جو ذرا ہنس کے ملے ۔۔۔۔


آج کل ایک ٹیلی کام کمپنی کو پاکستان کے مستقبل کی فکر لاحق ہوگئی ہے اور وہ ہر ایرے غیرے سے پوچھتے پھر رہے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل کیسا ہوگا۔ ایرے غیرے اس لئے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو خود اِن کے منتخب نمائندے نہیں پوچھتے ۔ جن سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ پٹرول کے نرخ بڑھا دیئے جا ئیں یا بجلی پر سے سبسڈی (جو کبھی دی ہی نہیں گئی) گھٹا دی جائے۔ جو اپنا ووٹ کاسٹ کرنے جائیں تو اُن کا بیلیٹ پیپر ایک مُسکراہٹ اور اس جملے کے ساتھ کے ساتھ لے لیا جاتا ہے کہ آپ فکر مت کیجے آپ کا ووٹ کاسٹ ہو جائے گا۔ پھر ایسے میں یہ بات تو خوشی کی ہی ہے کہ کسی کو پاکستان کے مستقبل کا خیال آہی گیا ہے اور تو اور ایرے غیرے لوگوں کو حقِ رائے دہی بھی حاصل ہورہا ہے۔

اس پر شاید کچھ وہمی لوگ یہ خیال کریں کہ یہ سب کچھ کرکے کمپنی یقیناً کچھ تجارتی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہوگی یا یہ پھر یہ لوگ اپنی کسی نئی پروڈکٹس کے اجرا سے پہلے کوئی مارکیٹ ریسرچ کر رہے ہوں گے لیکن ہم ایسا نہیں سوچتے بلکہ ہمارا تو حال بقول احمد ندیم قاسمی یہ ہے کہ

کس قدر قحطِ وفا ہے مری دُنیا میں ندیم
جو ذرا ہنس کے ملے اُس کو مسیحا سمجھوں

سو ہم بھی ہر اُس شخص کے پیچھے ہو جاتے ہیں جو جھوٹے منہ ہی سہی کوئی اچھی بات کرتا ہے یا کم از کم اس بارے میں سوچنے کی دعوت ہی دیتا ہے۔ رہی بات پاکستان کی تو پاکستان بڑا ہی عجیب ملک ہے شاید اسی لئے اسے مملکتِ خداداد کہا جاتا ہے کہ اسے خدا ہی چلا رہا ہے ورنہ پاکستان کے حصے میں دوست بہت کم اور دشمن بہت زیادہ آئے ہیں اور جو دوست ہیں وہ بھی زیادہ تر نادان دوست ہیں سو جی کا جنجال ہیں۔ پھر ایسے میں پاکستان کے مستقبل کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے سوائے اس گھسے پٹے شعر کے کہ

مدعی لاکھ بُرا چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے

اور رہ گئی اُنہیں آئیڈیاز (خیالات یا شاید تجاویز )دینے کی بات ! تو اگر ہمارے پاس اتنے ہی آئیڈیاز ہوتے تو ہمارے بلاگ پر ہر دوسرے دن ایک نئی تحریر ضرور نظر آتی، اب شاید کچھ لوگ یہ سمجھیں کہ ہمارے پاس آئیڈیاز کی کمی ہے تو ہم اُنہیں ایسا سمجھنے نہیں دیں گے اور جھٹ سے صفائی پیش کریں گے کہ ایسا کچھ نہیں بس ذرا وقت نہیں ملتا۔


10 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

محمداسد کہا...

میرا بھی یہی خیال ہے کہ کمپنی کسی قسم کی ریسرچ کررہی ہے. ممکن ہے وہ یہ جاننا چاہتے ہوں کہ ہمارے ناچ ناچ کے کنکشن بیچنے، سستے ترین پیکجز پر گھنٹوں ضائع کرنے کے بعد یہ قوم سوچنے سمجھنے کے قابل رہی ہے یا نہیں؟

اور اگر مستقبل کی فکر واقعی ختم ہوچکی ہے تو پھر یہ مزے سے پوچھیں گے: اٹز فن ٹو بی ینگ. . . . ہیں ں ں ؟

Jafar کہا...

ساحب آپ باقاعدگی سے نثر لکھا کریں
بہت عمدہ اور چبھتی ہوئی تحریر ہے

Abdullah کہا...

تو پھر آپ نے کیا سوچا پاکستان کے مستقبل کے بارے میں؟؟؟:)

محمد احمد کہا...

اسد صاحب!

بجا فرمایا آپ نے.....! نہ جانے کالز اور میسجز کی ارزانی ہمیں کہاں لے کر جائے گی.

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ جعفر بھائی!

یہ آپ کی محبت ہے۔

محمد احمد کہا...

بھائی عبداللہ!

ہم نے تو جو سوچا سمجھا لکھ دیا ۔ اب آپ کی باری ہے۔

Abdullah کہا...

ویسے تو میں کہنے سے زیادہ کرنے پر یقین رکھتا ہوں اور ابتدا اپنے گھر اور ارد گرد سے کرنے کا قائل ہوں،
میں مستقبل میں پاکستان کو کہاں دیکھنا چاپتا ہوں اگر اس پر لکھنے بیٹھا تو ایک طویل داستاں رقم ہوجائے گی،
مختصراً یہ کہ ایک ایسا پاکستان جہاں عوام کو صحت تعلیم حکومت کی طرف سے مفت ہو،جہاں زمین کی ملکیت کی ایک لمٹ ہو،جہاں ہر شخص کو حق حلال کی روزی کمانے کی سہولت ہو،جہاں قوانین عوام اور خواص دونوں کے لیئے ایک ہوں اور ان پر سختی سے عمل دراآمد ہو، جہاں سب لوگ خواہ وہ کسی صوبے نسل زباں اور مذہب سے تعلق رکھتے ہوں اس طرح مل جل کر رہیں جیسے ایک خاندن کے افراد،جہاں تعصب جیسی لعنت کسی بھی شکل میں موجود نہ ہو،
خواہشیں تو بہت ہیں کہ بقول غالب ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پے دم نکلے،سو میرا خیال ہے کہ فی الحال اتنا کافی ہے :)

جاویداقبال کہا...

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ جوکوئی بندہ بھی کوئی اچھی بات کرتاہے تولوگ اس کےپیچھےپڑجاتےہیں کہ شایداس کاکوئی مقصدہوگااوربال کی کھال ادھیڑدیتےہیں۔ اورپاکستان میں سب سےسستاموبائیل فون کالزہیں اورماشاء اللہ ہماراجوان طبقہ توراتوں کوموبائل پرایسے باتیں کرتاہےجسطرح سورج روشنی دیتاہے۔

والسلام
جاویداقبال

محمد احمد کہا...

عبداللہ بھائی !

اللہ آپ کی زبان مبارک کرے . آپ نے جتنا لکھ دیا اس کا دس فیصد بھی ہوجائے تو بہت سے معاملات از خود صحیح ہو جائیں.

محمد احمد کہا...

جاوید اقبال صاحب!

سب سے پہلے تو بلاگ پر خوش آمدید!

اور پھر توجہ اور تبصرے کا شکریہ .

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک