ناصح (ایک افسانہ)

ناصح 

 از محمداحمدؔ
بات مولوی صاحب کی بھی ٹھیک تھی۔ واقعی کم از کم ایک بار تو سمجھانا چاہیے ایسے لوگوں کو جو دوسروں کی حق تلفی کرتے ہیں یا دوسروں کا مال ناحق کھاتے ہیں۔ لیکن نہ جانے کیا بات تھی کہ مولوی صاحب یہ بات خطبے میں کبھی نہیں کہتے تھے ہاں جب کبھی بیٹھے بیٹھے کسی چوری چکاری کا ذکر آئے تب وہ یہ بات ضرور کہتے ۔ خطبے میں تو وہ ایسی مشکل مشکل باتیں کرتے کہ اُس کے تو سر پر سے ہی گزر جاتیں اور وہ گردن ہلا کر رہ جاتا کہ مولوی صاحب جو بھی کہہ رہے ہیں ٹھیک ہی کہہ رہے ہوں گے آخر کو اتنا علم ہے اُن کے پاس۔

وہ سوچتا کہ ایسے لوگوں کو کیسے سمجھایا جاسکتا ہے جو اچانک سے آ دھمکتے ہیں اور بندوق کے زور پر لوگوں کی نقدی اور قیمتی اشیاء لے کر یہ جا اور وہ جا ہوجاتے ہیں۔ اب بھلا اُن سے کون کہے کہ بھیا ذرا دو گھڑی رُک کر ہماری بات ہی سُن لو۔ اور جب شیطان اُن کے دماغ میں گھسا ہوا ہو تو اُنہیں اچھے بھلے کی کیا خاک سمجھ آئے گی۔ 

اُسے پچھلے مہینے کا وہ واقعہ یاد آیا جب ایک دن اُس کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ رات ساڑھے دس گیارہ بجے وہ اپنی موٹر بائیک پر گھر جا رہا تھا کہ دو لڑکے ایک موٹر سائیکل پر آئے اور اُس کا راستہ روک دیا۔ لامحالہ اُسے رُکنا پڑا ۔وہ بھی سمجھ گیا کہ یہ کیا معاملہ ہو سکتا ہے اور ہوا بھی وہی۔ اُن میں سے ایک کے ہاتھ میں پستول تھا اور وہی دیرینہ مطالبہ ہونٹوں پر، گالیوں کی بوچھار اپنی جگہ تھی۔ اُس نے جھٹ موبائل فون اور جیب میں جتنے بھی پیسے تھے وہ نکال کر اُن کے ہاتھ پر رکھ دیے ۔ جان ہے تو جہان ہے۔ اُسے گھی کے اشتہار والی وہی بات یاد آگئی جو پہلی بار دادی جان کے منہ سے سُنی تھی۔ بکتا جھکتا گھر آگیا ۔ 

پھر چار چھ دن میں زندگی معمول پر آگئی۔ اب کے اُس نے پہلے سے بھی سستا موبائل خریدا تھا ۔ وہ راستہ البتہ اُس نے چھوڑ دیا ۔اب وہ دوسرے راستے سے آیا جایا کرتا ، یہ راستہ کچھ طویل تھا لیکن پر رونق تھا ۔ حالانکہ اُسے معلوم تھا کہ رونق اور ویرانی سے بھی ان لُٹیروں کو کوئی سرو کار نہیں تھا۔ اُنہیں کون سے کوئی روکنے ٹوکنے والا تھا جو وہ بارونق اور سنسان علاقوں میں تمیز کرتے۔

اب بھلا میں اُنہیں کیسے سمجھا سکتا ہوں ۔ اُس نے تصور میں مولوی صاحب سے کہا ۔ لیکن پھر خیال آیا کہ مولوی صاحب تو مسجد میں رہ گئے اور وہ سوچتے سوچتے گھر تک پہنچ گیا ۔ سب باتیں اپنی جگہ لیکن مولوی صاحب کی بات اُس کے دل کو لگی تھی۔ واقعی جب تک کسی کو سمجھانے والا کوئی نہ ہو، وہ راہِ راست پر کیسے آئے گا۔ پھر چور ڈاکو کون سے سب کے سامنے اپنے کارناموں کا اقرار کرتے پھرتے ہیں کہ اُن کا ماجرہ سن کر اُن کو سمجھا یا جائے۔ 

سوچتے سوچتے نہ جانے کیسے اُس کے دماغ میں ایک ترکیب آ ہی گئی۔ وہ اس وقت کا انتظار کرنے لگا کہ جب اگلے روز ظہر کے درس کے بعد اُس کی مولوی صاحب سے ملاقات ہونی تھی۔ وہ اپنے ذہن میں ان باتوں کو ترتیب دے رہا تھا ۔ آخر کو مولوی صاحب کو سمجھانا بھی تو تھا۔

اللہ اللہ کرکے وہ وقت بھی آ ہی گیا جب اُس نے مولوی صاحب کو اپنی تجویز پیش کرنی تھی۔ نماز ہوئی پھر درس شروع ہوا۔ مولوی صاحب روز کی طرح کسی کتاب میں سے کچھ واقعات سُنا رہے تھے اور لوگ سر جھکائے سُن رہے تھے۔ نہ جانے سُن رہے تھے یا باقی لوگ بھی اُس کی طرح اپنی اپنی سوچوں میں کھوئے ہوئے تھے۔ درس ختم ہوا تو دعا ہوئی ۔ دعا بھی وہی روز والی ہی تھی شاید یہ دعائیں پوری ہوتیں تو نئی دعائیں مانگی جاتیں۔ 

جب سب لوگ مولوی صاحب سے مصافحہ کرکے چلے گئے تو وہ ذرا کھسک کر مولوی صاحب کے قریب ہو گیا۔ اور تھوڑا سا ہمت کرکے کہنے لگا۔
"مولوی صاحب کل آپ بات کر رہے تھے نا کہ لوگوں کو سمجھانا چاہیے ۔خاص طور پر اُن کو جو چوری چکاری کرتے ہیں اور لوگوں کی حق تلفی کرتے ہیں۔ " ہلکی سے ہکلاہٹ کے بعد وہ روانی سے بولنے لگا۔
"ہاں ہاں" ۔ مولوی صاحب کے لہجے میں تحیّر نمایا ں تھا۔
"تو مولوی صاحب میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی ہے۔ " اُس کی آنکھیں مولوی صاحب کے چہرے پر ٹکی تھیں۔ اور مولوی صاحب ایسے حیران ہوئے جا رہے تھے کہ جیسے طلسم ہوش ربا کا کوئی منظر اُن کے سامنے زندہ ہو گیا ہو۔
"ہاں بولو! " مولوی صاحب نے کھر کھراتی آواز میں کہا۔
"مولوی صاحب! میں چاہتا ہوں کہ آپ ان چوروں کے نام ایک خط لکھ دیں اور اُس خط میں اُن کو سمجھائیں کہ یہ چوری اور ڈکیتی وغیرہ بہت ہی بُری بات ہے۔ اور جوبھی اس بارے میں اللہ رسول کا حکم ہے وہ سب خط میں لکھ دیں۔ " مولوی صاحب کچھ حیرانی اور کچھ مسکراہٹ کے ساتھ اُس دیکھ رہے تھے۔
"اچھا ! لیکن یہ خط اُنہیں پہنچائے گا کون؟" مولوی صاحب نے اپنی دانست میں بڑا اچھا نکتہ اُٹھایا۔
"آپ ایسا کریں کہ ایک دفعہ اُن کے نام خط لکھ لیں۔" اُس نے اپنا سوچا ہوا منصوبہ آشکار کرنا شروع کیا۔ "پھر ہم اُس خط کی بہت ساری کاپیاں کروا کر جمعے کے دن بانٹ دیں گے۔ جس جس کو یہ کاپی ملے وہ مزید دس کاپیاں کروا کر اپنے جاننے والے لوگوں میں بانٹ دے۔ " وہ سانس لینے کو رُکا۔
"پھر جب خدانخواستہ کسی کے ساتھ چوری ڈکیتی کا واقعہ پیش آئے تو وہ یہ خط اُن ڈاکوؤں کو تھما دے۔" اُس نے ایک گہری سانس لی۔
مولوی صاحب تحیر اور تبسم کے ہنڈولے پر جھول رہے تھے۔
کچھ توقف کے بعد مولوی صاحب نے بامشکل اپنی مسکراہٹ پر قابو پایا اور اُسے خط لکھنے کی یقین دہانی کروا دی۔ آج وہ کافی مطمئن تھا۔

اگلے دو چار دن وہ کسی کام سے شہر سے باہر رہا سو مولوی صاحب سے ملاقات نہیں ہو سکی۔ اس دوران جمعہ بھی آ کر گزر گیا۔ اتوار والے روز وہ پھر مولوی صاحب کے سامنے بیٹھا تھا ۔
"مولوی صاحب ! وہ خط لکھ دیا آپ نے؟" مولوی صاحب نے اُس کی طرف ایسے دیکھا جیسے پوچھ رہے ہوں کہ کیا واقعی لکھنا تھا۔
"اگر نہیں لکھا تو اب لکھ دیں۔" یہاں خامشی کا مطلب نیم رضا مندی سمجھنا اُس کے لئے دشوار ہو رہا تھا۔
"اچھا !!! چلو آج رات کو لکھ دوں گا۔" مولوی صاحب نے ہار مانتے ہوئے کہا۔

اگلے روز مولوی صاحب نے تہہ کیا ہوا ایک کاغذ اُس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ اپنے منصوبے کو مجسم ہوتا دیکھ کر اُسے بڑی خوشی ہوئی اور وہ اس خوشی میں یہ بھی پوچھنا بھول گیا کہ جمعے کے روز اس خط کی کاپیاں تقسیم کرنے کے لئے مولوی صاحب نے کیا اقدام کیا اور کیا اسے بھی اس سلسلے میں کچھ کرنا ہوگا۔

بہرکیف اپنی حد تک آج وہ مطمئن تھا ۔ مولوی صاحب کا چوروں کے نام لکھا خط اُس کی جیب میں تھا اب جیسے ہی کبھی اُس کی اس قماش کے لوگوں سے ملاقات ہوتی باقی کا کام آسان ہی تھا۔ جمعے کے روز علاقے کے بیشتر لوگوں تک یہ خط پہنچ ہی جانا تھا۔ 

دو چار روز ایسے ہی گزر گئے ۔ اس جمعے مولوی صاحب کسی اور مسجد میں خطبہ دینے گئے تھے اور یہاں کی ذمہ داری موذّن صاحب کی تھی۔ سو اُس دن خط کی تقسیم کی اُمید رکھنا بے کار تھی ۔ بہرکیف وہ تو اس بات پر ہی مطمئن تھا کہ اب وہ اپنے حصے کا فرض نبھا سکتا ہے۔ رہے علاقے کے باقی لوگ ۔ تو وہ جانیں اور مولوی صاحب جانیں۔

جب سے خط اُس کی جیب میں آیا تھا اُس کے طور اطوار بدل گئے تھے۔ اب اگر رات گئے بھی اُسے کہیں جانا پڑتا تو وہ گھبراتا نہیں تھا ۔ بلکہ اب تو اکثر وہ گھر واپسی پر اُس رستے کا انتخاب کرتا جو سنسان اور چھوٹا تھا۔ اُسے اندازہ بھی نہیں ہوا کہ کب اُس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہو گئی کہ جلد سے جلد کوئی بد قماش شخص اُس سے ٹکرائے تو وہ اُسے خط تھما سکے اور اپنا فرض پورا کر سکے۔ وہ رات گئے تاریک راستوں میں نکل جاتا۔ جہاں کہیں اُسے کوئی مشکوک شخص نظر آتا وہ اپنی رفتار ہلکی کر لیتا ۔ لیکن ایسا لگتا تھا کہ چوروں ڈکیتوں نے تو اُس کی طرف دیکھنا بند ہی کر دیا تھا۔ خط اُس کی جیب میں ہمہ وقت موجود رہتا اور وہ دھڑلے سے پورے شہر میں گھومتا رہتا۔

پھر ایک روز اُس کی یہ تمنا بھی پوری ہوگئی لٹیروں نے آخر اُسے روک ہی لیا۔ اُس کے چہرے پر عجیب سی خوشی تھی ۔ اُس نے اپنے جیب سے پیسے نکالتے ہوئے نوٹوں کے بیچ خط اس طرح اٹکا دیا کہ منتقلی میں خط کے گرنے کا سوال ہی نہیں تھا۔ گھر پہنچا تو بہت مطمئن تھا۔ دل میں یہی خیال تھا کہ کل سویرے ہی مولوی صاحب کو بتاؤں گا کہ اُس نے اپنی ذمہ داری نبھا دی ہے۔

اگلی صبح جب وہ گھر سے نکلا تو ایک عجیب سا خوف اُ سے محسوس ہوا ، جسے وہ کوئی نام نہیں دے سکا۔ جب وہ اُس مقام پر پہنچا جہاں کل رات اُس کی لٹیروں سے ملاقات ہوئی تھی تو وہ ایک لمحے کے لئے رُکا۔ سڑک کے کنارے تہہ کیا ہوا ایک کاغذ پڑا ہوا تھا ۔ وہ بہت تیزی سے موٹر سائکل سے اُترا اور کاغذ اُٹھا کر جھاڑنے لگا۔ اگلے ہی لمحوں میں وہ کا غذ اُس کی جیب میں تھا ،اپنی مستقل جگہ پر۔ اب وہ پھر سے خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگا ، اُسے مختصر اور سنُسان راستوں کی عادت جو ہو گئی تھی۔

*******​

6 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

Waseem Rana کہا...

مختصر اور سنسان راستے ۔۔۔۔۔
ایسے لگا کہ یہ آپ نے میرے لیئے لکھا ہے۔۔۔۔۔ کیوں کہ مولوی صاحب کو چھوڑ کر باقی تمام معاملات گزری ہوئی شب ٹھیک گیارے بجے ہمارے ساتھ بھی رونما ہوئے ۔۔۔۔۔۔
اور ہاں اب ہم بھی مولوی صاحب سے رجوع کریں گے۔۔۔۔کیوں کہ ہمیں تو عادت ہے "مختصر اور سنسان راستوں کی"۔۔۔۔۔
عمدہ۔۔۔۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

محترم ۔ آپ کے افسانہ کا میں یہ مطلب سمجھا ہون کہ مرکزی کردار کو اللہ کے کلام پر اتنا یقین تھا کہ وہ اس کا ایک نسخہ جیب مین رکھ کر بے خطر ہو گیا
میں آپ کو ایک سچا واقعہ بتاتا ہوں ۔ دس سال سے زیادہ گذرے کہ راولپنڈی سیٹیلائیٹ ٹاؤن میں ایک شخص کے خاندان کے سارے لوگ کہیں گئے ہوئے تھے ۔ وہ اکیلا گھر پر تھا ۔ رات وہ سویا ہوا تھا کہ کسی نے ٹھوکر مار کر جگایا ۔ اُس نے دیکھا کہ ایک پستول بردار اپنے پستول سے اُسے ٹھونگے مار رہا ہے ۔ جونہی اُس نے آنکھیں کھولیں وہ بولا ”تجوری کی چابیاں مجھے دو“۔ وہ خاموش رہا تو چور نے اُس کے ماتھے پر زور سے پستول مار کر کہا ”دیتے ہو یا نہیں“۔ وہ خاموش رہا ۔ جب چور نے اُس کو اسی طرح کئی بار مارا اور وہ نہ بولا نہ جُنبش کی تو اس نے کہا ”دیتے ہو چابیاں کہ تیرا بھیجا اُڑا دوں ؟“ اب وہ بوا ”اگر اللہ نے اس وقت اور اسی طرح میری موت لکھی ہے تو چابیاں لے کر بھی تم مجھے مار دو گے اور اگر نہیں لکھی تو تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے“۔ کچھ دیر بعد چور کے ساتھی گھر کا کافی سامان باندھے اس کمرے میں نمودار ہوئے“۔ اس چور نے اُنہیں کوئی اشارہ کیا تو وہ سارا سامان وہیں چھوڑ کر چلے گئے ۔ ہم سیٹیلائیٹ ٹاؤن میں 1964ء سے 1990ء تک رہے ۔ اب اُسی مکان مین ہماری بہن رہتی ہے ۔ یہ واقعہ ہمارے محلہ دار کا ہے جو ہمارے مکان سے پانچ منٹ کی پیدل مسافت کے فاصلہ پر رہتا ہے

Rashid Idrees Rana کہا...

سبحان اللہ ـ بہت زبردست اعلٰی تحریر۔۔۔۔۔ توکل اللہ، توکل اللہ ۔۔۔۔

Muhammad Ahmed کہا...

وسیم راناصاحب،

افسوس ہوا کہ آپ کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ ہمارے ہاں بہت کم ہی لوگ بچے ہوں گے جو اس طرح کے واقعات سے اب تک محفوظ ہوں۔

شکریہ آپ کے تبصرے کا۔ اُمید ہے اللہ کے ہاں آپ کو اس نقصان کا بہترین نعم البدل ملے گا۔

Muhammad Ahmed کہا...

بہت شکریہ افتخار صاحب،

آپ کا پیش کردہ واقعہ ایمان افروز ہے۔

دراصل خوف ہے ایک ذاتی کیفیت ہوتی ہے اور اسے بیرونی مہیجات سے بہت زیادہ وابستگی نہیں ہوتی۔ پھر جس چیز سے آپ بچنا چاہیں وہ آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتی لیکن اگر آپ خود اُسے تلاش کرنے نکل جائیں تو معاملہ اُلٹ ہو جاتا ہے۔ عقیدہ سچا ہو یا جھوٹا انسانی نفسیات پر اُس کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔

Muhammad Ahmed کہا...

بہت شکریہ راشد ادریس صاحب،

آپ کی حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک