لب لرزتے ہیں روانی بھی نہیں

غزل

لب لرزتے ہیں روانی بھی نہیں
گو کہانی سی کہانی بھی نہیں

چاندنی ٹھہری تھی اِس آنگن میں کل
اب کوئی اس کی نشانی بھی نہیں

رابطہ ہے پر زماں سے ماورا
فاصلہ ہے اور مکانی بھی نہیں

حالِ دل کہنا بھی چاہتا ہے یہ دل
اور یہ خفّت اُٹھانی بھی نہیں

غم ہے لیکن روح پر طاری نہیں
شادمانی، شادمانی بھی نہیں

جس میں آخر ہنستے بستے ہیں سبھی
یہ کہانی، وہ کہانی بھی نہیں

کچھ کچھ اندازہ تھا اس دل کا مجھے
عشق ایسا ناگہانی بھی نہیں

یاد رہ جائے گی بس اک آدھ بات
داستاں یہ جاویدانی بھی نہیں

کل مری بستی میں اک سیلاب تھا
آج دریاؤں میں پانی بھی نہیں

گو ہماری ترجماں ہے یہ غزل
یہ ہماری ترجمانی بھی نہیں

محمد احمدؔ

4 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

ابراهيم علي کہا...

بهت خوب

محمد احمد کہا...

ابراہیم صاحب، رعنائیِ خیال پر خوش آمدید۔

اور غزل کی پسندیدگی کا شکریہ۔

خوش رہیے۔

محمد وارث کہا...

خوب غزل ہے احمد صاحب، کیا کہنے۔

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ وارث بھائی۔

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک