تمھاری پارٹی میں، میں کہاں پر ہوں؟



ہمارے سیاستدانوں میں ایک جاوید ہاشمی کی شخصیت ایسی ہے جسے سب ہی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ ہیں بھی قابلِ قدر کیونکہ وہ ان گنے چنے سیاست دانوں میں سے ہیں جو مفاد پرستی کی سیاست میں نظریہ اور استقامت کی علامت ہیں۔ حال ہی میں جاوید ہاشمی نے مسلم لیگ۔ ن چھوڑ کر تحریکِ انصاف میں شمولیت اخیتار کی ہے۔ جب جاوید ہاشمی سے اس بابت استفسار کیا گیا تو ہمیں توقع تھی کہ اس تبدیلی کے پس منظر میں بھی کوئی نہ کوئی نظریہ یا نظریاتی اختلاف ہی ہوگا لیکن توقع کے برخلاف انہوں نے کہا کہ مجھے نظرانداز کردیا گیا، مجھے پوچھا نہیں گیا، مجھے پس منظر میں دھکیل دیا گیا ۔ یہ بات مایوس کن سہی لیکن اپنے ٹریک ریکارڈ کی وجہ سے جاوید ہاشمی اب بھی بہت سے دوسروں سے لاکھ درجے بہتر ہیں۔

باوجود یہ کہ تحریکِ انصاف اب تک ایک واضح نظریے کو لے کر چل رہی ہے اور عام لوگ اسے اس کی آئیڈیالوجی کی بنیاد پر ہی پسند کرنے لگے ہیں لیکن جتنے بھی بڑے رہنما تحریکِ انصاف میں شامل ہوئے ہیں اُن کے پیشِ نظرعوامل میں نظریہ کہیں بھی موجود نہیں ہے اور یہ ایک انتہائی منفی رجحان ہے جو بعد میں اس جماعت کو بھی دوسری جماعتوں کی طرح نظریہ ضرورت کی تال پر رقص کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

دراصل ہمارے ہاں نظریاتی سیاست کا بڑا فقدان ہے۔ یہاں رنگ، نسل ، زبان، علاقہ اور ہر طرح کی عصبیت پر سیاست کی جاتی ہے لیکن نظریہ پر نہیں کی جاتی۔ جب کبھی دو گروہ رنگ و نسل اور دیگر ایسی بنیاد وں پر آپس میں لڑتے ہیں تو ایسے میں دونوں ہی اپنی اپنی جگہ حق پر ہوتے ہیں اور دونوں ہی خود کو حق بجانب سمجھتے ہیں۔ اگر یہی تفرقہ نظریاتی اختلافات کی بنا پر ہو تو معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی صحیح اور غلط کی تمیز کر سکتا ہے کیونکہ صرف نظریاتی جنگ ہی ایسی جنگ ہے جس میں حق و باطل کی تفریق کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں جو مخالفتیں مختلف تعصبات کی وجہ سے ہوتی ہیں ان کا تعین ہی نہیں ہو پاتا کہ کون صحیح ہے اور کون غلط۔

اب آخر میں ذکر اُن سیاسی جماعتوں کا جن میں بہت ہی معتبر اور تجربہ کار سیاست دان موجود ہیں لیکن یہ جماعتیں ان کے ہوتے ہوئے بھی اپنے ننھے منے بچوں کو لاکر ان کے سر پر بٹھا دیتے ہیں۔ یہی کچھ مسلم لیگ۔ ن میں بھی ہوا اور ہو رہا ہے مسلم لیگ ۔ن جس کا تکیہ کلام ہی میثاقِ جمہوریت ہے اپنی پارٹی میں جمہوریت کو کوئی مقام دینے پر تیار نہیں ہے۔ جاوید ہاشمی کے ہوتے ہوئے بھی شریف خاندان کے نوجوان آج پارٹی کے کرتا دھرتا ہوگئے ہیں ۔ یعنی وہی موروثی سیاست۔ موروثی پارٹی کے ذکر پر پپلز پارٹی کا نام تو خود بہ خود ہی ذہن میں آجاتا ہے اور پپلز پارٹی آج بھی اسی ڈگر پر ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو جماعتِ اسلامی ، جیسی بھی ہے لیکن واقعتاً ایک جمہوری جماعت ہے اور اس میں باقاعدگی سے کارکنان کو رائے کا حق بھی دیا جاتا ہے اور قیادت کی منتقلی بھی اسی اعتبار سے کی جاتی ہے۔

ہماری وہ تمام جماعتیں جو جمہوریت کا راگ الاپتی ہیں ان کو چاہیے کہ وہ پہلے اندرونِ خانہ جمہوریت کا آغاز کریں اور پھر بعد میں جمہوریت کی بات۔ کیونکہ یہ
بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ

Charity begins at home.

8 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

Dr Jawwad Khan کہا...

بہت عمدہ تجزیہ ہے۔
جاوید ہامشمی کا فیصلہ بالکل درست ہے ۔ اب یہ تو کوئی بات نہیں کہ کلیف سہے مرغی اور انڈہ کھائے فقیر۔۔۔۔ جیل کاٹے جاوید ہاشمی اور لیڈر بنے نثار چوہدری ۔۔۔اچحا کیا کہ ن لیگ کو خدا حافظ کردیا۔ کسی وقت نواز شریف کی کچن کیبنیٹ بڑی مشہور تھی لگتا ہے کہ زمانہ کے مد و جزر نے اس کچن کیبنیٹ کا کچھ نہیں بگاڑا۔۔۔۔
یہ بات بالکل درست ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر آپ کو جمہوریت دیکھنی ہے تو وہ جماعت اسلامی میں دیکھیے۔ جہاں پہ لیڈر اپنی زندگی میں ہی سربراہی سے دستبردار ہوجاتا ہے اور جہاں اعلیٰ ترین فیصلے انتخاب اور رائے شماری سے اور نچلی سطع پر فیصلہ استصواب رائے سے کیے جاتے ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

میرا کسی سیاسی جماعت تعلق نہیں ہے۔
اگر جمہوری سیاسی پارٹی کوئی اچھی ہوسکتی ہے تو اس وقت صرف جماعت اسلامی ہے۔

حجاب کہا...

پروین شاکر کی حسین نظم سے ملتا جلتا عنوان دیکھ کر میں یہاں آئی اور پوسٹ نکلی سیاست پہ ۔۔۔

محمد احمد کہا...

ٹھیک کہا جواد صاحب آپ نے۔

لیکن کیا کیجے کہ جاوید ہاشمی جسی مثالیں ہمارے ہاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سو باقی سب لیڈرز کچن کیبنیٹ میں ہی خوش رہتے ہیں کہ کچن میں کھانے پینے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔

محمد احمد کہا...

یاسر صاحب،

جماعت کی اس خوبی سے تو شاید ہی کوئی انکار کرے وہ بھی جو جماعت کے سخت مخالف ہیں۔

محمد احمد کہا...

بہت معذرت حجاب صاحبہ ،

یوں ہی جاوید ہاشمی کی دکھ بھری کہانی سن کر پروین شاکر کا یہ مصرع تبدیل شدہ حالت میں ہی ذہن میں وارد ہوا سو یہاں بھی یوں ہی لکھ دیا :)

افتخار اجمل بھوپال کہا...

ميں رائج الوقت سياست کو پسند اسی لئے نہيں کرتا کہ 99 فيصد سياستدان اول خويش اور بعد قوم پر عمل کرتے ہيں ۔ جاويد ہاشمی صاحب قابل تعريف سہی ليکن ان کی رسوائی کا سبب کيا يہ نہيں کہ اسلامی جمعيتِ طلباء ميں تربيت پاکر جب عروج پر پہنچے تو انہوں نے مودودی صاحب کے نظريہ سياست کو ترک کر کہ فرنگی کی سرمايہ دارانہ جمہوريت اختيار کی جس ميں جماعت بدلنا کوئی مضايقہ نہيں ؟

محمد احمد کہا...

انسانی نظریات وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں سو میرا خیال ہے کہ جماعت بدلنے پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

پھر بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو کسی خاص منشور کو دیکھ کر کسی جماعت میں شامل ہوتے ہیں۔ لیکن اگر وہ جماعت اپنے منشور پر ہی قائم نہ رہے تو رکن کو اس بات کا اختیار ہونا چاہیے کہ وہ اپنی سیاسی وابستگی کسی ایسی جماعت سے استوار کر لے جو اس کے نظریے کے زیادہ قریب ہو۔

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک