نظم ۔ راہ مسدود ہے ۔ محمد احمد

راہ مسدود ہے 

ہر طرف کتنی چھوٹی بڑی گاڑیاں
آڑی ٹیڑھی پھنسی بیچ چوراہے پر
ڈرائیور* پان کی پیک منہ میں لئے
گالیاں دے رہے ہیں ہوا میں کسی 
دوسرے ڈرائیور کا تصوّر کیے

پان کی پیک، بس کا دھواں 
ڈرائیور کے غلاظت بھرے 
منہ سے اُگلی ہوئی گالیاں
جُز تعفّن نہیں کچھ، نہیں کچھ یہاں

نظم مفقود ہے
راہ مسدود ہے

اُس کو جانے کی جلدی تھی 
اُس نے غلط راہ لی
اُس کی جلدی کا عفریت 
کتنے ہی لوگوں کے معمول کو کھا گیا
اب سبھی گاڑیاں  
راستے میں پھنسی ہیں 
کئی ہاتھ ہارن سے چمٹے ہوئے ہیں
مگر کوئی بڑھ کر کہاں دیکھتا ہے
کہ سُلجھاؤ کا  راستہ ہے کہاں

سوچ مفقو د ہے
راہ مسدود ہے

محمد احمدؔ

نوٹ: انگریزی لفظ ڈرائیور کو فاعلن کے وزن پر باندھا گیا ہے  جو اپنے اصل تلفظ سے زیادہ قریب ہے۔ 


4 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

Zulqarnain Sarwar کہا...

بہت خوبصورت نظم۔۔۔۔۔

Muhammad Ahmed کہا...

بہت شکریہ نین بھائی!

گمنام کہا...

جلدی کا عفریت ! واہ!
نظم کا بنیادی خیال بہت اچھا ہے احمد بھائی! سلامت رہیں!

۔ ظہیر احمد

Hassan Mehmood کہا...

بہت خوبصورت قبلہ عمدہ نظم

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک