موسمی شاعری کا دسمبری میلہ

شاعر نے تو بہت پہلے ہی کہہ دیا تھا

آخری چند دن دسمبر کے 
ہر برس ہی گراں گزرتے ہیں

لیکن ہم سادہ لوح تھے سمجھ نہیں پائے اور باقی نظم پڑھنے بیٹھ گئے۔  شاعر کے لئے دسمبر کیوں بھاری ہو ا کرتا تھا وہ تو شاید شاعر ہی جانتا ہوگا ، غالباً محبوب کا فراق یا  وصال اُس کے لئے سوہانِ روح بن گیا ہو۔ تاہم اردو کمیونٹی کے لئے دسمبر ، موسمی شاعری کا ایسا تکلیف دہ موسم بن کر رہ گیا ہے کہ اب اس دکھ کا مداوا ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ دیکھا گیا ہے کہ مجذوب صفت شعراء دسمبر میں شاعری کے سالانہ عرس پر جوق در جوق جمع ہوتے ہیں اور پھر دسمبر کے نام پر وہ دھمال ڈالتے ہیں کہ عرش تو کیا فرش بھی ہلا دیتے ہیں۔  اتنا تو ہم بھی جانتے ہیں کہ بے یقین بے مراد رہتا ہے اور یقین والوں کو ہی ملتا ہے جو ملتا ہے تاہم اس نامراد دسمبری اور موسمی شاعری سے کسبِ فیض کرنے سے بہتر ہے کہ انسان نامراد ہی رہے بلکہ نامراد ہی مر جائے تو بھی کوئی ایسا حرج نہیں ہے۔ 

اس دسمبری شاعری کو دیکھ کر اور پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ ماہِ دسمبر کسی سرکاری دفتر میں رکھا شکایت کا صندوق ہے۔ جسے لوگوں نے  اپنے اپنے رونے رو کر کھچا کھچ بھر دیا  ہے اور کوئی ان فریادوں کا سننے والا روئے ارض پر موجود نہیں ہے۔ 

دسمبر کے نام پر تخلیق کیا جانے والا اولین کلام چونکہ اصل تھا اور اس میں موسمی بہاؤ اور نقالی کے اثرات نہیں تھے سو وہ واقعتاً قابلِ اعتناء تھا۔ ایسے ہی کسی اصلی شاعر نے کہا ہوگا کہ:

میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھُل گیا 
بلبلیں سُن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں

تاہم زیادہ مسئلہ جب پیدا ہوا کہ بلبلوں کے ساتھ ساتھ باقی پرندے بھی غزلخواں ہو گئے یعنی بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگے۔ اس  دسمبری بھیڑ چال شاعری نے دسمبر ، شاعری اور خوش ذوق قارئین سے یکساں انتقام لیا  اور اکثر کو ایسا متنفر کر دیا کہ لوگ دسمبر کا نام دیکھ کر ہی کلام کی بساط لپیٹ دیا کرتے ہیں۔ 

ہم نے مانا کہ " فریاد کی کوئی لے نہیں ہے" لیکن شاعری شتر بے مہار اچھی نہیں لگتی بلکہ شتر خود بھی بے مہار اچھا نہیں لگتا۔ 

اقبال نے کہا تھا کہ :

رلاتی ہے مجھے راتوں کو خاموشی ستاروں کی
نرالا عشق ہے میرا، نرالے میرے نالے ہیں

اگر خدانخواستہ اقبال آج حیات ہوتے تو اُنہیں ستاروں کی خاموشی سنائی ہی نہیں دیتی اور وہ دسمبری شاعری پڑھ پڑھ کر ہی اپنے آنسو خشک کر بیٹھتے۔ 

گو کہ ہم نے بھی ایک بار دسمبری شاعری اپنے بلاگ پر جمع کی تھی تاہم یہ اُن دنوں کی بات تھی کہ آتش ابھی نوجوان ہی تھا اور ابھی دسمبری شاعری کا مجموعہ خیال لخت لخت نہیں ہوا تھا اور نہ ہی اس کے ورق لالے، گُل اور نرگس کو اُٹھانے کی مہلت ملی تھی۔

آخری بات جسے آپ وضاحتی بیان سمجھ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم شاعری اور شعر میں اپنے جذبات اور احساسات کے بیان کے خلاف نہیں ہیں (ہم ہو بھی کیسے سکتے ہیں) لیکن جب آپ اپنے جذبات اور احساسات بیان کرتے ہیں تو انداز بھی اپنا ہونا چاہیے۔ تخلیق خونِ جگر مانگتی ہے سو نایاب ہوتی ہے ۔ سو اصل تخلیق کا مقابلہ کسی بھی طرح نقالی سے نہیں کیا جا سکتا۔

7 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

Farhat Kayani کہا...

اقبال ہم میں موجود نہیں تو کیا ہوا۔ ہمارے دور حاضر کے شعرا نے انہیں بھی دسمبری شاعر بنا دیا ہے۔
بہت عرصے بعد ادھر آنا ہوا۔ رعنائی خیال کی رعنائی اسی طرح قائم و دائم ہے۔ ماشاءاللہ

Farhat Kayani کہا...

اور آپ کے بلاگ پر یہ کیوں لکھا آتا ہے کہ ایک تبصرہ کریں۔ اگر کوئی زیادہ تبصرے کرنا چاہے تو؟

Farhat Kayani کہا...

اور آپ کے بلاگ پر یہ کیوں لکھا آتا ہے کہ ایک تبصرہ کریں۔ اگر کوئی زیادہ تبصرے کرنا چاہے تو؟

Farhat Kayani کہا...

اقبال ہم میں موجود نہیں تو کیا ہوا۔ ہمارے دور حاضر کے شعرا نے انہیں بھی دسمبری شاعر بنا دیا ہے۔
بہت عرصے بعد ادھر آنا ہوا۔ رعنائی خیال کی رعنائی اسی طرح قائم و دائم ہے۔ ماشاءاللہ

Seems Aftab کہا...

بہت خوب ۔۔ اس دسمبری میلے سے تو میں خود بھی بہت پریشان ہوں ۔۔۔ اچھے بھلے دسمبر کو بس محبوب کی جدائی میں آنسو بہانے کے لیے مختص کردیا ہے۔

Muhammad Ahmed کہا...

@farhat kayani

واقعی ! اقبال اب زیادہ تواتر سے شاعری کر رہے ہیں۔ :)

شاید ایک تبصرے کی پابندی آپ کو کچھ زیادہ ہی کھلی ہے سو آپ نے ایک کے چار تبصرے کیے ہیں۔ :) :) :)

Muhammad Ahmed کہا...

@Seems Aftab

:)

کیا کیا جائے کہ ہم سب فیشن کے دیوانے ہیں سو بھیڑ چال کے شکار ہیں۔ :)

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک