بات پھر ان کہی رہ گئی

خاکسار کی ایک پرانی غزل
قارئینِ بلاگ کے نام

غزل

اور کیا زندگی رہ گئی
اک مسلسل کمی رہ گئی

وقت پھر درمیاں آگیا
بات پھر ان کہی رہ گئی

پاس جنگل کوئی جل گیا
راکھ ہر سو جمی رہ گئی

زر کا ایندھن بنی فکرِ نو
شاعری ادھ مری رہ گئی

میں نہ رویا نہ کھل کر ہنسا
ہر نفس تشنگی رہ گئی

تم نہ آئے مری زندگی
راہ تکتی ہوئی رہ گئی

پاسِ دریا دلی رکھ لیا
لاکھ تشنہ لبی رہ گئی

پھر فنا کا پیام آگیا
ایک اُمید تھی، رہ گئی

آپ احمدؔ کہاں رہ گئے
اور کہاں زندگی رہ گئی

محمد احمدؔ​

4 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

Huma Anwar کہا...

mein na roya na khul ker hansa...
her nafas tishnagi reh gai

bohot aala

نیرنگِ خیال Rz Nain کہا...

کیا کہنے احمد بھائی۔۔۔ اعلی اعلی۔۔۔ بہت ہی لاجواب

Muhammad Ahmed کہا...

بہت شکریہ ہما صاحبہ!

Muhammad Ahmed کہا...

بہت شکریہ ذوالقرنین بھائی!

شاد آباد رہیے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک