انتخابی اتحاد کی اخلاقی حیثیت


کل ایک انتخابی اشتہار دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ 

کچھ مختلف یوں لگا کہ اشتہار میں صوبائی نشست کا اُمیدوار ایک جماعت سے تھا جبکہ قومی اسمبلی کی نشست کے لئے اُمیدوار دوسری جماعت سے، یعنی یہ اشتہار انتخابی سیاسی اتحاد کا شاخسانہ تھا۔ 

یوں ہی دل میں خیال آیا کہ سیاسی یا انتخابی اتحاد کی اخلاقی حیثیت کیا ہے؟

فرض کیجے ایک شخص جماعت "الف" کو پسند کرتا ہے اور جماعت "ب" کو نا پسند کرتا ہے۔ اب اگر جماعت "الف" اور "ب" آپس میں انتخابی اتحاد کر لیں تو اس شخص کی کیا کیفیت ہوگی اور اُس کا ووٹ کس کے لئے ہوگا؟  یہی بات ایسے شخص کے لئے بھی ہے جس کی پسندیدگی پہلے شخص کے رجحانات کے برعکس ہو۔ 

پھر کیا جماعت "الف" اور جماعت "ب" کا انتخابی منشور ایک ہی ہے؟ یا جماعت "الف" یہ سمجھتی ہے کہ اُس کی طرح سے جماعت "ب" بھی ایک اچھی جماعت ہے اور اس قابل ہے کہ آئندہ حکومت بنا سکے۔  پھر جماعت "الف" کے وجود کا کیا جواز ہے؟ بہتر تو یہ ہے کہ اُسے جماعت "ب" میں ضم ہو جانا چاہیے۔ 

بظاہر دیکھا جائے تو سیاسی اور انتخابی اتحاد صرف اور صرف اس لئے کیے جاتے ہیں کہ کسی تیسرے مخالف کو زیر کیا جا سکے۔ یعنی ہمارے مخالف کا مخالف، ہمارا اتحادی۔ اور اس طرح کے اتحاد میں نظریات کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ یعنی وہی غلط روایت جو قبائلی معاشروں میں رہی ہے کہ "دشمن کا دشمن، ہمارا دوست"!

اس تمام پس منظر میں دیکھا جائے تو سیاسی اور انتخابی اتحاد کی اخلاقی حیثیت کیا رہ جاتی ہے۔ کیا کسی جماعت کے ووٹر کو اس بات کا حق نہیں کہ وہ پوچھ سکے کہ تم نے فلاں جماعت سے اتحاد کیوں کیا؟

4 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

سیاسی اتحاد کا اصل مقصد صرف اور صرف حکومت کا حصول ہوتا ہے اگر آپ اس انتخابی اتحاد کے پیچھے اعلیٰ اور زریں اصول ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں تو مایوسی ہی ہوسکتی ہے۔
انتخابی اتحاد اسی وقت ہی برا ہوسکتا ہے جب اتحاد سے پہلے جی بھر ایک دوسرے گالیاں دی جارہی ہوں ، شیطان ثابت کیا جا رہا ہو، قاتل اور چور گردانا جا رہا ہو پھر یکایک سیاسی مجبوریاں آپ کو ایک دوسرے کا ہم نوالہ و ہم پیالہ بنا دیں۔
ویسے پاکستان کی سیاست میں دشمنی صرف کارکنان کی سطع تک ہی رہتی ہے لیڈر حضرات پردے کے پیچھے رشتہ داریاں اور قریبی دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں

گمنام کہا...


بہت ہی عمدہ نقطہ اٹھایا ہے آپ نے، میں آپکی بات سے بلکل متفق ہوں، ایسا کراچی میں جماعتِ اسلامی اور نون لیگ کے درمیان ہوا ہے۔ اسے ضمیر فروشی کے علاوہ اور کیا نام دیا جاسکتا ہے، یہ وہ ہی نون لیگ ہے نہ جس کے خلاف قاضی حسین احمد گلا پھاڑ پھاڑ کے چیختے تھے اور معصوم لوگوں کو بیوقوف بنا کر نواز شریف کے خلاف سڑکوں پر لایا کرتے تھے، دونوں مل کر بھی کامیاب نہیں ہو پائیں گے انشاءاللہ۔

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

بھائی نا معلوم! ۔۔۔۔ایک زمانے میں ن لیگ اور جماعت السامی بہت قریب تھیں۔ قاضی صاحب مرحوم اور نواز شریف میں قریبی دوستانہ تعلقات تھے ۔ لیکن اٹل بہاری واجپائی کی لاہور یاترا پر جماعت اسلامی کے پر امن احتجاج کے ساتھ جو کچھ نواز شریف نے کیا اس پر جماعت اسلامی آج تک نواز شریف کو معاف نہیں کرسکی ہے۔ قاضی صاحب نے تو اس ن لیگ سے کسی اتحاد کے خیال کو ہی مسترد کردیا تھا اور پھر کبھی اس اتحاد کی طرف رجوع نہیں کیا۔
گلا پھاڑ کر چیخنے والی بات عجیب ہے۔ اور نہایت غیر مناسب بھی۔۔۔۔
کسی کو بھی مستقبل قریب میں جماعت اسلامی کی کامیابی کے حوالے سے خوش فہمی نہیں ہے مگر اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ جماعت اسلامی کو اپنے منشور اور نظریات کے مطابق سیاست کرنے کے حق سے محروم کردیا جائے۔
اور کبھی وقت ملے اور وقت بھی وہ جب دل و دماغ سود زیاں کا حساب کرنے میں کسی چیز کا لحاظ نا کر رہا ہو، تو جماعت اسلامی کی لائی ہوئی مزعومہ تباہیاں اور اپنی پسندیدہ جماعت یعنی ایم کیو ایم کے ادوار حکومت کا بھی موازنا کر لیجئے گا ۔۔۔۔
پھر جو چاہے آپکا حسن کرشمہ ساز کرے

Muhammad Ahmed کہا...

@ڈاکٹر جواد احمد خان

آپ نے بالکل بجا کہا کہ ہمارے ہاں سیاسی اتحاد کا مقصد صرف اور صرف اقتدار کا حصول ہی ہے اور اس کے پیچھے کسی زریں اصول کی موجودگی فی الحال بعید از قیاس ہے ۔ تاہم اب عوام کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ ہمارے رہبرانِ ملت جو کچھ کہتے ہیں اُس پر خود بھی عمل کرتے ہیں یا نہیں۔۔۔۔!

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک