افسانہ : جامِ سفال


جامِ سفال
محمد احمدؔ​

شاید کوئی اور دن ہوتا تو حنیف بس میں بیٹھا سو رہا ہوتا۔لیکن قسمت سے دو چھٹیاں ایک ساتھ آ گئیں تھیں ۔ پہلا دن تو کچھ گھومنے پھرنے میں گزر گیا ، دوسرا پورا دن اُس نے تقریباً سوتے جاگتے گزارا ۔ آج بس میں وہ ہشاش بشاش بیٹھا تھا اور بس کی کھڑکی سے لگا باہر کے نظارے دیکھ رہا تھا۔ باہر کے مناظر وہی روز والے تھے۔ وہی افرا تفری، وہی لوگوں کی بے چینی اور ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی ان تھک دوڑ ۔

اُس کی سیٹ کے بالکل سامنے بس میں وہ جنگلہ لگا ہوا تھا جو بس کے زنانہ اور مردانہ حصے میں حدِ فاصل کا کام کرتا تھا ۔ صنفِ نازک کے لئے مختص حصے میں اس وقت صرف دو خواتین موجود تھیں۔ ایک کچھ عمر رسیدہ سیاہ برقعے میں ملبوس ، اور دوسری ایک نوجوان لڑکی۔ حنیف بے خیالی میں لڑکی کا جائزہ لینے لگا۔ وہ ایک عام سی لڑکی تھی، جو شاید اپنے موبائل میں کوئی گیم کھیل رہی تھی ۔ رنگت مناسب تھی اور ناک نقشہ بھی ٹھیک ہی تھا ۔ اُسے پہلی نظر میں وہ لڑکی اچھی لگی۔ شاید وہ لڑکی واقعی اچھی تھی یا پھر یہ جاذبیت محض صنفِ مخالف کے لئے فطری کشش کے باعث تھی۔ بہرکیف وہ گاہے گاہے اُسے دیکھ رہا تھا اور نظارہ تسلسل اور تعطل کی کڑیوں سے مل کر قسط وار ڈرامے کی تمثیل ہوا جاتا تھا۔

بس سُست رفتاری سے رواں دواں تھی اور تھوڑے تھوڑے فاصلے پر موجود بس اسٹاپ پر لوگ بس میں اُتر اور چڑھ رہے تھے۔ ایسے ہی کسی اسٹاپ پر بس رُکی تو خواتین کے حصے میں دو نئے مسافر سوار ہوئے۔ ایک نوجوان لڑکی اور شاید اُس کا کمسن بھائی ۔ حنیف کے پاس تو یوں بھی کوئی مشغولیت نہیں تھی سو اُس نے نگاہوں نگاہوں میں اس نئی آنے والی ہستی کا بھی استقبال کیا اور کمسن بھائی پر بھی اچٹتی سے نظریں ڈالی۔ نئی آنے والی لڑکی خوش شکل تھی۔ رنگ گندمی اور آنکھیں سیاہ اور بڑی بڑی۔ پہلے سے موجود لڑکی کی طرح نئی آنے والی لڑکی کی نشست بھی کچھ اس طرح تھی کہ جیسے وہ حنیف سے ہی مخاطب ہوں تاہم ایک کی دلچسپی موبائل اور دوسری کی چھوٹے بھائی کی طرف ہی نظر آتی تھی۔ نئی آنے والی لڑکی بڑی ادا سے اپنے بھائی سے ہلکی پھلکی باتیں کر رہی تھی اور اُس کے صبیح چہرے پر مسکراہٹ ایسے ہی آویزاں تھی جیسے چودھویں کا چاند آسمان پر ٹکا نظر آتا ہے۔

حنیف بڑی محویت سے نئی آنے والی لڑکی کو دیکھ رہا تھا کہ اُسے خیال آیا کہ اس طرح ایک ٹُک کسی لڑکی کی طرف دیکھنا مناسب نہیں ہے۔ اُس نے ادھر اُدھر دیکھا تو اُسے وہ لڑکی نظر آئی جو پہلے سے بس میں موجود تھی اور اپنے موبائل گیم میں کسی مرحلے میں ناکام ہونے پر جھنجھلاہٹ کا شکار نظر آ رہی تھی۔

پہلے والی لڑکی کو پھر سے دیکھنے پر اُسے احساس ہوا کہ اس کی رنگت کافی گہری ہے اور اس سانولے پن کے باوجود اُس نے گہرے رنگ کا ہی لباس پہنا ہوا ہے۔ یہ خیال شاید اُسے اس لئے بھی آیا کہ اب اس کے سامنے نووارد خوش شکل لڑکی بھی موجود تھی اور اس دانستہ یا نادانستہ تقابلی جائزے میں حنیف کی مددگار ثابت ہو رہی تھی۔ سانولی لڑکی کا ناک نقشہ بھی ایسا نہیں تھا کہ جسے قابلِ ستائش کہا جا سکے ۔ ناک متناسب تھی البتہ چھوٹی چھوٹی آنکھیں چہرے کے حساب سے کچھ عجیب سی لگ رہی تھیں۔ اس کے برعکس نوارد لڑکی، ہر لحاظ سے خوبصورتی کی مثال تھی۔ رنگت نکھری ہوئی، چہرہ صباحبت سے بھرپور، سیاہ آنکھیں ایسی با رونق کہ ایک دنیا ان میں آباد نظر آتی ۔ اس پر مستزاد یہ کہ لباس بھی دیدہ زیب اور سلیقے سے زیب تن کیا ہوا۔
"ان دونوں کا تو کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے ۔" حنیف نے دل میں سوچا۔
ابھی وہ اسی اُدھیڑ بُن میں تھا کہ بس ایک اسٹاپ پر رُکی اور خوبرو لڑکی اپنے بھائی کو لئے بس سے اُتر گئی اور بس رُکے بغیر اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئی ۔
اگر وہ بس ڈرائیور ہوتا تو یقیناً رُک کر اُس لڑکی کو جاتا ہوا دیکھتا یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو جاتی ۔ یہ بس والے شاید ان چیزوں سے اسی لئے بے نیاز ہوتے ہیں کہ اگر وہ ایسے نہ ہوں تو ڈرائیونگ کرنا ہی مشکل ہو جائے۔ اپنی سوچ پر وہ خود ہی مسکر ادیا۔

مسکراہٹ نے آنکھیں میچیں تو اُسے بس میں کچھ اندھیرے کا سا احساس ہوا۔ صبح صبح جب سورج چڑھ رہا ہوتو اندھیرے کا احساس کیسا ؟ یقیناً بس میں اندھیرا نہیں تھا ۔ البتہ وہ روشنی اب بس میں نہیں تھی جس میں وہ کچھ دیر پہلے دیدہ زیب مناظر دیکھ رہا تھا۔ اگر ویرانی کے لفظ کی شدت کو دس گنا بڑھا دیا جائے تو کہا جا سکتا تھا کہ بس اب ویران تھی اور شاید صرف اُس کے لئے ہی ویران تھی۔ اُس نے گھبرا کر بس کی کھڑکی سے باہر دیکھنا شروع کر دیا۔ منظر ایک کے پیچھے ایک بھاگے جا رہے تھے ۔ گویا بارہا دیکھی ہوئی کوئی فلم پردہ ء سیمیں پر دکھائی جا رہی ہو۔ سارے منظر رٹے رٹائے ، دیکھے بھالے۔ وہی لوگ ، وہی افراتفریح اور وہی روز کے چھوٹے چھوٹے جھگڑے۔ اگر اس فلم کا کوئی نام ہوتا تو یقیناً "یکسانیت" ہی ہوتا ۔ وہی یکسانیت کہ جس کے ہاتھوں بیزار ہو کر انسان کہہ اُٹھتا ہے کہ تنوع ہی زندگی کا اصل لطف ہے۔

کچھ دیر بعد یہی رہوارِ تنوع اُسے پھر بس میں لے آیا۔ بس میں در آنے والا اندھیرا اب کافی حد تک معدوم ہو چُکا تھا اور دھیمے سُروں کے نغمے سماعت میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو رہے تھے۔ اُس نے سامنے دیکھا تو پہلے سے موجود موبائل سے اُلجھتی لڑکی اب مسکرا رہی تھی ۔ شاید موبائل گیم کا وہ سانپ جو اپنی ہی دم سے متصادم ہو کر فنا کے لمحے سے جا ملتا تھا ، اُسے کامیابی کے مزید ایک زینے تک پہنچانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ چھوٹی سی کامیابی اُس کے چہرے پر بڑی مسکراہٹ لے آئی تھی اور اس مسکراہٹ نے اس کا چہرہ پُر نور کر دیا تھا۔ شاید کوئی بد ذوق ہوتا تو کہتا کہ یہ تو موبائل کی روشنی ہے جو اُس کے چہرے پر منعکس ہو رہی ہے لیکن کوئی کہتا بھی تو حنیف مشکل ہی اُس کی بات ماننے پر آمادہ ہوتا۔ عام سے خد و خال والی وہی لڑکی اب حنیف کو بہت اچھی لگ رہی تھی ۔ گویا وہ خود بھی سانپ اور سیڑھی کے کھیل میں سو کے خانے میں آ موجود ہوا ہو۔
"چلنا بھئی ۔۔۔ ! نصیر آباد والے" بس کنڈکٹر کرخت آواز میں اُس کے اسٹاپ پر پہنچنے کی اطلاع دے رہا تھا ۔ لیکن کنڈکٹر کی یہ پُکار صدا بہ صحرا ہوئی جاتی تھی ۔

4 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

کوثر بیگ کہا...

بہت اچهی منظر نگاری اور قصہ گوئی کا انداز ہے
انجام اگر کوئی چونکا دینے والا ہوتا تو مزہ آجاتا

azeemaj کہا...

بہت خوبصورتی سے انسان کی فطرت کا ایک پہلو اجاگر کیا ہے ۔اور مرد اس معاملے میں زیادہ آگے ہے کہ حُسن کا تقابلی جایزہ فوراََ کرنے لگتا ہے۔ اسی لئے تو وہ محاورہ مشہور ہے کہ اپنے گھر کی نسبت دوسرے گھر سے آیا ہوا کھانا کئی لوگوں کو زیادہ اچھا لگتا ہے۔ بس تھوڑی دیر کی چکاچوند آنکھیں چُندھیا دیتی ہے۔

Muhammad Ahmed کہا...

بہت شکریہ کوثر بیگ صاحب۔۔۔۔۔!

Muhammad Ahmed کہا...

شکریہ عظیم صاحب،

نا صرف یہ کہ حسن کا تقابلی جائزہ فوراً شروع ہو جاتا ہے بلکہ یہ بھی کہ اگر کوئی خاطر خواہ شے میسر نہ ہو تو بھی حوس دستیاب وسائل کو ہی چار چاند لگا کر پیش کر دیتی ہے۔

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک