نظم: حیرت ۔ از ۔ محمد احمد

حیرت

ایک بستی تماش بینوں کی
،اک ہجوم
اژدھام لوگوں کا
دیکھ میرے تنِ برہنہ کو
ہنستا ہے
قہقہے لگاتا ہے
اور میں ششدر ہوں
دیکھ کر اُن کو
سب کے سب لوگ ہیں برہنہ تن ۔

محمد احمدؔ

2 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

گمنام کہا...

بہت ہی عمدہ نظم!
جانے کیوں لوگوں کو کسی دوسرے کو کمتر سمجھنے اور اسے ذلیل کرنے سے پہلے خود اپنے آپ پر غور و فکر کرنے کا خیال کیوں نہیں آتا؟
سائرہ

Muhammad Ahmed کہا...

بہت شکریہ سائرہ آپ کے تبصرے کے لئے۔

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک