اسی دن میں دنیا کا سفر - ہمدرد نونہال سے جُڑی ایک یاد


آج ہم جو پڑھنے لکھنے کا تھوڑا بہت شغف رکھتے ہیں اُس کی بڑی وجہ بچپن میں پڑھے جانے والے رسالے اور خصوصاً ہمدرد نونہال رہا ہے۔  ہمدرد نونہال غیر محسوس طریقے سے اپنے ننھے منے قارئین کی اس طرح تربیت کرتا تھا کہ اُن میں تمام تر نیک کاموں   اور اچھی چیزوں سے محبت راسخ ہو جاتی تھی۔ ہر اچھائی بُرائی کا اس خوبی سے احساس دلایا جاتا تھا کہ وہ بغیر جانے ہی لاشعور میں اُتر جاتی تھی۔  آج بھی ہم میں نہ جانے کیا باتیں ایسی موجود ہیں جن  کا  تعلق کہیں نہ کہیں سے نونہال ادب سے جا ملتا ہے۔ 

آج بھی ہمیں بچوں کا کوئی ایسا ماہنامہ نظر نہیں آتا جس کا  پیش لفظ جاگو جگاؤ کی طرح تعمیری  طرز رکھتا ہو۔ حکیم محمد سعید اور مسعود احمد برکاتی  کے قلم میں ایسی مٹھاس ، ایسی شفقت تھی کہ پڑھنے والے پر اثر ہو کر ہی رہتا تھا۔  خیال کے  پھو ل کے نام سے دنیا بھر  کے نامور لوگوں کے اقوالِ زرّیں  بچوں کو بڑی سوچ سے روشناس کراتے تھے۔ پھر دیگر چھوٹی چھوٹی کہانیاں ، مضامین اور کبھی کبھی سفر نامے ، یہ سب تفریحِ طبع کے ساتھ ساتھ زبان پر عبور اور اعلیٰ  عادات  و اوصاف سے قربت کا سبب بھی بنتے تھے۔  بہر کیف ہمدرد نونہال بچوں کے لئے ایک بھرپور اور صحتمند تفریح ہوا کرتا تھا۔ شاید اب بھی ایسا ہی ہو۔ 

چاہے آپ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہو جائیں بچپن بھولے نہیں بھولتا ہے۔ سو آج ہم بھی ایک چھوٹی سی کہانی کے وسیلے سے اپنے بچپن کی یادوں میں کھو گئے۔  

"اسی دن میں دنیا کا سفر" نونہال ادب سے منتخب کی گئی ایک کہانی ہے جس میں ایک شخص نے اُس زمانے میں اسی دن میں دنیا کا سفر طے کرنے کی شرط لگائی جب  یہ سفر کم از کم تین ماہ پر محیط سمجھا جاتا تھا۔  یہ چھوٹی سی کہانی قاری کو اپنے ساتھ لگائے رکھنے کے ہنر سے واقف ہے اور اس میں تجسس،  مہم جوئی، انسانی ہمدردی، ہمت و جواں مردی اور راستی  جیسے بڑے بڑے عناصر باکثرت ملتے ہیں۔  اگر آپ یہ کہانی پڑھنا شروع کر دیں تو پھر اسے ختم کرکے ہی چھوڑیں گے۔ 

یہ کہانی انگریزی سے ترجمہ کی گئی ہے اور ہمیں "اردو کی برقی کتابیں" جو کہ ہمارے استادِ محترم جناب اعجاز عبید صاحب کی ای بکس کی سائٹ ہے سے ملی۔ اس خوبصورت کہانی کی ٹائپنگ ہمارے بہت ہی اچھے دوست انیس الرحمٰن بھائی نے کی ہے جو نونہال ادب سے یک گونہ محبت رکھتے ہیں اور ای بک کی تدوین و تشکیل جناب اعجاز عبید صاحب کے بابرکت ہاتھوں سے ہی ہوئی ہے۔ 

اگر آپ یہ مختصر کہانی پڑھنا چاہیں تو یہاں سے پڑھ سکتے ہیں۔ 



اگر آپ اس تحریر کو اپنے اینڈروائڈ   سیٹ پر  پڑھنا چاہیں تو یہاں سے ڈاؤنلوڈ  کر لیجے یہ موبی فائل زو  ریڈر  پر پڑھی جا سکتی ہے۔ 


رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک