نظم ۔ راہ مسدود ہے ۔ محمد احمد

راہ مسدود ہے 

ہر طرف کتنی چھوٹی بڑی گاڑیاں
آڑی ٹیڑھی پھنسی بیچ چوراہے پر
ڈرائیور* پان کی پیک منہ میں لئے
گالیاں دے رہے ہیں ہوا میں کسی 
دوسرے ڈرائیور کا تصوّر کیے

پان کی پیک، بس کا دھواں 
ڈرائیور کے غلاظت بھرے 
منہ سے اُگلی ہوئی گالیاں
جُز تعفّن نہیں کچھ، نہیں کچھ یہاں

نظم مفقود ہے
راہ مسدود ہے

اُس کو جانے کی جلدی تھی 
اُس نے غلط راہ لی
اُس کی جلدی کا عفریت 
کتنے ہی لوگوں کے معمول کو کھا گیا
اب سبھی گاڑیاں  
راستے میں پھنسی ہیں 
کئی ہاتھ ہارن سے چمٹے ہوئے ہیں
مگر کوئی بڑھ کر کہاں دیکھتا ہے
کہ سُلجھاؤ کا  راستہ ہے کہاں

سوچ مفقو د ہے
راہ مسدود ہے

محمد احمدؔ

نوٹ: انگریزی لفظ ڈرائیور کو فاعلن کے وزن پر باندھا گیا ہے  جو اپنے اصل تلفظ سے زیادہ قریب ہے۔ 


غزل ۔ دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں ۔ سیماب اکبر آبادی

غزل

دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں
اک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں

دنیا کرے تلاش نیا جام جم کوئی
اس کی جگہ نہیں مرے جام سفال میں

آزردہ اس قدر ہوں سراب خیال سے
جی چاہتا ہے تم بھی نہ آؤ خیال میں

دنیا ہے خواب حاصل دنیا خیال ہے
انسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں

اہل چمن ہمیں نہ اسیروں کا طعن دیں
وہ خوش ہیں اپنے حال میں ہم اپنی چال میں

سیمابؔ اجتہاد ہے حسن طلب مرا
ترمیم چاہتا ہوں مذاق جمال میں

سیمابؔ اکبر آبادی

نئے چراغ جلاؤ کہ روشنی کم ہے ۔۔۔ شاہد صدیقی

غزل

یہ کیا ستم ہے کہ ، احساسِ درد بھی کم ہے
شبِ فراق ستاروں میں روشنی کم ہے

اک ایسی موجِ کرم تھی نگاہِ ساقی میں
کہ اس کے بعد سے طوفانِ تشنگی کم ہے

قریب و دور سے آتی ہے آپ کی آواز
کبھی بہت ہے، غمِ جستجو ، کبھی کم ہے

عروجِ ماہ کو انساں سمجھ گیا لیکن
ہنوز عظمتِ انساں سے آگہی کم ہے

تمام عمر ترا انتظار کرلیں گے
مگر یہ رنج رہے گا کہ زندگی کم ہے

نہ ساتھ دیں گی یہ دم توڑتی ہوئی شمعیں
نئے چراغ جلاؤ کہ روشنی کم ہے

شاہد صدیقی
حیدر آباد۔ ہندوستان 
1911 ~ 1962ء

بشکریہ صابر علی سیوانی




ارے! خواب تو دیکھ

غزل

دن بھلے جیسا کٹے، سانجھ سمے خواب تو دیکھ
چھوڑ تعبیر کے خدشوں کو، ارے! خواب تو دیکھ

جھونپڑی میں ہی بنا اپنے خیالوں کا محل
گو پُرانا ہے بچھونا !تُو نئے خواب تو دیکھ

تیرا ہر خواب مسّرت کی بشارت لائے
سچ ترے خواب ہوں اللہ کرے، خواب تو دیکھ

دل شکستہ میں ہوا، جب بھی مِرا دل ٹوٹا
حوصلے آگے بڑھے، کہنے لگے، خواب تو دیکھ

تجھے وہ بات بھی آئے گی سمجھ یار مرے
جو ہے ادراک کی سرحد سے پرے، خواب تو دیکھ

گتھیاں ساری سُلجھ جائیں کہ ہوں اور سِوا
تو ذرا ہاتھ بڑھا، تھام سِرے، خواب تو دیکھ

نیند کے خواب ترے خوف کے گھر ہیں بھی تو کیا
نیند کو چھوڑ تو جب صبح اُٹھے خواب تو دیکھ

محمد احمدؔ


انتخابِ نثر ۔۔۔ گر تو می خواہی کہ باشی خوش نویس​

گر تو می خواہی کہ باشی خوش نویس​

ایک فارسی شعر ہے
گر تو می خواہی کہ باشی خوش نویس
می نویس و می نویس و می نویس
(اگر تو چاہتا ہے کہ اچھا لکھنے والا بن جائے تو لکھتا رہ، لکھتا رہ لکھتا رہ)​

یہ شعر اگرچہ خطاطی کی مشق کے زمرے میں نقل کیا جاتا ہے مگر آج میں اس کے ایک اور پہلو پر لکھنے کی جسارت کروں گا۔میں اس شعر میں خوش نویس کو خطاط کے معنوں میں نہیں بلکہ مصنف کے معنوں میں لیتا ہوں اور اسی نسبت سے چند گزارشات پیش کروں گا۔

آج کے انٹرنیٹ کے دور میں آپ کوئی بھی کام کرنا چاہتے ہیں تو گوگل پر جائیں اور اپنا مطلوبہ کام لکھیں۔اس کے لیے آپ کو مواد مطالعہ، ٹیٹوریل اور یہاں تک کہ قدم بہ قدم رہنمائی کی دستاویزات کی ایک لمبی فہرست مل جائے گی۔ اور اگر آپ لگن اور محنت کا حوصلہ رکھتے ہیں تو آپ چاہے اس کام میں مہارت حاصل نہ بھی کر سکیں بہت حد تک آپ اس کے بنیادی اصولوں سے شناسائی حاصل کر لیں گے۔کبھی آپ نے سوچا ہے یہ کیونکر ممکن ہوا۔اکثر لوگ اس کی وجہ انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی قرار دیں گے۔مگر انٹرنیٹ نے تو صرف اس کی فراہمی آسان بنائی ہے۔ اس کا اصل سبب لکھنے کی عادت ہے۔

ہمارے ہاں بڑے بڑے حکیم گزرے ہیں جن کی حکمت کی داستانیں جی ہاں داستانیں نہ کہ واقعات سن کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔حکمت کے یہ کمالات اور مجرب نسخے وہ اپنے ساتھ لے گئے۔اور ان میں سے چند ایک نسخے جب انگریز کے ہاتھ لگے تو اس نے ان کو میڈیکل سائنس بنا دیا اور ایلو پیتھی کی بنیاد رکھی۔آج ہم اس علم کے لیے ان کے دست نگر ہیں۔

آج ہم یہ سنتے ہیں کہ ہمارے موسیقار گھرانے دم توڑ رہے ہیں اور میڈیا بھی آئے دن ایسے ہی کسی گھرانے کی کسمپرسی کا رونا رو رہا ہوتا ہے۔مگر کبھی ان موسیقاروں نے اپنے گھرانے سے آگے بھی سوچا ہے۔ کبھی انہوں نے اپنے اس علم کو لکھ کر محفوظ کیا ہے۔ یہی علم جب انگریز کے ہاتھ لگا تو اس نے موسیقی پر کتابیں لکھیں، موسیقی سکھانے کے ادارے بنا ڈالے اور آج کسی غیر ملک سے حاصل کردہ ڈگری ہمارے میڈیا میں موسیقار ہونے کے لیے شرط اول ہے۔

آپ کسی بھی ممکنہ علم کا نام لکھ کر گوگل پر سرچ کریں اور جو فہرست ملتی ہے اس کا جائزہ لیں۔99 فیصد نتائج آپ کو انگریز کی کاوش نظر آئے گی کیونکہ وہ کوئی بھی کام کرتا ہے اس کو لکھ لیتا ہے۔لکھنے کے لیے اس کا عالم یا بہت پڑھا لکھا ہونا بھی ضروری نہیں۔انگریزی میں ایک اصطلاح (DIY(Do it yourself استعمال ہوتی ہے۔تجربے کے طور پر آپ گوگل میں یہ اصطلاح لکھ کر سرچ کریں۔دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا کام ہو جو اس زمرے میں شامل نہ ملے۔اس زمرے میں لکھنے والے کوئی ماہر کاریگر نہیں بلکہ عام لوگ ہیں جو اگر کسی کام کو خود سے مکمل کرتے ہیں تو "آپ خود کریں" کے زمرے میں اس کو لکھ دیتے ہیں۔اور اگر آپ اس کو پڑھیں تو معلوم ہو گا اس میں سے بیشتر چیزیں آپ خود کرتے ہیں مگر کبھی آپ کو لکھنے کا خیال نہیں آیا۔

یہ لکھنے کی عادت کا ہی ثمر ہے کہ آج معمولی سے معمولی کام کے لیے ہم انگریز مصنف کے محتاج ہیں۔ اس لیے میری آپ سب سے درخواست ہے کہ چاہے غلط سلط، ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں لکھیں مگر لکھیں ضرور۔کیونکہ اگر آپ اچھا لکھاری بننا چاہتے ہیں تو:
می نویس و می نویس ومی نویس​

واصف حسین
اصل تحریر کا ربط

نہ جب دکھلائے کچھ بھی آنکھ پیارے

غزل

نہ جب دکھلائے کچھ بھی آنکھ پیارے
تَو پھرتُو اپنے اندر جھانک پیارے

طلاطم خیز ہے جو دل کا دریا
سفالِ دشتِ وحشت پھانک پیارے

اگر مَہتاب دل کا بجھ گیا ہے
سرِ مژگاں ستارے ٹانک پیارے

ہے اُلفت سے دگر اظہارِ اُلفت
نہ اک لاٹھی سے سب کو ہانک پیارے

محمد احمدؔ

نظم ۔۔۔ تنگدستی اگر نہ ہو ۔۔۔ اختر شمارؔ

تنگدستی اگر نہ ہو

اپنے گھر کے باغیچے میں پھول نہیں تھے
بابا یہ کہتے تھے بچو!
میرے پھول تو تم ہو!
اور تمہارے کارن اس باغیچے میں
دھنیا مرچیں، اور پودینہ سبزی مائل
روکھی روٹی کو کافی ہے
بھوک میں روکھی روٹی اور چٹنی کی خوشبو
پھولوں سے بہتر ہوتی ہے۔۔۔

اختر شمار

نظم: حیرت ۔ از ۔ محمد احمد

حیرت

ایک بستی تماش بینوں کی
،اک ہجوم
اژدھام لوگوں کا
دیکھ میرے تنِ برہنہ کو
ہنستا ہے
قہقہے لگاتا ہے
اور میں ششدر ہوں
دیکھ کر اُن کو
سب کے سب لوگ ہیں برہنہ تن ۔

محمد احمدؔ

چندا رے !چندا رے! کبھی تو زمیں پر آ۔۔۔۔! جاوید اختر


کچھ گیت اتنے خوبصورت ہوتے ہیں کہ اُنہیں محض فلمی گیت سمجھ کر نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے گیت ہزار بارے سُنے جائیں تو ایک ہزار ایکویں بار سُننے کا دل چاہتا ہے۔ گو ہم باوجوہ اب موسیقی نہیں سُنا کرتے ۔ تاہم کچھ چیزوں کو استثنیٰ دیے بغیر بات نہیں بنتی۔

جاوید اخترصاحب کا یہ گیت بھی ایسا ہی ہے۔ اِس میں ترنگ ہے، تڑپ ہے، معصومیت ہے، تحیّر ہے، ان پوچھے سوالوں کا ایک جہان ہے اورنئی دنیاؤں میں جھانکنے کی ایک لگن ہے۔ اگر سرشاری و جذب (Ecstasy) نام کی کوئی چیز اِس دنیا میں ہے تو اُسے اِس گیت میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ گو کہ کسی بھی اچھے گیت کو لازوال بنانے کے لئے اُس کی موسیقی اور پسِ پردہ آوازوں کا بڑا کمال ہوتا ہے تاہم پھر بھی اصل تو شاعری ہی ہے اور اچھی شاعری کا سحر ایسا ہے کہ اچھے بھلےانسان کو ازخود رفتہ کر سکتا ہے۔ یقین نہیں آتا تو یہ گیت ملاحظہ فرمائیے۔

چندا رے !چندا رے! کبھی تو زمیں پر آ بیٹھیں گے باتیں کریں گے
تجھ کو آتے اِدھر لاج آئے اگر، اوڑھ کے آ جا تو بادل گھنے

گلشن گلشن، وادی وادی، بہتی ہے ریشم جیسی ہوا
جنگل جنگل، پربت پربت، ہیں نیند میں سب اِک میرے سوا
چندا۔۔۔! چندا۔۔۔۔!!!
آ جا سپنوں کی نیلی ندیا میں نہائیں
آ جا یہ تارے چُن کر ہم ہار بنائیں

اِن دُھندلی دُھندلی راہوں میں آ دونوں ہی کھو جائیں

چندا رے !چندا رے! کبھی تو زمیں پر آ بیٹھیں گے باتیں کریں گے
تجھ کو آتے اِدھر لاج آئے اگر، اوڑھ کے آ جا تو بادل گھنے

چندا سے پوچھیں گے ہم سارے سوال نِرالے
جَھرنے کیوں گاتے ہیں پنچھی کیوں مَتوالے
ہو ! کیو ں ہے ساون مہینہ گھٹاؤں کا
چندا سے پوچھیں گے ہم سارے سوال نِرالے
چندا۔۔۔! چندا۔۔۔۔!!!
تتلی کے پر کیوں اتنے رنگیں ہوتے ہیں
جگنو راتوں میں جاگیں تو کب سوتے ہیں

اِن دُھندلی دُھندلی راہوں میں آ دونوں ہی کھو جائیں

چندا رے !چندا رے! کبھی تو زمیں پر آ بیٹھیں گے باتیں کریں گے
تجھ کو آتے اِدھر لاج آئے اگر، اوڑھ کے آ جا تو بادل گھنے


جاوید اختر





رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک