چھلانگ - احمد صغیر صدیقی

چھلانگ
 احمد صغیر صدیقی

 چند نو عمر لڑکے ایک جگہ کھڑے تھے ایک لڑکے کے ہاتھ میں ایک نقشہ دبا ہوا تھا۔ یہ دنیا کا نقشہ تھا۔۔ اُن میں سے ایک لڑکے نے نقشہ چھیننے کے لئے جھپٹا مارا اور پہلے لڑکے کے ہاتھ میں دبے کاغذ کا ایک حصہ نوچتا ہوا لے اُڑا۔

پھر بقیہ لڑکوں نے بھی نقشے کے لئے اُچھال بھری کاغذ کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔
ایک لڑکے کے ہاتھ آدھا ایشیا ء اور پورا یورپ آیا۔ دوسرے کو براعظم امریکا اور آدھا ایشیاء ملا تیسرے کو افریقہ اور آسٹریلیا۔
پہلے لڑکے نے  منہ بسور کر ہاتھ میں باقی رہ جانے والے کاغذ کے ٹکڑے کو دیکھا۔ اس کے پاس کچھ نہیں رہا تھا سوائے سمندروں کے ۔ اچانک سارے لڑکوں نے اس ٹکڑے کے لئے بھی  ایک ساتھ چھلانگ لگائی  اور ۔۔۔ سب کے سب ڈوب گئے۔

بشکریہ : سہ ماہی ادبیات

0 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک