نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا



غزل


نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا
جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لُٹا دیا


مرے چارہ گرکو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو
و ہ جو قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا


کرو کج جبیں پہ سرِ کفن ، مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرورِ عشق کا بانکپن ، پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا


اُدھر ایک حرف کے کشتنی ، یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی
جو کہا تو ہنس کے اُڑا دیا ، جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا


جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یاد گار بنا دیا


فیض احمد فیض

3 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

گمنام کہا...

بہت عمدہ اور اعلی کیا کہنے

محمد احمد کہا...

جی فیض کی کیا ہی بات ہے.

کراچی میں سہ روزہ فیض احمد فیض بین الاقوامی جاری ہے.

http://www.jang.net/urdu/details.asp?nid=555599#

فیض صاحب کا حق اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

Emma.Alice کہا...

بہت عمدہ اور یہ مصرعے تو غزل کی جان ٹہرے


جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یاد گار بنا دیا

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک