یہ حقیقت بھی خواب ہے شاید

غزل

یہ حقیقت بھی خواب ہے شاید
تشنگی بھی سراب ہے شاید

کچھ کسی کو نظر نہیں آتا
روشنی بے حساب ہے شاید

میں سزا ہوں تری خطاؤں کی
تو مرا انتخاب ہے شاید

یہ جسے ہم سکون کہتے ہیں
باعثِ اضطراب ہے شاید

اُس کا لہجہ گلاب جیسا ہے
طنز خارِ گلاب ہے شاید

ہر نئی بار اک نیا پن ہے
وہ غزل کی کتاب ہے شاید

کیا محبت اُسے بھی ہے مجھ سے
مختصر سا جواب ہے "شاید"

میں بھی محرومِ خواب ہوں احمد
وہ بھی زیرِ عتاب ہے شاید



7 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

محمد احمد کہا...

تجرباتی ٹیکسٹ

jafar کہا...

واہ۔۔۔ بہت اعلی صاحب۔۔۔
آپ کے روبرو نہیں ہوں ورنہ مکرر ضرور کہتا۔۔۔

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ جعفر صاحب!

کلام آپ کو پسند آیا یہ آپ کا حسنِ ذوق ہے.

خوش رہیے.

محمد وارث کہا...

بہت خوبصورت غزل ہے احمد صاحب، اردو محفل پر میں داد دے چکا، لیکن پھر عرض کرونگا کہ ہر بار اس غزل کا نیا ہی لطف ہے، ایک ایک شعر لاجواب ہے۔

محمد احمد کہا...

وارث بھائی! یہ غزل مجھے خود بھی بہت پسند ہے. آپ کی توجہ اور رہنمائی سے خاکسار کو بہت حوصلہ رہتا ہے.

محمد نعمان کہا...

ماشااللہ
خوب بہت خوب۔۔۔۔۔ میں اپنا پسندیدہ شعر ڈھونڈ رہا تھا مگر ایک سے بڑھ کر ایک شعر۔۔۔۔۔۔۔ ہر شعر لاجواب ہے۔
بہت ہی مزہ آیا پڑھ کر۔

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ نعمان صاحب،

۔

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک