غزل ۔ اک تعلق کہ گلِ تازہ پہ ہنستی خوشبو ۔ محمد احمدؔ

غزل

اک تعلق کہ گلِ تازہ پہ ہنستی خوشبو
اک تصور کہ شب و روز برستی خوشبو

تھام کر دستِ صبا خوابِ عدم ہوتی ہے
گُلفروشوں کے بدن میں نہیں بستی خوشبو

میں دکھاوے کی محبت کا نہیں ہوں قائل
میں لگاتا نہیں اظہار کی سستی خوشبو

میں کہ پر شوق پرندہ ہے تخیّل میرا
تو ورا الماورا ہے، تری ہستی خوشبو

وہی اطوار ہیں دنیا ترے اُس شوخ کے سے
وہی پھولوں سا بدن ہے وہی ڈستی خوشبو

محمد احمدؔ

2 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

نیرنگِ خیال Rz Nain کہا...

واہ۔۔۔۔ ماشاءاللہ۔۔۔ کیا ہی خوبصورت غزل ہے۔۔۔۔ اللہ کرے زور سخن اور زیادہ

Muhammad Ahmed کہا...

شکریہ نیرنگ خیال بھائی!

آپ کی حوصلہ افزائی میرے لئے ہمیشہ مشعلِ راہ رہی ہے۔

شاد آباد رہیے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک