خاموش رہو

خاموش رہو

ابنِ انشا


کچھ کہنے کا وقت نہیں یہ ۔۔۔کچھ نہ کہو، خاموش رہو
اے لوگو خاموش رہو۔۔۔ ہاں اے لوگو، خاموش رہو

سچ اچھا، پر اس کے جلو میں، زہر کا ہے اک پیالا بھی
پاگل ہو؟ کیوں ناحق کو سقراط بنو، خاموش رہو

حق اچھا، پر اس کے لئے کوئی اور مرے تو اور اچھا
تم بھی کوئی منصور ہو جو سُولی پہ چڑھو؟ خاموش رہو

اُن کا یہ کہنا سورج ہی دھرتی کے پھیرے کرتا ہے
سر آنکھوں پر، سورج ہی کو گھومنے دو، خاموش رہو

مجلس میں کچھ حبس ہے اور زنجیر کا آہن چبھتا ہے
پھر سوچو، ہاں پھر سوچو، ہاں پھر سوچو، خاموش رہو

گرم آنسو اور ٹھنڈی آہیں ، من میں کیا کیا موسم ہیں
اس بگھیا کے بھید نہ کھولو، سیر کرو، خاموش رہو

آنکھیں موند کنارے بیٹھو، من کے رکھو بند کواڑ
انشا جی لو دھاگہ لو اور لب سی لو، خاموش رہو


***********

4 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

لو جی یہ پڑھ کر غصہ سے بھری پوسٹ۔
کچرے میں پھینک دی۔

hijabeshab کہا...

بہت خوب

محمد احمد کہا...

یاسر صاحب،

بہت اچھا کیا آپ نے کہ غصے سے بھری پوسٹ کچرے دان کی نذر کردی کیونکہ غصے میں ممکن ہے کہ انصاف کا دامن آپ کے ہاتھ سے چھوٹ جائے۔ ویسے تو خیر یہ سب پُرانی باتیں ہیں۔ لیکنہم بھی کم دقیانوسی نہیں!

۔

محمد احمد کہا...

حجابِ شب بلاگ پر خوش آمدید!

نظم کی پسندیدگی کا شکریہ!

۔

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک