "قمر؟" لیکن اس مرتبہ بھی کوئی نہ بولا۔ "ممتاز؟" اب بھی ہاتھ میری آنکھوں پر ہی رہا۔
ایک ایک کر کے میں نے اپنے تمام زندہ اور مردہ دوستوں کے نام گنوائے مگر میری آنکھوں سے وہ ہاتھ نہ ہٹھا پھر میں نے اپنا نام لے کر کہا۔ "اب چھوڑئیے صاحب! کہیں غلط فہمی میں تو میری آنکھیں بند نہیں کر رکھیں؟"
اس پر وہ ذرا سا ہنسا اور ہاتھ ہٹآ لیا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا۔ زماں میلی سی نیلے رنگ کی اچکن پہنے مسکرا رہا تھا۔ میں اپنی فائل زمین پر پھینک کر اس سے لپٹ گیا۔ پورے بارہ سال ایک دوسرے سے جدا رہنے کی مکافات ہم نے یوں کی کہ دیر تک ایک دوسرے سے لپٹے رہے اور پڑیوں پر چلنے والے راہ گیر پیچھے مڑ مڑ کر دور تک ہمیں دیکھتے رہے۔ میں نے ٹھوڑی اس کے کندھے پر رگڑتے ہوئے پوچھا۔ "اتنا عرصہ کہاں رہے ظالم؟"
اس نے ہاتھ ڈھیلے چھوڑ کر کہا۔ "آبادان"
"آبادان؟" میں نے ہٹ کر پوچھا۔
"ہوں۔" زماں نے اپنی اچکن کی جیبوں میں ہاتھ ڈال لئے اور بولا۔ "تم سے جدا ہو کر چند مہینے تو بمبئی میں گزارے۔ اس کے بعد اینگلو ایرانین آئل کمپنی میں ملازم ہو کر آبادان چلا گیا اور اتنا عرصہ وہیں رہا مجھے وہاں سے لوٹے ابھی پورا ایک مہینہ بھی نہیں ہوا۔"
"مگر تم نے آج تک مجھے کوئی خط کیوں نہ لکھا؟" میں نے پوچھا۔
"خط!" اس نے مسکرانے کی کوشش کی۔ یار میں نے لکھا ہی نہیں، کسی کو بھی نہیں لکھا۔ تمہیں معلوم ہے یار! مجھے خط لکھنے کی عادت ہی نہیں۔"
میں نے کہا۔ "یہ کوئی بات نہیں۔ عادت نہیں تو نہ سہی مجھے تو لکھا ہوتا۔"
اس پر وہ مسکرانے لگا اور بولا۔ "اب جو مل گئے ہو تو سارے خط زبانی سنا دوں گا لیکن اس وقت مجھے دیر ہو رہی ہے مجھے اسٹرپٹومائی سین کا پرمٹ لینا ہے اور دفتر ابھی بند ہو جائیں گے۔"
"اسٹرپٹو مائی سین کا پرمٹ؟" میں نے حیرت سے کہا۔
"ہاں!" وہ آہستہ سے بولا ۔ "ڈاکٹر نے یہی دوا تجویز کی ہے۔ اور یار! اچھا بھئی مجھے دیر ہو رہی ہے مجھے اپنا پتہ بتا دو۔"
میں نے ڈائری سے ایک ورق پھاڑ کر اس پر اپنا پتہ لکھ دیا اور اس کے دوسری طرف ایک چھوٹا سا نقشہ بنا کر بھی اسے سمجھا دیا کہ صدر ٹرم جنکشن کے سامنے جو کھلی سڑک ہے اس کے پہلے بائیں موڑ پر ایک مسجد ہے۔ مسجد کے ساتھ ایک لائبریری ہے اور لائبریری سے چند قدم کے فاصلے پر دائیں ہاتھ کو بنجارا ہوٹل ہے۔ میں اس کے آٹھویں کمرے میں رہتا ہوں۔ زماں چلنے لگا تو میں نے کہا۔ "یار تمہارے چلے جانے کے بعد سیما بھی اچانک غائب ہو گئی اور آج تک اس کا پتہ نہیں چل سکا۔"
"اچھا۔" اس نے بےپروائی سے کہا اور بولا۔ یار یہ لڑکیاں بھی عجیب بادشاہ ہوتی ہیں کہ وقتے یہ سلامے برنجز گاہے بدشنامے خلعت و ہند، لیکن یار! اب مجھے دیر ہو رہی ہے۔ میں شام کو آؤں گا۔ پانچ چھ بجے میرا انتظار کرنا۔"
وہ چلا گیا میں نے سائیکل کا تالا کھولتے ہوئے سوچا۔ اسٹرپٹومائی سین، بادشاہ، لڑکیاں، یہ کیا بات ہوئی؟
زماں اور میں تین سال تک اکٹھے ایک ہی کالج اور ہوسٹل کے ایک ہی کمرے میں رہے تھے۔ تین سال کی اس چھوٹی سی مدت میں اس نے مجھے کس کس طرح تنک کیا میں بیان نہیں کر سکتا۔ ظالم کا ذہن اچھا تھا امتحان کے قریب آ کر چند دن پڑھائی کرتا تھا اور پاس ہو جاتا تھا۔ مجھے شروع سے رٹنے کی عادت تھی۔ لنگر لنگوٹے کس کے آدھی آدھی رات تک رٹا لگایا کرتا۔ وہ اپنے بستر میں لیٹے لیٹے سگریٹ پیتے ہوئے مجھے اس طرح جاپ کرتے دیکھ کر بہت ہنستا اور اونچے اونچے پشتو کے شعر گانے لگتا۔ بے حد ضدی اور سرپھرا قسم کا آدمی واقع ہوا تھا۔ جو بات جی میں آتی بےسوچے سمجھے کہہ دیتا۔ تمیز کے نام سے بہت چڑتا تھا۔ مانگنا اس کے مذہب میں حرام تھا۔ کسی بات پر منہ سے نہ نکل گئی تو اس کا ہاں میں تبدیل ہونا ممکنات میں سے نہیں تھا تاش کبھی شرط بدے بغیر نہیں کھیلتا تھا اور اگر ہارنے والے کے پاس پیسے نہ ہوئے تو یا تو اس کی کتابیں ضبط ہیں یا پتلون۔ اپنے پاس رقم نہیں تو کھیل میں شریک ہی نہیں ہوتا تھا۔ سگریٹ سلگانے کو ماچس نہیں تو مجھ سے کبھی نہیں مانگی۔ منہ میں سگریٹ دبائے چوس رہا ہے اور سر ہلا رہا ہے میں نے چائے کی دو پیالیاں بنا کر کہا۔ "زماں بھائی! چائے پیو۔"
اس نے آئینے میں اپنا مہاسا بلیڈ سے چھیلتے ہوئے کہا۔ "نہیں۔"
میں نے کہا۔ "تھوڑی سی۔"
اس نے جواب دیا۔ "بھئی نہیں۔"
میں نے پوچھا۔ "بھئی نہیں کا کیا مطلب؟"
جھلا کر بولا۔ "بھئی نہیں کا مطلب یہ کہ نہیں۔"
میں نے پوچھا۔ "وجہ؟"
بولا۔ "نہیں۔"
میں نے پوچھا۔ "نہیں کیا؟"
کہنے لگا۔ "نہیں ہوتی ہے کہ بس نہیں۔"
ایسے آدمی کے ساتھ تین سال گزارنے جہنم ہیں کہ نہیں؟ باکسنگ میں یونیورسٹی چیمئین شپ کا انعام ملا تو اس بات پر اڑ گیا کہ انعام دینے والے سے ہاتھ نہیں ملاؤں گا۔ اپنی ہمت سے کپ لیا ہے، ہاتھ کیوں ملاؤں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا۔"
انعام لے کر ہاتھ ملائے بغیر واپس آ گیا۔ ڈاکیے نے ایک بیرنگ خط لا کر کہا۔ "دو آنے دیجیے۔"
اس نے لفافہ دیکھے بغیر جواب دیا۔ "خط واپس کر دو میں نہیں لیتا۔" میں نے پوچھا تو بولا دو آنے نہیں ہیں۔"
میں نے کہا۔ "یار مجھ سے لے لو، پھر لوٹا دینا۔"
پوچھنے لگا ۔ "کیوں لوں؟"
میں نے کہا۔ "اس لئے کہ خط لے سکو۔"
بولا۔ "نہیں میں نہیں لیتا۔"
میں نے نہیں کا لفظ سن کر کہا۔ "ٹھیک ہے شیروں کے پسر شیر ہی ہوتے ہیں جہاں میں۔ بھلا قبلہ گاہی کی طبیعت بھی ایسی ہی ہے؟ اس پر وہ ہنسنے لگا تو میں نے شیر ہو کر کہا۔ "بلاؤں ڈاکئے کو؟" اس نے نفی میں سر ہلایا اور تاش پھینٹنے لگا۔"
کالج میں جب فیس جمع کرانے کا دن آتا دفتر میں ہنگامہ بپا ہو جاتا۔ لڑکیاں اس دھکم پیل میں فیس دینے سے گھبراتی تھیں۔ ان کی فیس لڑکے جا کر داخل کرواتے تھے۔ اس طح ایک مہینے بعد ان کے کھل کر گفتگو کرنے کا اچھا خاصا موقع مل جاتا تھا۔ وہ اپنے پرس سے روپے نکالتیں اور گن کر کسی کلاس فیلو کو دیتیں۔ وہ انہیں گنتا اور یہ ضرور کہتا کہ ایک روپیہ کم ہے۔ اس طرح لڑکی اور لڑکے کے چہرے پر ایک ساتھ ایک سی دو مسکراہٹیں پھیل جاتیں فیس ادا کر کے پھر انہیں حساب دیا جاتا۔ ایک آدھ آنہ یہ کہہ کر رکھ لیا جاتا کہ یہ ہماری سگریٹ کے لئے ہے۔ پھر وہ اکنی کئی دنوں تک اس لڑکی کے سفید چھلے کی طرح دکھائی دیتی رہتی۔ ہاسٹل میں کئی ایسے بامذاق لڑکے بھی تھے جس کے پاس بہت سی ایسی انگوٹھیاں جمع ہو گئیں تھیں۔ ہماری کلاس میں ہر ایک کی یہی خواہش ہوتی کہ اس مرتبہ سیما اسے فیس لے جانے کے لئے منتخب کرے مگر وہ صرف سلیم کے ہاتھ اپنی فیس دفتر بھجواتی۔ ایک مرتبہ سلیم نہیں تھا تو سیما نے زماں کو ستر روپے دے کر کہا۔ میری فیس داخل کروا دیجئے۔ زماں کچھ کہے بغیر روپے لئے اور سیدھا ہوسٹل چلا آیا۔ سیما برآمدے میں گھنٹے بھر تک رسید کا انتظار کرتی رہی مگر رسید لانے والا تو اپنے کمرے میں گہری نیند سو رہا تھا۔ دوسرے دن زماں نے اکہتر روپے سیما کے ہاتھ پر رکھ کر کہا۔ کل مجھے نیند آ گئی اور میں فیس داخل نہ کروا سکا۔ آپ اپنے روپے لیجیے اور ایک روپیہ فیس کا جرمانہ ہے۔ سیما نے کھینچ کر روپیہ دیوار سے دے مارا۔ زماں نے کہا۔ ایسے تو نہیں ٹوٹے گا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
کالج میں پروفیسر راج سے اس کی جان جاتی تھی یہ پرانی وضع کے معمر پروفیسر تھے۔ چست پاجامہ اچکن پہنے ململ کی پگڑی باندھ کر کالج آتے ایک ہاتھ میں بورڈ صاف کرنے کا ڈسٹر ہوتا اور دوسرے میں چاکوں کا ڈبا۔ دونوں ہاتھ چاک کی سفیدی سے بھرے ہوتے اور اچکن پر بھی جگہ جگہ ان ہاتھوں کے نشان ہوتے۔ زماں کو وہ ہینگ والا کہا کرتے تھے اور یہ انہیں بجائے پروفیسر صاحب کے باباجی کہا کرتا۔ باباجی کے سامنے اس نے کبھی سگریٹ نہیں پیا، اونچے نہیں بولا، ضد نہیں کی اور کسی بات سے انکار نہیں کیا۔
ڈائی نمیکس کی کاپیاں دیکھتے ہوئے وہ زماں کو بلاتے اور اس کا کان پکڑ کر آہستہ آہستہ مسلتے جاتے اور کہتے جاتے۔ "یہ کیا کیا ہینگ والے! یہ کیا کیا۔" زماں کے منہ میں گھنگھنیاں بھری ہیں، آنکھیں نیچی ہیں، جواب دینے کی سکت نہیں۔ اسی طرح کمان بنا کھڑا ہے۔ اگلا صفحہ پلٹ کر باباجی اس کا کان چھوڑ کر پیٹھ ٹھونکتے اور خوش ہو کر کہتے۔ "میرا ہینگ والا ہے لائق، لیکن پاپی پڑھتا نہیں مکے بازی پر جان دیتا ہے۔" پھر اس کی کاپی بند کر کے کہتے۔ "جا میرے لئے ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس لا۔" اور زماں فخر سے سر اونچا کر کے دروازے کی طرف یوں بڑھتا جیسے کسی نے دوجہان کی دولت اسے بخش دی ہو۔
ایک مرتبہ سیما اور ساوتری پتہ نہیں کون سی کتاب لائبریری سے لینے گئیں تو لائبریرین نے انہیں بتایا کہ وہ کتاب تو دیر سے زماں صاحب کے پاس ہے۔ وہ سیدھی ہاسٹل پہنچیں میں رٹا لگانے میں مصروف تھا اور زماں حسبِ معمول رضائی چوڑائی کے رخ اوڑھے یوں ہی آنکھیں بند کئے لیٹا تھا۔ سیما نے اندر آ کر کہا۔ "زماں صاحب! وہ کتاب آپ کے پاس ہے؟"
زماں نے آنکھیں کھول کر جواب دیا۔ "اس میز پر پڑی ہے۔" اور پھر کروٹ بدل کر دیوار کی طرف منہ کر لیا۔ میں اپنی چارپائی سے اٹھ کر ان کے ساتھ کتاب تلاش کرنے لگا لیکن وہ نہ ملی۔ سیما نے پھر کہا۔ "مسٹر زماں! کتاب تو یہاں نہیں ہے؟"
زماں نے اسی طرح لیٹے لیٹے جواب دیا۔ "یہیں کہیں ہو گی۔ پرسوں تواسی میز پر پڑی تھی۔" سیما اور ساوتری نے اس بدتمیزی پر احتجاجا تلاش بند کر دی اور منہ پھلائے چلی گئیں۔
میں نے کہا۔ "یار عجیب احمق ہو۔"
اس نے کہا۔ "ہوں۔" اور پھر سو گیا۔
ایک مرتبہ جب کالج میں ڈرامے کی ریہرسل ہو رہی تھی تو زماں بھی وہاں پہنچ گیا۔ سیما پانی کے جگ کے پاس کھڑی تھی سلیم اپنا مکالمہ بول کر پانی سے حلق تر کرنے آیا تو سیما نے گلاس پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ "اوں ہوں، باہر نل پر جا کر پانی پیجئے، پتہ نہیں کیسے کیسے لوگ ایک ہی گلاس میں پانی پیتے گئے ہیں۔" سلیم اس کی ہمدردی سے بے حد مرعوب ہوا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں شکریہ ادا کر کے باہر نکل گیا۔
زماں نے کہا۔ "مجھے بھی پیاس لگی ہے۔ سیما نے پھر گلاس پر ہاتھ رکھ کر یہی کہا۔ زماں نے گلاس اس کے ہاتھ سے کھینچ کر جگ سے پانی انڈیلا اور غٹ غٹ پی گیا۔ سیما نے کہا۔ "ضدی کہیں کا۔"
زماں نے کہا۔ "وہمی کہیں کی۔" اور ایک مصنوعی ڈکار لے کر ہال سے باہر آ گیا۔ وائی ایم سی اے میں باکسنگ کا مقابلہ ہوا۔ ہمارے کالج کے علاوہ دوسرے کالجوں کے طلبہ بھی یہ مقابلہ دیکھنے آئے۔ زماں کا مقابلہ پنجاب رجمنٹ کے ایک کپتان سے ہوا۔ زماں ہار گیا رنگ سے باہر نکل کر اس نے سیما اور سلیم کو آپس میں باتیں کرتے دیکھا۔ ان کے قریب جا کر زماں نے سیما سے پوچھا۔ "مقابلہ پسند آیا؟"
"بہت!" سیما نے مسکرا کر کہا۔ "مان ٹوٹا! میں کوئی ہارا ہوں؟" اس نے اپنے خون آلود منہ اور چہرے پر پڑے ہوئے نیلوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ "یہ تمغے کامیابی کے بغیر تو نہیں ملتے نا سلیم صاحب!" سلیم صاحب کو یہ بات بہت ناگوار گزری۔ وہ سیما کو لے کر جلدی جلدی سیڑھیاں اتر گیا۔
سردیوں کی ایک تیرہ و تاہ رات کو بارہ بجے کے قریب وہ کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے سر اور بازو پر پٹیاں بندھی تھیں اور ان سے خون رس رہا تھا۔ بتی جلنے سے میں جاگ اٹھا اور اسے اس حالت میں دیکھ کر حیران رہ گیا۔ "کیا ہوا؟" میں نے رضائی پرے پھینک کر پوچھا۔
"کچھ نہیں یار!" اس نے جیب سے سگریٹ نکال کر منہ میں دبائی اور ماچس میز پر پہلو کے بل کھڑی کر کے دائیں ہاتھ سے اس پر دیا سلائی رگڑنے لگا۔
میں نے کہا۔ "میں جلائے دیتا ہوں۔"
اس نے جھلا کر کہا۔ "آخر کیوں؟ کیا میں اپنی سگریٹ بھی خود نہیں سلگا سکتا؟"
میں نے پھر پوچھا۔ "تم زخمی کیسے ہو گئے؟"
اس نے ہنس کر کہا۔ "جیسے ہوا کرتے ہیں۔ میں حملے کے جواب کے لئے تیار نہیں تھا۔ وہ مجھ پر ایک دم پل پڑا اور چاقو سے کھچاک کھچاک کئی زخم لگا دئیے۔ پھر میں پٹی کروانے اسپتال چلا گیا۔ اسی لئے تو مجھے دیر ہو گئی اور یار! آج دیر سے آنے پر جواب طلبی بھی ہو گی اور جرمانہ بھی۔"
میں نے پوچھا۔ "مگر وہ تھا کون؟"
"مجھے کیا خبر۔" اس نے بستر پر لیٹتے ہوئے کہا۔ "ایسی تاریک رات میں کہیں شکل پہچانی جاتی ہے۔"
"وہ کچھ بولا نہیں؟" میں نے پوچھا۔
"بولا تھا۔"
"کیا کہتا تھا؟"
"میں نہیں بتاتا۔"
میں نے گالی دے کر کہا۔ "تو جا جہنم میں، تجھ سے پوچھتا ہی کون ہے۔"
اس پر وہ ہنسنے لگا اور تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد دیر تک ہنستا رہا۔ بتی بجھا کر اور اپنے بستر میں منہ سر لپیٹ کر میں جی ہی جی میں اسے گالیاں دیتا رہا۔ پھر میں نے رضائی سے منہ نکال کر پوچھا۔ "یار! تم نے اس کی آواز نہیں پہچانی؟"
اس نے جھلا کر کہا۔ "چاچا! میں نے پہلے کبھی اس کی آواز سنی ہوتی تو پہچانتا۔" پھر ہم میں سے کوئی نہ بولا۔
جب دوسرے دن کالج میں ہر ایک نے بار بار اس سے رات کے حادثہ کے متعلق پوچھنا شروع کیا تو اس نے تنگ آ کر ایک نوٹس لگا دیا کہ "پچھلی رات کسی شخص نے مجھے گھائل کیا۔ میں مقابلے کے لئے تیار نہیں تھا اس لئے گہرے زخم آئے پٹی اسی وقت کرائی گئی، اب روبصحت ہوں۔ براہِ کرم کوئی صاحب میری روداد نہ پوچھیں۔ میں اپنی داستان سنا سنا کر تھک گیا ہوں۔" اس کے نیچے اس نے موٹے حروف میں زماں خاں بقلم خود لکھ دیا۔
اس شام میں اسے سائیکل پر بٹھا کر پٹی کروانے اسپتال لے جا رہا تھا کہ راستے میں سیما مل گئی۔ اس نے ہمیں روک لیا اور زماں سے کہنے لگی۔ "مسٹر زماں! میں نے آج آپ کو پٹی بندھے دیکھا تھا لیکن اس کے متعلق پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔ کالج سے گھر لوٹتے ہوئے آپ کا اعلان پڑھا تو میرا جی بھی آپ کو تھکا دینے کو چاہا۔ بتائیے کیا ہوا تھا؟"
زماں نے سائیکل کی گدی پر ٹیک لگا کر کہا۔ "کوئی گیارہ بجے کے قریب جب میں اپنے کالج کے پچھواڑے آموں والی سڑک پر جا رہا تھا تو کسی نے میرا نام لے کر پکارا۔ میں رک گیا اور پیچھے مڑ کر دیکھا۔ متوسط قد کا ایک آدمی کمبل پہنے میرے پاس آیا۔ ذرا سی دیر رکا اور پھر ایک دم خنجر سے مجھ پر وار کیا جو میرے بائیں کندھے میں لگا۔ میں نے اس کی ٹھوڑی کو ہٹ کیا مگر چونکہ میرا کندھا زخمی ہو گیا تھا۔ اس لئے ضرب ٹھیک سے نہیں لگی۔ اس نے مجھے نیچے گرا لیا اور پوچھا۔ کیا تم سیما سے محبت کرتے ہو؟ میں نے کہا۔ "ہاں۔"
سیما نے تنک کر پوچھا۔ "آپ نے یہ کیوں کہا؟"
"وہ اس لئے" زماں نے گھنٹی پر انگلی بجاتے ہوئے کہا۔ "کہ اگر میں نہیں کہہ دیتا تو وہ چھوڑ دیتا اور سمجھتا کہ میں نے صرف جان بچانے کے لئے ایسا کیا ہے پھر اس نے خنجر اوپر اٹھا کر کہا۔ اس کا خیال چھوڑ دو نہیں تو تمہیں جان سے مار ڈالوں گا۔ میں نے جواب دیا کہ میں جان سے جائے بغیر اس کا خیال کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔ یہ کہتے ہی میں نے پوری طاقت سے اسے پرے دھکیلا اور وہ دور جا گرا۔ سامنے کے چوبارے کی بتی جلی اور وہ بھاگ گیا۔
سیما اس کا جواب دئیے بغیر تیز تیز آنکھوں سے اسے گھورتی ہوئی آگے چلی گئی۔
راستے میں میں نے اس سے پوچھا۔ "تم نے یہ بات مجھے کیوں نہ بتائی؟"
اس نے جواب دیا۔ "چونکہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا، اس لئے۔"
اس واقعے کے تھوڑے عرصے بعد مارچ کے مہینے میں ایک اور عجیب واقعہ رونما ہوا۔ اس وقت ہم لوگ اپنے کمروں کے دروازے کھلے چھوڑ کر اندر ہی سوتے تھے۔ آدھی رات کو کسی نے ہمارے کمرے کے دروازے سے لگ کر سوتے ہوئے زماں پر پستول کے دو فائر کئے۔ ٹیبل لیمپ کا شیڈ ٹوٹ گیا اور میز پر پڑی آکسفورڈ کی ڈکشنری کے بہت سے اوراق گولی چاٹ کر نکل گئی۔
چند دن بعد زماں ہوسٹل سے چلا گیا۔ پھر اس نے کالج آنا بند کر دیا اور مجھے اکیلا چھوڑ کر پتہ نہیں کہاں چلا گیا آج پورے بارہ سال اسی زماں نے کافی ہاؤس کی سیڑھیوں کے نیچے میری آنکھیں ہاتھ سے ڈھانپ کر گویا پوچھا تھا۔ "میں کون ہوں؟"
میں بنجارہ ہوٹل میں دیر تک اس کا انتظار کرتا رہا۔ سات بج گئے مگر وہ نہ آیا۔ میں اپنے کمرے سے باہر نکل کر برآمدے میں ٹہلنے لگا ہوٹل کے پھاٹک پر زماں ایک بیرے سے میرا پتہ پوچھ رہا تھا۔ میں لپک کر اس کے پاس پہنچا اور اسے اپنے کمرے میں لے آیا۔
گھنٹی بجا کر میں نے بیرے کو بلایا اور زماں سے پوچھا۔ "چائے پیو گے؟"
"نہیں۔" اس نے منہ پھاڑ کر جواب دیا۔
"آخر کیوں؟"
"بس نہیں۔"
جب اس نے "بس نہیں۔" کہا تو میں نے بیرے سے کہا۔ "جاؤ کوئی کام نہیں۔"
میں نے زماں کے قریب کرسی کھینچ کر اسے وہی خبر سنائی کے اس کے چلے جانے کے بعد سیما بھی کہیں روپوش ہو گئی اور آج تک اس کا کوئی کھوج نہ مل سکا۔
"لیکن وہ گئی کہاں یار؟" اس نے حیرت سے پوچھا۔ "اس کے ماں باپ نے تلاش بھی نہ کی؟"
"کی بھائی! بہت کی، مگر اس کا پتہ ہی نہ چلا۔"
"کمال ہے۔" اس نے اپنے کرتے کی جیب سے ایک بیڑی نکالی اور چوسنے لگا۔ میری طرف محبت بھری نگاہوں سے دیکھ کر کہنے لگا۔ جس رات مجھ پر کسی نے گولی چلائی۔ اس سے اگلے دن سیما مجھے لائبریری میں ملی۔ اس نے مجھے کہا کہ میں شام کو اسے آرام باغ میں ملوں۔ میں نے اس سے وجہ پوچھی تو اس نے اتنا کہا کہ شام کو بتاؤں گی۔ شام کو ہم کرکٹ گراؤنڈ سے پرے درختوں کے ایک جھنڈ میں بیٹھ گئے۔ سیما نے کہا۔ "زماں! اگر میں تم سے ایک چیز مانگوں تو دو گے؟" میرے منہ سے پتا نہیں کیوں "ضرور" نکل گیا۔ اس نے روہانسی ہو کر کہا۔ مجھے اپنی زندگی دے دیجئے۔ میں نے بازو پھیلا کر جواب دیا۔ "لے لو" تو اس نے کہا۔ "میں اسے لے جا کر جہاں چاہوں رکھوں؟" میں نے کہا۔ "جو چیز تمہاری ہے اس کے رکھ رکھاؤ میں داخل والا میں کون؟" پھر اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے اور وہ ہاتھ باندھ کر بولی۔ یہاں سے چلے جائیے اپنے گاؤں یا کہیں اور وہ لوگ آپ کو مار ڈالیں گے۔۔۔۔۔۔ آپ کو۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو۔۔۔۔۔۔۔ پھر وہ سسکیاں بھر کر رونے لگی۔ میں نے کہا۔ "یہ مجھ سے نہ ہو سکے گا۔ میرے حملہ آور سمجھیں گے میں ڈر کر بھاگ گیا ہوں، میرے دوست کہیں گے میں بزدل تھا اور باکسنگ میں مجھ سے ہارے ہوئے حریف کہیں گے۔ وہ اب ہوتا تو۔۔۔۔۔۔ میں یہاں سے نہیں جاؤں گا سیما! خواہ کچھ بھی کیوں نہ ہو جائے تم مجھے اس بات پر مجبور نہ کرو۔" اس نے کہا۔ "تم نے وعدہ کیا تھا اور میں اس کی شہ پر اتنی سی چیز کی فرمائش کی ہے۔ اب تم اس چیز پر اپنا وعدہ قربان کر رہے ہو؟ میں نے تو سنا تھا کہ تمہارے وعدے کبھی نہیں ٹوٹتے۔" میں نے سیما سے وعدہ کر لیا تھا کہ اپنے گاؤں تو نہ جاؤں گا پر بمبئی چلا جاؤں گا۔ وہاں میری برادری کے چند افراد سودی روپے کا لین دین کرتے تھے۔ میں تمہیں بتائے بغیر ان کے پاس پہنچ گیا۔ دن رات مجھے ایک یہی خیال کھائے جا رہا تھا کہ لوگ کیا کہیں گے کہ موت سی چیز سے ڈر کر بھاگ گیا۔ میں نے سیما کو ایک خط لکھا کہ بمبئی کی زندگی سے تنگ آ گیا چکا ہوں اور واپس آنا چاہتا ہوں۔ اب مجھے وعدے کا ذرا بھی پاس نہیں۔ اگر زندگی میں ایک وعدہ ایفا نہ ہو سکا تو کون سی قیامت آ جائے گی۔ میں تمہارے خط کا ایک ہفتے تک انتظار کروں گا اور اس کے بعد میں پھر تمہارے پاس پہنچ جاؤں گا۔ چار دن گزر گئے خط نہ آنا تھا نہ آیا۔ پانچویں دن سیما خود میرے پاس پہنچ گئی۔ اس نے مجھے کالج کی کتنی ہی دلچسپ خبریں سنائیں۔ تمہارے متعلق بتایا کہ تم نے ایک نیولا پال لیا ہے اور اسے چھپا کر کلاس میں لے آتے ہو۔ باباجی کے بارے میں بتایا کہ میرا نام لے کر بار بار کہتے ہیں کہ وہ پاپی بہت یاد آتا ہے۔ پتہ نہیں کہاں چلا گیا۔ خدا جانے ہم کو یاد بھی کرتا ہے یا نہیں۔ پھر سیما نے کہا کہ میں اس لئے آئی ہوں کہ تم اپنا وعدہ نبھا سکو۔ اب میں عمر بھر تمہارے ساتھ رہوں گی اور تمہیں اپنے قول پر قائم رکھوں گی۔"
"مجھے کسٹم میں ایک معمولی سی نوکری مل گئی اور بھنڈی بازار کی اسی گلی میں ہماری شادی ہو گئی لیکن یار وہ بجھی بجھی سی رہتی اور جب میں دفتر میں ہوتا تو روتی بھی رہتی۔ شام کو اس کی آنکھیں سوجی ہوئی ہوتیں اور وہ چہرے پر مصنوعی مسکراہٹیں پھیلا پھیلا کر مجھ سے باتیں کرتی۔ پھر ایک دن پتہ نہیں اسے کیا ہو گیا کہ میرے پیچھے پڑ گئی کہ بمبئی چھوڑ کر کہیں اور دور نکل چلو۔ یوں تو یار میں رات کو اس کے ساتھ تاش کھیل کر اس کے سارے روپے جیت لیا کرتا تھا اور کبھی واپس نہ کرتا۔ پر مجھے اس کے دل کا بڑا خیال تھا۔ اینگلو ایرانین آئل کمپنی میں مستریوں کی جگہ خالی تھی۔ میں نے عرضی دے دی۔ انتخاب ہوا اور ہم آبادان پہنچ گئے اور یار! اب آبادان کی باتیں سناؤں گا تو رات بیت جائے گی مگر کہانی ختم نہ ہو گی۔ وہاں باکسنگ اور ڈائی نمیکس نے بڑا کام دیا۔ مائیکل صاحب ہر مہینے باکسنگ کا ایک مقابلہ کراتے اور میری گیم ضرور دیکھتے۔ ایک سال کے اندر اندر میں ڈپٹی انجینئر ہو گیا۔ سیما کے بڑے ٹھاٹ تھے۔ اس نے ساری ہندوستانی اخباریں اور رسالے اپنے نام جاری کرا رکھے تھے۔ اپنے بنگلے کے باغیچے میں بید کی کرسی ڈال کر دیر تک مطالعہ کرتی رہتی۔ مستریوں اور فٹروں کی بیویاں اور بچے اس کے گرد گھیرا ڈالے اسے طرح طرح کی باتیں سنایا کرتے۔ اس دوران میں ہم نے شاید ہی کوئی فلم چھوڑی ہو۔ ہر روز سینما کا چکر ہو جاتا تھا۔ کبھی کبھار ہم ناراض بھی ہو جاتے تھے لیکن ہر بار میں ہی اسے مناتا۔ وہ اپنے ابا اور امی کو یاد کر کے بہت رویا کرتی تھی۔ مجھ سے یہ بات پتا نہیں کیوں برداشت نہ ہوتی اور یہیں سے جھگڑا شروع ہو جاتا۔ آبادان کی زندگی میں صرف ایک بار اس نے مجھے منایا وہ بھی غیر ارادی طور پر۔ تمہاری تصویر اخباروں میں چھپی تھی وہ اس کی بھی نظر پڑی۔ میں اس وقت ریفائنری کے ایک ہزار فٹ اونچے کولنگ ٹینک پر بیٹھا سرکٹ دیکھ رہا تھا، کہ سیما ٹرالی پر چڑھ کر اوپر میرے پاس پہنچ گئی۔ میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ ان دنوں روٹھی ہوئی تھی اور یہ پہلا موقع تھا کہ وہ بنگلے سے ریفائنری اور پھر فرش سے اتنی اونچی چوٹی پر چڑھ آئی تھی۔ میں سرکٹ کا معائنہ مستریوں پر چھوڑ کر اس کے ساتھ سوار ہو گیا۔ ٹرالی آہستہ آہستہ نیچے اترنے لگی۔ میں جنگلے کے ایک کنارے بیٹھ گیا تو اس نے میری آستین پکڑ کر کھینچی۔ میں کچھ بولا نہیں۔ پھر اس نے میری کلائی پکڑ لی۔ مجھے اپنی طرف کھینچا اور بولی۔ یہاں نہ بیٹھو۔ میں نے کہا۔ تم تو مجھ سے بولنا ہی نہیں چاہتیں یہاں سے کیوں اٹھاتی ہو؟ اس نے میری دونوں کلائیاں پکڑ کر اپنی طرف کھینچیں اور میرے ساتھ چمٹ کر بولی۔ تم سے نہ بولوں گی تو اور کس کے ساتھ بولوں گی۔ ٹرالی زمین پر پہنچ گئی اور سارے مستریوں اور مزدوروں سے بے خبر وہ مجھ سے اسی طرح چمٹی رہی۔
"ہماری شادی کے پورے چھ سال بعد سہیل پیدا ہوا اور سیما کا اس سے دل لگ گیا۔ اس کے بعد شاید ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔ اور یار! میں نے تم سے کہا نا کہ یہ لڑکیاں عجیب بادشاہ ہوتی ہیں۔"
میں نے پوچھا۔ "سیما اب کہاں ہے؟"
زماں نے جواب دیا۔ پچھلے دسمبر کی ایک شام سہیل اپنے کونونٹ سے ڈرامہ دیکھ کر آیا تو راستے میں اسے بڑی سردی لگی۔ گھر آ کر اس نے اپنی ممی سے کہا مجھے گرم دودھ پلاؤ تو اس نے یہ سوچ کر کہ باورچی دیر لگائے گا خود ہی ایک پیالے میں دودھ ڈال کر اسے اپنے ہیٹر پر رکھ کر پلگ جو لگایا تو اسے شدید برقی صدمہ پہنچا۔ رات تک سارے ڈاکٹر اس کے گرد جمع رہے لیکن وہ جاں بر نہ ہو سکی۔ سہیل کو اپنی ممی کی موت کا بہت صدمہ ہوا۔ وہ اسی دن سے بیمار ہے کہ سیما کی موت کے بعد مجھے اپنے معاہدے کے مطابق ایک سال اور وہیں رہنا پڑا اور اس عرصے میں سہیل کی حالت بد سے بدتر ہو گئی اور سچی بات تو یہ ہے کہ سیما کے بعد میں اس پر پوری توجہ نہ دے سکا۔ اس دوران میں خوب جی بھر کر برج کھیلی اور سیما کا جمع کیا ہوا روپیہ ہارتا رہا اور اب مجھے یہاں آئے پورا ایک مہینہ بھی نہیں ہوا۔ سہیل کی حالت اب بالکل بگڑ چکی ہے۔ ڈاکٹر نے اسٹرپٹومائی سین کے ٹیکے تجویز کئے ہیں اور آج دوپہر میں اسی کا پرمٹ لینے جا رہا تھا کہ تم مل گئے۔"
"میں نے پوچھا۔ "پرمٹ مل گیا؟"
"ہاں۔" اس نے اپنے کرتے کی بغلی جیب میں ہاتھ ڈال کر خاکی رنگ کا ایک کاغذ نکال کر دکھایا اور بولا۔ "اب تو دکانیں بند ہو گئی ہوں گی صبح ٹیکے خریدوں گا۔"
میں نے کہا۔ "الفنسٹن اسٹریٹ میں ابھی بہت سی دکانیں کھلی ہوں گی۔ ابھی چل کر کیوں نہ لے لیں۔"
زماں نے کہا۔ "اب کل ہی لوں گا۔"
"کل کیوں؟" میں نے پوچھا۔
"بس یار! آج نہیں لوں گا۔"
"نہیں کیوں؟"
"نہیں لوں گا یار! کیوں کیا؟"
"پیسے نہیں؟" میں نے پوچھا۔
"ہیں۔" اس نے خوف زدہ ہو کر کہا۔
"دکھاؤ۔"
"نہیں دکھاتا۔"
میں نے کہا۔ "اچھا تمہاری مرضٰ، یہ کوئی نئی بات تو نہیں۔ تم ہمیشہ سے ضدی اور اپنی ہٹ کے پکے رہے ہو۔ بچے کی جان کے لالے پڑے ہیں اور تم اپنی وضعداری نبھا رہے ہو۔"
اس نے اس بات کا کوئی جواب نہ دیا اور بولا۔ "اچھا اب چلتا ہوں کل تم سے ملوں گا۔ دس گیارہ بجے کے قریب۔"
وہ چلا گیا تو میں نے اپنے بٹوے سے سو روپے کا ایک نوٹ نکالا اور پڑیا بنا کر مٹھی میں چھپا لیا۔ پھر میں تیزی سے اس کے پیچھے گیا۔ وہ ہوٹل کے پھاٹک کے پاس ایک دیا سلائی خرید رہا تھا۔ میں نے کہا۔ "ظالم! اتنی لمبی رات درمیان میں ہے۔ گلے تو مل لو۔" جب وہ مجھ سے بغل گیر ہوا تو میں نے سو روپے کا نوٹ چپکے سے اس کی بغلی جیب میں ڈال دیا۔
تھوڑی دور اس کے ساتھ چل کر میں واپس اپنے ہوٹل میں آ گیا اور بیرے سے کہا کہ اگر کوئی صاحب مجھ سے ملنے آئیں تو انہیں کہہ دینا کہ میں یہ ہوٹل چھوڑ کر چلا گیا ہوں اور دیکھو صبح سات بجے ایک وکٹوریا لا کر مجھے جگا دینا میں صبح کی گاڑی سے واپس جا رہا ہوں۔" یہ کہہ کر میں اپنے کمرے میں آیا زماں کے نام ایک خط لکھا اور اسے میز میں ڈال کر سو گیا۔
صبح ساتھ بجے بیرے نے دروازہ کھٹ کھٹانا شروع کر دیا میں نے کہا۔ "جاگ گیا ہوں بھئی تم جاؤ۔"
مگر بیرے نے شاید میری آواز نہیں سنی۔ اسی طرح دروازہ پیٹے چلا گیا۔ جھلا کر میں بستر سے اٹھا اور دروازہ کھول دیا۔ سامنے زماں کھڑا بیڑی پی رہا تھا۔ اس نے ہنس کر کہا۔ "یار عجیب گھوڑے بیچ کر سوتے ہو۔ اس عمر میں ایسی نیند اچھی نہیں ہوتی۔ بھلے مانس صبح اٹھ کر اللہ کا نام لیا کرو۔"
میں نے خفت مٹاتے ہوئے کہا۔ "بھائی! رات کو دیر تک جاگتا رہا۔ اسی لئے آج دیر سے اٹھا ہوں ورنہ اب تو کالج کا وہ لونڈا نہیں رہا۔ "پھر میں نے اس کے ہاتھ سے بیڑی لے کر یوں ہی ایک دو کش لگائے اور پوچھا۔ "سہیل کیسا ہے؟"
اس نے مسکرانے کی کوشش کی اور بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔ "یار! وہ بھی اپنی ممی سے جا ملا۔" پھر اس نے اپنے کرتے کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور دامن الٹ کر کہا۔ "یار! ذرا دیکھنا۔ کل رات یہاں سے جاتے ہوئے کسی صاحب زادے نے ہماری جیب کاٹ لی جیسے ہم جیبوں میں نوٹ ہی تو ڈالے پھرتے ہیں۔ سالے کو اسٹرپٹومائی سین کے پرمٹ اور تین آنے کے سوا کیا ملا ہوگا۔" کٹی ہوئی جیب سے اس کی زرد زرد انگلیاں چھپکلیوں کے سروں کی طرح باہر جھانک رہی تھیں۔



******
ٹائپنگ:  ملک بلال بھائی - اردو محفل
بشکریہ : اردو محفل

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے - ایک سدا بہار غزل

غزل

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے
درد پُھولوں کی طرح مہکیں، اگر تو آئے

بھیگ جاتی ہیں اِس اُمّید پر آنکھیں ہر شام 
شاید اِس رات وہ مہتاب، لبِ جُو آئے

ہم تیری یاد سے کترا کے گزر جاتے، مگر
راہ میں پُھولوں کے لب، سایوں کے گیسو آئے

وہی لب تشنگی اپنی، وہی ترغیبِ سراب 
دشتِ معلوم کی ہم آخری حد چُھو آئے 

سینے وِیران ہُوئے، انجمن آباد رہی 
کتنے گُل چہرے گئے، کتنے پری رُو آئے

آزمائش کی گھڑی سے گزر آئے، تو ضیا
جشنِ غم جاری ہوا، آنکھ سے آنسو آئے

ضیا جالندھری

FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک