زخم کا اندِمال ہوتے ہوئے​

غزل​
زخم کا اندِمال ہوتے ہوئے​
میں نے دیکھا کمال ہوتے ہوئے​
ہجر کی دھوپ کیوں نہیں ڈھلتی​
جشنِ شامِ وصال ہوتے ہوئے​
دے گئی مستقل خلش دل کو​
آرزو پائمال ہوتے ہوئے​
لوگ جیتے ہیں جینا چاہتے ہیں​
زندگانی وبال ہوتے ہوئے​
کس قدر اختلاف کرتا ہے​
وہ مرا ہم خیال ہوتے ہوئے​
پئے الزام آ رُکیں مجھ پر​
ساری آنکھیں سوال ہوتے ہوئے​
آج بھی لوگ عشق کرتے ہیں​
سامنے کی مثال ہوتے ہوئے​
خود سے ہنس کر نہ مل سکے احمدؔ​
خوش سخن، خوش خصال ہوتے ہوئے​
محمد احمدؔ​

2 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

محمد وارث کہا...

کیا کہنے احمد صاحب، انتہائی خوبصورت غزل ہے، سبھی اشعار بہت اچھے ہیں۔

Muhammad Ahmed کہا...

بہت شکریہ محترم وارث صاحب

حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں۔

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک